Nasir Malik | Story | محبت کا مقدمہ ۔۔۔۔۔ ناصر ملک

تحریر: ناصر ملک محبت کا مقدمہ میں تیزتیز قدموں سے چلتا ہوا عدالت کے احاطے میں داخل ہوا۔ درخت کے ساتھ لٹکے ہوئے اطلاع نامے پر نظر دوڑائی۔ میرے مطلوبہ […]

تحریر: ناصر ملک

محبت کا مقدمہ

میں تیزتیز قدموں سے چلتا ہوا عدالت کے احاطے میں داخل ہوا۔ درخت کے ساتھ لٹکے ہوئے اطلاع نامے پر نظر دوڑائی۔ میرے مطلوبہ مقدمے کی سماعت ساتویں نمبر پر تھی۔ ایک سیاہ کوٹ میں ملبوس وکیل صاحب سے دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ ساتواں مقدمہ ہی عدالت میں زیر سماعت ہے۔
میرا رُخ اونچے برآمدے میں مشرقی انتہا میں واقع سیشن جج صاحب کا کمرہ تھا جہاں میری تمام تَردلچسپیوں کی بساط بچھی تھی۔ حسبِ معمول عدالتی کمرے میں سامعین کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔
عدالت کا منظر کئی تنفس روکے لمحہ بہ لمحہ آگے کی طرف سرک رہا تھا اور راشد وزیر دَم سادھے اکیوزڈ باکس میں کھڑا دھندلائی نظروں سے باری باری مختلف چہروں کو دیکھ رہا تھا۔ اُس نے ایک نظر مجھ پر ڈالی، آنکھوں میں شناسائی کی معدوم سی لہر دوڑی، پھر اپنی توجہ دوسری جانب مبذول کرلی۔وہ آہنی ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے ہاتھوں کو ذرہ بھر حرکت نہیں دے رہا تھا مباداکہ اُن کی کھنکھناہٹ سے ماحول کا سکوت ارتعاش پذیر ہوجائے۔
مایوسی بھرے انداز میں اُس نے ایک طویل سانس لے کر آنکھیں موند لیں۔ رُندھی ہوئی نسوانی آواز سُن کرمیری طرح وہ بھی ایک دَم چونک گیا۔ یوں لگا جیسے وہ اچانک ہی قبر سے نکل کر رواں دواں زمانے میں آن کھڑا ہوا ہو۔اُس کی نظروں کے عین سامنے کھڑی اس کی اَدھیڑ عمرماں کٹہرے کی چوبی ریلنگ پر جھکی رُندھی ہوئی آواز میں جج سے مخاطب تھی ’’میں زندہ نہیں، زندہ لاش ہوں۔ مجھے کوئی ڈر نہیں کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے، اِس لئے ’یور آنر‘ اور ’آپ جناب‘ جیسے القابات میرے نزدیک بے وقعت ہوگئے ہیں۔آپ جج ہیں، دُنیا کیلئے باعثِ احترام، مگر میرے نزدیک صرف ایک بوڑھی ماں کے جواں سال بیٹے ہیں اور کچھ نہیں۔ سر جھکائے مجرموں والے کٹہرے میں کھڑاظالم انسان میرے شوہر کا قاتل ہے۔ آپ کی عدالت میں وکیل دلیلوں کے جال بچھا رہے ہیں، کہتے ہیں کہ اِس قتل کا کوئی عینی گواہ موجود نہیں ہے، یہ نہیں سوچتے کہ جب ایک بیوہ ماں اپنے اکلوتے جوان بیٹے کو قاتل کہہ رہی ہے تو اِس پر تفتیش اور بحث کی گنجائش کہاں باقی رہتی ہے۔آپ بولیں! کیا آپ کو صرف ایک ماں نے جنا ہے؟ آپ کے باپ کاآپ کی تخلیق میں کوئی کردار نہیں ہے؟ کہنے پر مجبور ہیں کہ وہ نہ ہوتا تو کچھ بھی نہ ہوتا۔ اِس کم بخت کو میں نے اپنی چھاتی سے سفید لہو پلاکر جوان کیا۔ کیا اِس لئے کہ یہ میری چھاتی کو آباد رکھنے والے مَردکوہی قتل کردے؟ لوگ کہتے ہیں کہ عجیب ماں ہو کہ اپنے ہی بیٹے کو پھانسی گھاٹ پر لے جانا چاہتی ہوں۔ کوئی یہ کیوں نہیں کہتا کہ ناحق قتل ہونے والا بھی کسی کا بیٹا تھا۔‘‘
راشد وزیر کی ماں عدالت میں کھڑی چیخ رہی تھی۔ ہر کوئی انگشت بدنداں تھا۔ وہ کہہ رہی تھی ’’آپ اونچی شان والی کرسی پر بیٹھے ہیں۔ بتلائیں! جب آپ کی انگلیاں فیڈر تھامنے کے لائق بھی نہیں تھیں، جب آپ اپنے جسم پر اتنا اختیار بھی نہیں رکھتے تھے کہ مرضی سے حاجت کرسکتے، مرضی سے ہل جل سکتے، کیا تب بھی آپ جج تھے؟… آپ بھی لاکھوں ہزار بچوں کی طرح غلاظت سے لتھڑے ہوئے ماس کے ایک کچے پارچے سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں تھے۔ آپ کو جج بنانے والا یہاں دکھائی نہیں دیتا مگر آپ کی نظروں میں ضرور رَچا بسا ہوگا۔ اِس خونی نے ویسے ہی ایک حقیقی کردار کو منوں مٹی تلے سُلا دیا ہے۔میں اِس کی پھانسی سے کم سزا پر کسی بھی صورت میں رضامند نہیں ہوپائوں گی۔‘‘
جج کی فکر سے معمور آنکھوں نے باری باری ماں بیٹے کو دیکھاپھر عجیب سی نگاہ مقابلے کیلئے پَر تولتے دونوں وکیلوں پر ڈالی اورسپاٹ سے لہجے میں بولا ’’ سعدیہ بیگم! میں جس مسند پر بیٹھا ہوں، اِس کے کچھ آداب ہیں جنہیں ملحوظ رکھتے ہوئے میں کوئی مشورہ نہیں دے سکتا۔ دُکھ زدہ مامتا کو اشارہ دے سکتا ہوں۔ کہتا ہوں کہ تم اپنا آسمان گنوائے بیٹھی ہو، زمین بھی گنوا بیٹھو گی تو زندہ کیسے رہو گی؟‘‘
وہ سیخ پا ہوگئی۔ انگلی مجرم بیٹے پر اُٹھا کر بولی ’’مجھے اِس کی زندگی کا لالچ نہ دیں، مجھے میری مامتا کا احتیاج یاد مت دلائیں۔ میں کوئی ماں نہیں ہوںبلکہ میں وہ بیوہ ہوں جس کا شوہر تین دِن مسلسل بھوکا رہامگر اپنی بیوی کیلئے ایک آپ جیسے مسند نشین جج کی کوٹھی کے کچن سے کھانا چُرا کر لاتا رہا اور کھلاتا رہا۔اُس خدا ترس شخص نے اُن دنوں ہمیں اپنا سرونٹ کوارٹر دے رکھا تھا۔ میرا شوہر، اِس کا باپ، بہ خوبی جانتا تھا کہ جس شخص کے ہونٹوں سے نکلنے والا لفظ قانون بن جاتا ہے، اُس کے گھر میں چوری کرنا کتنا سنگین جرم تھا۔ یہ جانتے ہوئے بھی وہ میرے پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے ہر شب میںبے خوف وخوف خطر آگ میں کودجاتا تھا۔‘‘
وہ پَل بھر کو رُکی، چہارسُو عجب ویران نگاہ دوڑائی پھر دائیں ہاتھ کی پشت سے ہونٹ صاف کرتے ہوئے بولی ’’ یہ دُنیا میں آنے والا تھا تو ڈسٹرکٹ سرجن نے بڑا آپریشن تجویز کردیا تھا۔ اُس کے پاس چند ٹکے بھی نہیں تھے، میرا آپریشن کیسے کرواتا؟ مگر… ایک دُکھیاری ماں کا قصہ سننے والے جج! سن…‘‘
اُس کی آواز بھرا گئی۔ چوبی ریلنگ پرپیشانی ٹکا کر ہچکیاں لے کر رونے لگی۔ اُس کے وکیل نے پانی کا بھرا ہوا گلاس تھمایا۔ آدھا پیا، آدھا واپس کردیا۔ آنسو پونچھ کربازو کا کف ہٹایا۔ نیلگوں رَگوں پر انگلی رکھ کر بولی ’’سنیں! اُس نے لاہور کے جنرل ہسپتال میں جا کر اپنی اِن رَگوں سے تین بوتلیں خون کی نکلوا کر ایڑیاں رگڑتے کسی امیر زادے کے ہاتھ بیچیں، دو دِنوں میں… پیلے ہاتھوں میں لال لال نوٹ میں نے دیکھے تھے ، کسی اور نے نہیں۔ سب کہتے تھے کہ اُس کے خون کا گروپ کم یاب ہے۔ اُس نے بھی لرزتے ہونٹوں سے مجھے بتلایا تھا کہ دُنیا میں نایاب چیزوں کی قیمت اچھی ملتی ہے۔‘‘
عدالت میں موت کی سی خاموشی چھاگئی۔ پرانی طرز کے پنکھوں کی گھرر گھرر سنائی دے رہی تھی۔ وہ سانس لے کر بولی ’’یہ ظالم انسان… بیٹا کہوں تو زبان پلید ہوتی ہے، قاتل کہوں تو مقتول کا ایک ایک احسان یاد آتا ہے جو اُس نے ہم دونوں پر کیا۔ بھوک اور افلاس کی وجہ سے میں غذائی قلت کا شکار تھی، یہ بھی پیدائشی طور پر خون کی کمی کا شکار تھا۔ ڈاکٹر نے آپریشن کے فوری بعد حکم سنادیا کہ ہم دونوں ماں بیٹے کو خون کی فوری ضرورت ہے۔ اِس شہر میں خون دینے والا کوئی نہیں تھا، خون چوسنے والا ہر کہیں دکھائی دیتا تھا۔ اُس نے اپنی زندگی کی پرواہ نہیں کی… آدھی بوتل اِس کے مرتے ہوئے وجود میں زندگی بنا کر ٹپکائی، آدھی میری رَگوں میں انڈیل دی… کیا بھول جائوں اُس منظر کو جب وہ ہسپتال کی گیلری میں دیوار کا سہارا لے کر بچوں کی طرح پیر پیر چل رہا تھا مگر اُس کے پیلے پھَک چہرے پر فتحیابی کی مسکراہٹ عدالتی نوٹس کی طرح چپکی ہوئی تھی… ہم ہسپتال میں ہی تھے کہ آخری دھیلا بھی خرچ ہوگیا۔ وہ ہتھیلی پھیلا کر میڈیکل سٹور پر جاتا اور پرچی دکھا کر دوائیوں کی بھیک مانگتا، کنٹین والے سے میرے پیٹ کے جہنم کو بھرنے کیلئے روٹی مانگ کر لاتا… کیا بھول جائوں؟‘‘
راشد وزیر کا وکیل تیز لہجے میں بولا ’’آبجیکشن یور آنر! مدعیہ چونکہ پڑھی لکھی عورت ہے ، اِس لئے بے جا جذبات افشانی کرکے معزز عدالت کی ہمدردیاں حاصل کررہی ہے۔ اِن باتوں کا مقدمہ ہذا سے کوئی تعلق واسطہ نہ ہے۔‘‘
سعدیہ بیگم نے چونک کر بیٹے کے وکیل ملک انور ظہیر کی طرف دیکھا۔ آنکھیں خشمگیں ہوگئیں۔ پل بھر کو رُکی پھر کراہ کر بولی ’’جب تم لوگ قانونی موشگافیاں چھوڑتے ہو، تب میں خاموش کھڑی ہوکر تمہاری وہ تمام باتیں سنتی ہوں جنہیں میرے سمیت اَن گنت لوگ سمجھنے کی قدرت تک نہیں رکھتے۔ میں کوئی اعتراض نہیں کرتی۔ تم کیوں بولتے ہو؟‘‘
سعدیہ بیگم کے وکیل نے طنزیہ ہنسی ملک صاحب کی طرف اُچھالی اور مؤدبانہ لہجے میں جج صاحب کو مخاطب کیا ’’یور آنر! میری مؤکلہ کے خاوند کا دِن دیہاڑے قتل ہوا ہے۔ قاتل جیوڈیشل ریمانڈ کے بعد عدالت میں موجود ہے اور یہ اُس کا فطری ردعمل ہے۔ میری استدعا ہے کہ میری مؤکلہ کو جذباتی ٹھیس نہ پہنچائی جائے اور بولنے دیا جائے۔‘‘
جج صاحب نے ایک طویل سانس لی اور غیر محسوس انداز میں اشارہ کرکے اجازت دے دی۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ عدالت کے موت آگیں ماحول میں چند سسکیاں گونج اُٹھیں۔ شاید جج کی آنکھیں بھی بھیگ گئی تھیں۔ اُسے بولنے سے روکنا چاہتا تھا مگر وہ سنی اَن سنی کرکے پھر بولنے لگی ’’یہ ایک سال کا تھا کہ بیمار پڑ گیا۔ وہ مزدوری کرکے اتنے پیسے لاتا تھا کہ بہ مشکل چولھا جلتاتھا۔ علاج کیلئے پیسے کہاں سے لاتا؟ ڈاکٹر نے کافی مہنگی دوائیاں لکھ دیں۔ شام تک محلے داروں سے اُدھار مانگتا رہا مگر خالی ہاتھ پلٹا۔ واپسی کی اُمید نہ ہو تو کوئی پھوٹی کوڑی نہیں دیتا، اتنی بڑی رقم کون دیتا؟… شام کو نکلا، رات گیارہ بجے کے قریب دوائیاں لے آیا۔ہائے! اُس شب میں نے ہی دیکھا تھا کہ گولیاں پیس کر سیرپ میں ملاتے ہوئے اُس کے ہاتھ کسی خوف کے باعث بُری طرح کانپ رہے تھے۔ اَبھی اِس کے حلق میں سیرپ ٹپکا ہی رہا تھا کہ پولیس آگئی۔ اُسے میڈیکل سٹور کی چھت پھاڑنے کے جرم میں گرفتار کرکے گھسیٹتے ہوئے میری نظروں سے دُور لے گئی۔ میں وہ دِن، وہ گھڑی، وہ منظر کیسے بھول جائوں جب اُسے پولیس اپنی جیپ پر اِس حال میں چھوڑنے آئی کہ اُس کے عضو عضو میں پھَٹ پڑے ہوئے تھے۔ وہ فالج زدہ اپاہجوں کی طرح تین دِنوں تک چارپائی میں پڑا کراہتارہا… ہائے! بھول جائوں وہ سب کچھ؟… اِس خونی کی خاطر… نہیں چاہیے مجھے ایسا بیٹا جس نے میرا محسن مجھ سے چھین لیا ہے، جس نے مجھ سے زندہ رہنے کا مقصدتک چھین لیاہے۔ ‘‘
سانس لینے کو رکی، پھر چیخی ’’میں جانتی ہوں کہ اُس نے کس طرح دھاگہ بنانے والی دو فیکٹریوں میں بہ یک وقت سولہ گھنٹے کام کرکے مجھے پی ٹی سی کا کورس کروایا اور ملازمت دلوائی۔ وہ اَن پڑھ تھا۔ کہتا تھا ’تم دس جماعتیں پڑھی ہوئی ہو، میں اَن پڑھ ہوں۔ تم گیارھویں سیڑھی سے سفر آغاز کرو گی جبکہ میں پہلے زینے پر قدم رکھوں گا۔ تم پڑھو، میں پڑھاتا ہوں، ہمارے بچے کا مستقبل محفوظ ہوجائے گا۔‘ ایلیمنٹری کالج ہمارے کوارٹر سے ساڑھے چار میل کے فاصلے پر واقع تھا جو میں ہر صبح اُس کی پُرانی اور پھٹیچر سائیکل کے کیرئیر پر بیٹھ کر طے کرتی تھی۔ وہ پسینہ میں نے پونچھا ہے جو دسمبر اور جنوری کی صبحوں میں تیز تیز پیڈل مارنے کے سبب اُس کے مسام مسام سے پھوٹ نکلتا تھا۔ہتھیلیوں پر جمی بَرف میری نظروں نے ہی دیکھی تھی۔‘‘
یوں لگتا تھا جیسے عدالت میں موجود ہر شخص محض سانسیں لیتی مشین بن گیا ہے۔ کوئی آہٹ، کوئی ہنکارہ، کوئی اضطراب آلود لفظ… کچھ بھی نہیں تھا۔ ایک غیر معمولی سکوت طاری تھا۔ یوں جیسے رات کا پچھلا پہراچانک دِن کے اُجالے میں اُجلی دیواروں میں سمٹ آیا ہو۔ وہ عورت شعلہ جوالہ بنی ہوئی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے اُس کے لبوں سے فقرے نہیں، بلکہ آگ کی تندخُو لپٹیں برآمد ہورہی تھیں۔ میں نے نظر بھر کر سر جھکائے کھڑی سعدیہ بیگم کو دیکھا۔ بہ مشکل چالیسویں سن میں تھی۔ دیکھنے میں بہ مشکل بتیس تینتیس کی دکھائی پڑتی تھی۔ چہرے کے خطوط بڑے تیکھے اور شخصیت نہائت پُر وقار تھی۔ میک اَپ سے یکسر بے نیاز چہرہ آنسوئوں سے تَر تھا۔
جج کی گہری اور دُکھ آلود نظریں سر جھکا کر کھڑے قدآور راشد وزیرپر چند ثانیوں کیلئے ٹھیریں پھر سامنے دَھرے پین پر مرکوز ہوگئیں۔
ملک انور ظہیر کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں تھی مگر اُس نے خود کو سنبھالنے میں دیر نہیں لگائی۔ ایک قدم آگے کی طرف چلا، مخصوص انداز میں دونوں ہاتھ کھول کر ، جذبات سے عاری لہجے میں گویا ہوا ’’یور آنر!پوسٹ مارٹم رپورٹ میں واضح طور پر ڈاکٹرز نے لکھا ہے کہ موت دیوار کی نکڑ سے سر ٹکرانے کے باعث واقع ہوئی۔ میرا مؤکل، راشد وزیر، کوئی پیشہ ور مجرم نہیں ہے، قاتل نہیں ہے۔ اُس پر الزام عائد ہے کہ اُس نے اپنے باپ، وَزیر علی، جو اُس کا راستہ روکے کھڑا تھا، کو پَرے ہٹانے کیلئے دھکا دیا تھا۔ حادثاتی طور پر اُس کا سر دیوار کی نکڑ سے ٹکرا گیا جس کے باعث موت واقع ہوئی۔ اگر اِس الزام کو مان بھی لیا جائے تو یہ طَے ہے کہ میرے مؤکل کا متوفی کو قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔‘‘
وہ جلدی سے وکیل کی جانب پلٹ پڑی ’’کنڈیکٹر اور بیٹے کے دھکوں میں زمین وآسمان کا فرق حائل ہوتا ہے۔ تم جس واقعے کو ’محض حادثہ ‘ قرار دے رہے ہو، یہ ایک طویل ریاضت کا بے ثمر اَنت ہے۔ جب تمہارا مؤکل، میرے وزیر علی کا بیٹا، راشدوزیر، حادثوں کی نوک پر لحظہ بہ لحظہ زندگی کا سفر طَے کر رہا تھا تَب وہ اس پر کبھی کبھی ہاتھ اُٹھا لیا کرتا تھا۔ جب یہ زمین پر پڑی بجلی کی ایکس ٹینشن لیڈ کے سوراخوں میں انگلیاں ڈالنے کی کوشش کرتا تھا، جب یہ ہیٹر کے سرخ اسپرنگوں کو پکڑنے کی کوشش کرتا تھا یاسردیوں کے ٹھٹھرے ہوئے پانی سے کھیلنے کیلئے مچلا کرتا تھا۔ اِسے دھکا دینا ہی تھا تو تب دیتا جب اِس کی یونیفارم خریدنے کے بعد ہم فاقہ کرتے تھے۔تب ہم دونوں کو اپنی ننھی ننھی ہتھیلیوں سے پَرے جھٹک دیتا جب اِسے بڑا آدمی بنانے اور لکھانے پڑھانے کیلئے ہم سکول کے اساتذہ کی منتیں کیا کرتے تھے۔ ‘‘
وکیل نے پھر ایک مرتبہ جج صاحب کی خدمت میں درخواست پیش کی کہ مدعیہ سماعتی کاروائی کو طول دے کر عدالت کا قیمتی وقت ضائع کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ بولا ’’میرے مؤکل کی کردار کشی کرتے ہوئے محترمہ یہ بھول رہی ہیں کہ جن اَمور کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہی ہیں، کم و بیش یہ مراحل تمام والدین طَے کرتے ہیں۔ اپنی نسل کے ارتقائی مدارج طے کرنے میں ہر والدین ایسی اَن گنت کٹھنائیوں سے گزرتے ہیں جنہیں دُہرانے سے ماحول میں خاص قسم کی جذباتی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ اگر میرا مؤکل چاہتا تو اِس الزام کی صحت کو چیلنج کرسکتا تھا اور اِس حادثے میں اپنے کردار سے کُلی طور پر منکر ہوجاتا مگر یہ اُس کی اعلیٰ ظرفی کی دلیل ہے کہ اُس نے بلاکم وکاست خود پر عائد کئے گئے الزام کو قبول کرلیا ہے اور پورے وثوق سے اسٹیٹمنٹ دی ہے کہ اُس کا ارادہ ہرگز قتل کا نہیں تھا۔‘‘
میں نے پہلو بدلا۔ خاصا وقت گزر چکا تھا۔ آج سے پہلے مجھے اِس کمرے میں اتنا وقت گزارنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ ناگاہ، میری نگاہ سعدیہ بیگم پر پڑی۔ اُس نے ہنکارا بھر کر اپنی توجہ جج صاحب کی جانب مبذول کرلی ’’میں مانتی ہوں، یہ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں موجود تمام والدین اپنے بچوں کیلئے ایسی ہی تکالیف برداشت کرتے ہیں مگر کسی بھوکے کو دیکھ کرکسی جج کے ہاتھوں سے پھوٹنے والی خیراتی رقم اور مفلس کی چنگیر میں پڑی روٹی کے بٹنے میں کوئی فرق نہیں ہے؟فرشتے کی سوسالہ عبادت اور دَم بہ دَم حالات کے مارے ہوئے آدم زادے کے ایک سجدے میں کوئی تفریق نہیں ہے؟…یہ قاتل کہتا ہے، اس کا وکیل دلالت کی گٹھڑیاں کھولتا ہے کہ اُس کا ارادہ قتل کا نہیں تھا۔ اگر اِس کا ارادہ ایسا نہیں تھا تو پھر معزز عدالت اس سے دریافت کیوں نہیں کرتی کہ اِس کے ہاتھ اُس کے باپ پر کیوں کر اُٹھے؟ وکیل کہتا ہے کہ میرے وزیر علی کی موت دیوار کی نکڑ لگنے سے واقع ہوئی، میں کہتی ہوں کہ جب اِس ملعون کی نگاہوں میں اُس کے مقابل درشتی اُتری تھی، جب اِس کے لہجے میں بغاوت اور نفرت کی جھلک اُس نے محسوس کی تھی، تبھی، اُسی وقت، اِس کے دونوں ہاتھوں کے دھکے نے اُسے موت کی وادی میں دھکیل دیا تھا۔ اِس کے ہاتھ اُٹھنے اور اُس کی چھاتی پر لگنے کے بیچ کے عرصے میں اُس کی روح کا قتل رُو پذیر ہوگیا تھا۔ ہائے! اُس کلیجہ فگار باپ کی آنکھوں کا وہ تأثر جو میں نے لحظۂ آخر میںدیکھا، ہائے!لبوں پر مچلتا شکوہ ’سادی! تیرے بیٹے نے…‘ میرے عورت پن کو کھوکھلا کر گیا اور اُن چند لمحوں میں ہی کتنی ناتواں ہوگئی تھی کہ میں اُس کی میت پر بین بھی نہ کرسکی۔ جب محبت کا تاج محل تعمیر ہورہا تھا، تب یہ میرا اور وزیر علی کا سانجھا تھا، جب تاج محل کا مینار تعمیر کار کے ضعیف وجود پر آن گرا تب صرف میرا تھا۔ اِس سے بڑھ کر عورت کیلئے سانحہ کیا ہوگا جج صاحب!‘‘
وہ ایک دَم ساکت ہوگئی۔ لب سِل گئے۔ عجیب سی نظروں سے جج کو دیکھنے لگی۔ جج صاحب نے ایک ذرا جھجک کر دریافت کیا ’’کیا تم دونوں باپ بیٹے کے درمیان ہونے والے جھگڑے پر روشنی ڈالو گی؟‘‘
’’روشنی!‘‘ وہ استہزائیہ لہجے میں بولی ’’روشنی کہاں رہی جج صاحب! اِس نے سب کچھ گل کردیا۔ ہاں! میرے نصیب میں اندھیرے باقی ہیں۔ کہیں تو اُس جانکاہ گھڑی پر اندھیرا ڈال سکتی ہوں۔ بتلا سکتی ہوں کہ شمع کیوں کر بجھی۔ ‘‘
جج کے سپاٹ چہرے پر ناگواری کی ہلکی سی پرچھائی دکھائی دی، پھر لحظہ بھر کے بعد معدوم ہوگئی۔ بولا ’’چلو یوں ہی سہی۔‘‘
وہ بولی ’’نہیں سُدھ کہ اِس کی تربیت میں ہم نے کہاں غلطی کی۔ اِسے اچھے اور معقول اسکولوں میں تعلیم دلوائی۔ اِس کے اخلاق پر توجہ دی۔ اِس کے ذہن کو احساسِ کمتری سے بچانے کیلئے وزیر علی نے اپنی اوقات سے بڑھ کر اِس پر خرچ کیا مگر اِس کم بخت کو ہمیشہ یہی غلط فہمی رہی کہ ’پاپا کے پاس بڑا پیسہ ہے، مجھے نہیں دیتے‘…اِسی کم فہمی نے اِس کا دماغ خراب کردیا۔ گریجویشن کے بعد دیر سے آنا، کچھ بتلائے بغیر گھر سے نکل جانا، باپ کی ڈانٹ ڈپٹ کو اہمیت نہ دینا اور کوستے رہنا کہ اِس کے باپ نے اِس کیلئے کوئی جائیداد نہیں بنائی، اِس کا معمول بن گیا تھا۔ نہ جانے کس نے اِس کے ذہن میں اتنا زہر بھر دیا تھا کہ اِسے اپنا بچپن بھول گیا، باپ کی قربانیاں فراموش ہوگئیں اور یہ دکھائی دینا بھی بند ہوگیا کہ ضعف اور لاغرپن کے باوجود وہ روزانہ کام پر جاتاتھا۔ اُس کی سنجیدہ مزاجی کو درشتی سمجھنے لگا۔ اُس کی کم گوئی کو غرور کا نام دینے لگا۔ اُس دِن اِس نامراد نے پانچ ہزار روپے مانگے تھے۔ میں جانتی ہوں کہ اُس کے پاس صرف دو اڑھائی سو روپے تھے۔ اُس نے کہا ’دوستوں کے ساتھ سیر وسیاحت پر نکلنا بہت صحت مند روائت ہے مگر اِس سے کہیں زیادہ ضروری تمہاری تعلیم کا تسلسل ہے۔ پندرہ دِنوں کے بعد تمہارا ایڈمشن کرانا ہے۔ خاصی بڑی رقم کی ضرورت پڑے گی۔ تمہاری ماں کی پوری تنخواہ ایڈمشن، کتابوں اور کپڑوں پر اُٹھ جائے گی۔ ایسا کرو کہ اپنے اِس پروگرام کو اگلے سال پر اُٹھا رکھو۔‘ اُس نے اپنی عادت کے مطابق اِسے نہیں بتلایا تھا، گزری ہوئی شب میں مجھے بتلا دیا تھا کہ وہ جن دوستوں کے ساتھ جانے کا ارادہ رکھتا ہے، وہ کچھ اچھے لوگ نہیں ہیں۔ بڑے گھروں کے آوارہ اور بگڑے ہوئے لڑکے ہیں۔ اِس نے اپنے باپ کو ’کنجوس‘ کہا۔ اُسے ’مردم بیزار‘ اور ’تنہائی پسند‘ قرار دیا اور اپنی ہٹ پر قائم رہا۔ وہ اِس کی باتیں خاموشی سے سنتا رہا، کبھی مجھے اور کبھی اِسے دیکھتا رہا پھر تھکے تھکے لہجے میں گویا ہوا ’ اچھا بیٹے! تم پڑھے لکھے ہو۔ ڈونگھی (گہری) باتیں کرتے ہو، اوکھی (مشکل) باتیں سمجھتے ہو، میں اَن پڑھ آدمی ہوں، تمہیں سمجھا نہیں پائوں گا۔ بس یہی کہتا ہوں کہ تم خود کو تھوڑا بدل ڈالو۔ میں تمہارے لئے جو کچھ نہیں کرپایا، تم اپنے لئے خود کرلینا۔ بس تھوڑا سا وقت اور ہے، مشکل ہے،گزار لو۔ اچھی سی نوکری ملنے کے بعد تمہارے پاس عیاشیوں کی بہت سی گنجائش ہوگی۔‘…اُس کا لہجہ بہت دھیما اور مایوسی آمیز تھا مگر اِس نے دھیان نہیں دیا اور چیخنا چلانا شروع کردیا۔تب اُس نے سخت لہجے میں حکم دیا کہ ’تم کہیں نہیں جائو گے، گھر میں رہو گے‘ اور جب اِس نے اپنے دوستوں کے ساتھ جانے اور پھر گھر لوٹ کر نہ آنے کی دھمکی دی تو اُس نے دائیں ہاتھ کی شہادت اُنگلی اٹھا کر تنبیہہ کرتے ہوئے کہا ’خبردار! گھر سے باہر قدم نہ نکالنا ورنہ میں بہت بُرا پیش آئوں گا۔‘ پھر… پھر…اِس نے باہر نکلنا چاہا۔ اُس نے تھام لیا مگر جوان بیٹے کی برہم کلائی پر بڑھاپا زَدہ باپ کی گرفت اتنی مضبوط نہیں تھی۔ بیٹے نے ایک جھٹکے سے کلائی چھڑائی اور اُس کی چھاتی پر دونوں ہاتھ رکھ کر پوری قوت سے دھکا دیا۔ وہ لڑکھڑا کر پیچھے ہٹا اور اُس کے سر کا عقبی حصہ ایک دھماکے سے دیوار کی تیز نکڑ میں لگا۔ وہ دونوں بانہیں ہوا میں لہراتے ہوئے وہیں ڈھیر ہوگیا۔ ‘‘
اُس کی آواز پھٹنے لگی تھی۔ پانی کی طلب یکبارگی سے سِوا ہوگئی۔ اُسے پانی پلایا گیا۔ چند ثانیوں تک خاموش کھڑی ہوا میں گھورتی رہی پھر تڑپ کر بولی ’’وہ سفر اُس مَرد کے ساتھ میں نے طے کیا ہے جس کی منزل کو یہ ظالم انسان بیچ کراپنے یاروں دوستوں کے ساتھ تفریح کی نذر کرنا چاہتا تھا… میں ہی جانتی ہوں… یا وہ جانتا تھا جو اِس کی جوانی کی طاقت سے بھرپور ہاتھوں کا دھکا کھا کر پیٹھ کے بَل ایسا گرا کہ کبھی نہ اُٹھ سکا۔ تمام عمر قسمت سے مَردوں کی طرح برسرِ پیکار رہنے والا محبت کا ایک دھکا نہیں سہہ سکا۔ بھری عدالت میں کوئی تو مجھے بتلائے کہ باپ کے علاوہ بھی کوئی شخص دُنیا میں ایسا ہے جو نوزائیدہ بچے کی پوٹی میں ہاتھ گندے کرے اور اُنیس سال اُس پرانویسٹ کرتا رہے، صرف ایک گریجویٹ کا باپ کہلانے کیلئے…کوئی ہے تو میرے سامنے آئے، میں اِسے معاف کردیتی ہوں۔‘‘
کوئی نہیں بولا۔ بولنے کا یارانہ کسی میں ہوتا تو سر اُٹھاتا۔ وہ دونوں بانہیں فضا میں کھول کر سیدھی کھڑی ہوگئی ’’میں اپنی کوکھ پر لعنت بھیجتی ہوں، اپنی مامتا پر چار حرف بھیجتی ہوں، اپنے بیٹے کی زندگی پر ملامت کرتی ہوں… انصاف دے سکو تو ایک دُکھیاری بیوہ پر احسان کردو، اِسے بیچ چوراہے لٹکا دو، اِسے پھانسی دے کر عبرت بنادو وگرنہ … پیغمبروں والی کرسی پر بیٹھے ہوئے جج صاحب! میں محشر کے دِن آپ کا گریبان پکڑ لوں گی اور اپنے مجرم کے پہلو میں کھڑا کرکے خدا کے سامنے بین ڈالوں گی… ہائے ! تیری بھری دُنیا میں کوئی بھی ایسا نہ ہوا جس نے اُجڑی ہوئی عورت کے دُکھ کا مداوا کیا ہو… کوئی نہ ہوا!‘‘
ماں چُپ ہوگئی۔ دُنیا بول پڑی۔ شور سے گھبرا کر راشد وزیر نے آنکھیں کھول دیں۔ایسے میں شاید جج صاحب کا حوصلہ جواب دے گیا تھا۔ اُنہوں نے عدالتی کارروائی کی بساط کو لپیٹا اور ریٹائرنگ روم میں چلے گئے۔ فریقین کو دَس دن بعد کی پیشی کا مژدہ سنا دیا گیا۔میں نے اہل مد سے مل کر معلوم کرلیا تھا کہ تین دِن بعد یعنی پانچ تاریخ کو راشد وزیر کے وکیل کی طرف سے دائر کردہ ضمانت کی درخواست کی سماعت بھی اِسی عدالت میں ہونے والی تھی۔
…٭…
پانچ تاریخ کو میں پھر اِسی عدالت کے باہر لان میں درخت کے قریب کھڑا تھا۔ آج میری توجہ چوتھے نمبر کی سماعت کی پکار پر مرکوز تھی۔ اَبھی دوسرے نمبر کا ٹرائل چل رہا تھا۔ میں نے ارد گرد کھڑے اَن گنت لوگوںمیں سعدیہ بیگم اور اُس کے وکیل عبدالخالق بھٹی کو دیکھ لیا۔ وہ نسبتاً نیچی آواز میں محوِ گفتگو تھے۔ میں غیر محسوس انداز میں اُن کے قریب ہوگیا۔ سعدیہ بیگم نے ایک اچٹتی ہوئی نگاہ مجھ پر ڈالی، آنکھوں میں لحظہ بھر کیلئے الجھن کے ڈورے دکھائی دیے پھر وہ کندھے اُچکا کر بھٹی صاحب کی طرف متوجہ ہوگئی ’’وکیل صاحب! کیا اُس کمینے کی بیہل ہوجائے گی؟‘‘
’’کچھ کہا نہیں جاسکتا بیگم صاحبہ!‘‘ وکیل بولا ’’یہ جج صاحب کے موڈ، کیس کی نوعیت اور ضمانت پررہا کئے جانے کی ضرورت پر منحصر ہوتا ہے۔‘‘
’’مگر اُسے سلاخوں سے باہر نہیں آنا چاہیے وکیل صاحب!‘‘ سعدیہ بیگم کے لہجے میں تشویش کا عنصر ازحد نمایاں تھا ’’اُس کا جیل سے باہر آنا میرے لئے سوہانِ روح ثابت ہوگا۔‘‘
’’میں نے کیس کی تیاری مکمل کرلی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میں اُس کی ضمانت منظور نہیں ہونے دوں گا۔ آپ بھی دُعا کیجیے۔‘‘ وکیل نے پُر وثوق انداز میں کہا مگر سعدیہ بیگم کی تشویش میں کمی نہیں آئی۔
ایسے میں تیسری پیشی کی صدا فضاء میں بلند ہوئی۔ بتوں کی طرح ایستادہ بَدنوں میں ہل چل مچی۔ جنہیں بُلایا گیا تھا، اندرچلے گئے، جنہیں باہر کا راستہ دکھایا گیا، وہ سرد لہجوں میں باتیں کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل آئے۔
سعدیہ بیگم کہہ رہی تھی ’’آپ کیس کی تیاری اِس انداز میں کریں کہ اُسے سزائے موت سنا دی جائے۔‘‘
میں نے ایک ذرا ٹھٹک کر اُسے دیکھا۔ میری طرح وکیل کو بھی اچنبھا ہوا۔ بولا ’’میں آپ کو بارہا مرتبہ بتلا چکا ہوں کہ اُسے سزائے موت نہیں ہوسکتی۔ زیادہ سے زیادہ عمر قید، عمومی انداز سے دَس بارہ سال اور یہ بھی ممکن ہے کہ جج صاحب اُسے پانچ سال قید کا حکم سنا دیں۔‘‘
اُس کے چہرے پر تکلیف کے آثار نمایاں ہوگئے۔
وکیل نے تھوڑے توقف کے بعد کہا ’’بیگم صاحبہ!جیسا بھی ہے، آپ کا بیٹا ہے۔ آج نہیں تو کل، پَرسوں، کسی دِن آپ کا غصہ فرو ہوجائے گا اور آپ چاہیں گی کہ وہ جلد از جلد جیل سے باہر آجائے۔ میری بات کابُرا مت مانیے، اولاد شئے ہی ایسی ہے۔ میں مانتا ہوں کہ آپ وزیر علی کو بہت چاہتی تھیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ راشد وزیر آپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔ ایک نہ ایک دِن اُس کی محبت آپ کی مامتا کی کیتلی میں ضرور جو ش مارے گی۔‘‘
شکوہ بھری نگاہ وکیل پر ڈال کر وہ خاموش ہوگئی۔ یوں لگا جیسے اُسے یہ بات سن کر دِلی تکلیف پہنچی ہو۔ برآمدے کی سیڑھیوںپر ملک انور ظہیر دکھائی دیا۔ اُس کے ہمراہ اُس کا منشی قانون کی چند کتابیں اُٹھائے کھڑا تھا۔ کتابوں میں رکھی کاغذ کی اَن گنت سفید رَنگی پَرچیاں لٹک رہی تھیں۔ سعدیہ بیگم کی آواز میرے کانوں میں پڑی ’’کیا راشد کو نہیں لایا جائے گا؟‘‘
وکیل نے نفی میں سر ہلایا ’’ضمانت کی پیشیوں میں ملزم کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘‘
سعدیہ بیگم کے حلق سے اطمینان افزاء سانس برآمد ہوا۔ ایسے میں منادی پڑ ی ’’راشد وزیر بنام سرکار…‘‘
حسبِ معمول شطرنج کے مہروں میں حرکت ہوئی۔ عدالت میں نئی بساط بچھ گئی۔ میں خاموشی سے اُن سبھوں کے پیچھے چلتا ہوا اپنی مخصوص نشست پر جا بیٹھا۔ معمول کی عدالتی کارروائی کے بعد جج صاحب نے ملک انور ظہیر کی طرف استفہامیہ نگاہوں سے دیکھا۔ وہ فائل کھول کر اپنا لکھا ہوا پڑھنے لگا ’’یور آنر! قتل کا یہ مقدمہ آپ کی عدالت میں زیر سماعت ہے اور چالان سینڈ ٹو کورٹ ہوچکا ہے۔ میرا مؤکل گزشتہ چھہ مہینوں سے جیل میں ہے…‘‘
وکیل نے اپنے مخصوص پیشہ وارانہ انداز میں عدالت پر باور کرنے کی بھرپور کوشش کی کہ اُس کا مؤکل پیشہ ور قاتل یا عادی مجرم نہیں ہے۔ وہ طالب علم ہے اور اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتا ہے مگر جیل کے ماحول میں پڑھ نہیں سکتا۔ اُس کی تعلیم متاثر ہورہی ہے۔ وہ مجرم نہیں، ملزم ہے اور مجھے یقین ہے کہ عدالت اُسے باعزت بری کر دے گی۔ اُس نے بڑے باوثوق انداز سے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ مدعیہ کا واحدسہارا ہے اور عدالت سے استدعا کی کہ اُس کی ضمانت کی درخواست منظور فرمائی جاوے۔
جواب میں سعدیہ بیگم کے وکیل نے اپنامؤقف پیش کیا اور ملک انور ظہیر کے مؤقف کو بُری طرح جھٹلا دیا۔ اُس نے قانون کی کتابیں مخصوص جگہوں پر کھولیں اور کئی پیراگراف پڑھ کر سنائے۔ پھر دونوں ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کرنے لگے۔ یوںلگتا تھا جیسے دونوں اَب تَب میں جھگڑ پڑیں گے مگر میں جانتا تھا کہ یہ اُن کی پیشہ وارانہ معمول کی تکرار تھی جو ایک حدتک آگے جاتی تھی۔ مجھے لگا کہ ملک انور ظہیر کا پلڑا بھاری ہونے لگا تھا۔ شاید سعدیہ بیگم نے بھی اِس خطرے کو بھانپ لیا تھا، تبھی وہ بھی اِس تکرار میں شامل ہوگئی، مضمحل مگر غیر معمولی طور پر پُر اعتماد لہجے میں بولی ’’یور آنر! ملک صاحب اپنے مؤکل کی ضمانت پر بَریت کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ جیل اُس کا مستقبل برباد کررہی ہے۔ میں قانونی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی مگر یہ ضرور جانتی ہوں کہ ایک قاتل کا مستقبل کیا ہوتا ہے؟میں آپ سب پر باور کرانا چاہتی ہوں کہ اِس مقدمے کا واحد مجرم میرا بیٹا ہے جو جیل سے باہر آنے پر میرے ہی گھر میں رہنے پر بضد ہوگا کیونکہ اُس کا دُنیا میں اور کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔ تب ملک صاحب ایک درخواست اور تیار کریں گے کہ ان کے مؤکل کو اپنے گھر میں رہنے کی اجازت دی جائے۔ اگلے مرحلے میں مجھ پر زور دیا جائے گا کہ میں اپنے شوہر کے خونی قاتل کو کھانا پکا کر کھلائوں، اُسے دھو کر پہنائوں اور ہر پیشی پر اپنے ہاتھوں تیار کرکے عدالت میں لایا کروں…میرے وکیل صاحب کہتے ہیں کہ وہ جیل سے باہر آنے پر اِس مقدمے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گا۔ میں کہتی ہوں کہ وہ اِس معاملے کو سِرے سے ختم کردے گا کہ نہ بانس رہے اور نہ عدالتی ٹرائل میں بانسری بجے۔ جو شخص محض چند ہزار روپوں کی خاطر اپنے باپ کو قتل کرسکتا ہے، وہ اپنی زندگی بچانے کیلئے مجھے بھی ٹھکانے لگا سکتا ہے۔ میں آپ سے التماس کرتی ہوں کہ اِس کی ضمانت منظور نہ کی جائے۔ اگر ایسا کیا گیا تو میری زندگی کو یقینی خطرہ لاحق ہوجائے گا۔‘‘
’’کیا تمہیں یقین ہے کہ وہ ایسا ہی کرے گا؟‘‘
’’جج صاحب! مجھے کامل یقین ہے کہ وہ ایسا ہی کرے گا۔‘‘سعدیہ بیگم کا لہجہ بھرّا گیا۔ شکست آمیز بازی کا ٹوٹتا ہوا سِرا اُس کے ہاتھ لگ گیا تھا جسے اُس کے لہجے کے تیقن نے آنِ واحد میں بامِ فتح تک پہنچا دیا تھا۔ ملک انور ظہیر کی دلیلوں کا پلڑا سست رَوی سے اوپر کی جانب اُٹھنے لگا تھا۔ ایسے میں ایک غیر ضروری فقرہ اُس کے مونْھ سے پھسل گیا ’’یور آنر! اگر مدعیہ خود کو غیر محفوظ خیال کرتی ہیں اور بلاوجہ اِس ڈر کا شکار ہیں تو یہ کسی ورکنگ ویمن ہاسٹل یا بورڈنگ ہائوس میں منتقل ہو جائیں۔‘‘
’’ارے واہ صاحب!‘‘ سعدیہ بیگم ہاتھ نچا کر استہزائیہ انداز میں چلائی ’’میں…وزیر علی کی بیوی… اُس گھر کی مالکن… کسی ہاسٹل میں شفٹ ہوجائوں اور وزیر علی کا قاتل محبت کرنے والے کے مسکن پر قابض ہوجائے،یہ ممکن نہیں ہے…اُس گھر کی اینٹ اینٹ پر میرا نام لکھا ہوا ہے۔ اُس گھر کے شام وسحر پر میرے وزیر علی کے نقوش کندہ ہیں جنہیں دیکھ دیکھ کر میرا تنفس جاری رہتا ہے۔ مجھے یقین ملتا رہتا ہے کہ میں زندہ ہوںاور میرا وزیر علی میرے پاس موجود ہے۔ شاید آپ کو معلوم نہیں ہے کہ میں نے وزیر علی کو اُسی گھر کے صحن میں دفن کیا ہے جس کا مالک بننے میں اُس نے آٹھ سال چار مہینے تک مسلسل قسطیں ادا کیں۔ آخری قسط پر اُس نے لرزتے ہاتھوں سے ہم دونوں کے مونْھوں میں مٹھائی ٹھونسی تھی اور کہا تھا ’ میری زندگی کرایہ دار رہی، تم دونوں کی زندگی اِس عذاب سے نجات حاصل کرچکی ہے‘ …مگر اُس کی خوشی آمیز آوازنے یہ باور کرادیا تھا کہ کرایہ داری کے عذاب سے اُس نے نجات صرف اپنی بیوی اوراپنے بیٹے کو دِلائی تھی۔ قاتل اور اُس کی ماں کیلئے اُس نے اتنا پُر مصائب سفر طے نہیں کیا تھا۔ یہ لکھ لیا جائے کہ میں اپنا گھر چھوڑ کر کہیں نہیں جائوں گی اور کوئی شخص بشمول راشد وزیر کے، میرے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا تو وہ میرے پستول سے نکلنے والی گولی کا شکار ہو جائے گا۔‘‘
’’سعدیہ بیگم! آپ کسی عوامی فورم پر نہیں، معزز عدالت میں کھڑی ہیں۔ آپ کو اتنے واشگاف الفاظ میں دھمکی دینا زیب نہیں دیتا۔‘‘ ملک انور ظہیر کے لہجے میں غیر معمولی کاٹ پنہاں تھی۔
وہ ترکی بہ ترکی بولی ’’سَن پینسٹھ کی جنگ میں جس قوم نے اپنے گھر میں داخل ہونے والوں کو عبرت کی مثال بنا دیا تھا، میں اُسی قوم کی ماں ہوں، بہن ہوں، بیوی ہوں… مجھے قتل اور شہادت کے مابین حائل فرق کا بہ خوبی علم ہے۔ مجھے کوئی اندیشہ لاحق نہیں ہے کہ میرے الفاظ کو آپ کن پیرائیوں میں ٹانکتے ہیں، مجھے تو یہ علم ہے کہ دیواروں کے جس جال کو وزیر علی نے ہمارے لئے گھر بنایا تھا، اُسے میں نے وزیر علی کا مقبرہ بنا کر تاج محل کردیا ہے۔ تاج محل کی حفاظت مجھ پر واجب ہے۔ ‘‘
جج نے کچھ دیر تک سوچا، نتیجے پر پہنچا اور بحث وسماعت کو سمیٹتے ہوئے بولا ’’عدالت سمجھتی ہے کہ ملزم راشد وزیر کی ضمانت پر رہائی کسی بڑے نقصان کا پیش خیمہ ثابت ہوگی، اِس لئے درخواست مسترد کی جاتی ہے۔‘‘
سعدیہ بیگم نے فاتحانہ نگاہوں سے ملک انور ظہیر کی جانب دیکھا۔ میرا دِل بیٹھنے لگا۔ اُس کا دیکھنے کا انداز بڑا عجیب سا تھا۔

منظر اُسی عدالت کا تھا ۔
اکیوزڈ باکس میں کھڑا راشد وزیر بھرائی ہوئی آواز میں کہہ رہا تھا ’’میں بے راہ رو انسان، کم ظرف بیٹا اور آج ہر انسان کی نگاہوں سے گرا ہوا ملزم ہوں۔ مجھے اپنے پاپا سے نفرت نہیں تھی۔ میں نہیں جانتا کہ میں کیوں اتنا انتہا پسند بن گیا تھا جب میں نے صرف اور صرف یہی چاہاتھا کہ ہر وہ کام چٹکی بجاتے میں ہوجائے جو میں چاہوں۔ میں چاہتا تھا کہ مجھے پانچ ہزار روپے بہ ہر صورت مل جائیں اور میں اپنے دوستوں کے ہمراہ سیر سپاٹے کی غرض سے شمالی علاقوں میں جاسکوں۔ خدا کی قسم! مجھے علم ہوتا کہ میرے ہاتھوں میں اتنی بڑی قیامت چھپی ہوئی ہے تو میں کب کا اپنے ہاتھوں کو کاٹ کر اپنے وجود سے علیحدہ کرچکا ہوتا۔ میں اپنی ماما سے بھی شرمندہ ہوں، اپنے پاپا کی روح سے بھی شرمسار ہوں اور خدائے تعالیٰ سے دعاگو ہوں کہ وہ میرے اتنے بڑے گناہ کو معاف کردے۔ مجھے میرے دوستوں نے کہہ رکھا تھا کہ اگر میرے پاس پیسے نہ بھی ہوئے تو وہ مجھے اپنے ہمراہ لے جائیں گے۔ میں جانا چاہتا تھا مگر پاپا مجھے روکنے پر بہ ضد ہوگئے۔ میں نے اگراُنہیں پہلی مرتبہ غیر فطری انداز میںدھکا دیا تھا تو ماما گواہ ہیں، اُنہوں نے بھی پہلی مرتبہ مجھ پر اپنی مرضی اِتنی درشتی سے مسلط کی تھی۔ماما نے آج تک عدالت میں جو بھی کہا، بالکل سچ کہا، کہیں جھوٹ کی آمیزش نہیں ہوئی۔ بس ایک جگہ پر بھول گئیں… میں قاتل نہیں ہوں۔ میں نے قتل کے ارادے سے پاپا کو دھکا نہیں دیا تھا اور نہ ہی میں کبھی اتنی بڑی گستاخی کا سوچا تھا۔‘‘
’’گویا تم اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہو کہ تم نے اپنے باپ، متوفی وزیر احمد کو دھکا دیا تھا؟‘‘ سعدیہ بیگم کے وکیل نے ڈرامائی انداز میں بہ آوازِ بلند کہا۔
اُس نے بے چارگی سے اپنی ماں کی طرف دیکھا پھر نظریں جھکا لیں۔ لہجہ گلوگیر ہوگیا ’’جرم اگر دھکا دینے تک محدود رہے تو میںمعترف ہوں۔ میری قسمت میں، پاپا کی قسمت میں یہی لکھا تھا، ہوگیا ورنہ انسان کی زندگی دھکوںسے عبارت ہے۔ ہر روز نیا دھکا ملتا ہے مگر زندگی روٹھ کر نہیں جاتی۔ اَب روٹھی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے کائنات ہی روٹھ گئی ہو۔‘‘
سعدیہ بیگم نے شہادت اُنگلی اٹھائی، ہونٹ چبائے اور تند لہجے میں کہا ’’ڈرائیور کہے کہ روز اسٹیئرنگ گھماتا ہوں، اندازے پر چلتا ہوں، اَب کے اندازہ چُوک گیا، ہاتھ زیادہ گھوم گیا اور قسمت کا پہیہ بھی اُلٹا گھوم گیا۔ مگر اُس کی بھونڈی دلیل کو مانا نہیں جاتا اور نہ ہی محض مقدر کو موردِ الزام ٹھہرا کر بساط لپیٹ دی جاتی ہے بلکہ اُسے اُس کے کردہ جُرم کی سزا مل کر رہتی ہے۔جج صاحب! یہ ایک دھکے کی بات کرتا ہے، میں سینکڑوں دھکے گنوا سکتی ہو جو وزیر علی نے اس کم بخت کو دیے اور گھر سے سکول تک پہنچایا۔اُس کے اَن گنت دھکوں نے اِس کی زندگی کے سفر کو رَواں کیا،سہل کیا، اِس کے ایک دھکے نے اُسے زندگی کی سرسبز وادی سے عالمِ ماورا میں دھکیل دیا۔ اِسے کس نے یہ اختیاردیا تھا؟ میں نے تو اپنے سر کے سائیں کی طرف کبھی انگلی تک نہیں اُٹھائی تھی۔ اِس ڈر سے کہ کہیں میری انگلی کی لپک اور سمت اُسے ناگوار گزرے۔ میں پورے وثوق سے کہتی ہوں کہ اِس کے من میں کھوٹ تھی۔ کھوٹ نہ ہوتی تو میری زندگی کی راہ کھوٹی نہ ہوتی ۔‘‘
وہ تھک گئی تھی۔ اتنا بول چکی تھی کہ مجھے یوں لگتا تھا جیسے اَب اُس کے پاس کہنے کیلئے کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ چوبی ریلنگ پر سر ٹکا کر ہچکیاں لینے لگی۔
صفائی کے وکیل نے مؤدبانہ لہجے میں کہا ’’یور آنر! مختلف پیشیوں پر کی جانے والی سماعت کے نتیجے میں معزز عدالت پر یہ عیاں ہوچکا ہے کہ متوفی وزیر احمد کی موت محض اتفاق کا سنگین شاخسانہ تھی۔ میرے مؤکل کا اِس میں قصور نہیں ہے۔ مدعیہ چونکہ روائتی مشرقی عورتوں کی طرح اپنے شوہر سے بہت زیادہ جذباتی لگائورکھتی ہیں، اِس لئے وہ اپنے بیٹے سے شاکی ہیں اور وقتی غصے کے سبب مقدمے کو خاصی حد تک الجھا چکی ہیں۔ میں معزز عدالت کی توجہ اِس اہم امر کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ اِس واقعے کا کوئی عینی شاہد نہیں ہے۔ قتل کی کوئی ٹھوس اور مضبوط وجہ بھی موجود نہیں ہے۔ کوئی آلۂ قتل بھی رِکارڈ پر نہیں ہے۔ میں استدعا کرتا ہوں کہ میرے مؤکل کو باعزت بَری کیا جائے۔ وقتی اشتعال کے ختم ہونے پر وہ اپنی ماں کا بہترین سہارا ثابت ہوگا۔‘‘
وکیل ِاستغاثہ نے استہزائیہ انداز میں چوٹ کی ’’جس سنگین واقعے کو آپ اتفاق قرار دے رہے ہیں، اگر یہی اتفاق دوبارہ پیش آگیا اورمیری مؤکلہ جو عورت ہونے کے ناتے نسبتاً زیادہ کمزور ہے، زندگی کی بازی ہار گئی، تب آپ کیا فرمائیں گے؟‘‘
’’پولیس رِکارڈ سے یہ ثابت ہے کہ میرا مؤکل عادی مجرم نہیں ہے…‘‘
’’ہیروشیما اور ناگاساکی پر بَم پھینکنے والے پائلٹوں نے عادتاً ایسا نہیں کیا تھا میرے معزز وکیل! یہ خطرناک مجرم ہے، اِسے کوئی رعائت دی گئی تو یہ یقینا دوسرا جرم کرے گا۔ دوسرے قتل کی تو شاید رپورٹ بھی متعلقہ پولیس اسٹیشن تک نہیں پہنچ پائے گی کیونکہ میری مؤکلہ کا اِس کے علاوہ کوئی بھی رشتہ دار نہیں ہے۔ میں معزز عدالت سے درخواست کروں گا کہ مجرم راشد وزیر کو سخت سزا دی جائے اور میری مؤکلہ کی حفاظت کا معقول بندوبست کیا جائے۔تھینکس!‘‘
ایسے میں راشد وزیر نے اچانک جھکا ہوا سر اُٹھایا، شیو زدہ چہرہ آنسوئوں سے تَر تھا، پھٹی پھٹی آواز میں بولا ’’ماما! مجھے معاف کردیجئے۔ میں …‘‘
وہ اچانک چیخ پڑی ’’خبردار! مجھے ماما کہا ہے، دوبارہ مجھے اِس رشتے کی نسبت سے مت پکارنا۔ میں تمہاری ماما نہیں ہوں۔ وزیر علی کے آنے سے پہلے تم نہیں تھے۔ میں تھی تو سہی مگر ماں نہیں تھی۔ وہ نہ ہوتا تو میں یقینا ماں نہ بن سکتی۔ وہ رہا، میں ماں رہی، تم بیٹے رہے، وہ نہیں رہا تو کچھ بھی باقی نہیں رہا ہے۔ اِس وقت میں بیوی نہیں بیوہ ہوں، ماں نہیں مات ہوں۔ مات اور موت میں زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ میں جیتے جی تمہیں معاف نہیں کرسکتی اور ویسے بھی میرے پاس معافی دینے کا اختیار ہی کہاں ہے۔ تمہیں میرے وزیر علی کے پاس جانا ہوگا، اُس کے پیروں سے لپٹ کر معافی مانگنا ہوگی۔ اگر وہ تمہیں معاف کردے، تو کردے، میں نہیں کروں گی۔‘‘
جج بڑی گہری نظروں سے اُسے روانی سے بولتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ اُس کے خاموش ہونے پر اپنی پیشہ وارانہ متانت کے ساتھ وکیل صفائی کو دیکھنے لگا۔ کچھ سوچ کر اپنے سامنے دھرے ہوئے کاغذات کو بڑی توجہ سے دیکھنے لگا۔ پھر ایک طویل سانس لے کر کھڑا ہوگیا۔
اِس مرتبہ عدالت نے بائیس دِن بعد کی پیشی دی تھی۔
…٭…
میں شروع دِن سے اِس مقدمے کی کاروائی میں شریک تھا مگر اَبھی تک بہت سے عقدے ایسے تھے جو وَا نہیں ہوئے تھے۔ چند دِنوں کے بعد، وقت نکال کر، اپنے فطری تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر میں اِس مقدمے کے استغاثہ کے وکیل بھٹی صاحب کے چیمبر میں اُن کے سامنے بیٹھا ہواتھا۔ میری خوش قسمتی میری ہم سفر تھی۔ بھٹی صاحب کے پاس کوئی بھی کلائنٹ موجود نہیں تھا۔ رسمی علیک سلیک کے بعد میں نے اپنی غرض و غائت سے آگاہ کرنے اور اِس مقدمے میں اپنی دلچسپی کا سبب بتانے کے بعد کہا ’’بھٹی صاحب! میں آپ کی مؤکلہ سعدیہ بیگم سے ملنا چاہتا ہوں۔ بشمول جج صاحب، اِس مقدمے میں شریک تمام افراد کے رویے مجھے نہائت غیر فطری اور غیر روائتی محسوس ہوتے ہیں۔ میں تمام عدالتی کاروائی اپنے کانوں سے سُن چکا ہوں اور مجھے قدم قدم پر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں انسانوں کی زندگی کی شطرنج پر تھرکتی حقیقی تحریک نہیں، بلکہ کسی انسان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی آرٹ مووی دیکھ رہا ہوں۔میرا ذاتی خیال ہے کہ جج صاحب بھی معاملے کو خواہ مخواہ طول دے رہے ہیں وگرنہ یہ سیدھا سادھا سا کیس ہے۔ بحث کی پہلی سماعت پر ہی اِس کا فیصلہ ہوجانا چاہئے تھے۔آپ کیا کہتے ہیں؟‘‘
بھٹی صاحب نے گہری نظروں سے مجھے گھورا، میرے اندر چھپی کسی سچائی کو ٹٹولنے کی کوشش کی پھر ہنکارا بھر کر بولے ’’شاید آپ ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ یقینا آپ پہلی مرتبہ قتل کے مقدمے کی عدالتی کاروائی دیکھ رہے ہیں وگرنہ آپ کو یہ عمل غیر فطری اور غیر روائتی محسوس نہ ہوتا۔ ہمارے معاشرے میں تمام وارداتیں اشتعال، مقصدیت کے بغیر اور شدید جھنجلاہٹ کے عالم میں سرزد ہوتی ہیں تبھی بے معانی دکھائی دیتی ہیں۔‘‘
’’جج صاحب کے رویے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟‘‘ میں نے کریدا۔
’’آخر جیتے جاگتے انسان ہیں، دوسرے تمام لوگوں کی طرح شاید وہ بھی یہی چاہتے ہوں کہ ماں اپنے بیٹے کو معاف کردے۔ ایک عظیم نقصان کے بعد دوسرے جان لیوا خسارے کا منہ نہ دیکھے۔‘‘
استغاثہ وکیل عبدالخالق بھٹی کا رویہ بہت محتاط تھا۔ میرے کریدنے کے باوجود اُس نے کچھ بھی کھل کر نہیں بتلایا اور نہ ہی مجھے سعدیہ بیگم سے ملوانے کی حامی بھری۔ مایوس ہوکر میں چیمبر سے نکل آیا۔ عدالت کے احاطے میں بھٹی صاحب کے منشی سے مڈبھیڑ ہوگئی۔ وہ ایک فائل کی کاپی کروارہا تھا۔ پچاس روپے کے ایک نوٹ نے میرا مسئلہ حل کردیا۔ کاغذ کی ایک ننھی سی پرچی جس پر سعدیہ بیگم کے گھر کا مکمل پتہ تحریر تھا، میری جیب میں منتقل ہوگئی تھی۔
پون گھنٹے کے بعد میں ایک عام انداز میں تعمیر شدہ چھوٹے سے گھر کے گیٹ پر کھڑا تھا۔ کال بیل کے جواب میں گیٹ کا بغلی دروازہ نیم وَا ہوا۔ سعدیہ بیگم نے جھانک کر بہ نظرِ غور مجھے دیکھا، آنکھوں میں شناسائی کا تأثر اُبھرا، ایک ذرا تشویش سے مستفسر ہوئی ’’بھائی!آپ کو میں نے عدالت میں بھی دیکھا تھا، یہاں تک بھی چلے آئے، فرمائیے! میں آپ کی کیا خدمت کرسکتی ہوں؟‘‘
میں نے دھیمے لہجے میں کہا ’’آپ نے بھائی کہہ مجھے معتبر کردیا ہے۔ میں آپ کو بہن سمجھ کر دُکھ بانٹنے کیلئے یہاں تک آگیا ہوں۔ اگر مناسب سمجھیں تو مجھے کچھ وقت عنائت کر دیجیے۔ یقینا میں زیادہ وقت نہیں لوں گا۔‘‘
وہ تذبذب میں مبتلا ہوگئی۔ اجنبی پر آنِ واحد میں اعتماد کرنے کو جی نہ مانا۔ میرے لہجے کے شائستہ پَن کو دیکھ کر ’کھٹاک‘ سے انکار بھی نہ کر پائی۔ چند لمحے شش وپنج میں مبتلا رہنے کے بعد دروازے کے سامنے سے ہٹ گئی اور مجھے اَندر بلا لیا۔ میں اُس کی تقلید میں گھر میں داخل ہوا۔ یکبارگی سے چونک گیا۔ نہائت مختصر سے صحن میں گھر کی مشرقی دیوار کے ساتھ مرمریں لوح والی پختہ قبر موجود تھی۔ لوحِ قبر پر وزیر علی کا نام ، تاریخ وفات کے ساتھ کندہ تھا۔ وہ سست رَوی سے قبر کے پہلو میں جا کھڑی ہوئی۔ دونوں ہاتھ اُٹھا کر مرنے والے کیلئے بخشش کی دعا کرنے لگی۔ میں نے بھی تقلید کرتے ہوئے ہاتھ اُٹھائے۔ فارغ ہوکر میں نے اُسے بہ غور دیکھا۔ وہ خاصی نڈھال تھی۔
اُس کے استفسار پر میں نے اُسے اپنے بارے میں بتایا۔ اُسے یہ بھی تعجب تھا کہ کوئی رشتہ ناتا نہ ہونے کے باوجود میں اِس کیس میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہا تھا۔ میری وضاحتوں پر مطمئن ہوکر بولی ’’بھائی! ہم تینوں کا دُنیا میں اور کوئی نہیں تھا۔ میں اپنے مفلس والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ وزیر علی بھی محنت مزدوری کرنے والے طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ اَن پڑھ تھا۔ اُن کے ہاں تعلیم کے حصول کو نہائت غیر ضروری بلکہ فضول خرچی سمجھا جاتا تھا۔ شادی کے بعد وہ چاہتا تھا کہ میں مزید تعلیم حاصل کروں تاکہ کوئی اچھی سی نوکری مل جائے۔ اُس کے گھر والوں نے اس کی خواہش کو رَد کردیا اور ہم دونوں کے خلاف محاذ کھڑا کرلیا۔ اِس خشک اور مضمحل جنگ کے نتیجے میں ہم دونوں کو شادی کے پانچ چھ ماہ بعد گھر سے نکلنا پڑا۔ اِنہی دِنوں میرے بوڑھے ماں باپ ناتواں گھر کی چھت کے نیچے آکر فوت ہوگئے اور ہم دونوں دَر دَر کی ٹھوکریں کھانے کیلئے بے چھت ہوگئے۔ وزیر علی بہت اَنا پرست انسان تھا۔ اُس نے مسلسل کئی دِنوں کی فاقہ کشی کا عذاب جھیل لیا مگر کبھی لوٹ کر اپنے بھائیوں کے پاس نہیں گیا۔ ‘‘
وہ قبر پر کہنی رکھ کر زمین پر بیٹھ گئی۔ میں اُس سے چند قدموں کے فاصلے پر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ وہ کافی دیر تک سر جھکائے بیٹھی رہی، پھر بولی ’’بھائی! یہ معمولی بات نہیں کہ غربت میں ہم دونوں کے حصے کی تکالیف کو اُس نے تمام عمر اکیلے ہی جھیلا۔ وہ بھوکا رہا، میں نہیں۔ وہ رویا، میں نہیں۔ اُس نے پولیس سے، لوگوں سے اور محلہ داروں سے مار کھائی، مجھ پر اُنگلی نہیں اُٹھنے دی۔اُس نے ہر قسم کی مزدوری کی، غربت کے ہر امتحانی ڈیسک پر بیٹھا، ہر پرچہ حل کیا مگر نہ تو اُس کے پایہ ٔ استقلال میں کمی آئی، نہ محبت میں اور نہ ہی کبھی اُس نے خدا کے رُوبرو شکوہ کیا۔ اُس نے مجھے پی ٹی سی کا کورس کروایا، پھر ایف اے اور بی اے کروایا اور بی ایڈ میں داخلہ دلوایا۔ شادی کے دِن اُجلا لباس پہنا اور پھر آخری دِن سفید پوشاک زیبِ تن کی۔ مجھے تمام عمر یہی محسوس ہوا جیسے اُس کے اندر کوئی انسانی خواہش نہیں جاگتی۔ اُسے سوتے جاگتے بس میری اور راشد کے مستقبل کی فکر رہتی تھی۔ آپ اُس ایثار کو سمجھ نہیں سکتے جو اُس کے سینے میں ہمکتا تھا۔ اُس نے زندگی میں کسی کو گالی نہیں دی، کسی پر ہاتھ نہیں اُٹھایا اور نہ کبھی گلہ شکوہ کیا۔ ‘‘
میں نے لب کُشائی کی ’’بہن! آپ دونوں سے کہیں نہ کہیں غلطی ضرور سرزد ہوئی ہے جس کے نتیجے میں راشد کی تربیت خام رہی۔‘‘
اُس نے ایک ذرا شکوہ کناں نظروں سے مجھے دیکھا پھر سر جھکا کر عمیق سوچ میں کھو گئی۔ لمبا سانس سینے میں اُتار کر بولی ’’ وزیر علی نے کہیں بھی غلطی نہیں کی۔ وہ اَن پڑھ شخص تھا۔ اُس نے راشد کی تعلیم وتربیت کی تمام تر ذمہ داری مجھ پر ڈال رکھی تھی۔ وہ کہا کرتا تھا ’میں کیا جانوں، میں نے الف نہیں پڑھا، کسی کو الف سے یے تک کیسے پڑھا سکتا ہوں‘… ہاں! وہ بڑے شوق اور اہتمام سے ہم دونوں ماں بیٹے کے پاس بیٹھا کرتا جب میں اُسے پڑھاتی۔ تب اُس کی آنکھیں فرطِ مسرت سے جگمگایا کرتی تھیں۔وہ سمجھتا تھا کہ سپاہی، فوجی، گارڈ یا اُستاد بہت بڑا آدمی ہوتا ہے۔ وہ چاہتا تھا کہ راشد کوئی مزدوری نہ کرے بلکہ پڑھ لکھ کر اُستاد بن جائے۔ میں کہا کرتی تھی کہ نہیں، وہ بڑا افسر بنے گا۔ میرا یقین دیکھ کر وہ آنکھیں موند کر نہ جانے کیسے خواب دیکھنے لگتا۔ غلطی مجھ سے ہوئی، میں نے جانا کہ جیسے میں کسی کی توجہ کے بغیر پڑھتی رہی، کسی مانیٹرنگ کے بغیر آگے کا سفر جاری رکھے رہی ایسے ہی سبھی پڑھتے رہتے ہیں۔ میں بھول گئی کہ میں عورت جبکہ راشد مَرد ہے۔ میں سر جھکا کر چلنے کی عادی تھی، وہ سر اُٹھا کر سرپٹ دوڑنے کا شائق تھا۔ وہ آگے نکل گیا، ہم دونوں پیچھے رہ گئے۔وزیر علی پیسے دیتا رہا، میں لفظ سونپتی رہی اور زمانہ اُسے بغاوت اور اونچی اُڑان کی جولانیوں سے روشناس کراتا رہا۔ زمانہ جیت گیا، ہم ہار گئے۔بڑے لوگوں کے لاپرواہ لڑکوں سے یارانہ اُسے نگل گیا۔ اَب اُنہی دوستوں نے اُس کیلئے شہر کے سب سے مہنگے وکیل کی خدمات حاصل کررکھی ہیں۔ مجھے پتہ ہے، وہ کسی نہ کسی طرح اُسے جیل سے نکلوا کر اپنی انگلیوں پر نچوانے کیلئے دُور لے جائیں گے اور میں ہاتھ ملتی دیکھتی رہ جائوں گی۔ ‘‘
’’کیا آپ راشد کے دوستوں سے مل چکی ہیں؟‘‘
’’ہاں! مگر اُنہوں نے مجھے مایوس کیا ہے۔‘‘
’’وہ کون لوگ ہیں؟ کیاآپ مجھے بتانا پسند کریں گی؟‘‘میں نے استفسار کیا۔
’’جیسے امیروں کے مقابل میں ہم جیسوں کا کوئی نام نہیں ہوتا ایسے ہی ہمارے نزدیک اُن کی کوئی شناخت نہیں ہوتی۔ ہم بس اُنہیں ’بڑا آدمی‘ کہہ کر اپنی ذات سے پَرے جھٹک دیتے ہیں۔وہ کئی ہیں۔ اُن کے باپ یا تو بڑے آفیسر ہیں یا بڑے تاجر۔ اُن سب کا مستقبل محفوظ ہے۔ حال کو مست کرنے کیلئے اُنہیں راشد جیسے مُہروں کی ضرورت رہتی ہے۔‘‘ وہ مایوسی آمیز نقاہت سے بولی ’’ایک کی ماں نے کہا ’کیا ہوا جو تمہارا خصم مرگیا، لوگ مرتے ہیں رہتے ہیں‘… ایک باپ بولا ’مرنے والے کے ساتھ مرا نہیں جاتا، بیٹا زندہ ہے، اُسے زندہ رکھو‘… ایک نے کہہ دیا ’بیٹا جوان ہوجائے تو ماں بوڑھی ہوجاتی ہے، وہ خاوند کے بوڑھے کندھوں کی بجائے بیٹے کے مضبوط بازو سے چپک کر زندگی گزارنا چاہتی ہے‘ …جتنے منہ،اتنی باتیں…جج صاحب بھی خواہ مخواہ معاملے کو طول دے رہے ہیں۔ وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ میں شوہر کو گنوا بیٹھی ہوں، بیٹے کو ہاتھ سے جانے نہ دوں۔ کوئی بھی میرا دُکھ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ میں بیٹے کی نہیں، اپنے وزیر علی کی غم گسار ہوں، وہ میرا محسن تھا، میری رَگ رَگ پر اُسی کے احسانوں کی جاگیر قائم ہے جو مرتے دَم تک مسلط رہے گی۔ میں دُنیا کے بیٹوں کو بتلانا چاہتی ہوں کہ ماں پر اُن کا حق نہیں، اُن کے باپ کا حق ہوتا ہے۔ باپ نہیں تو اُن کا ہونا یا نہ ہونا ایک برابر ہے۔ آپ اخبار نویس ہیں،صفر کی رائی اوررائی سے پہاڑ بنانے کی قوتِ تحریررکھتے ہیں، میں آپ سے توقع کرتی ہوں کہ اِس بات کو پوری دُنیا پر کھول دیںگے۔ ہر ایک کو بتلا دیں گے کہ وزیر علی کی بیوہ اپنے جوان اور اکلوتے بیٹے کی موت چاہتی ہے، حیات نہیں۔دُنیا کا کوئی راشد وزیرباپ پر ہاتھ اُٹھانے کے ناقابلِ تلافی جُرم کی جرأت نہ کرے۔ میں محض یہی چاہتی ہوں۔‘‘
میں نے ٹہوکہ دیا ’’کیا راشد کے بعد آپ زندہ رہیں گی؟‘‘
’’اوہ ہو… بھائی! کیا آپ بھی مجھے زندہ خیال کررہے ہیں؟… نہیں۔ میں زندہ نہیں ہوں۔ جو عورت کسی کی بیٹی نہ ہو، بہن ، بیوی یا ماں نہ ہو، وہ مُردہ تَن ہوتی ہے۔‘‘ اُس کے لہجے میں عجیب سختی پنہاں تھی جس نے مجھے سر تا پا پسینے میں نہلا دیا۔
میں نے پوچھا ’’کیا جج صاحب، جو اس کیس کی سماعت کررہے ہیں، آپ کے شناسا ہیں؟‘‘
’’ہاں!‘‘اُس نے اتنے وثوق سے کہا کہ میں چونک گیا ’’جب راشد تخلیق کے ابتدائی مراحل میں تھا، تب ہمیں مالک مکان نے کرایہ ادا نہ کرنے کے جُرم میں مکان سے نکال دیا تھا۔ وزیر علی نے ایک جج صاحب کی منت سماجت کی۔ اُنہوں نے اپنا سرونٹ کوارٹر دے دیا۔ وہ بڑے آدمی تھے۔ اُن کے ہاں خاندانی نجابت زندہ تھی۔ جج صاحب کا بڑا بیٹا اُن دِنوں کالج میں پڑھتا تھا۔وہ مجھے باجی کہہ کر پکارا کرتا تھا اور گاہے بگاہے اپنے جیب خرچ سے میری مدد کیا کرتا تھا۔ بہت شرارتی اور زندہ دِل لڑکا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ وزیر علی روزانہ رات کو کچن سے کھانا چُرا کر سرونٹ کوارٹر میں لے جاتا ہے مگر آفریں ہے اُس کے بچگانہ ذہن کی پختگی پر کہ اُس نے بھول کر بھی اپنے والدین سے اِس چوری کا تذکرہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی کبھی جتلا کر ہمیں شرمندہ کرنے کی کوشش کی تھی۔پھر جج صاحب نے دوسرے شہر میں رہائش اختیار کرلی اور ہمیں سرونٹ کوارٹر خالی کرنا پڑا۔ بہت پُرانی بات ہے۔ زمانہ بدل گیا۔ باپ کی جگہ بیٹے نے لے لی اور پھر وقت نے مجھے مدعیہ اور میرے بیٹے کو مجرم بنا کر اُسی جج کے سامنے کھڑا کردیا جو مجھے باجی کہہ کر کڑے وقت کو حوصلے سے کاٹنے کی تلقین کیا کرتا تھا۔‘‘
میں دَم بخود رہ گیا۔
اُس نے مزید بتلایا ’’وہ جانتا ہے کہ میں وزیر علی کو کتنا چاہتی تھی۔ وہ جانتا ہے میں اُس کی عدالت میں کھڑی ہوکر جو کچھ کہتی ہوں، سچ پر مبنی ہوتا ہے۔اُسے یقین ہے کہ میں جھوٹ کی آمیزش نہیں کرتی مگر وہ چاہتا ہے کہ میرے بیٹے کو سزا نہ ملے بلکہ وہ اپنی کوتاہی کو دِل سے قبول کرکے مجھ سے معافی مانگ لے۔ اپنے گناہ کی توبہ کرلے اور میرے بُڑھاپے کا سہارا بن جائے…‘‘
میں نے بات کاٹی ’’مگر آپ ایسا نہیں چاہتیں۔ یہی بات ہے ناں؟‘‘
اُس نے ملول انداز میں اثبات میں سر ہلایا ’’ہاں! میں چاہتی ہوں کہ اُسے پھانسی ہوجائے یا عمر قید کہ وہ عمر بھر میری نگاہوں کے سامنے نہ آئے۔ اُسے دیکھتی ہوں تو وزیر علی یاد آجاتا ہے۔ وزیر علی کے ساتھ گزرے ایک ایک پَل کی کٹھنائی کا عذاب دِل میں ہلکورے لینے لگتا ہے۔ جو بیٹا اپنے باپ پر ہاتھ اُٹھا سکتا ہے، وہ ماں سے پیار کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اپنی ماں کے ہاتھوں کی چپاتیاں حلق میں اتارنے کے قابل نہیں ہوتا۔ اُسے جیل کا کھانا ہی کھاتے رہنا چاہیے۔‘‘
میں اَبھی اُس سے کئی باتیں کرنا چاہتا تھا مگر اُس کے محلے کی چند خواتین اُسے پُرسہ دینے کیلئے آگئیں۔ اُن کی ابتدائی گفتگو سے ہی میں نے اندازہ لگالیا تھا کہ سعدیہ بیگم گھر میں محلے کے بچوں کو ٹیوشن بھی پڑھایا کرتی تھیں۔میں مَلال آمیز کوتاہی کا بار دِل پر لئے سعدیہ بیگم کے ’وزیر لاج‘ سے نکل آیا۔

چونکہ آج فیصلہ سنائے جانے کا قوی امکان تھا، اِس لئے عدالت کے مخصوص ماحول میں سانسیں لیتی مشینوں کی تعداد زیادہ تھی۔ راشد وزیر کے وہ تمام دوست بھی موجود تھے جو اُسے آزاد فضائوں میں اپنے ہمراہ اُڑان بھرتا ہوا دیکھنا چاہتے تھے۔ وکیل استغاثہ اور وکیل صفائی اپنے تمام تیر چلا چکے تھے اور اَب نتیجے کا انتظار کررہے تھے۔ جج صاحب نے عمیق نظروں سے مقدمے کی بھاری بھرکم فائل کا مطالعہ کیا۔ گلا کھنکارکر گھمبیر لہجے میں بولا ’’اگر اِس مقدمے سے متعلق کسی بھی فرد کو کچھ کہنا ہو تو اجازت ہے۔‘‘
باتیں اور دلیلیں دَم توڑ چکی تھیں۔ ایسے میں الجھے بالوں اور بڑھی ہوئی شیو والے راشد وزیر نے اضمحلال آمیز لہجے میں کہا ’’جناب! میں ایک گزارش کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
جج صاحب نے سر کے اشارے سے اجازت دی تو وہ ماں کی طرف انگلی اُٹھا کر بولا ’’ماما! میں مانتا ہوں کہ میں نے جُرم کیا ہے۔ دُنیا کی کوئی تہذیب، کوئی تمدن یا اخلاقیات کی کوئی بھی کتاب باپ کو دھکا دینے کی اجازت نہیں دیتی تھی مگر میں نے ایسا کیا۔ میں شرمسار ہوں۔ میں سمجھتا ہوں، شاید آپ نہیں سمجھتیں، چیز کے گم ہوجانے میں اور اپنی کوتاہی سے گنوا دینے میں زمین وآسمان کا فرق حائل ہوتا ہے۔ مجھے پوری طرح احساس ہے کہ باپ کے مرنے میں اور باپ کو مارنے میں کتنا فرق ہے مگر آپ نے یہ فراموش کردیا ہے کہ میں آپ دونوں محبت کرنے والوں کی تخلیق ہوں۔ جیسے محبت کا بیج نفرت کا کیکر نہیں اُگاتا، ایسے ہی میں کسی سے نفرت نہیں کر سکتا ہوں۔ آپ نے تربیت کے حوالے سے خود کو موردِ الزام ٹھیرایا۔ یہ آپ کی عظمت ہے مگر سچ یہ ہے کہ آپ دونوں سے کوئی کوتاہی سرزد نہیں ہوئی۔ میں گھر کی چہاردیواری میں آپ کا بیٹا تھا۔ دُنیا کے ہجوم میں ایک عام شہری تھا۔ مجھے اپنا آپ سنبھالنا نہیں آیا وگرنہ یہ سب کچھ نہ ہوا ہوتا۔ مجھے قلق ہے کہ میری کوتاہ بینیوںاور میرے حماقت آمیز خوابوں نے مجھے اِس نوبت تک پہنچا دیا ہے۔ پہلے معافی مانگتا تھا، آج سزا مانگتا ہوں۔ میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ مجھے اَپنے جُرم کی زیادہ سے زیادہ سزا ملے۔ عمر قید یا سزائے موت۔ میں آپ جیسی عظیم عورت کا سامنا کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ جس بیٹے کی ماں اُس کی موت کی دعا مانگے، اُس ماں کے خدا کو اُس کی التجا مان لینا چاہیے۔ ‘‘
جج بڑی گہری اور معنی خیز نظروں سے راشد کو دیکھ رہا تھا۔ راشد نے کچھ دیر کیلئے توقف کیا، بولا ’’ماما! آپ کہتی تھیں کہ مجھے بُرے دوستوں کی خراب صحبت نے بگاڑ دیا ہے۔ یہ غلط ہے۔ میرے دوستوں نے کبھی بھی مجھے چوری، ڈاکے، کسی لڑکی کو چھیڑنے یا کوئی بھی غیر اخلاقی کام کرنے کی ترغیب نہیں دی تھی۔ میری اپنی ذہنیت خراب تھی۔ میں اپنے دوستوں کی حیثیتوں کو بھول کر اونچے خواب دیکھنے کا رسیا ہوگیا تھا۔ مجھے یاد نہیں رہا تھا کہ مجھے بڑا بنانے کا جنون رکھنے والے کے ہاتھ کتنے خالی تھے۔ میںیہ بھی بھول گیا تھا کہ مجھے قیمتی سوٹ پہنانے والے نے کبھی بھی اچھا لباس نہیں پہنا تھا۔میرے لئے پھل خرید لانے والا مجھے کیوں کہتا تھا کہ ’میں پھل نہیں کھاتا کیونکہ یہ میرا معدہ خراب کرتے ہیں‘… تب مجھے دُنیا کے تمام ڈاکٹر جھوٹے دکھائی پڑتے تھے جو کہتے تھے کہ ہر روز پھل کھانا بیماریوں سے بچائے رکھنا کا مؤجب ہوتا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ میرے بخار کے زور کو توڑنے کیلئے دوائوں پر دوائیں لانے والا رات بھر کھانستا رہتا تھا مگر دوائی نہیں لیتا تھا۔ میرے اور ماما کے اصرار پر کہتا تھا ’معمولی بیماری پر دوائیں لینے سے بندہ گولیوں اور شربتوں کا عادی ہوجاتا ہے‘ … مجھے سزائے موت ہوجائے، مجھے عمر قید ہوجائے، پرواہ نہیں مگر میں اپنے دوستوں، اپنے وکیل اور یہاں موجود تمام لوگوں سے ہاتھ باندھ کر التجا کرتا ہوں کہ مجھے میری ماما سے معافی دلوا دیں۔یہ معاف نہیں کریں گی تو مجھے خدا بھی معاف نہیں کرے گا، پاپا بھی معاف نہیں کریں گے… ہائے ماما! خدا کیلئے مجھے معاف کردیں۔ میں بُرا ہوں، میرے دونوں ہاتھ بُرے ہیں، آپ کو اجازت ہے کہ میرے دونوں ہاتھوں کو کاٹ دیں، میری گردن کاٹ کر تن سے جدا کردیں۔ میرے روم روم پر آپ کا حق ہے۔ میں آپ کے حق کو تسلیم کرتا ہوں۔ آپ میرے حق کو تسلیم کریں۔ مامتا جیسے خدائی وصف کی لاج رکھیں اور مجھے معاف کردیں۔‘‘
پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ ماں کی آنکھوں میں جذبہ رحم پیدا نہیں ہوا۔ دائیں ہاتھ کی انگلیاں پوری وسعت میں کھول کر ریلنگ پر مارتے ہوئے بولی ’’میں تجھے معاف نہیں کرسکتی۔‘‘
جج کی اُمید بھری نگاہیں اُس پرجمی ہوئی تھیں۔ وہ بولی ’’میں زمانے کے بچوں کو پڑھاتی ہوں۔ تم نے یہ قبیح جرم کرکے میری مامتا اورمیرے تربیتی فرائض پر سوالیہ نشان ڈال دیا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ’سعدیہ! تم نے تمام بچوں کی ایسے انداز میں ہی تربیت کی ہے؟‘… میرا سرندامت سے جھک جاتا ہے۔ ہر باپ سوال کرتا ہے کہ ’کیا مائیں بیٹوں کو اِسی لئے جوان کرتی ہیں؟‘ … میں ایک ذرا تھم کر لبِ جاں ہوجاتی ہوں۔ مائیں پوچھتی ہیں کہ ’وزیر علی کے بعد تم گھر میں اکیلی کیا کرتی رہتی ہو؟‘… میں تھک جاتی ہوں۔ یوں لگتا ہے جیسے تم نے وزیر علی کو نہیں، دُنیا کی تمام مائوں کے مامتائی امتیاز اور نسوانی تفاخر کو ندامت کی اَتھاہ کھائی میں دھکیل دیا ہو۔‘‘
کبھی اُس کی آواز بلند ہوجاتی، کبھی بیٹھنے لگتی۔ ایسے میں میری پلکوں کے گوشے نم ہوگئے۔ میں نے چند قدم بڑھائے۔ سعدیہ بیگم کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑ دیے۔ لب بستہ بھیگی آنکھوں میں اُمید بھرے کئی دَم کھڑا رہا۔ وہ دیکھتی رہی پھر اچانک اُس کے چہرے پر تکلیف کے آثار پیدا ہو گئے۔ یوں لگا جیسے بدن میں کوئی کانٹا چبھ گیا ہو۔ اُس کا دایاں ہاتھ سینے پر جا ٹکا۔ چند لمبے لمبے سانس لے کر نڈھال جاں وجود کو سنبھالنے کی کوشش کرتی رہی پھر تھک کر ڈھیر ہوگئی۔ عدالت میں بھگدڑ مچ گئی۔ میں نے اُسے تھامنے کی کوشش کی مگر چوبی ریلنگ آڑے آئی۔ مجھ سے پہلے بھٹی صاحب اُس تک پہنچے۔ ہلایا جلایا، نبض چیک کی پھر قدرے مضطرب انداز سے بولے ’’لگتا ہے بے ہوش ہوگئی ہیں۔‘‘
کسی نے اُس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔ کسی نے ہاتھ پائوں سہلائے مگر اُسے ہوش نہ آیا۔ جج صاحب نے دو بجے تک کیلئے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سعدیہ بیگم کو ہسپتال لے جانے کا حکم دیا۔ اُنہوں نے راشد وزیر پر احسان بھی کردیا کہ وہ پولیس کی معیت میں اپنی ماں کے ہمراہ ہسپتال جاسکتا ہے۔
میں نے فی الفور سعدیہ بیگم کے ہمراہ ہسپتال جانے کا فیصلہ کیا۔ ہسپتال جا کر پتہ چلا کہ اُنہیں سخت نوعیت کا دِل کا دورہ پڑا ہے۔ ڈاکٹرز کی کوششوں سے اُسے پچیس منٹ کے بعد ہوش آگیا مگر وہ بول نہیں سکتی تھیں۔ ایسے میں راشد وزیر اپنی ماں کے پیروں سے لپٹ کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روتا رہا اور معافی مانگتا رہا۔ سعدیہ بیگم کی پتلیاں متحرکت ہوئیں۔ آنکھوں کے اشارے سے اُسے اپنے قریب بلایا اور زیر لب کچھ کہا جسے صرف راشد وزیر ہی سُن پایا تھا۔ بات ختم ہونے سے پیشتر وہ خود ختم ہوگئیں۔ راشد کے چیخنے چلانے پر ڈاکٹرز نے اُنہیں چیک کیا اور مایوسی بھری آواز میں اُن کے عدم ہوجانے کی خبر سنا دی۔ میں نے راشد وزیر کے کندھے پر ہاتھ رکھا، دُلاسہ دینے کی کوشش کی تو وہ پوری قوت سے چیخ اُٹھا ’’ہائے ماما! یہ تم نے کیا کردیا۔محبت کا مقدمہ آپ نہیں، میں ہارا ہوں۔ آپ نے شوہر گنوایا تھا، میں نے ماں اور باپ دونوں کو گنوا دیا ہے…‘‘
میں آنکھیں پونچھتے ہوئے ہسپتال کے موت گیں کمرے سے باہر نکل آیا۔ مجھے یاد نہیں، کیسے عدالت تک پہنچا اور پھر عدالت سے کیسے گھر تک کا سفر انجام دیا۔قارئین کو بتلاتا چلوں کہ جج صاحب نے راشد وزیر کو چھہ سال سزائے قید کا حکم سنایا تھا۔سعدیہ بیگم کو وزیر علی کے پہلو میں دفن کردیا گیا اور گھر کی چابیاں بھٹی صاحب کی تحویل میں دے دی
گئیں۔

Share