بین الاقوامی اردو یوتھ فیسٹیول میں بین الاقوامی منٹوسیمینار،کتاب میلہ، شام غزل اور مشا عرہ کا انعقاد ہو گا۔

بین الاقوامی اردو یوتھ فیسٹیول میں بین الاقوامی منٹوسیمینار،کتاب میلہ، شام غزل اور مشا عرہ کا انعقاد ہو گا۔
شعبۂ اردو اور عالمی اردو ٹرسٹ کے سربرا ہان کی مشترکہ پریس کانفرنس
میرٹھ27؍ ستمبر2012ء(پریس ریلیز)۔ چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی کے شعبۂ اردو کے پریم چند سیمینار ہال میں بین الاقوامی اردو یوتھ فیسٹیول کے سلسلے میں شعبۂ اردو اور عالمی اردو ٹرسٹ، دہلی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔اس سلسلے میں تفصیلی روشنی ڈالتے ہو ئے صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے بتایا کہ:شعبۂ اردو کے قیام سے ہی ہما ری یہ کوشش رہی ہے کہ درس و تدریس کے علا وہ طلبہ و طالبات کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی بروئے کار لایا جائے۔ اس سلسلے میں شعبہ مسلسل سرگرم عمل رہا ہے اور وقتاً فوقتاً ادبی و شعری نشستوں، قومی و بین الاقوامی سیمینار، مشا عرے،شام غزل، شام افسانہ، بیت بازی، اردو کوئز اور کتب کی نما ئش جیسے پروگرام منعقد کرتا رہا ہے۔جس کا مقصد نہ صرف طلبہ کی ذہنی نشوو نما بلکہ اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی، قومی یکجہتی، بھائی چارہ اور آپسی ہم آ ہنگی رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شعبۂ اردو اپنے دس سالہ جشن اورمعروف کہانی کار سعادت حسن منٹو کے صد سالہ جشن ولادت کے موقع پر شعبۂ اردو اور عالمی اردو ٹرسٹ،دہلی مل کر ۲۰؍ سے ۲۲؍نومبر ۲۰۱۲ء تک سہ روزہ تقریبات کا اہتمام کررہے ہیں ۔ان سہ روزہ تقریبات کوبین الاقوامی اردو یوتھ فیسٹیول کی شکل میں منایا جائے گا۔جس کا مقصد اردو کا فروغ،ادب کی تفہیم بالخصوص نو عمر ادیبوں کی تنقیدی و تخلیقی نگارشات کے جائزے اور ان کی خدمات کے اعتراف کے ساتھ ساتھ مفقود ہوتی جارہیں قدیم ادبی روا یات کا احیا کرنا ہے۔ان تقریبات کے تحت عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کو خراج کے بطور ’’کہانی منٹو سے قبل،کہانی منٹو کے عہد میں اور کہانی منٹو کے بعد ‘‘ موضوع پر بین الاقوامی سیمینار سمیت منٹو کی معروف کہانیوں پر مبنی فلم کی نمائش اور ان کی کہانی کو اسٹیج بھی کیا جائے گا۔علاوہ ازیں شامِ غزل، شام افسا نہ، کتاب میلہ، ایوارڈ تقریب جیسے پروگرام بھی منعقد کیے جائیں گے اور پہلی بار اردو کی معروف سائٹس اردو سخن ڈاٹ کام ،شعر وسخن ڈاٹ کام،اردو نیٹ جاپان اور اردو دوست ڈاٹ کام وغیرہ کے ذمہ داروں کی بھی شرکت متوقع ہے۔
اس موقع پر عالمی اردو ٹرسٹ کے صدر اے ۔ رحمن نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ :عالمی اردو ٹرسٹ بین الاقوامی شہرت کا حامل ایک رضا کار اداری ہے،جو اردو زبان و ادب کی خد مت و ترویج کے لیے پچھلے دس سال سے سر گرم عمل ہے۔بالخصوص گذشتہ چار برسوں میں ٹرسٹ نے اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے مسلسل کام کیا ہے۔عالمی اردو ٹرسٹ نے نامور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو صدی (11مئی2012ء تا 10؍مئی2013ء) کے سلسلے میں ہندوپاک میں11؍ مئی 2012ء کو ہندی بھون ،نئی دہلی کے اشتراک سے صدی کا افتتاحی پرو گرام بڑی شان سے منعقد کیا۔گذشتہ4؍ ستمبر2012ء کو عالمی اردو ٹرسٹ کی دعوت پر منٹو کی تینوں بیٹیاں نزہت منٹو، نکہت منٹو اور نصرت منٹو کے علاوہ پاکستان کے سر کردہ دانشوروں کی ہندوستان آمد کے سلسلے میں نہ صرف فوری ویزا وغیرہ کی سہولت مرکزی حکومت کی جانب سے دی گئی بلکہ ہندوستان کی کسی بھی زبان کی تاریخ میں پہلی بارہند و پاک کے واگہ سرحد پر منٹو کی یاد میں شاندار ادبی تقریب بی ایس ایف کے زیر انتظام منعقد کی گئی۔منٹو صدی کے سلسلے میں عالمی اردو ٹرسٹ کے ملک گیر پرو گرا موں کا سلسلہ جاری ہے۔
پریس کانفرنس کے بعد منٹو کی معروف کہانی’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ پر مبنی فلم کی پرو جیکٹر کے ذریعہ نمائش کی گئی ۔یہ فلم سانحۂ تقسیم ہند پر مبنی ہے ۔در اصل تقسیم کے بعد کچھ لوگ اس صدمے کو برداشت نہ کر کے پاگل ہو گئے تھے جو دو نوں اطرف کی جیلوں میں بند تھے۔موضع ٹوبہ ٹیک سنگھ کا باشندہ بشن سنگھ بھی متاثرین میں سے تھا جو پاکستان کی جیل میں بند تھا۔اس حال میں بھی وہ اپنے گا ؤں کو یاد کرتا اور ہر ایک سے اس کے متعلق پو چھتا رہتا تھا کہ اب وہ کہاں ہے؟کچھ دنوں بعد جب قیدیوں اور پاگلوں کا تبادلہ ہو تا ہے تو بشن سنگھ کو بھی ہندو پاک سرحد پر بنے ٹرانسفر کیمپ میں لایا جاتا ہے۔بشن سنگھ یہاں بھی سب سے اپنے گاؤں کے بارے میں سوال کرتا ہے اور جب اسے یہ معلوم ہو تا ہے کہ یہ خطۂ ارض ٹو بہ ٹیک سنگھ ہے تو وہ یہیں داعیِ اجل کو لبیک کہہ دیتا ہے اور اس کی لاش ایک ایسے مقام پر پائی جاتی ہے جو نہ پاکستان کی ملکیت ہے اور نہ ہندوستان کی۔ اس طرح بشن سنگھ کا کر دار حب الوطنی کی عظیم مثال پیش کر نے کے ساتھ ساتھ تقسیم کے ذمہ دار رہنماؤں کے لیے ایک لمحۂ فکریہ بھی بن جاتا ہے۔۔ناظرین نے فلم کوبے حد پسند کیا،فلم کے ڈائریکٹر چندی گڑھ کے باشندے شکتی سدھو ہیں،مو سیقی و ترجمہ راہی معصوم رضا کا ہے جب کہ بشن سنگھ کا کردار پاکستان کے معروف ادا کار شجاعت نے اداکیا ہے۔
اس مو قع پرشمبھو ناتھ شکلا(مدیرِاعلی ،امر اجالا،میرٹھ )ڈاکٹر فاروق ارگلی، ڈا کٹر آصف علی، ڈاکٹر شاداب علیم، ڈاکٹر یو نس غا زی، ڈاکٹر قمر النساء زیدی،طالب زیدی، پربھات را ئے،اروند کمار،شاہین خان ،اسما پروین ،اطہر الدین اطہر،ونیت کمار،سمت کمار،ڈاکٹر فرقان سردھنوی اور کثیر تعداد میں طلبا و طالبات نے شر کت کی۔ رپورٹ : سعید سہارنپوری

Viewers: 1045
Share