Aqil Khan | Column | بلھے شاہ کی نگری میں سی سی پی

بلھے شاہ کی نگری میں سی سی پی svpresidentccp@gmail.com قصور کافی پرانا شہر ہے اور روایات میں آتا ہے کہ یہاں پٹھانوں نے محلات بنائے ہوئے تھے ۔ محل کو […]
بلھے شاہ کی نگری میں سی سی پی
svpresidentccp@gmail.com
قصور کافی پرانا شہر ہے اور روایات میں آتا ہے کہ یہاں پٹھانوں نے محلات بنائے ہوئے تھے ۔ محل کو چونکہ قصر کہتے ہیں اور انہی محلات کی بنا پر قصور مشہور ہوا ۔ اس شہر کی وجہ شہرت معروف گلوکارہ ملکہ ترنم نورجہاں کے علاوہ چمڑے اور کپڑے کی صنعت ، کھانے میں میتھی ، فالودہ ، اندرسے اور مچھلی شامل ہے ۔ مگر اس شہرکی سب بڑی پہچان حضرت بابا بلھے شاہ ہیں ۔بلھے شاہ کی وجہ سے پوری دنیا کے لوگ قصور کے نام سے واقف ہیں۔ بلھے شاہ پنجابی کے مشہور صوفی شاعر تھے۔ سید عبداللہ شاہ المعروف بلھے شاہ اُچ شریف ( بہاولپور) میں 1680 میں پیدا ہو ئے ۔ آپ کی عمر چھ ماہ تھی تو والدین ملکوال (منڈی بہاؤالدین) ہجرت کر گئے۔ اس سے قبل آپ کے آبا و اجداد بخارا سے برصغیر میں آئے تھے ۔ آپ کے والد مقامی مسجد کے امام اور استاد تھے۔ آپ اعلیٰ تعلیم کے لئے قصور تشریف لے آئے جہاں آپ کے استاد غلام مرتضیٰ تھے۔حقیقت کی تلاش بلھے شاہ کو مرشد کامل حضرت شاہ عنایت قادری کے در پر لے گئی۔ بابا عنایت شاہ قادری کا ڈیرہ لاہور میں تھا جو ذات کے آرائیں تھے اور کھیتی باڑی اور باغ بانی پر گزارا کرتے تھے۔ شاہ عنایت کی صحبت نے بلھے شاہ کو بدل کر رکھ دیا ۔ایک سید کا ایک معمولی آرائیں کو اپنا مرشد مان لینا کوئی معمولی بات نا تھی۔ بلھے شاہ کو اپنے خاندان اور ذات برادری کے لوگوں کی مخالفت اور طعنے برداشت کرنا پڑے۔ بلھے شاہ نے بڑی بے خوفی سے اس بات کا اعلان کیا کہ مرشد کامل خواہ کسی ذات سے ہو ان کا دامن پکڑ کر ہی انسان بحر ہستی سے پار اتر سکتا ہے۔
کالمسٹ کونسل آف پاکستان پنجاب کے صدر حافظ جاوید الرحمن قصوری ایڈوکیٹ نے بلھے شاہ کے نگر میں ادب سے وابستہ لوگوں کا میلہ سجایا۔ جمعہ کے بابرکت دن کالم نویس احباب کی قصوری صاحب کے گھر آمد شروع ہوگئی۔ سی سی پی پنجاب کے صدر حافظ جاوید الرحمن نے قصوری نے کالمسٹ کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔ اس کے بعد سی سی پی کے مرکزی قائدین چیئرمین ایکشن کمیٹی اور ایڈیٹر پاک نیوز وسیم نذر ، نائب صدر امتیاز علی شاکر ، مرکزی فنانس سیکرٹری ساحر قریشی اور راقم (عقیل خان سینئر نائب صدر ) کو قصوری صاحب نے پرچم اتارنے کی تقریب میں شرکت کرائی ۔وفد کو گنڈا سنگھ بارڈر پر لے جایا گیا جہاں پر رینجرز کے آفیسرز نے وفد کا استقبال کیا۔ وہاں پر پریڈ دیکھنے کا لطف واہگہ بارڈر سے بھی زیادہ تھا کیوں کہ دونوں ممالک کے لوگ بالکل قریب بیتھے تھے ۔اس پریڈ کی خاص بات یہ تھی کے انڈین بی ایس ایف کا جوان پریڈ کے دوران فرش پر پھسل گیا مگر یہ منظر بدقسمتی سے کیمرے کی آنکھ سے بچ گیا ۔ پریڈ کے بعد بلھے شاہ کے مزارپر حاضری دی گئی ۔ دربار پر گدی نشین اور مجاوروں نے وفد کااستقبال کیا اور وفد کے گلے میں چادر پہنائی گئیں ۔ دربار پر فاتحہ خوانی کی گئی اور ملک اور سی سی پی کی ترقی کے لیے خصوصی دعاکی گئی۔ بلھے شاہ کی نوادرات اور ذاتی استعمال کی اشیا ء کی زیارت کی گئی ۔زیارت کے وقت میرے ذہن میں بلھے شاہ کے الفاظ گونج رہے تھے :
وے بلھیا اساں مرنانا ہیں گور پیا کوئی ہور
بلھے شاہ کا مزار بھی ان کی طرح سادہ تھا۔ مغرب کے بعد پرسکون ماحول میں قوال اپنے اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کررہے تھے اور ان کے چاہنے والے بڑی عقیدت سے مزار پر دعا کرکے ان قوالوں کی قوالی سن رہے تھے۔
بلھے شاہ کے دربار پر حاضری دینے کے بعد جب باہر آئے تو کافی اندھیرا ہوچکا تھا مگر قصور کی مشہورسوغات قصوری فالودہ، اندرسے اور مچھلی کی دکانوں پر رش تھا۔ ہمیں میزبان سے اجازت مانگنے کے باوجود اجازت نہ ملی اور ان کے یہ دھمکی آمیز الفاظ کہ’’ قصور آؤتے قصوری فالودہ نہ کھاؤ ؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ ‘‘ یوں ہماری تواضع فالودے کے بڑے بڑے پیالوں سے کی گئی۔
قصور ضلع ہونے کے باوجود بالکل ایک طرف ہے جہاں ٹرانسپورٹ کے بڑے مسائل ہیں ۔ قصور سے لاہور تک دو رویہ سڑکیں ہیں جہاں رات بھر ٹریفک رواں دواں رہتی ہے مگر رائے ونڈ اور کوٹ رادھا کشن کے لیے سڑک اور ٹریفک دونوں کی حالت خراب ہے ۔ البتہ قصور کی ضلعی حکومت کی اس حوالے سے تعریف نہ کرنا نا مناسب ہے کہ کئی گھنٹے موسلا دھار بارش کے بعد جب ہر طرف کئی فٹ پانی کھڑا تھا ۔ بارش تھمنے کے چند منٹ بعد سڑکیں صاف تھیں جس کا سہرا سابق ڈی سی او عبدالجبار شاہین کے سر ہے ۔ اللہ ہمیں ایسے ہی ذمہ دار آفیسر ، حکمران اور لیڈر عطا کرے ۔
Viewers: 4076
Share