پروفیسر صفیہ سلطانہ مغل کو شریف اکیڈمی جرمنی کا ڈائریکٹر برائے جیکب آباد نامزد کیا گیا

جیکب آباد میں مقیم معروف شاعرہ افسانہ اور ڈرامہ نگارمحترمہ پروفیسر صفیہ سلطانہ مغل کو شریف اکیڈمی جرمنی کا ڈائریکٹرضلع جیکب آباد نامزد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ محترمہ […]

جیکب آباد میں مقیم معروف شاعرہ افسانہ اور ڈرامہ نگارمحترمہ پروفیسر صفیہ سلطانہ مغل کو شریف اکیڈمی جرمنی کا ڈائریکٹرضلع جیکب آباد نامزد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ محترمہ صفیہ سلطانہ مغل کا تعلق جیکب آباد کے ایک علمی اور ادبی گھرانے سے ہے انکے والد احمد نور ثاقب ؔ اور چچا عجائب نور مغل، شاعر تھے۔ان کی شفقت،محبت،اور علم دوستی کی وجہ سے بچپن سے ہی انہیں کتاب اور قلم سے عشق ہو گیا۔کلاس پنجم میں پہلی کہانی،کہانیوں کے مقابلے بہ اہتمام رسالہ’’ نور ‘‘کے لئے ’’ فاصلہ ‘‘لکھی،جس پر پہلا انعام ملا،بعد ازاں خواتین کا اسلامی ،اصلاحی اور ادبی پرچہ بتول کے لئے نظمیں اور افسانے لکھے۔ابتدا میں پروفیسر فروغ احمد صاحب کے آ گے زانوئے تلمذ تہ کیا۔انکی ابتدائی شاعری کی اصلاح فروغؔ احمد صاحب نے کی۔بعد ازاں محسن ؔ بھوپالی اور پھر معینؔ اختر نقوی صاحب سے اصلاح حاصل کی کی۔شعور کی منزل طے ہونے کے بعدپاکستان کے معروف شاعر اور ادیب احمد ندیمؔ قاسمی صاحب کے ادبی مجلہ فنون سے اس قلمی سفر کا آغاز ہوا۔
نور،بتول،شمع،شعاع،سیپ،فنون،

چٹان،دائرہ،اخبارِجہاں،جنگ،خواتین کا ادبی صفحہ۔ حریت،جسارت،مڈویک میگزین،آداب عرض،عورت ڈائجسٹ،سر گزشت،کرن،ریڈیو کا رسالہ آہنگ ،سچی کہانیاں،دوشیزہ جیسے جرائدمیں انکی نگارشات شائع ہوئیں اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔اردو ادب کے ساتھ ساتھ ٹیلی پیتھی،تحریر شناسی ،ہپناٹزم،مسمیرزم،دست شناسی سے آگاہی کا شوق رہامحترمہ صفیہ سلطانہ مغل کہا نی کار،شاعرہ۔افسانہ نگار،تمثیل نگار( اسٹیج،ریڈیو،ٹیلویژن)، ناول نگار،محقق،کالم نگار،سفرنگار،کمنٹریٹر(ہاکی،کرکٹ)۔صدا کار،براڈکاسٹر،کمپئیراورسکرپٹ رایئٹر(ریڈیو حیدرآباد،خٰیرپور،کراچی)ہیں ۔پہلا شعری مجموعہ’’ وہ اکِ تارہ محبت کا‘‘خود نوشت۔۔ ’’میرا دردکیسے غزل ہُوا ‘‘(قسط و ار،ماہ نامہ،اعلانِ سحر،اسلام آباد)اورسفر نام’’ میرے ساتھ سوئے حرم چلو ‘‘شائع ہو کر گلستانِ ادب کی زینت بن چکا ہے انکے شعری مجموعہ ’’وہ اک تارہ محبت کا‘ پرمہرِ ادب کوئیٹہ، کی جانب سے سالِ رواں کا بہترین شعری مجمو عہ کاایوارڈز مل چکا ہے۔
اردو اور سندھی میں ڈرامے تحریر کئے جو سٹیج اور ٹی وی کی زینت بنے۔ شعری مجموعہ’’ سب تمہارے لئے‘‘اور افسانوں ؍کہانیوں پر مشتمل کتاب ’’مشتِ خاک کا سفر‘‘اشاعت کے مراحل میں ہے،16سال کی عمر میں پہلی ناول نگارہونے کا اعزازحاصل ہوا’’ کشتیاں سب جلا ڈالیں‘‘انکا پہلا ناول آج بھی ادبی حلقوں میں انکی پہچان ہے۔جیکب آباد کی پہلی صاحبِ کتاب شاعرہ ہیں ۔لاہور ٹیلنٹ کلب سے بیسٹ رائیٹرایوارڈ جبکہ ریڈیو پاکستان خیرپورسے بیسٹ سندھی ڈرامہ،کمپیئرنگ،صدا کار کے ایوارڈ حاصل کیے ۔آزاد کشمیر کی ادبی تنظیم کی جانب سے سانحہ زلزلہ اکتوبر 2008کی منظومات پر شعاعِ ادب کا ایوارڈ دیا گیا۔ قلم قافلہ ایبٹ آباد اورجیکب آباد لٹریسی سوسایئٹی کی جانب سے توصیفی اسناددی گئیں۔ ورلڈ ٹیچرڈے۔5۔اکتوبر 2011کے موقع پربیسٹ ٹیچر ایوارڈ۔بدست، وزیرِ تعلیم، پیر مظہرالحق صاحب سے سرفراز ہوئیں جبکہ خٰیر پور یونیورسٹی۔سندھ سے اعزازی ڈگری ملی۔شفیق مراد نے انہیں اردو ادب کا گوہرِ انمول قراردیتے ہوئے کہاکہ اورانکی ادبی تخلیقات اورعلمی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔اکیڈمی میں انکی شمولیت اکیڈمی کی ترقی اور اکیڈمی کے مقاصد کے حصول کے لیے سنگ، میل کی حیثیت رکھتی ہے ۔وہ صوبہ سندھ میں نامزد ہونے والی پہلی ڈائریکٹر ہیں ۔انکی نامزدگی سے صوبہ سندھ میں اکیڈمی کے کام کو تقویت ملے گی۔
Viewers: 5872
Share