قاسم خورشید کو ساہتیہ سادھنا ایوارڈ 2012 سے نوازا گیا۔

پٹنہ۔گذشتہ دودہائیوں میں لگاتار اردو ہندی کے معتبر تخلیق کار وفلم ساز ڈاکٹر قاسم خورشید کی انتہائی معیاری کاوشوں کا زمانہ قائل رہا ہے ۔ اپنی طالب علمی کے زمانے میں ہی مشہور ثقافتی تنظیم IPTA کے توسط سے قاسم خورشید نے کئی اسٹیج ڈرامے کئے اور انہیں ’’ایک اور ہندوستان ‘‘ کے لئے بحیثیت ڈائرکٹر ، رائٹر او رایکٹر اعزاز سے نوازا گیا ۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں تھما بلکہ انہوں نے اس دوران ادب وثقافت کے کئی ایوارڈ حاصل کئے اور ان کا سب سے بڑا کارنامہ توبہار میں باضابطہ طور پر ایجوکیشنل ٹیلی ویژن کے لئے پہلی فلم ’ ’ پیڑہمارے ساتھی ‘‘ کا پروڈکشن تھا ۔ اس زمانے میں چونکہ دور درشن پٹنہ کا قیام عمل میں نہیں آیا تھا اس لئے دلی دور درشن کے نیشنل ٹیلی کاسٹ کے تحت ان کی فلمیں ناظرین تک پہنچتی رہی تھیں ۔ قاسم خورشید نے کئی ٹیلی فلمیں بنائیں اورقومی اور بین الاقوامی فلم فسٹول میں اعزاز واکرام بھی حاصل کیا ۔ بہار کا سب سے بڑا کارنامہ یہ بھی مانا جاناچاہئے کہ ان کی فلم’’ آشا‘‘پہلی بار جاپان فلم فسٹول میں دکھائی گئی اور ’’فلم مندار پربت ‘‘ کو ایک ساتھ 5 قومی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ قاسم خورشید نے تخلیق کو ترسیل کا وسیلہ بنایا ہے اور ہر جگہ اپنے بلند اور انتہائی باوقار معیار کی وجہ سے نمائندہ رہے ہیں ۔بہترین افسانہ نگار، جوپوسٹر ، کنّی کار اجکمار ، سائمن باسکی ، ٹھیس ، اندر آگ ہے ، سبّارو نہیں سکتی ، کیل ، میّا، پھانس اور باگھ دادا کی تخلیق کے لئے ہمیشہ ہمارے ادب میں ناگزیر رہیں گے۔ ان کی ایک ہندی کہانی ’’ڈر سے آگے ‘‘ کو صدر جمہوریہ ہند کے توسط سے اعزاز واکرام سے نوازا گیا ۔ ثقافتی پروگراموں کی ترتیب وتہذیب کے عمل میں ان کی زندہ شناخت ہے لگا تار تین برسوں سے یوم بہار کے موقع پر ان کے ذریعہ مشاعرے ، کوی سمیلن اور ثقافتی پروگراموں کے انتہائی معیاری انعقاد کے لئے بہار سرکار نے مومنٹو اورسرٹی فیکٹ سے بھی نوازا ہے ۔ قومی یا بین الاقومی مشاعرہ ہو ، قاسم خورشید کی شمولیت کامیابی کی ضمانت مانی جاتی رہی ہے ۔ خصوصی طور پر خدا بخش اور ینٹل پبلک لائبریری کے ذریعہ منعقدہ بین الاقومی مشاعرے میں احمد فراز سے قاسم خورشید تک کی دھوم رہی یعنی احمد فراز جیسا سب سے بڑا لیجنڈ شاعر اس مشاعرے میں شامل تھا اور انہوں نے بھی قاسم خورشید کی تخلیقیت کو بہت سراہا تھا ۔ اس مشاعرے کی لیجنڈ شخصیت یعنی احمد فراز اور شہریار تو اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔
خصوصی طور پر بلکہ ضمنی طور پر ان فتوحات کا ذکر اس لئے ضروری ہے کہ جب کسی جینوئن تخلیق کار کو کسی بھی اعزاز سے نوازا جاتا ہے تو وہ آبادی جو مثبت اقدار کی پاسداری پر یقین رکھتی ہے اسے نہ صرف خوشی ہوتی ہے بلکہ تحریک بھی ملتی ہے ۔ قاسم خورشید کے اعزاز واکرام کا طویل ترسلسلہ ہے جس کے احاطے کے لئے ایک مکمل کتاب درکا رہے ۔
گذشتہ ماہ 26اگست کے دن قاسم خورشید کو نوشکتی نکیتن بہار کے شادااسٹڈی سرکل کے تحت ’’ساہتیہ سادھنا ایوارڈ 2012‘‘سے نوازا جانا اس لئے انتہائی مستحسن قدم تصور کیا جائے گا کہ مقامی سطح پر اگر کوئی فنکار اعزاز سے نوازا جاتا ہے تو اس میں مٹی کی خوشبو کا شدید احساس ہوتا ہے ۔ قاسم خورشید کی بیش بہاادبی خدمات کے پیش نظر بہار سرکار کی کابینہ کے وزیر جناب نند کشور یادو نے پدم شری ڈاکٹر گوپال پرساد سنہا ، خدا بخش لائبریری کے ڈائرکٹر پروفیسر امتیاز احمد ، ڈاکٹر انیل سلبھ اور بہار کے دیگر معز زتخلیق کاروں،فنکار وں اورمحبان اردو کی موجودگی میں پٹنہ سیٹی کے ایک وسیع ہال میں انہیں اس ایوارڈ سے نوازاگیا ۔ ان کے مداحوں او رمیڈیا کی انتہائی پذیرائی اور بعد میں بہار اور بیرون بہار کے ادبا ، شعرا کی مبارک بادیوں سے یہ اندازہ تو لگا یا ہی جاسکتا ہے کہ جنیوئن تخلیق کاراگر نوازا جاتا ہے تو پھرقلب کی گہرائیوں سے مثبت اور صحت مند سوچ رکھنے والے لبیک ضرور کہتے ہیں ۔ انتخاب کا سب سے خوبصورت پیمانہ تو یہی ہے کہ حسّاس آبادیوں کے دل کی آواز سنی جائے ۔ قاسم خورشید مستقبل میں گیان پیٹھ اور ایسے ہی معیاری اعزاز سے نوازے جائیں یہی ہم سبھوں دعاء ہے ۔
سید عبیداللہ سبیلی ؔ
سیسوپچھمی ، دربھنگہ ،
Viewers: 894
Share