Hafiz Yousaf Siraj | Jurm-e-Sukhan | عافیہ زندہ کیوں ہے؟

عافیہ زندہ کیوں ہے؟
وہ منظر نہیں بھولتا ،کسی نہ کسی موڑ پر رلانے اور بے بسی کے کوڑے برسانے وہ پھر آجاتی ہے ،نیو یارک کی عدالت میں اس نے کہا تھا، ’’میں نے کسی کو قتل کیا نہ زخمی اورنہ کسی امریکی پر بندوق اٹھائی ۔ میں نے دانشوروں کو پڑھا ہے اور میں اوبامہ کو خستہ امریکی معیشت کی بحالی تجویز کر سکتی ہوں۔‘‘
نازک کلائیوں پر امریکی تشدد کے زیور اورہاتھوں میں ہتھکڑیاں سجائے، قیدیوں کا سبز لبادہ اور سر پر سفید سکارف اوڑھے ڈاکٹر عافیہ تب پرچم پاکستان کی بے بس تصویر ہوگئی تھی۔سینہء سنگ پگھلا دینے والی، ڈاکٹر عافیہ کی کہانی اتنی دہرائی جا چکی کہ اب تو لفظ بھی سسکنے لگے ہیں اور لوگ آج بھی ششدر ہیں کہ عافیہ اگر دہشت گرد ہے تو یہ کیسی دہشت گرد ہے اور 2003ء سے یہ تن نازک اور پیکر حیا آخر کس جرم کی سزا جھیل رہی ہے۔عافیہ نے امریکی یونیورسٹی سے نیوروسائنسز میں اعلیٰ اعزاز سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی مگر دیار مغرب کی تہذیبی تاریکیوں میں بھی حیا اور حجاب کے دیپ جلائے رکھے۔ درد کے لامتناہی صحرا میں بھٹکتی احمد، سلیمان اور مریم کی ماں عافیہ کا تعلق رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں کے تارے ابوبکرصدیق کے قبیلے سے ہے۔ عافیہ، فوزیہ ہی کی نہیں ، مضبوط کندھوں، توانا بازوؤں اور غیرت مند سینوں والے سولہ کروڑ اہل ایمان کی بھی بہن ہوتی ہے، جسے امریکہ آج اس کے گوشۂ عافیت سے گھسیٹے پھر رہا ہے۔ جرم تو یہ بھی کم نہ تھاکہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری پا لینے کے باوجود اسے نخلِ اسلام کی گھنی چھاؤں تلے ہی زندگی بسر کرنا پسند تھا۔ چنگیزیت کے علمبرداروں اور فرعون کی معنوی اولادوں سے شاید یہی برداشت نہ ہوا جو اسے سزا دینے کے لیے القاعدہ سے جوڑا اور بھنبھوڑا گیا۔ وہ تو سادہ اطوار اور اجلا کردار رکھتی شفاف خاتون تھی۔ 2مارچ 1972ء کو کراچی میں جنم لیتی محمد صدیقی کی تیسری اولادعافیہ 1990ء میں بغرض تعلیم امریکی ریاست ٹیکساس اپنے بھائی کے پاس چلی گئی۔ سال ہوسٹن گزارنے کے بعد وہ امریکی یونیورسٹی ایم آئی ٹی منتقل ہو گئی، یہاں سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے کے بعد امجد خاں سے بیاہی گئی، وہ تیسرے بچے سے 8 ماہ کی حاملہ تھیں جب میاں سے علیحدگی ہو گئی۔ وہ کراچی اپنی والدہ کے پاس چلی آئیں۔ امریکہ ان کی بہن مقیم تھی سو بسلسلہ ملازمت چکر لگتے رہے۔ 9/11 کے بعد بھی وہ کئی بار امریکہ گئیں مگر پھر ایک دن امریکہ پر کھلا کہ وہ تو دہشت گردہوتی ہیں، مارچ 2003ء کووہ کراچی سے اسلام آباداپنے چچا کے ہاں جانے کے لیے ٹیکسی میں بیٹھی تھی کہ ریلوے اسٹیشن پہنچنے سے پہلے غائب ہو گئیں۔ بچوں سمیت جوان بیٹی کی پراسرارگمشدگی نے صدیقی فیملی کو ادھیڑ کے رکھ دیا۔ لاکھوں پاکستانی بھی دل کو درد کیے اس آگ میں برابر جلتے رہے،انسانی سوداگر وں کے پاس مگرکرنے کی بجائے کہنے کو نت نئی کہانیاں تھیں۔ فن دروغ گوئی میں یکتا یہ لوگ رنگا رنگ افلاطونیاں تو سناتے رہے مگر عافیہ کو بازیاب نہ کرا سکے۔ چاہتے تو کیا نہ ہوجاتا مگر امریکی مفادات سے ٹکراؤ کی ان میں تاب ہی نہیں۔ پھر ایک دن حکمرانوں کے شبستان اسلام آباد میں عمران خان کیساتھ پریس کانفرنس میں نومسلم ریڈلی نے انکشاف کیا کہ افغانی بگرام ہوائی اڈے پر قائم امریکی عقوبت خانے میں ،آسمان ہلا دیتی اور قیدی لرزا دیتی کسی خاتون کی چیخیں گونجتی ہیں۔ ریڈلی کا خیال تھا کہ یہ خاتون پاکستانی ہو سکتی ہے کہ اس صدی میں ظلم کے پاٹوں میں پسنا مسلمانوں ہی کا خاصا ہے۔ ریڈلی کا خیال درست نکلا اور بعدازاں ثابت ہو گیا کہ اس اذیت کدے میں قیدی نمبر 650 پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ ہی تھی۔ اذیت بھری بے بسی نے سر سینے سے لگا دئیے مگر حکمران ملاقاتوں کے بعد بے حمیتی سے اعلان کرتے رہے ’’وہ صحت و عافیت سے ہے اور ہنستی کھیلتی بھی ہے۔‘‘ دل چیخ اٹھتا، کاش کبھی عافیہ ہی کی طرح تم بھی پنجروں میں ’’صحت و عافیت سے ہنستے کھیلتے‘‘ دیکھے جاؤ۔ پھر شدیددباؤ پر 37 سالہ عافیہ کو نیویارک جیل اور پھر ٹیکساس کے ایک نفسیاتی ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ عدالت لاتے ہوئے اسے جامہ تلاشی کی روحانی اذیت سے گزارا جاتا، قرآن سے سینہ منور کئے عافیہ وہ پیکرِ حیا تھی کہ بگرام سے نیویارک آمد پر شکستہ بدن اور چور ہڈیوں کے باوجود اس نے طبی معائنے سے انکار کر دیا تھا کہ کسی مرد ڈاکٹر کا چھونا اسے گوارہ نہ تھا، یہی اذیت مگر اسے عدالتوں میں پہنچائی گئی۔ عدالت میں اس کے ’انکشاف‘ کبھی بریکنگ نیوز نہ بن سکے کہ جسمانی اذیت کے ساتھ ساتھ روحانی تشدد میں بھی امریکی ڈریکولا کی پیاس کبھی بجھنے نہیں پاتی۔ اسے قرآن مجید کے اوراق روند نے پر مجبور کیا گیا مگرعالم اسلام اور انسانی حقوق کے علمبردا رتماشائی بنے رہے۔ شاید ان کا نہ ڈاکٹر عافیہ سے کوئی تعلق تھا اور نہ قرآن مجید سے کوئی ناتا ۔ عافیہ کی وکیل ڈان کارڈی کا شکوہ ریکارڈ پرہے کہ ’’رہائی کے سلسلے میں پاکستانی حکومت نے سنجیدہ اور مؤثر کوششیں نہیں کیں۔‘‘ یہ اعلان اس لیے بھی دل شگاف تھا کہ سرفروشانہ تاریخ رکھنے والے غیر مسلم خاتون کے جھنجھوڑنے پر بھی نہیں جاگے۔
میرا خیال ہے عافیہ کی کہانی سے زیادہ اذیت ناک اس عہد کی بے حسی ہے۔ سوال اب یہ نہیں رہاکہ عافیہ کا مستقبل کیا ہے؟ کہ درد کا دریا عبور کر لینے کے بعد بھی اس کے لبوں پہ کلمہ طیبہ ہی مچلتا ہے اورفرعونی تشدد کی آندھیوں کے مقابل بھی اس کا ’چراغِ سکارف‘ جگمگاتا ہے۔ عزت نفس کی پامالی اور جسم و جاں کی بے حالی کے تلاطم میں بھی وہ سفینۂ اسلام پر جمی رہی، شایدعافیہ قافلۂ حجازکی وہ بچھڑی بیٹی تھی جو اس عہد میں اطوارِصحابیات کی جھلک دکھانے آئی تھی۔ سو سوال اس عظیم خاتون پہ برستے وحشیانہ تشددکے سمے ہماری سفاک چپ سے ہے؟ مجھے لگتا ہے روزِ حشر یہ عہد عہدِعافیہ کہلائے گا اور ہمیں اس جرم کے ساتھ اٹھایا جائے گا کہ یہ محمد ﷺ کی مظلوم بیٹی پرٹوٹتی فرعونیت کے وقت خاموش رہتے تھے۔ بگرام جیل جب چیخیں اگلتی تھی تو یہ کانوں میں پگھلا سیسہ انڈیل لیتے تھے، سو صرف امریکی ہی نہیںیہ پورا عہد عافیہ کا مجرم ہے۔
میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ یہ نرم و نازک اور دھان پان سی عافیہ وحشتوں کے پار اترنے کے بعد بھی زندہ کیوں ہے؟وہ ابھی تک امت کے تن مردہ میں بجلیاں بن کر کیوں تڑپ رہی ہے؟ جواب مجھے اس کے سوا نہیں کچھ نہیں سوجھتا کہ عافیہ دراصل اس امت کا امتحان بن چکی ہے۔ تیل سے چکنی عرب ریاستوں سے لے کر اسلام کا قلعہ کہلاتے پاکستان تک وہ ہماری جرأت کی ہار جیت بن گئی ہے اور اس کی لمبی ہوتی عمر ہمارے لیے عرصۂ مہلت بنتی جا رہی ہے۔کوئی جانتا بھی ہے کہ جیل کی دیواروں میں ہتھکڑیاں پہنے وہ ڈاکٹر عافیہ نہیں بخداہماری آزمائش سانس لیتی ہے۔ وہ ہمارے بوٹوں اور اچکنوں،ہمارے لیڈروں اور لکھاریوں کی آزمائش ہے۔ اس کے انجام کی فکر نہیں کہ قیامت کی جس ہولناکی میں اس نے سر کو سکارف کی پناہ میں رکھا ہے، حوضِ کوثر پر محمد ﷺ اپنی اس بیٹی کے سب درد چن لیں گے اور سیدہ عائشہ و فاطمہ رضی اللہ عنہما کے سنگ وہ ساری اذیت بھول جائے گی۔ مگر مجھے اس عہد کے حکمرانوں اور اہل ایمانوں کے انجام کی فکر ہے کہ ہماری مجرمانہ خاموشی کا کل کیاجواز ہو گا؟ کل جب وہ شکستہ بدن لئے ، لہو کی ردا اوڑھے بپا ہو گی تو ہم عافیہ سے ،عافیہ کے رب سے اوراسکے رسول سے کدھر منہ چھپائیں گے؟ چراغِ مفلس کی طرح خیال لرزتا ہے کہ حیا اور ہمت کی پیکر عافیہ تو بالآخر عافیت پا جائے گی مگر اس کی فلک پیما چیخوں پہ لب بستہ ہم گونگے حشر میں کدھرجائیں گے؟
Viewers: 1259
Share