Atif Mirza | Editorial | برما، میڈیا، کھنہ اور ہم

عمر کے چالیس پینتالیس برس گزار لیے اب تک بدھ مت کے ماننے والوں کو امن پسند سمجھتے آئے، مگر فی زمانہ برما میں بدھوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل […]

عمر کے چالیس پینتالیس برس گزار لیے اب تک بدھ مت کے ماننے والوں کو امن پسند سمجھتے آئے، مگر فی زمانہ برما میں بدھوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام ہوتا دیکھ کر بدھوں کی امن پسندی کا جن بوتل سے نکلتا دکھائی دینے لگا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی آنکھوں پر وہ پردے پڑے ہوئے نظر آئے جن کے بارے میں قرآن مجیدکے علاوہ توریت،انجیل اور دوسرے آسمانی صحائف کے اصلی نسخوں میں خبر دی گئی ہے۔ مسلمانوں میں سے چند بھٹکے ہوئے، عاقبت نا ادیش، منافق اور فسادیوں کے پھیلائے گئے نقصان یا فساد سے امت مسلمہ کو جو نقصان پہنچا اس کا شاید کبھی مداوا نہ ہوسکے۔ لیکن یہ تو چند لوگ تھے۔ مسلمان من حیث الامت کبھی اس انداز سے کسی قتل و غارت میں ملوث نہیں رہے جبکہ مسلمانوں کو تو ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ ہر صدی میں مسلمانوں پر ایسے ایسے ظلم و ستم ہوئے کہ زمین تو زمین آسمان بھی لرز اٹھا۔ لاشوں کے انبار کے انبار کہ جنہیں بل ڈوزروں کے ذریعے کئی سو مربع فٹ کے گڑھوں میں ڈال دیا جاتا، زندہ مسلمانوں پر تیل ڈال کر آگ لگائی جاتی، بعد میں یہ اجتماعی قبریں دریافت ہونے پر ان ذمہ داروں کو صرف چندہزار ڈالروں کا جرمانہ یا عہدے سے ہٹانے کی سزا دے کر فارغ کردیا جاتا۔ بقول شہاب صاحب،”ایک زمانے میں کشمیری مسلمان کی زندگی کی قیمت 2 روپے تھی۔ اگر کوئی سکھ یا ڈوگرا کسی مسلمان کو جان سے مار ڈالتا تھاتو عدالت قاتل پر سولہ سے بیس روپے جرمانہ کرسکتی تھی۔ دو روپی مقتول کے لواحقین کو عطا ہوتے اور باقی رقم خزانہء عامرہ میں داخل ہوتی تھی۔”

 لیکن برما میں یہ کام حکومت کی سرپرستی میں اس طرح ہورہا ہےکہ یہاں جرمانہ نہ قیمت بلکہ سرکاری احکامات کے مطابق تمام کام “بطریق احسن” انجام پارہے ہیں۔ لاشوں کو ٹھکانے لگانے کا کام بھی بڑے صاف ستھرے انداز سے جاری ہے تمام بدھوں نے منہ پر ماسک لگائے ہوءے ہیں تاکہ مسلمان لاشوں سے اٹھنے والی بد بو او رگندے جراثیم ان کے “پوِتر” جسموں میں داخل نہ ہوجائیں۔

 اس ظلم کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کرکے انہیں ایک قطار میں کھڑا کرکے گولیوں سے بھون دیا گیا،برمے سے ان کے سروں میں سوراخ کیے جارہے ہیں، ہاتھ پیچھے باندھ کر برہنہ حالت میں سروں میں گولیاں ماری جارہی ہیں یا انہیں ذبح کیاجا رہا ہے۔ بدھ بھکشو اپنے مخصوص گیروی چولے [جوکہ بے گناہ خون سے سرخ ہوچکے ہیں] پہنے اس تمام بربریت سے بھر پور عمل کی نگرانی کررہے ہیں اور ان میں سے اکثر بدھ مذہب کا “ثواب” کمانے کے لیے اس “کارِ خیر” میں تیز دھار آلوں  اور بندوقوں کے ساتھ مصروف عمل بھی نظر آئے۔ ایک شخص کو تیل چھڑک کر آگ لگا دی گئی اور اس کی تصاویر بڑے اہتمام سے اتاری گئیں تاکہ مہان بدھا کے سامنے رکھ کے اپنے “نیک اعمال “کا ثبوت فراہم کیا جاسکے۔ساتھ ہی ان گنت جلی ہوئی لاشیں پڑی نظر آرہی ہیں جنہیں دیکھنے کی تاب صرف چند لمحے ہی ہوسکتی ہے۔

اِدھر برما کے بارے میں کچھ جان کاری کی کوشش جارہی تھی اُدھر ہمارے قابل اور باخبر میڈیا نے خبر دی کہ کئی برس کئی دلوں پر راج کرنے والے مہان،  بہت کچھ، بہت بڑےاداکار،صدا کاراور جانے کیا کیا کار راجیش کھنہ “سورگ باش ” ہوگئے ہیں اور پھر ان کے خاندان کا تاریخی پس منظر، پیدائش، بچپن، جوانی ، بڑھاپا اور جانے کیا کیا پر سیر حاصل قسم کی دستاویزی فلمیں چلنا شروع ہوگئیں۔ [برما میں مسلمانوں پر مظالم کی کوریج کسی چینل پر نہیں تھی] کھنہ ڈمپل لو سٹوری، شادی،بچے، فلمیں، جائیداداور جانے کیا کیا معلومات ان صاحب کے بارے میں ہمارے گوش گزار اور نظر نواز کی گئیں۔ تین چار روز بعدایک مشہور زمانہ انسانی حقوق کے علم بردار صاحب کا بیان جاری ہوا،”برما حکومت کے اقدام سے لگتا ہے کہ وہاں مسلمانوں کے خلاف کچھ ہورہا ہے۔ میں کل بنگلہ دیش کا ویزہ اپلائی کروں گا۔” ان صاحب کے علاوہ کسی کو اتنی بھی توفیق نہیں ہوئی کہ میڈیا سے پوچھ لے۔ بس چند سرپھرے صحافیوں، شاعروں، ادیبوں اور نیٹ پر سادہ دلوں نے کچھ لکھ دیا تو لکھ دیا۔ وگرنہ میڈیا اور باقی پوری قوم عرقِ پوست و انگور [کہنہ]ہمراہ ڈمپل کپاڈیہ [مسز راجیش کھنہ] کے پرانی فلموں کے ٹھمکے اور ان کی موجودہ صاحبزادیوں کا “ٹیلنٹ” دیکھنے میں محو ہیں۔ ہمیں کیا، ہم میں سے کچھ تو یہ تک کہنے میں رعایت نہیں کرتے،”بھائی یہ تو ان کے اعمال کا نتیجہ ہے، اللہ ہمیں ایسے عذاب سے محفوظ رکھے”۔

استغفراللہ— کتنے بے حس اور بد خصلت ہیں ہم لوگ۔ اور ہاں اگر نیٹ پر کسی کو ایسی تصویر “ٹیگ” کردی تو ان محترم یا محترمہ نے بھیجنے والے کی شان میں وہ وہ گستاخیاں فرمائیں کہ یہاں لکھنا تہذیب کے منافی ہے۔ لب لباب یہ کہ ایسی تصاویر مت بھیجا کریں ذہن پر برا اثر پڑتا ہے، یا تمہیں پتہ تو ہے کہ میں دل کی کمزور ہوں۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔

بابری مسجد اور اس سے پہلے ہندوستان میں مسلم کش فسادات کی کئی داستانیں ہمارے دل و دماغ سے محو نہیں ہوئیں۔ فلسطین، لبنان، بیروت، عراق، وسطی ایشیائی ریاستوں میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم ہمیں ابھی نہیں بھولے تھے کہ یہ نام نہاد امن پسند بدھ مت کے پیرو کار جن کی مت ماری گئی ہے، کھڑے ہیں مسلمانوں کی کھوپڑیوں پر بندوقیں، ریوالور اور پسٹلز تانے، اگلے منظر میں ان کے ہاتھ، بے گناہ برمی مسلمانوں کےتڑپتے جسم اور برما کی سرزمین لہو سے سرخ نظر آرہے ہیں۔ ان بدھوں میں گیروی لباس والےبھکشو بھی ہیں اور پولیس اور فوجی وردیوں میں ملبوس بدھ انتہا پسند بھی۔ صحافی بھی اپنے پیشے کا “پالن” کرنے کے لیے کاغذ، قلم، کیمرے، مائیک وغیرہ سے لیس تصاویر کھینچنے اور “لائیو” مناظر “کیپچر” کرنے میں تندہی سے مصروف ہیں۔ واہ رے میڈیا، کتنی ذمہ داری کا ثبوت ہے۔ ادھر جانے کہاں ایک جگہ پر عورت کو کوڑے لگتے  ڈرامائی فلم پر اقوام متحدہ،ہیومن رائٹس والے اور ہر ایرا غیرا نتھو خیراُٹھ کھڑا ہوا کہ بہت بڑا ظلم ہوگیا۔ اب تو اس شعر کا حوالہ لکھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے جس میں کسی کے قتل کرنےکا چرچا تک نہ ہونےاور ہماری آہ پر بدنامی کا شکوہ کیا گیا۔اب ہم شاعروں ، ادیبوں کو نئے اشعار میدان میں لانے کی ضرورت ہے کہ کم از کم زبان سے برا کہ کر ایمان کے دوسرے درجے میں آنے کے لیے خاطر خواہ استعارے استعمال کرسکیں اور دل بھڑاس بھی نکال لیں ۔

Viewers: 10486
Share