Hafiz Muzafar Mohsin | Article | روبی جعفری کے اشعار

حافظ مظفر محسن 101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور E.Mail. muzafarmohsin@yahoo.com 0300-9449527 ۔۔۔ شعری چاشنی سے بھرپور میرا خیال تو روبیؔ یہ ہے اگر ہم خود بُرے نہ ہوں تو برائی […]
حافظ مظفر محسن
101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور
E.Mail. muzafarmohsin@yahoo.com
0300-9449527

۔۔۔ شعری چاشنی سے بھرپور

میرا خیال تو روبیؔ یہ ہے اگر ہم خود
بُرے نہ ہوں تو برائی کبھی نہیں ملتی
یہ مقطع اِس بات کا مُنہ بولتا ثبوت ہے کہ روبی جعفری ؔ کی شاعری میں جہاں شعری چاشنی اور مٹھاس موجود ہے وہیں اصلاح کا پہلواور اخلاقیات سے جڑا تعلق بھی صاف دکھائی دیتا ہے۔میری اِس بات کی دلیل کے طور پر اِسی غزل کا مطلع ملاحظہ کریں۔ ایک باوزن گفتگو کا احساس اجاگر ہو جائے گا۔
محبتوں سے رہائی کبھی نہیں ملتی
جدائی میں بھی جدائی کبھی نہیں ملتی
بندکمرے میں رہ کر کی گئی شاعری اور پھرچودہ سال کا طویل عرصہ شعر ونغمگی سے جڑے رہنا اِس بات کا ثبوت ہے کہ روبی جعفری ؔ اپنے ساتھ ہی ادب سے وابستگی اور شعر سے تعلق خاص لیے پیدا ہوئی۔ ابتدائی ایام میں جب شاعری تک کرنے کی اجازت نہ تھی اور گھر کے ماحول کی وجہ سے اس دباؤ میں رہیں کہ لڑکیوں کو شاعری نہیں کرنی چاہیے۔ اِس دباؤ کا اثر اِ ن کے اِن اشعار میں موجود ہے۔ دل کی بات فنکار کی گفتگو سے بھی چھلکتی ہے ۔
کسی کے ہاتھ مہکتے ہیں چاند راتوں میں
کسی کو بوئے حنائی کبھی نہیں ملتی
کسی کا دل لیا جاتا ہے پہلے ہاتھوں میں
کہ دل سے پہلے کلائی کبھی نہیں ملتی
وہ مہربان اگر ہو تو سلطنت دے دے
نہ ہو تو در کی گدائی کبھی نہیں ملتی
روبی جعفریؔ نے ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی اور لیاقت کالج برائے خواتین ملیر سے گریجوایشن کی۔۔۔ گھر میں چونکہ ادبی ذوق رکھے جانے کے باوجود کسی لڑکی نے کبھی شاعری نہیں کی اِس لیے شعر کہنے کو شعر پڑہنے کو معیوب سمجھا جانے لگا اور باقاعدہ سب نے کھل کر تنقید کی۔۔۔ اور ہر حربہ آزمایا کہ روبی کے اندر چھپی شاعرہ کو سلا دیا جائے۔
روبی نے تنقید کے باوجود شاعری کرنے رہنا ہی مناسب سمجھا اور خود کو کئی سال اِک کمرے میں بند کیے رکھا۔۔۔ کئی کئی دن صرف اور صرف کتابیں پڑہتے رہنے میں ہی بسر کر ڈالے۔۔۔ اُردو شاعری کے سبھی بڑے ناموں پر توجہ دی اور اُن کا کلام اِس قدر الفت سے دل سے پڑھا کہ طویل غزلیں بھی ازبر ہوگئیں۔
کراچی کے بزرگ شاعر ذکی عثمانیؔ کے پاس جانے کی اجازت ملی تو ہر غزل ہر مصرعہ اُن کو سنایا گیا۔۔۔ شعری اسرار ورموز سیکھے اور پھر روبی جعفریؔ نے ایسی لازوال غزلیں بھی تخلیق کر ڈالیں کہ جو اُس کو قادرالکلام شاعرات کی صف میں کھڑا کر چکی ہیں اور ادب دوستوں میں بے حد مقبول بھی ہوئی ہیں۔
تیری رضاسے کبھی اِک گناہ کرنا ہے
تجھی کو اپنی وفا کا گواہ کرنا ہے
بھلی لگی ہے روش رہ روان الفت کی
سو اختیار مجھے بھی وہ راہ کرنا ہے
جہاں بہت سی شناسائیاں بہم ہو جائیں
اُسی گلی سے مجھے رسم و ر اہ کرنا ہے
پاکستان بھر سے روبی جعفریؔ کو مشاعروں میں شرکت کی دعوت دی گئی مگر چاہنے کو باوجود بھی وہ اِن بڑے چھوٹے مشاعروں میں شریک نہ ہوسکیں خواہش کو دل ہی میں دبائے رکھا اور دعوت دینے والے ادب دوست و احباب نے چُپ سادہ لی۔۔۔ کہ اتنے اچھے شعر کہنے والی روبی ؔ ایک پردہ دار شاعرہ کی طرح گھر کی چار دیواروں میں ہی مُقید رہی۔۔۔ لیکن احباب کے بے حد اسرار پر اُن کا کلام ہفت روزہ ’’ اخبارِ جہاں‘‘ ۔۔۔ ماہنامہ ’’ بیاض‘‘ ۔۔۔ ماہنامہ ’ ’ تخلیق‘‘ اور بہت سے ادبی رسائل کی زینت بننے لگا اور پسند بھی کیا جانے لگاکہ تعارف کا اِک ذریعہ تو کھلا۔۔۔ عوام تک جانے کا اِک راستہ تو نکلا ۔
یہاں
تک کہ ’’ دنیائے ادب‘‘ کے جناب اوج کمالؔ نے 2008 میں روبی جعفریؔ کا دوسو صفحات پر مشتمل شعری مجموعہ ’’ میں اور تم‘‘ کے نام سے شائع کر دیا روبی کی شاعری پاکستان بھر میں پڑھی اور پسند بھی کی گئی۔۔۔ یہاں تک کہ اِس نہایت خوبصورت شعری مجموعہ کا پانچواں ایڈیشن بھی چھپ چکا ہے اور بہت سے بڑے اور مستند شعراء کرام نے اس شعری مجموعہ کے بارے میں اپنی قیمتی آراء بھی دی اور روبیؔ کی شعری دنیا میں آمد اِک نہایت اچھا اضافہ قرار دیا۔۔۔ جو بلا شبہ شعری ذوق رکھنے والوں کے دلوں کی بھی آواز ہے کیونکہ اِس وقت پسندیدہ شاعری کرنے والی خواتین کی تعداد بہت کم ہے۔ روبیؔ مجھے پروین شاکر ؔ کے ہم پلہ دکھائی دیتی ہیں۔۔۔ حالانکہ ابھی اُن کا شعری سفر جاری ہے اور ہر دن بہترے دکھائی دیتی ہے۔
کراچی ادب نواز ہی نہیں ادب دوست لوگوں کا بھی شہر ہے۔۔۔ کراچی میں ایسے مشاعرے بھی ہوتے ہیں جہاں ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں اور شعراء بھی پوری محبت سے اپنا کلام سناتے ہیں اور داد بھی وصول کرتے ہیں مگر روبیؔ جس کا کلام نہ صرف عوام میں پسند کیا جاتا ہے بلکہ وہ کلام جو اپنی ہیت کے لحاظ سے بالکل منفرد بھی ہے۔۔۔ عوام میں بیٹھ کر نہیں سنا پائی اور مستقبل قریب میں ایسی کوئی اُمید بھی نہیں ہے کہ وہ مشاعروں میں آسکے۔
اِس معاشرتی دباؤ اور شعر کہنے کو معیوب حرکت سمجھا جانا، شاعرہ کے لیے پریشانی کی بات تو ہے مگر یہ دباؤ۔۔۔ یہ گھر سے پزیرائی نہ ملنے کا عمل اُسی کے شعر کہنے کی راہ میں رکاوٹ ہر گز نہ بن سکابلکہ مرض بڑھتا چلا گیا اور فن میں پختگی بھی آ تی چلی گئی کیونکہ یکسوئی اپنا اثر تو بہرحال دکھاتی ہے۔
مگر احتجاج کی صدا تو بلند ہو تی رہی ہے اور پھر شاعرہ اپنی یہ دباؤ والی کیفیت کچھ اِس طرح بیان کرتی ہے۔
اب وفا کا تذکرہ اے جان جاں رہنے بھی دو
میں اگر ہوں بے اماں تو بے اماں رہنے بھی دو
ایک بڑے ادبی میگزین میں روبیؔ کا کلام لگاتار چھپتا ہے اِک بار اِک غزل میں ایڈیٹر نے جو خود بھی اعلیٰ پائے کے شاعر ہیں ، تھوڑی تبدیلی کر ڈالی روبی ؔ نے اُن کو طویل خط لکھا اپنی غزل کے اِک اِک شعر پر بحث کی اور ایڈیٹر کو قائل کر لیا کہ میری غزلوں میں تبدیلی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اب اُس میگزین میں روبی جعفریؔ کا کلام اُسی ترتیب سے چھپتا ہے جیسے روبیؔ اپنا کلام بھیجتی ہیں۔ اپنا اِک اِک شعر کئی کئی بار پڑہتی ہیں اور احباب کو سناتی بھی ہیں، ذکی عثمانی ؔ صاحب سے جب سند ملتی ہے تو غزل کسی میگزین کو بھیجی جاتی ہے۔ روبی کی سینکڑوں غزلیں اور نظمیں پاکستان بھر سے چھپنے والے ادبی رسائل و اخبارات میں چھپ چکی ہیں۔ روبی جعفریؔ صرف لکھتی ہی نہیں دوسرے شعراء کا کلام نہایت ذوق و شوق سے پڑھتی بھی ہیں۔ ہر دن نئی آنے والی ادبی کتاب روبیؔ کے ہاتھوں میں ہوتی ہے اور روبی ؔ اُسے دل لگا کر پڑھتی بھی ہے اور اُس حوالے سے طویل گفتگو بھی کرتی ہے۔ روبی ؔ میں جو چیز میرے حساب سے روبیؔ کو دوسری خواتین شاعرات میں سب سے ممتاز کر دیتی ہے وہ اُس کا دوسرے شعراء کرام اور شاعرات کو نہایت ادب اور نہایت احترام سے بلانا اور نئے پرانے سب شعراء کا کلام بار بار اور پوری توجہ سے پڑھنا ہے۔ مطالعہ کی عادت ۔۔۔ تاریخ گواہ ہے لکھنے والے کو تحریک بھی دیتی ہے اور فن میں پختگی بھی آتی ہے۔
اُن کے مجموعہ کلام ’’ میں اور تم‘ ‘ کے پانچ ایڈیشن آجانے کے بعد اب ’’ دنیائے ادب‘‘ کے جناب اوج کمالؔ عنقریب روبی جعفریؔ کا دوسرا مجموعہ کلام بھی شائع کرا رہے ہیں ۔ جس کا ادب سے محبت کرنے والوں کو شدت سے انتظار ہے۔
دل پہ چھائی کچھ کیفیات پر انسان بہت کچھ کہنا چاہتا ہے مگر کہہ نہیں پاتا لیکن شاعر کو یہ سہولت تو میسر ہوتی ہے کہ وہ نہایت آسانی سے اپنا مدعا بیان کر جاتا ہے اور ایسے اشعار نہ صرف زبان زدِ عام وخاس ہو جاتے ہیں بلکہ کبھی کبھی ضرب المثل بھی بن جاتے ہیں۔ مجھے روبی جعفریؔ کے کچھ اشعار اِس اعلیٰ ادبی میعار پر اترتے دکھائی دیتے ہیں۔ دنیا سے جانا۔۔۔ دنیا کی بے ثباتی کا ذکر جس اندازمیں اِس غزل میں رو بیؔ نے کیا ہے وہ اُسی کا خاصہ ہے کہ پڑہنے والے کا دل اِن اشعار کی گرفت میں آتا محسوس ہوتا ہے۔۔۔ اور یہی شاعری کا عروج ہے اور اِسی لیے شاعری کو ادب میں اعلیٰ ترین مقام و مرتبہ حاصل ہے شعری چاشنی کے باعث ۔
میری آنکھوں کو بوسہ دو کہ مجھ کو نیند آتی ہے
شعور درد بہلا دو کہ مجھ کو نیند آتی ہے
سسکتے خواب اب بجھنے لگے ہیں چشم گریاں میں
بدن کو خاک پہنا دو کہ مجھ کو نیند آتی ہے
Viewers: 6519
Share

No Comments

Start the ball rolling by posting a comment on this article!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>