Dr. Syed Fazal Ullah Mukarram | کتاب کا نام : پروفیسر آل احمد سرور۔فکروفن

کتاب کا نام : پروفیسر آل احمد سرور۔فکروفن
مصنف : ڈاکٹر محمد ناظم علی
ناشر : نصاب پبلشرس۔حیدرآباد
ضخامت : 8 30 صفحات قیمت : 300/- روپیے
تبصرہ نگار : ڈاکٹر سید فضل اللہ مکرم
H No. 16-9-537, Old Malakpet
Hyderabad-AP-500036
email: dramsf@yahoo.com
ڈاکٹر ناظم علی ( پرنسپل‘گورنمنٹ ڈگری کالج) کی تازہ ترین تصنیف ’’ پروفیسر آل احمد سرور۔فکر و فن ‘‘ منظر عام پر آئ ہے۔چوں کہ یہ سال ٖ پروفیسر آل حمد سرور کی صدی کے طور پر منایا جا رہا ہے ۔اس موقع پر ڈاکٹر ناظم علی نے کتاب شائع کرکے انہیں بہترین خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ پروفیسر آل احمد سرور اردو ادب کے نہایت معتبرنقاد رہے ہیں۔انہوں نے ہر ادبی تحریک کا ساتھ دیا ہے جس سے ان کی لچکدار شخصیت واضح ہو تی ہے۔ان کا وسیع مطالعہ‘ بلند تخیّل‘فکر کی گہرائ و گیرائ اور شگفتہ تحریر انہیں انفرادیت عطا کرتی ہے۔
پروفیسر گیان چند جین نے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں ایک کلاس لیکچر کے دوران کہا تھا کہ جو لوگ مضامین کے مجموعے شائع کروانے میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ کبھی کسی موضوع پر کوئ مستقل تصنیف نہیں لکھ سکتے۔جس کی ایک اہم مثال پروفیسر آل احمد سرور ہیں۔آج بیس بائیس سال گزرجانے کے بعد پروفیسر گیان چند کی بات بالکل صحیح لگتی ہے کیوں کہ پروفیسر آل احمد سرور کے مضامین کے کئ مجموعے شائع ہوے ہیں مگر کسی موضوع پرکوئ ایک مستقل تصنیف شائع نہیں ہو پاء۔
زیر نظر تصنیف ‘دراصل مصنف کا وہ مقالہ ہے جس پر عثمانیہ یونیورسٹی نے پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا کی ہے جو جملہ دس ابواب پر مشتمل ہے۔جبکہ پیش گفتار‘ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید کا لکھا ہوا ہے۔ پہلا باب پروفیسر آل احمد سرور کی حالات زندگی اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلووں کو اجاگر کرتا ہے حالاں کہ سرور کی تاریخ پیدائش پر کافی مباحثے ہوے ہیں مصنف نے ان تمام مباحث کی روشنی میں تاریخ پیدائش ۹ / ستمبر ۱۹۱۱ء کو صحیح قرار دیا ہے جبکہ دوسرا باب میں ان کی تصانیف کا اجمالی تعارف کروایاگیا ہے۔تیسرے باب میں اردو میں تنقید کی روایت کی روشنی میں آل احمد سرور کے تنقیدی نطریات کو واضح کر کرتے ہو ے اردو تنقید نگاری میں ان کے مقام و مرتبہ تعین کرنے کی کوشش کی گئ ہے۔چوتھاباب سرور کی اقبال شناسی کے لیے مخصوص ہے جس میں علامہ اقبال پر لکھے گئے سرور کی کتابوں اور مضامین کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے جبکہ پانچواں باب سرور کی ادبی صحافت کی نذر ہے۔سرور نے علی گڑھ میگزین ’ رسالہ سہیل‘اردو ادب اور ہماری زبان کی ادارت کے فرائض انجام دیے ہیں نیز سرور کی کالم نگاری کا بھرپور جائزہ لیا گیا ہے۔چھٹے باب میں سرور کی سوانح نگاری کے فن کا احاطہ کیا گیا ہے۔سرور کی خود نوشت سوانح حیات ’’خواب ابھی باقی ہیں‘‘ اردو ادب کی ایک شہکار کتاب ہے جس کے تعلق سے پروفیسر گیان چند کا کہنا تھا کہ خود نوشت سوانح لکھنا بڑے آدمیوں کو ہی زیب دیتا ہے خواب ابھی باقی ہیں‘ کو پڑھ کر پہلا تاثر یہی ہوتا ہے کہ ایک بڑے آدمی کی سوانح ہے جو اپنے زمرے میں بایقین ممتاز ہے‘‘ جبکہ خلیق انجم نے اسے ایک عالم اور معلم کی سوانح قرار دیا ہے ۔ساتواں باب سرور کی شعر و شاعری کو محیط ہے جس میں مصنف نے سرور کی شعری مجموعوں سلسبیل‘ذوق جنوں‘خواب اور خلش ‘اور لفظ کا نہایت سنجیدگی سے تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے اور ان کے شعری اسلوب پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔آٹھواں باب ایک عجیب و غریب باب ہے جس میں اردو میں دانشوری کی روایات کا تذکرہ کرتے ہوے سرور کی دانشوری کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے جو ایک غیر ضروری اور زائد ہے۔اگر اس باب کو حذف کر دیا جاے توسرور کی دانشوری اور کتاب کی صحت پر کوئ اثر پڑھنے والا نہیں ہے۔نواں باب بھی زائدہے جو سرور کی نثری اور شعری اسلوب پر مبنی ہے حالاں کہ سرور کی نثری اور شعری تصانیف پر گفتگو کرتے ہوے ان کے اسلوب کا جائزہ لیا گیا ہے دسواں باب آل احمد سرور۔مشاہیر کی نظر میں‘ پر مبنی ہے جس کے تحت گوپی چند نارنگ‘شمس الرحمن فاروقی‘گیان چند ’خلیق انجم‘نثار احمد فاروقی‘ جگن ناتھ آزاد‘ رشید احمد صدیقی‘سیدہ جعفر‘عبدالمغنی‘قمر رئیس‘سلیمان اطہر جاوید‘مضطرمجاز‘مجتبی حسین اوردیگر کئ ایک مشاہیرین ادب کے تاثرات کو یکجا کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر ناظم علی ایک منجھے ہوے قلمکار ہیں جو سلجھا ہوا ذہن رکھتے ہیں اس لیے ان کی تحقیق و تنقید میں کہیں الجھاؤ یا الٹ پھیر نہیں ہے.وہ جو کچھ بھی لکھتے ہیں غور و فکر کے بعد لکھتے ہیں۔وہ آل احمد سرور سے متاثر ضرور ہیں مگر مرعوب نہیں وہ سرور کو چاہتے ہیں مگر ان کی پوجا نہیں کرتے تبھی تو انہوں نے سرور کی خوبیوں اور خامیوں کو بے کم و کاست بیان کیا ہے یہی سچّے محقق کی خصوصیت ہے جو ڈاکٹر ناظم علی میں پنہاں ہے۔ان کا طرز تحریر بھی قابل فھم ہے۔انہوں نے جو کچھ محسوس کیا اسے بیان کردیا ہے اور اس ضمن میں مشاہیر کی راے کو بھی مقدم رکھا ہے۔خواب ابھی باقی ہیں پر مصنف کا کہنا ہے کہ ’’ آل احمد سرور نے اپنی خود نوشت میں بیانیہ انداز میں حالات و واقعات پیش کیے ہیں۔اور حقرقت بھی یہ ہے کہ سوانح نگاری بیانیہ صنف ہے۔اس میں ہر جگہ انشائیت ممکن نہیں۔اس لیے اس کتاب کے بیشتر صفحات سیر بین کی حیثیت رکھتے ہیں۔لیکن سرور نے مناظر قدرت کے بیان اور بعض واقعات کو دلچسپ انداز میں پیش کرتے ہوے اس سوانح عمری کو ادب لطیف کا نمونہ بنادیا۔‘‘(ص ۱۸۹)
آل احمد سرور کی طویل ادبی زندگی کو مصنف نے یوں احاطہ کیا ہے ’’ آل احمد سرور نے ترقی پسند تحریک ‘حلقہء ارباب ذوق اور جدیدیت تینوں ادبی زمانوں کو دیکھا اور پرکھا۔اور ان کا اثر قبول کیا لیکن وہ کسی ایک ازم یا تحریک کے پابند نہیں رہے۔شاعری میں انہوں نے مشرقی کلاسکیت کو فوقیت دی۔انہوں نے مغربی ادب کا بھی مطالعہ کیا لیکن وہ میر ‘غالب اور اقبال کو رد نہیں کرسکے۔شعر و ادب کے کئ ادوار گزرنے کے باوجود سرور کی شاعری ہر زمانے کی شاعری رہی اس پر قدیم و جدید کا ٹھپہ نہیں لگا اور ہر نسل کے لوگوں کے لیے انہوں نے شعر کہے۔‘‘ (ص ۲۱۵)
غرض پوری کتاب میں ناظم علی نے دلچسپ پیراے میں آل احمد سرور کی زندگی کے مختلف پہلووں کو روشن کیا ہے بلکہ نہایت دیانت داری کے ساتھ ان کی علمی وادبی خدمات کا احاطہ کیا ہے۔آل احمد سرور کے چاہنے والوں کے لیے یہ کتاب کسی تحفہ سے کم نہیں ہے۔ یہ کتاب ھدی بکڈپو ۔حیدرآباد ‘ اردو بکڈپو۔اردو ہال۔حیدرآباد کے علاوہ براہ راست مصنف (09603018825) سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
Viewers: 2958
Share