Khursheed Hayat | Article | اردو شاعری کا ثمر جاوداں ۔۔۔ غبارِ ہجراں

زندگی کی تپتی دوپہر میں جب میری ملاقات اردو شاعری کے ثمرِ جاوداں ناصر ملک سے ہوئی۔ تب ہر لرزتے گام پر ، لفظوں کو ایک نئی قوت گویائی نصیب […]

زندگی کی تپتی دوپہر میں جب میری ملاقات اردو شاعری کے ثمرِ جاوداں ناصر ملک سے ہوئی۔ تب ہر لرزتے گام پر ، لفظوں کو ایک نئی قوت گویائی نصیب ہوئی – بھیڑ میں تنہا ہوتے آدمی اور بے چہرگی کی شام ، شاعری کی پوشاک میں سر کٹے سایوں کی تفسیر بن گئی۔کبھی شاعری سوچ کی سمندر گپھا میں مچلنے لگی تو کبھی سوچ و فکر کی سطح آب پر تیرنے لگی۔ کبھی قدرت کے بیشمار مظاہر ناصر ملک کی انگلیوں سے نکلنے والے حروف کی پوشاک بنتے گئے- جب سیاسی انتشار ، معاشی بہران ، اخلاقی و سماجی پستی ’’آدمی کی بستی‘‘ میں پاؤں پسارنے لگے ، جب اندھیرا روشنی پر غالب ہونے لگا اور رفتہ رفتہ ’’رات‘‘ بالکل اندھیری ہو گئی۔ تہذیب و معاشرت کا ایک بڑا حصہ ا علا اخلاقی قدروں سے انحراف اور حقائقِ زندگی سے فرار کا راستہ اختیار کرنے لگا – تب ہوا یہ کہ شاعری کی زمین زلزلوں سے ہلا دی گئی۔ ادب بستیاں تیز آندھی اور طوفان سے الٹ دی گئیں۔ وہ جن کی شاعری میں عورتوں کے بدن، موہوم کمر ، جادو بدن کی باتیں زیادہ ہوتی تھیں ، دوسرے وہ جنہوں نے ’’شاعری دوپٹے‘‘ کو پرچم بنا کر پیش کیا تھا ۔ وہ جو ادب میں کبھی دوسری تو کبھی تیسری آواز کی تلاش میں لگے تھے ،وہ یہ بھول بیٹھے تھے کہ آواز تو بس ایک ہی معتبر ہوتی ہے ۔ ہنگامی موضوعات پر نعرے لگا رہے تھے،یہ سارے کے سارے ’’وہ‘‘ جو لفظوں کے خیمے اور میخیں رکھتے تھے ، آج نئی صدی میں شاعری کی زمین سے کدھر اور کہاں گم ہو گئے ….؟
ایک وقت ایسا بھی آیا تھا ادب کی زمین پر جب چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا۔ قاری کو ادب پگڈنڈی پر چلنا مشکل ہو گیا تھا۔ فن کو غیر انسانی بنا دیا گیا تھا ۔آڑی ترچھی لکیریں کھینچی جا رہی تھیں ، ’’ادب ،مداری‘‘ کے اشاروں پر بندر اور بندریا ناچ رہے تھے ،وہ جو جدیدیت ، انامیت کے علمبردار تھے ، وہ جو بڑے بڑے ستونوں والے تھے ، وہ جو ادب کی وادی میں علامتوں کے پہاڑ تراشتے تھے ، ان کی بستیاں الٹ دی گئیں ۔
آج کی شاعری اپنی تکمیل کے لئے اس عالم کے انتظار میں ہے ۔شاہد ہے ’’غبار ہجراں ‘‘۔۔۔
’’غبار ہجراں‘‘
۔۔۔جلتی زندگی کی سربریدہ خواہشوں کا نام ہے
غبار ہجراں۔۔۔ تنہا موسموں کے بے چہرہ دنوں کی ایک رو پیلی شام ہے
غبار ہجراں۔۔۔ پچھلے پہر کی چاندنی میں گھر سے باہرسر کتے سایوں کی شارع عام ہے
غبار ہجراں۔۔۔ تپتی دوپہر میں ننگے پیروں تھل کے لمبے سفر کا نام ہے ۔
ناصر ملک کی شاعری نفس سے جہاد کرنے کے عمل سے گزرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ’’بھیگے کاغذ پہ بھیگی آنکھوں سے ۔۔۔کوئی حرفِ دعا نہ لکھ جائے۔‘‘ گواہ ہیں یہ ۹ حروف ، کہ پھر شروع ہوتا ہے ہجر کی دس راتوں کا سلسلہ ، جس میں ہر پل ایک نئی تشنگی لئے ناصر ملک ’’ مینہ دے ، بارش دے‘‘ کی صدائیں ہتھیلی پہ لئے تھل کی تپتی ریت پر ننگے پاؤں چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ تشنگی کی یہ منزلیں ، ہجر کی یہ راتیں ، شاعری کی روح کو اک نیا اعتبار دے جاتی ہیں ۔زینہ بہ زینہ ناصر ملک کی شعری کائنات کو میں نے فلک کی طرف اپنی بانہیں پھیلاتے ہوئے دیکھا ۔ پھر ہوا یہ کہ ’’وہ‘‘ جو ہماری پیاس کو جانتا ہے ۔ بارش کی بوندوں میں تبدیل ہوتا گیا اور چپکے سے اپنی ہی ڈگر کوسبزہ کر گیا ، سوکھتی جڑوں کو اک نئی توانائی دے گیا –
’’ غبار ہجراں‘‘ کے شاعر ناصر ملک کوئی تو ’’لا‘‘ کے بعد ’’الہ ‘‘ہے ، جس نے سوچ و فکر کی سونامی لہروں کو اک نیا ادراک ، نئی آگہی عطا کیا ہے۔ کوئی تو ہے جو ناصر ملک کو اظہار کے نئے نئے راستے فراہم کرتا ہے ، کوئی تو ہے جو تھل کی تپتی ریت پر ، لفظوں کی بازگشت کو ایک نغمگی دے جاتا ہے ۔اسی’’کوئی‘‘ کی تلاش ، کائنات کی دھڑکنوں کی طرح ناصر ملک کی شاعری میں چپکے سے سمائی جاتی ہیں –
آج اسی لمحے ، اسی وقت یہیں سے ہو جائے
عشق آغاز تو ہو چاہے ’نہیں‘ سے ہو جائے
انسان ابتدا سے ہی ’’معنویت عشق‘‘کی تلاش میں ہے اور اس تلاش و جستجو میں کبھی اس نے صحراؤں کی خاک چھانی تو کبھی پہاڑوں کی گپھاؤں میں غور و فکر کی نئی نئی قندیلیں روشن کیں۔ کبھی گوشہ تنہائی میں لفظ ’’نہیں‘‘ کی وسعتوں پر غور کرتے ہوے اپنے روحانی وجود کا سلسلہ ’’ہاں‘‘سے جوڑ بیٹھا –
ذاتِ الٰہی سے عشق۔۔۔ عشق۔عبادت۔۔۔ اور ۔۔۔ عشق ۔جنوں۔۔۔ اک ایسا جنوں جس کا آغاز ’’نہیں‘‘سے ہوتا ہے اور سایہ سایہ دھوپ زندگی کو اک نیا اعتبار دے جاتا ہے۔ایک دور تھا جب عشق کو خدا، عبادت کہا جاتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ تیزی سے بدلتے ہوے دور میں آج سب کچھ بدل گیا ۔لوگوں کے سوچنے کا انداز ، ان کی ذہنیت اور سوچنے سمجھنے کا نظریہ بھی۔آج کا آدمی بھول بیٹھا ہے ’’الف‘‘ کا سبق ، بھول بیٹھا ہے کہ وہ کس راہ کا مسافر ہے ، اور بڑھا جا رہا ہے ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں پر ۔۔۔ عشق جیسے آفاقی لفظ کی معنویت سے رو بہ رو کراتی ہے ناصر ملک کی شاعری۔
پاؤں پاؤں جب چلنا سیکھا ناصر ملک نے تو ہر لرزتے گام پر تخلیقات کا سلسلہ چل نکلا ، اشعا ر کو گویائی نصیب ہوئی ، ربط اور بے ربطگی کے درمیان شاعری مچلنے لگی کہ بے ربطگی میں بھی ایک ربط ہوتا ہے۔ ناصر ملک کی شاعری تپتے ہوے صحرا میں بارش کی’’بوندیاں‘‘ ہیں۔ناصر ملک ’’رسم وفا‘‘کے مجرم ہیں۔ایک ایسی ’’وفاداری‘‘ کا جرم وہ کر بیٹھے ہیں ، جسے بار بار کرنے کو جی چاہے کہ یہ وفاداری ، عشق ٹہنی پر کھلا یہ گلاب گلستان ہستی میں پابند قفس ہے –
لفظ ہی عشق۔۔۔ لفظ ہی ردا ، لفظ شریک سفر۔۔۔ اور ۔۔۔ لفظ نہیں تو کچھ بھی نہیں ۔ اے ہم سب کہ ناصر ملک! اگر یہ ’’لفظ‘‘ کے سائبان نہ ہوں تو ہم سب کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔لفظِ معتبر کے اشاروں پر یوں ہی چلتے رہو ، سفر کرتے رہو کہ سفر زندگی کی علامت ہے -تم نے سچ کہا ہے ناصرملک!الفاظ تہذیبی ارتقا کا زینہ ہیں ان کی حفاظت کیجئے –
دیکھے سے نقش پا کبھی کٹتا نہیں سفر
رہ رہ کے یاد آی ہمیں چارہ گر کی بات
قدرت کے بیشمار مظاہر ناصر ملک کی شاعری کا موضوع بنتے ہیں۔لرزتی خاموشی میں مچلتی ہوئی صداہے ناصر کی شاعری۔سسکتے ہوے سناٹوں کی دردناک چیخ ہے ناصر کی شاعری۔’’ایک زلزلہ زدہ لڑکی کے منظوم الفاظ‘‘ دیکھیں۔سنیے ایک ایسی لوری جس سے آنکھیں بھیگ جایا کرتی ہیں۔ لفظوں کے رخسار پہ کاجل پھیل جاتے ہیں اور لفظ گیلے ہوے جاتے ہیں۔بہار لمحوں میں ، ڈالیوں پر جھولا جھولتے ہوئے ، گزرے موسم کے اشک آنکھوں میں لئے ایک زلزلہ زدہ لڑکی نے جب لوری سنایی تو میرا وجود کانپنے لگا –
’’لوری ‘‘
چلو ماضی کی یادوں میں نیا سپنا سجا ڈالیں
انہی سنگلاخ پتھروں نے میرے بابا کو نگلا ہے
اسی ملبے نے میری ماں کو مجھ سے چھین رکھا ہے
اسی ٹوٹے ہوے در نے میرا لالہ چبا ڈالا
اسی کونے میں باجی نے فنا کا ذائقہ چکھا
چلو اٹھیں کہ ان بکھری ہوئی چیزوں کو پھر جوڑیں
یہیں سے راستہ ڈھونڈیں ، انہی پتھروں سے سر پھوڑیں
درختوں پر لٹکتی روٹیوں سے بھوک اچھی ہے
ہوس آلود نظروں سے بھلی ہے گود پتھر کی
یہ پتھر مار دیتے ہیں مگر نوچا نہیں کرتے
یہ انسانوں سے بہتر ہیں ،برا سوچا نہیں کرتے
چلو اٹھو مرے بھیا ، چلو جاگو مرے بھیا
اٹھو تنکے اکٹھے کرکے اپنے آشیاں جوڑیں
کہ برسوں بعد پہلے کی طرح سب کچھ سجا ہوگا
مگر امی نہیں ہوگی ،یہاں بابا نہیں ہوگا
ہاے ! باجی نہیں ہوگی میرا لالہ نہیں ہوگا
چلو اٹھو مرے بھیا !، اٹھو جاگو مرے بھیا !
اجل کے سرخ پنجوں سے نکل کے زندگی اوڑھیں
(غبار ہجراں – صفحہ : ۲۶ )
چلو اٹھو مرے بھیا ! اٹھو جاگو مرے بھیا!کی صدایں اب بھی میرے کانوں کو سنائی دے رہی ہیں ۔اجل کے سرخ پنجوں سے نکل کر دھنک رنگ زندگی کی ردا میں لپٹے یہ الفاظ اشارہ کر رہے ہیں کہ کل جو حالات سخت تھے ، وہ ضرور نرم ہو جائیں گے۔ کل جو مشکلات کا سامنا تھا وہ ضرور آسانیوں میں بدل جائے گا کہ آگے کا ’’راستہ‘‘ ابھی کھلا ہے بند نہیں۔ٹوٹے بکھرے وجود کی ہتھیلی پر ایک نئی امید کی کرن ہے یہ لوری۔ ایک ایسی لوری جس کے ہر لفظ میں زلزلے کی زد میں آئی زندگی پلکوں پہ صرف شبنمی بوندوں کو نہیں رکھتی بلکہ ایک نیا جوش ایک نئی امیدیں رکھ جاتی ہے ۔ اس لوری کو لکھتے وقت شاعر کی ذہنی کیفیت کیا رہی ہوگی ؟۔۔۔ ایسے تخلیقی لمحات میں جب لفظ زلزلہ کی صورت لئے اتر رہے ہوں ، پھیل رہے ہوں، ناصر ملک کی یہ لوری کامیابی کی ’’چھت‘‘ پر بیٹھی پھر سے عزم کی سخت چٹان بن بستیوں کو آباد کرنے کا ہنر سیکھا جاتی ہے۔اس لوری میں جو تڑپ اور حوصلے کا برقی انداز ہے وہ بہت کچھ کہہ جاتا ہے ۔ ناصر ملک کی شاعری اک نئی راہ کی تلاش میں ہے۔ اس راہ کی تلاش میں ، جہاں اس کا شاعرانہ مزاج ایک نئے جذبے کے ساتھ فکر کی طرف لے جاتا ہے ۔ داخلیت ناصر ملک کے یہاں بھی ہے دیگر ہمعصر شعرا کی طرح مگر ان کے یہاں خارجی دنیا کی شان و شوکت دیکھ کر ایک بے اطمینانی ملتی ہے –
یوں تو ظلمت کے ستاروں سے کئی اترے ہیں
کسی رہبر کا تعلق تو زمین سے ہو جائے
ناصر ملک کے یہاں شاعری ایک ایسا تخلیقی اظہاریہ ہے جہاں جذبات کی مصوری ، تخلیقی نثر میں فہم و ادراک کی جلوہ گری ، فاصلے اور وقت کے احساس کو مٹا دیتے ہیں۔ان کی غزلیہ ؍نظمیہ شاعری زندگی اور نفس سے جہاد کرنے کے لئے اکساتی ہیں کہ اپنے نفس سے جہاد ایک بڑی عبادت ہے ۔ جب شاعری حدیث زندگی بن جائے ،اور ماضی کے سنہرے اوراق ، کتاب زندگی کے انقلابات ، کروٹوں، سلوٹوں کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔تب شاعری اپنی سنہری روایت پر چلتے ہوئے ،نئی روایت کی تشکیل کر جاتی ہے۔ناصر ملک کی شاعری ایک ایسا ’’زندگی درپن‘‘ہے جس میں’’زندگی روپ منظر ‘‘ دیکھ کر ہم کراہنے اور کڑھنے کی بجائے ، ایک نیا حوصلہ پاتے ہیں –
گھر میں چپکے سے چاندنی اتری
پھر سے آنکھوں میں روشنی اتری
پھول ہونٹوں پہ کھل گئے کتنے
اس کے گالوں پہ اوس بھی اتری
اس کی ہر ان کہی بھی سنتا ہوں
مجھ پہ کیسی یہ بندگی اتری
عشق مستی ہی اس طرح کی ہے
چڑھ گی تو نہیں کبھی اتری
صاف ، سجل اور اچھوتا انداز بیان متاثر بھی کرتا ہے اور غور و فکر کی راہیں بھی ہموار کرتا ہے۔جس دل میں کھلونے کی یاد نہ ہو ، ٹوٹتے بکھرتے رشتے ، ذہن کو بے چین نہیں کرتے ، اپنی زمین سے جدا ہو جانے کا غم بے چین نہیں کرتا ۔اس دل کو کیا کہا جائے ، مجھ سے بہتر آپ سب جانتے ہیں۔ ناصر گزرے موسم کے ’’اشک‘‘کو آنکھوں میں لئے ، ہواؤں کے ’’رخ‘‘ پر صدائیں دیتے ہیں۔وہ ایک لڑکی جو چلتے چلتے ٹھہر کر ناصر کو پکارتی تھی، وہ ایک لڑکی جو بھر کے آنکھوں میں ننھی ننھی معصوم محبت کے حسین تارے ، اداس چشموں کے پانیوں میں اتر کے پکارا کرتی تھی،وہ جووصال راتوں کی چاندنی میں دور جانے کی ضد بھی کرتی تھی۔۔۔کائنات کی دھڑکنوں کی طرح ، شبنم کی بوندوں کی طرح ، ننھے ننھے سے اوس قطروں کی جھالروں کی طرح، بصارتوں کی وسعتوں کی طرح اس ننھی منی لڑکی کی یادیں ، ناصر کی کئی نظموں میں ہجر کی ایسی موسیقی لکھ گئی ہیں کہ سرگم کے سات سروں کی طرح ہر لفظ جلتے سلگتے لمحوں میں خزاؤں کی چادر لپیٹے ان قدموں کے نشان تلاش ڈھونڈ رہے ہیں جو ہمیں راستہ دکھاتے ہیں –
تو ہے بادلوں کی لپیٹ میں ، تجھے علم کیا ، تجھے کیا خبر
میں ہوں کس تمنا کی دھوپ میں ، مجھے کس شجر کی تلاش ہے
میری رات میں ، میری نیند میں ، نئے سلسلوں کا عذاب ہے
مجھے رت جگوں کی ہے آرزو ، مجھے ایک ڈر کی تلاش ہے
سادہ اور عام آدمی کے بیچ مچلنے والے ’’حروف‘‘ میں بہت کم تخلیقی فنکاروں نے اتنی بے تکلفی سے شاعری کی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انکی شاعری ترسیل کے المیہ کا شکار نہیں ہوتی ،بلکہ عام آدمی کی جاگتی نگاہوں سے گفتگو کرتی ہے۔ تاریکی پسند چہروں کے نام ایک روشنی لکھ جاتے ہیں ناصر ۔۔۔ ناصر ملک کی سوندھی سوندھی مٹی بدن شاعری ، گنگناتی ہوئی شوخ و چنچل ہوا کے ساتھ بہتے ہوئے ، بارش کی بوندیں لکھ جاتی ہے۔ چلئے ناصر ملک کی شاعری کی طرح ہم سب ، ہر لبوں پر ایک دائمی مسکراہٹ لکھنے کی سعی کرتے ہیں۔اپنے اپنے درون میں اک درد چھپائے ، جواں بدن،قفس میں تھرکنے والی سانسوں کے ساتھ مل کر دھانی رنگ چنریا زندگی کے نام سمندر،پیاس لکھتے ہیں کہ ناصر کی شاعری کو تلاش ہے ہنستی رتوں کے سبز شجر کی!
***

Viewers: 4084
Share