Abdul Majik Malik | Interview |اردو میری پسندیدہ زبان ہے ۔ ڈاکٹرآلین دزولیئر

انٹرویو :عبدالماجد ملک
عکاسی:۔ وسیم عباس
گزشتہ دنوں پیرس یونیورسٹی کے اردو کے پروفیسر ڈاکٹر آلین دِزولیئرProf Dr Alain Desoulieres))پاکستان تشریف لائے تو ان سے تفصیلی ملاقات ہوئی،جو صرف اردو کے پرفیسر ہی نہیں ماہر لسانیات بھی ہیں ان نے سے ملاقات کا احوال قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
س: آپ کا مکمل نام کیا ہے؟اور آپ اردو ادب پر کتنے عرصے سے کام کر رہے ہیں؟؟؟
ج: میرا نام آلین دِزولیئر(Alain Desoulieres)ہے ،پیرس یونیورسٹی میں اردو کا پروفیسر اور پی۔ایچ۔ڈی ڈاکٹر ہوں ۔1972 ؁ء میں جب میں نے ایم۔فل شروع کیاتو اس وقت اردو سیکھنا شروع کی کیونکہ فرانس میں اردوزباں یونیورسٹی کی سطح پر شروع ہوتی ہے اور جہاں تک اردو ادب سے وابستگی کی بات ہے تو 1981 ؁ء میں جب پی۔ایچ۔ڈی مکمل کی تو اس پر کام کرنا شروع کیا تھا۔
س: آپ نے کس مضمون میں اور کونسی یونیورسٹی سے پی۔ایچ۔ڈی کیا؟؟؟
ج: (مسکراتے ہوئے) لازمی بات ہے اردو زبان میری پسندیدہ تھی ،اردو زباں اور اردو ادب کی تاریخ پر پیرس یونیورسٹی سے پی۔ایچ۔ڈی کی،جہاں آج کل میں اردو پڑھا بھی رہا ہوں۔
س: کلاسک ادب میں آپ کس سے زیادہ متاثر ہیں؟؟؟
ج: غالب میرے پسندیدہ شاعر ہیں،حالانکہ غالب کو سمجھنا کوئی آساں کام نہیں ہے لیکن آج کل تشریح اور تراجم کی وجہ سے یہ آسان ہو گیا ہے ۔
س: ڈاکٹر صاحب! غالب کا کوئی شعر ہی سنا دیں؟؟؟
ج: میں اس کے لئے آپ سے معذرت کروں گا کیونکہ میں اس قابل نہیں ہوں کہ اتنے بڑے شاعر کا کلام اپنی زباں سے سناؤں،ادب کے تقاضے کی وجہ سے میں نہیں سناؤں گا،حالانکہ میں غالب کی غزلیں بڑی شوق سے سنتا ہوں۔
س: آپ ماہر لسانیات بھی ہیں کسی بھی زبان کی ترقی کے بارے آپ کی کیا رائے ہے؟؟؟
ج: دیکھو کوئی بھی زبان اک مصنوعی چیز ہوتی ہے شاید آپ میرا مطلب سمجھ نہیں پارہے ہوں ،اور جہاں تک کسی بھی زبان کی ترقی کی بات ہے تو زبان اس وقت ترقی کرتی ہے جب وہ سرکاری سطح پر رائج ہوتی ہے۔
س: آج کل روز مرہ معمولات میں اردو میں انگریزی کے لفظوں کی مداخلت بڑھتی جا رہی ہے آپ اس بارے کیا کہتے ہیں؟؟؟
ج:(ہنستے ہوئے) جہاں جہاں انگریزوں کا راج رہا ہے انگریز تو چلے گئے ہیں لیکن ان کے اثرات ابھی بھی باقی ہیں یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ یہ اثرات ختم ہو جائیں اور ویسے بھی ہم خود بھی اس ملاوٹ کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ ابھی تک اردو زباں بھی اتنی زیادہ طاقتور نہیں ہے ۔
س: ڈاکٹر صاحب! آپ ماہر لسانیت بھی ہیں ،آپ کے نزدیک کونسی زباں زیادہ فصیح و بلیغ ہے ؟؟؟
ج: اس کا جواب کافی مشکل ہے جہاں تک لوگوں کی اردوبولنے کی بات ہے تو اردو اور ہندی کا تناسب ایک جیسا ہی نظر آتا ہے آبادی کے لحاظ سے بھی اردو بولنے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہے اور اہل زباں اردو بولنے والوں کی بات کی جائے تو وہ بھی فرانسیسی سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے ،جہاں تک انگریزی کا تعلق ہے تو وہ ابھی پیچھے ہے البتہ عربی،اردو اور چینی زباں میں بات کرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ نظر آتی ہے اور جس کی سمجھنے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہو تو وہی زباں فصاحت و بلاغت میں سب سے زیادہ ہوتی ہے ۔
س: فرانس میں اردو کی ترویج و ترقی کے لئے کیا اقدامات ہو رہے ہیں؟؟؟
ج: افسوس کی بات ہے کہ اس وقت حقیقت میں اردو کی ترویج کے لئے بہت کم کام ہو رہا ہے اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ اردو زباں بولنے والے فرانسیسی سیکھ کر اردو کو بھولتے جا رہے ہیں اس وقت اگر فرانس میں اردو کی ترقی کے لئے اقدامات پر بات کی جائے تو صرف پیرس یونیورسٹی میں ہی اردو کو پڑھایا جا رہا ہے باقی اردو مجھے کہیں نظر نہیں آ رہی،یہ ایک سوچنے والی بات ہے ۔
س: افسانہ نگاری میں سب سے زیادہ آپ کو کس نے متاثر کیا؟؟؟
ج: بلاشبہ منٹو اور عصمت چغتائی سے میں کافی متاثر ہوں ،میں سمجھتا ہوں کہ سعادت حسن منٹو کے بعد کوئی اچھا افسانہ نگار نہیں آیا ، میرے لئے یہ اعزاز اور فخر کی بات ہے کہ میں نے منٹو صاحب پر کافی کام کیا ہے لیکن کام کرنے سے پہلے میں پاکستان آیا اور باقاعدہ طور پر ان کی بیٹیوں کی اس کی اجازت لی حالانکہ یہ ضروری نہیں تھا ،اس کے بعد میں نے ان کی کافی سارے افسانوں کا ترجمہ فرانسیسی میں کیا ،اور یہ مسرت کی بات ہے کہ اس وقت افسانہ نگاری میں عورتیں بھی کافی آگے آرہی ہیں ،اشفاق احمد بھی میرے پسندیدہ ہیں ۔
س: شعرائے کرام میں وہ کون سے نام ہیں جنہیں آپ پسند کرتے ہیں؟؟؟
ج: میں اس کے لئے آپ کو یہ بھی بتانا ضروری خیال کرتا ہوں کہ 2006 ؁ء میں اک اردو شاعری کی کتاب کا ترجمہ فرانسیسی ادب میں کیا ہے جس میں کافی شعراء کے کلام ہیں جن میں میرتقی میرؔ ،ولیؔ ،سراج،سودا،مومن خان مومنؔ ،غالب،داغ،حالیؔ ،انشاء،ذوق،اکبر الٰہ آبادی،اقبال،چراغ حسن حسرت،ساحر لدھیانوی،فراق،فیض احمد فیض،کی شاعری شامل ہے اور میں نے صرف ان کی شاعری کا ترجمہ نہیں کیا بلکہ پہلے شاعر کے حالات زندگی ،پھر کلام اور آخر میں تفصیل سے تشریح کی جوکہ کافی توجہ طلب کام تھا۔
س: آپ کو پاکستان کیسا لگتا ہے؟؟؟
ج: بہت ہی اچھا،کیونکہ یہاں محبت کرنے والے انسان بستے ہیں لیکن اس بار بدقسمتی سے چھ سال کے بعد آیا ہوں اور میں یہاں پر علم و ادب اور ٹی۔وی کے لوگوں سے ملنا چاہتا ہوں ۔
س: آپ کا پاکستان میں پسندیدہ مقام کونسا ہے؟؟؟
ج: لاہور بہتر ہے ،لیکن آب و ہوا کی وجہ سے مری بھی کافی اچھا لگتا ہے اور جہاں تک لاہور کی بات ہے تو علم و ادب اور تاریخی شہر ہونے کی وجہ سے میں کافی پسند کرتا ہوں اس سے لگاؤ کی اک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ اس شہر میں اقبال،فیض احمد فیض ،منٹو اور دیگر کئی ادبی شخصیات نے زندگیاں بسر کی ہیں ۔
س: اہل پاکستان کے نام آپ کا پیغام ؟؟؟
ج: میں تو خود کچھ بھی نہیں ہوں جو دوسروں کو پیغام دوں البتہ میں طلباء سے یہ درخواست کروں گا کہ جہاں بھی چلے جاؤ اپنی زباں اردو کو نہیں بھلانا۔۔
Viewers: 1418
Share