Manan Qadir Manan | Interview | عزیز بلگامی سے ایک مکالمہ

منان قدید منانؔ ۔ لند ن


بھارت کے معروف شاعر و ادیب عزیز بلگامی سے ایک مکالمہ

۱۔۔۔شاعری کیا ہے؟
ؑ عزیز بلگامی:۔۔۔میری نظر میں شاعری فکر و فن کے باہمی ارتباط سے جنم لینے والے اُس روح پرور اِظہار کا نام ہے جسے سخنور کی ذات میں موجود موزونیت کے ساتھ کسی خوبصورت زبان کا سہارامل جائے تو یہ ترسیل کے مراحل طے کرلینے میں کامیاب ہوجاتی ہے اوراپنے قاری یا سامع کی سماعت سے ٹکراکر یا تو اُس کی روح میں اُتر جاتی ہے، یاناکام ہوکر فی بطنِ شاعر دم توڑ دیتی ہے۔
۲۔۔۔آپ کا نظریہ فن کیا ہے؟
ؑ ؑ عزیز بلگامی:۔۔۔میرے خیال میں ،دراصل شاعر کا اصل اثاثہ فن ہی ہے جس کے دوش پر سوار ہو کر شاعر کی فکر و نظر ، شعری عظمتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ایک مفکر و دانشور شاعر کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوسکتا ہے،لیکن اگر وہ فنی چابکدستیوں یاپوئٹک آرٹ سے نابلد ہو تواُس کی اونچی سے اونچی بات بھی وجدان پر اثر انداز ہونے میں ناکام ہو جاتی ہے ،چاہے یہ کانوں کو کتنی ہی بھلی کیوں نہ معلوم ہوتی ہو۔سچی بات تو یہ ہے کہ خیال کی گیرائی اور گہرائی بھی فنی صلاحیتوں ہی کے حوالے سے اپنا حقیقی معنیٰ و مفہوم متعین کر لیتی ہے اور اچھی شاعری کی تخلیق کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔
۳۔۔۔بھارت میں ادب کا مستقبل اور خاص طور پر اردو زبان کی ترقی کے امکانات کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
ؑ ؑ عزیز بلگامی:۔۔۔دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا پروردہ بھارتی معاشرہ ایک کثیر السانی، کثیر المذاہب معاشرہ ہے۔یہاں مختلف تہذیبوں کے مابین اجنبیت کے علی الرغم جذب و انجذاب کا ایک لامنتناہی سلسلہ جاری ہے۔ ظاہر ہے یہاں کی زبانیں بھی اِس صورتحال سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں۔ایک اردو زبان بولنے والے ہی کیا، یہاں ہر لسانی اکائی اپنے ادب اورزبان کے روشن مستقبل کو لے کر پرامید ہے۔ سبب یہ ہے کہ ، خواہی نخواہی اُسے ہر لمحہ اپنے پڑوسی سے پیہم یہ تحریک ملتی رہتی ہے کہ وہ اپنی زبان کے فروغ کے لیے کچھ نہ کچھ کرتا رہے۔ ہر ریاست میں اُردو اکیڈیمیاں قائم ہیں اور ان کے لیے فنڈز مہیا کیے جاتے رہتے ہیں۔مرکزی حکومت کی سرپرستی میں بھی قائم ادارہ’’ کاؤنسل برائے فروغِ زبان اردو، دہلی‘‘ بڑی جانفشانی کے ساتھ اردو زبان کی خدمت میں لگا ہوا ہے۔مولانا ابو الکلام آزاداُردو یونیورسٹی، حیدرآباد بھی اِس سلسلے میں اپنا حصہ ادا کر رہی ہے۔اس طرح چاہے نہ چاہے اردو کی سرگرمیاں کسی نہ کسی درجے میں جاری و ساری رہتی ہیں۔چونکہ یہاں کا فیڈرل نظام لسانی بنیادوں پر ہی استوار ہے اور علاقائی زبانوں کے ساتھ دیگر اقلیتی زبانوں کو متعلقہ ریاستی حکومتوں کی مالی، اخلاقی تائیدحاصل ہوتی رہتی ہے تو اِس بہتی گنگا میں اردو بھی اپنے ہاتھ دھو لیتی ہے۔مشاعرے، مذاکرے، شعراء کی کتب کی اشاعت جیسی سرگرمیوں میں کبھی رکاوٹ نہیں پیدا ہوتی۔دوسری ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ہندوستان کی سرکاری زبان ہندی ہونے کے سبب اردو بھی اِس کے دوش بہ دوش اپنے فروغ کا سفر طے کرتی رہتی ہے چاہے یہ کسی کو پسند ہو کہ نہ ہو ۔ سبب یہ کہ دونوں زبانوں کاگرامیٹیکل ایک ہی ہے۔ چنانچہ لوگ ہندی کے نام پر اصلاً اردو کے زیر اثر رہتے ہیں اور ہندی زبان بولتے بولتے اردو کے الفاظ سے اپنی قوت تاثیر کو بڑھانے کی کوشش میں اردو کا سہارا بن جاتے ہیں۔اِس لیے اردو کو پس منظر میں پہنچانے کی اردو دشمنوں کی تمام تر کوششیں یوں بھی ناکام جا رہی ہیں۔پھرتیسری بات یہ کہ یہاں بالی ووڈ کی فلموں پر بھی اردو ہی کا غلبہ رہاہے،چاہے یہاں کی ہندی عوام کو یہ ہندی ہی کیوں نہ نظر آتی ہو۔چنانچہ ہندی فلموں کی اردو سے ہماری عوام لاشعوری طور پر تسلسل کے ساتھ قریب ہوتے جارہے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔بالفاظِ دیگربالی ووڈ اردو کی مستقلاً ایک خاموش خدمت گاربنی ہوئی ہے۔بہر کیف ان عوامل کے تحت بھارت میں اردو زبان کے امکانات روشن ہیں۔
۴۔۔۔پاکستان اور ہندوستان میں جو ادب تخلیق ہو رہا ہے اُس کا موازنہ کیسے کریں گے؟
ؑ ؑ عزیز بلگامی:۔۔۔پاکستان میں جو اردو ادب تخلیق ہو رہا ہے اُس کا ہندوستانی ادب سے موازنہ تقریباً ویسا ہے جیسے پاکستانی انگریزی ادب کا موازنہ انگلستانی انگریزی ادب سے کیا جائے۔سچی بات تو یہ ہے کہ جب کسی زبان کو مملکتی وسائل کا سہارا مل جاتا ہے تو عصری سائنسی و ٹکنکل چیزیں بھی زبان کی ترویج و اشاعت میں ایک  انسٹرومنٹس کے طور پرشامل ہو جاتی ہیں، جو کسی مملکت ہی کی رہین منت ہوتی ہیں۔پاکستان کے اردو ادب کی ترقی کو میں ہندوستان میں اردو کی ترقی کے مقابلہ میں بہت تیز رفتار سمجھتا ہوں اور اس کا سبب یہی سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں اردو کی ہمہ جہت ترقی کے سرکاری طور پر ٹھوس اور معروضی اقدامات کیے گیے جن کا ہندوستان میں افسوس ناک حد تک فقدان ہے ۔یہ میرے مشاہدات ہیں ، اِس کی تصدیق کرنا آپ کا کام ہے۔انٹر نیٹ پر پاکستانی قلمکاروں کی چہل پہل دیکھ کربڑی حیرت ہوتی ہے۔فیس بک پر جب میں نے اپنا اکاؤنٹ کھولا اور اپنے کلام کو پیش کیا تو مجھے ہندوستانیوں سے زیادہ پاکستانیوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ایک سال کے قلیل عرصے میں میرے دوستوں کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہوا۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اِن میں ہندوستانیوں کی بہ نسبت پاکستانیوں کی تعداد زیادہ ہے۔یہ سب شعر و سخن کے حوالے سے میرے دوست بنے ہیں۔اس سے نہ صرف باذوق پاکستانی عوام کی ادب دوستی اور اردو دوستی کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ ادب کی پاکستان میں تخلیق کی رفتار کا ادراک کرنا کچھ مشکل نہیں۔رہی ادب کی تخلیق کا موازنہ تو ہندوستان میں اپنی اور اپنے فن کے فروغ کے لیے بقول حفیظ میرٹھی یہ کہنا پڑتا ہے کہ :
تم بھی دربار میں حاضری دو حفیظؔ پھر رہے ہو کہاں مفلسوں کی طرح
اور پاکستان میں اچھے شعراء و قلمکار کے پیدا کردہ ادب کو عوام میں مقبولیت کے لیے دربار میں حاضری کی ضرورت نہیں پڑتی۔عوام کی جانب سے پذیرائی اُن کی اصل طاقت ہوتی ہے ۔شاید میں صحیح کہہ رہا ہوں۔
۵۔۔۔آپ کی نظر میں شاعر پر معاشرے کے کیا فرائض عائد ہوتے ہیں؟
ؑ ؑ عزیز بلگامی:۔۔۔معاشرے اور خاص طور سے جدید معاشرے کی اتھل پتھل کے درمیان شاعر کے فرائض کی بات برمحل بھی ہے اور دور رس اثرات کی حامل بھی۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ معاشرے ٹوٹ پھوٹ رہے ہیں، بکھر رہے ہیں۔نہ صرف خاندانوں کے درمیان بلکہ ، ارکانِ خاندان ہی کے درمیان عدم اعتمادی کی ایک اضطراب انگیز فضا پائی جاتی ہے۔اخلاق و کردار کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔عصمت و عفّت کے جنازے اُٹھ رہے ہیں۔ چور بازاری، رشوت ستانی اور کالابازاری بزنس کے آداب میں شامل ہو گیے ہیں۔چونکہ شاعر ایک حسا س وجود کا نام ہے،کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ معاشرتی اضطراب کی ایسی کوئی لہر اٹھے اور شاعر کو مضطرب نہ کر دے۔اگر ایسا نہیں ہورہاہے تو اِن معاشروں کو اپنی بقا کی خیر منانی چاہیے۔ نامساعد حالات سے مضطرب ہونے کی حس اگر ابھی شاعروں میں باقی ہے تویہ بتانے کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ ان تشویش ناک حالات میں معاشرے کے اِس حساس وجود ۔۔۔ شاعر۔۔۔ پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔
۶۔۔۔کیا آج کا شاعر ادیب اپنے فرائض نبھا رہا ہے؟
ؑ ؑ عزیز بلگامی:۔۔۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سب کچھ خیریت نہیں ہے۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ شعراء کی بڑی تعداد اپنے فکر و فن میں بے لگام سی نظر آتی ہے۔یہ صحیح ہے کہ شعری فن میں طاق شعراء اپنے فکرو خیال کی کراہت کوداد و تحسین کے قابل بنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے اورداد ملنے پر اِس خام خیالی میں مبتلا ء ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے شعری اورادبی فرائض سے سبکدوش ہو رہے ہیں ۔حالانکہ یہ انسانیت نواز ادب کی تخلیق سے کوسوں دور ہیں اوراُن کی شعری مکروہات کے ساتھ ساتھ معاشرتی مکروہات اپنی جگہ جوں کی توں برقرا ر ہیں ۔ یہ اپنی خیالی محبوبہ کے گیسو سنوارنے میں مست رہتے ہیں۔اپنی شریک حیات کو چھوڑ کر کسی خیالی حسینہ کے لب و رُخسارکی تعریف میں رطب اللساں رہتے ہیں۔اِن بے توفیقیوں سے پہلو تہی کرتے ہوئے بم دھماکوں کے درمیان کوئی امن کی اذان دینے والا آج دور دور تک نظر نہیں آتا۔ ؂
گو شاعری آزاد ہے، آزادئ فن ہے پھر کیسی یہ آزاد فضاؤں میں گھٹن ہے؟
کتنے ہیں مسائل لب و رُخسار سے ہٹ کر کیا حسن ہی فنکار کا موضوعِ سُخن ہے؟
۷۔۔۔پاکستان میں کن شعراء سے متاثر ہیں؟
ؑ ؑ عزیز بلگامی:۔۔۔ فیض احمد فیض، احمد فراز، جوش ملیح آبادی۔اِس تناظر میں علامہ اقبال کا نام نہیں لوں گا۔ کیوں کہ علامہ اِقبال صرف پاکستانی شاعر نہیں بلکہ وہ ہندوستانی بھی ہیں اور عالمی شاعر بھی۔اِس نقطہۂ نگاہ سے وہ نہ صرف میرے پسندیدہ شاعر ہیں بلکہ میرے فکری رہنما بھی ہیں۔
۸۔۔۔آپ شعر میں خیال یا کرافٹنگ کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں؟
ؑ ؑ عزیز بلگامی:۔۔۔نظری�ۂ فن کے ضمن میں کئی باتیں آچکی ہیں۔لیکن شاعری میں کرافٹنگ دراصل فنکاری یا آرٹسٹک سکل  سے بھی آگے کی بات ہے۔ کسی شاعر کازبان پر عبوراُس کے شعر کی کرافٹنگ ہی میں جھلکتا ہے۔کرافٹنگ الفاظ کی بازیگری کانہیں تزئین کاری کا نام ہے جو شعر کوشعریت عطا کرتا ہے۔اگر خوبصورت زبان میں شعر کی تخلیق ہو مگر اِس میں موسیقی ، الفاظ کے زیر وبم ردھم ، استعارہ و تشبیہ اور جذبےجذبات  کا عمل دخل نہ ہو تو ایسے شعر کو  ویل کرافٹنگ نہیں کہا جاسکتا۔خیال تو کسی طرح شاعر پر وارد ہو ہی جاتا ہے لیکن کرافٹنگکو اہمیت نہ دی جائے تو اعلیٰ خیال بھی صناعی کی غیر موجودگی میں گم ہو کر رہ جاتا ہے ۔ منفرد اور پراثر خیال کی اہمیت اپنی جگہ لیکن اِس سے کہیں زیادہ اہمیت کرافٹنگ کی ہے جو ’’خیال‘‘ کی اُنگلی تھامے اُسے تاثر و تاثیر کی دُنیا کی سیر کراکے ہی دم لیتا ہے۔اِسی لیے میں شعر کی تخلیق میں کرافٹنگکو زیادہ اہمیت دیتا ہوں، اِس حقیقت کے اعتراف کے ساتھ کہ شعر میں ’’خیال‘‘ خود ایک موثر کرافٹنگکی سمت شاعر کی رہنمائی کرتا رہتاہے۔
۹۔۔۔کیا آپ نے غزلوں کے ساتھ ساتھ نظمیں بھی کہی ہیں،دونوں میں کون سی صنف مشکل ہے؟
ؑ ؑ عزیز بلگامی:۔۔۔میں نے غزلوں اور نظموں دونوں صنف ہائے سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔میں دونوں ہی اصناف کو اُس وقت تک مشکل سمجھتا ہوں جب تک شعراء’’ آمد‘‘ کا انتظارنہیں کرلیتے۔’’آمد‘‘ ہوتو کسی بھی صنفِ سخن میں کوئی مشکل نہیں۔’’ آورد‘‘ کے سبب شعراء مشکلات کھڑی کرلیتے ہیں اور ایسی غزلوں اور نظموں میں جان نہیں پیدا ہوتی جو آورد کے نتیجے میں تخلیق پاتی ہیں۔یہاں تک کہ میں طرحی مصرعوں پرطبع آزمائی کو بھی وقت اور صلاحیت کا زیاں سمجھتا ہوں۔کیو ں کہ طرحی غزل کی تخلیق میں شاعر’’ آورد‘‘ پر انحصار کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔
۱۰۔۔۔مزاحمتی شاعری کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہیں؟
ؑ ؑ عزیز بلگامی:۔۔۔’’مزاحمتی شاعری ‘‘مقصدی شاعری کے قریب تر تھی اور ہے۔ لیکن نامعلوم وجوہات کے تحت اِسے ضم کا پہلو رکھنے والی ایک ایسی اصطلاح سے جوڑ دیا گیا کہ ٹھیٹ مقصدی شاعری بھی یار لوگوں کو’’ مزاحمتی‘‘ نظر آنے لگی۔ میں سمجھتا ہوں’’ مزاحمتی‘‘ کہہ کر ہم بے مقصد شعراء کے حوصلے بلند کرتے ہیں اور دبے لفظوں میں مقصدی شاعری سے اپنی الرجی ظاہر کرتے ہیں۔ بعض لوگ اِسے’’ انقلابی شاعری‘‘ کے نام سے بھی موسوم کرنا چاہتے ہیں۔لیکن لفظ ’’انقلابی‘‘ بھی اب اپنی حقیقی معنویت کھو چکا ہے۔گزشتہ صدی میں مختلف گروہوں نے اپنے اپنے پسندیدہ انقلاب کے لیے اِسے خوب خوب استعمال کیا اور ہنوز اِس کا استعمال جاری ہے۔ لیکن شاعری کو’’ انقلابی‘‘ کہنے والے کس انقلاب کے حوالے سے’’ انقلابی‘‘ کہنا چاہتے ہیںیہ بالکل غیر واضح ہے۔تفصیل کا موقع نہیں کہ ہم بتاتے کہ کس طرح لفظ’’ اِنقلابی‘‘ میں بھی اب وہ جاذبیت باقی نہیں رہی۔ کاش، کوئی اللہ کا بندہ اٹھے اور لفظ’’مزاحمتی‘‘ کا متبادل فراہم کرے۔جیسا کہ ہم نے عرض کیا شاعر کے اپنے معاشرے کے تئیں کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں۔اِن کی ادائیگی میں معاشرے کی قباحتوں پر چوٹ کی بہر صورت ضرورت پیش آتی ہے۔مبادا اِس کو مزاحمتی کہہ کر اِ س کی قدر و قیمت کو ہم لاشعوری طور پر گھٹا تو نہیں رہے ہیں؟
۱۱۔۔۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ادبی و ثقافتی تعلقات کے فروغ کے لیے آپ کیا تجاویز رکھتے ہیں؟
ؑ عزیز بلگامی:۔۔۔کتنی عجیب اورافسوس ناک بات ہے کہ جغرافیائی، نسلی، تہذیبی، ثقافتی اور ادبی و شعری یکسانیت کے باوجود ہم دونوں اقوام آج اِدھر ایک دوسرے سے ملاقات کے لیے ترستے رہتے ہیں اورتان ٹوٹتی ہے سیاسی قائدین کو ملزم کے کٹہرے میں کھڑا کرنے پر اوراُدھر یورپ کے کئی ممالک کو محض ایک کرنسی ’’یورو‘‘ جوڑ دیتی ہے اورہمارا حال یہ ہے کہ ہمارا ’’روپیہ‘‘ ایک دوسرے کی دشمنی خریدنے کے کام آتا ہے۔ دو جرمنیوں کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے جن کو جدا کر دینے والی دیوار دیکھتے ہی دیکھتے گرا دی جاتی ہے اور ہمارے درمیان کی دیوار کو سیسہ پلایا جاتا ہے۔ بلاشبہ سیاسی لوگوں کی سیاسی مجبوریوں کے ہم ضرور شکار ہیں ، لیکن کیا کوئی پروویکٹوٹی ہم عوام سے ممکن نہیں کہ ہم اپنے اقدامات سے اِس راہ کے سیاسی اثرات کا خاتمہ نہ صحیح ،اِنہیں کم کرنے کی سمت پیش قدمی کریں!!!سب سے پہلے میں یہ بات کہوں گا کہ ہم اپنے اُس مائنڈ سیٹ  کو بدلیں جو اب تک ہماری سوچ کی رہنمائی کررہاہے،کہ ہم اب بھی جغرافیائی سرحدوں کو مستحکم سمجھتے ہیں جب کہ گزشتہ ایک دہے کے دوران یہ بہ ظاہر مضبوط نظر آتی ہیں لیکن حقیقتاً منہدم ہو چکی ہیں۔ابھی چند سال پہلے تک اِس کا کون تصور کر سکتا تھا کہ کوئی پاکستانی صحافی(منان قدیر) لندن میں بیٹھ کر پاکستان کے ایک کثیر الاشاعت اخبار(خبریں ڈیلی) کے لیے بنگلور کے ایک شاعر عزیز بلگامی سے ٹیلیفون پر انٹرویو کر ے گا۔کیسی سرحدیں، کہاں کی رکاوٹیں۔انٹر نیٹ کو میں اپنے کچھ ریزوریشن کے ساتھ نعمتِ خداوندی سمجھتا ہوں۔میں پوچھتا ہو ں انٹر نیٹ کے ذریعہ کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم سب شعراء ، چاہے دنیا کے کسی مقام پر کیوں نہ آبادہوں اپنی باہمی رفاقتوں کو اِس قدر مضبوط بنالیں کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق لوگوں کے قافلے بہ آسانی اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر سفر کرنے لگ جائیں اور سیاسی لوگوں کی کھڑی کی گئیں دشواریاں کافور بن کر اُڑ جائیں۔میرا تجربہ کہتا ہے کہ اِس تعلق کومستحکم بنانا کچھ مشکل نہیں۔اِس وقت پاکستان کے کئی دوست چاہتے ہیں کہ میں پاکستان کا سفر کروں اور میں خود چاہتاہوں کہ میرے یہ دوست ہندوستان آئیں۔خیر سگالی کایہ ماحول بننا بہت ضروری ہے۔اِس طرح پالیسیاں اور سفارت کاریاں بدلیں گی او ر دو بچھڑے ہوئے بھائیوں کی پھرایک بار ملاقات کی سبیل نکل آئے گی۔خدا کرے کہ ایسا ہو۔

Viewers: 1655
Share