Saqlain Raza | Column | تہذیبوں میں جنگ کے خطرات محمدثقلین رضا

گستاخانہ امریکی فلم کے خلاف پوری دنیا کے مسلمانوں کے علاوہ اب تو غیر مسلم بھی سراپا احتجاج دکھائی دیتے ہیں حکومت پاکستان کے فیصلے کے مطابق جمعہ کو اہلیان […]
گستاخانہ امریکی فلم کے خلاف پوری دنیا کے مسلمانوں کے علاوہ اب تو غیر مسلم بھی سراپا احتجاج دکھائی دیتے ہیں حکومت پاکستان کے فیصلے کے مطابق جمعہ کو اہلیان پاکستان نے ’’یوم عشق رسولؐ‘‘ بھی خوب منایا ‘اسلام آباد‘ کراچی اور پشاور میں خونریز جھڑپیں ہوئیں اورآمدہ اطلاعات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے کیمرہ مین سمیت دس افراد جاں بحق اوردرجنوں زخمی ہوئے۔ جھڑپیں کیوں ہوئیں؟ اس حوالے سے آمدہ اطلاعات یہ بھی ہیں مظاہرین جوش جذبات میں امریکی سفارتخانے کو نشانہ بناناچاہتے تھے یا پھر حساس علاقوں میں جاناچاہتے تھے جنہیں پولیس اوردیگر سیکورٹی اداروں نے روکا تو پھر بات پتھراؤسے فائرنگ تک جاپہنچی۔ بہرحال یہ احتجاج کا برا انداز ہے جس کا ’’یوم عشق رسولؐ ‘‘ کے موقع پر کوئی جواز نہیں بنتا تھا‘ ایک تو امت مسلمہ پہلے ہی غم کی کیفیت سے دوچار ہے اوپر سے اسے تشددآمیز واقعات نے اس دکھ ‘غم کو دوچند کردیا ہے۔ باشعور عوام یہ سوچنے کہنے پر مجبور ہیں کہ کم ازکم اس معاملے میں اس طرح کا احتجاج درست نہیں تھا۔ بہرحال یوم عشق رسولؐ کے حوالے سے یہی کہاجاسکتاہے کہ پاکستان کے مسلمانوں نے ’’امت واحدہ‘‘ ہونے کاثبوت دیا جس پر یقیناًیہ قوم مبارکباد کی مستحق ہے‘ تاہم چند ایک کمی کمزوریوں کودورکیاجاناچاہئے۔
گستاخانہ فلم کے حوالے سے دنیابھر میں آگ سی لگی ہوئی ہے‘ اس فلم کے ڈائریکٹر ایلن رابرٹ کے حوالے سے کھوج کی تو پتہ چلا کہ وہ انتہائی فحش ‘لغویات پر مبنی فلمیں بنانے میں شہرت رکھتاہے ماضی میں بھی اسے ایسے مذہبی اور دیگر متنازعہ امور پر قابل اعتراض فلمیں بنانے پر کئی بار جرمانہ‘ سزا ہوچکی ہے لیکن وہ اپنی عادات بد سے باز نہیں آیا ‘ فلم میں انتہائی قابل اعتراض کردار اداکرنے والی سنڈی لی گارشیا نے بھی ڈائریکٹرسمیت پوری فلم ٹیم کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا ہے کہ اسے فلم کی جو کہانی سنائی گئی تھی وہ صحرائی ایڈونچر سے متعلق تھی تاہم بعد میں مناظر کی فلمبندی کے بعد آواز کی ڈبنگ کی گئی تو اس کی بجائے کسی اور اداکارہ کی آواز میں قابل اعتراض جملے ریکارڈ کئے گئے جس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتاناضروری خیال کرتے ہیں کہ فلم کی پوری ٹیم فحش فلم بنانے ‘ کردار اداکرنے کے حوالے سے مشہور ہے‘ مرکزی کردار اداکرنے والے اداکار کاماضی بھی جنگلی کریکٹر کے حوالے سے بھرا ہوا جس میں وہ انسان سے زیادہ حیوان دکھائی دیتاہے پھر اس آڑ میں جنسی مناظر کی بھی بھرمار کی گئی ہے ۔سوچنے کا مقام تو یہی ہے آخر امریکی پادری ٹیری جونز یا جو افراد اس فلم کے ذمہ داران انہوں نے اس ٹیم کا ہی انتخاب کیوں کیا ؟یقیناًماضی قریب میں بھی ایسا ہی ہوچکا ہے کہ قائد اعظم محمدعلی جناح ؒ کی زندگی کے حوالے سے بنائی جانیوالی فلم میں ایک ایسی بھارتی اداکارہ کو فاطمہ جناح ؒ کاکردار دیاگیا جو ماضی میں عریاں ‘نیم عریاں فلموں میں کام کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتی تھیں ۔ ان دونوں واقعات کو اکٹھا کرنے کا مقصد یہی ہے کہ کفار‘ غیر مسلم ہمیشہ سے کوشاں رہتے ہیں کہ کسی طرح سے مسلمانوں کی مقتدر قابل تعظیم ہستیوں کے حوالے سے اگر کبھی فلم بناناپڑے‘ انہیں پورٹریٹ کرنا پڑے تو وہ اس میں فحاشی کا عنصر لازمی شامل کرتے ہیں‘ ایسے ادکاروں ‘اداکاراؤں کا انتخاب کیاجاتاہے جن کا ماضی متنازعہ رہاہو۔
یہ توخیر امریکن کلچر کا حصہ بن چکا‘ تاہم افسوسناک خبر یہ بھی سنئے کہ مصر کی اپوزیشن جماعت کے ذاتی ٹی وی چینل نے سب سے پہلے یہی فلم ’’انوسینس آف مسلم‘‘ نشر کی تھی حالانکہ یہ جماعت بھی خود کو مسلمان جماعت کہلواتی ہے اس پر مصرحکومت نے احتجاج کیا نہ ہی اس جماعت پر کوئی قدغن لگائی گئی۔ حالانکہ فلم بننے کے بعد کوئی بھی غیر مسلم یا یورپین ٹیلی ویژن اسے نشر کرنے کی جرات نہیں کرپارہاتھا گویا ابتد ا تو اپنے ہی گھر سے ہوگئی۔
فلم کے حوالے سے ہرطرح کااحتجاج جاری ہے ‘سماجی ویب سائٹس فیس بک‘ ٹوئٹر پر بھی احتجاج نمایاں رنگوں میں نظرآرہا ہے ‘ ٹیری جونز کے علاوہ ڈائریکٹر ایلن رابرٹس کی انتہائی قابل اعتراض تصاویر بناکر فیس بک پر پوسٹ کی جارہی ہیں ‘ یہ تصاویر پوسٹ کرنیوالے بھی یقیناًپاکستانی ہی ہیں جس کانتیجہ یہ نکلا کہ ہاتھوں ہاتھوں سے نکلتی یہ تصاویر پوری دنیا میں پھیل گئی جس کا ردعمل یہ بھی سامنے آیا ہے کہ یہودیوں نے خانہ کعبہ‘ روضہ رسولؐ کے حوالے سے انتہائی قابل اعتراض تصاویر فیس بک ‘ٹوئٹر پر پوسٹ کردیں ساتھ ساتھ حضوراکرم ؐ کی ذات کے حوالے سے انتہائی رکیک جملے بھی لکھناشروع کردئیے ایک اور قابل شرم بات یہ ہوئی کہ ان تصاویر پر جب پاکستانیوں نے اپنے ریمارکس دئیے ‘تو وہ تصاویر ان کے صفحات پر بھی آگئیں اس طرح ایک فرد کی اس حرکت کی وجہ سے اس کے سینکڑوں فیس بک فرینڈزتک یہ قابل اعتراض تصاویر پہنچ گئی اور پھر ان دوستوں کے دوستوں تک بھی ‘ یہ سلسلہ اس حد تک طول پکڑتاجارہا ہے کہ شاید کوئی فیس بک سے کھیلنے والا محفوظ رہاہو‘ یقیناًیہ اس فلم کی طرز کی ہی ہتک ہے کہ جس میں نہ صرف حضوراکرمؐ کی شان میں گستاخی سامنے آرہی ہے بلکہ خانہ کعبہ‘ روضہ رسولؐ کو بھی ہتک کانشانہ بنناپڑرہاہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمانان پاکستان ‘ مسلمانان اسلام ان تصاویر پر ریمارکس دینے کی بجائے انہیں ڈیلیٹ کردیں تو زیادہ بہترہوگا ساتھ ساتھ امریکہ‘ ٹیری جونز ‘ ایلن رابرٹس پرا س انداز میں تنقید کریں کہ ہمارا پیغام بھی ان تک پہنچ جائے اوراحتجاج بھی ریکارڈ ہوجائے۔قرآن مجید میں بھی فرمان عالی شان ہے کہ ’’کسی کے جھوٹے خداؤں کو برا بھلامت کہو ‘مبادا کہیں وہ تمہارے سچے خد ا کو برا بھلا نہ کہہ دے‘‘ یقیناًسوچنے کامقام ہے ‘ سوچئے گاضرور کیونکہ ہماری چھوٹی سی کوتاہی سے ان پاک ‘معتبر‘معنبر ہستیوں کی اگر دوبارہ تضحیک ہو تو یقیناًہمارے لئے باعث شرم بات ہے۔ تاہم امت مسلمہ کی قیادت کو مل بیٹھ کر اس مسئلے کا ایسا حل تلاش کرناچاہئے کہ آئندہ کسی کو پھر ایسی توہین کی جرات نہ ہوسکے اس معاملے میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی تجویز نہایت ہی قابل ستائش قرار دی جاسکتی ہے جس میں انہوں نے توہین رسالت (حضوراکرمؐ سمیت تمام انبیا کی توہین) کو قابل گرفت قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ بصورت دیگر فیس بک‘ ٹوئٹر پر چھڑی یہ جنگ پھر تہذیبوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور اس کانشانہ پھر قومیں بنیں گی۔ جہاں تک فیس بک یا ٹوئٹر کے ایکشن ری ایکشن کی بات ہے توایک سروے کے مطابق فلم کے حوالے سے موجودہ احتجاج بھی انہی دونوں سماجی ویب سائٹس کی بدولت ممکن ہوا ہے ۔
Viewers: 2975
Share