معروف شاعر و ادیب شہزاد احمد عارضہ قلب سے انتقال کر گئے۔

لاہور سے۔ ۳۵ کتب کے مصنف، اردو دنیا کے معروف شاعر یکم اگست کو عارضہ قلب کے سبب ۸۰ سال کی عمر میں راہی عدم ہو گئے۔ مرحوم کی نماز جنازہ آج مورخہ ۲ اگست کو بعد از نماز عصر ان کی رہائش گاہ آفیسرز کالونی ضرار شہید روڈ کینٹ لاہور میں ادا کی جائے گی۔ بلاشبہ ان کا انتقال اردو کی ادبی دنیا کے لئے بہت بڑا سانحہ ہے۔ وہ اردو کے صاحب اسلوب شاعر تھے۔ انہوں نے شاعری میں نئے رحجانات کو متعارف کرایا۔ وہ ۱۹۳۲ می امرتسر میں پیدا ہوئے۔ ۳۵ کتب دنیائے ادب کو دے چکے ہیں۔ پہلا شعری مجموعہ صدف جو غزلوں پر مشتمل تھا، ۱۹۵۸ میں شائع ہوا۔ احمد ندیم قاسمی کے بعد مجلس ترقی ادب کے ڈائریکٹر تعینات رہے۔ آدم جی ایوارڈ، اقبال ایوارڈ اور تمغہ حسن کارکردگی سے نوازے گئے۔ ان کی وفات پر اردو سخن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز، حافظ مظفر محسن، عاطف مرزا، افضل چوہان، سرور غزالی اور شعرا و ادبا حضرات، جمشید ساحل، جسارت خیالی، خالد ندیم شانی، احمد خیال، امین شاد، افتخار شاہد نے ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

Viewers: 1168
Share