Qasim Ali | Sada Kar Chalay | یومِ عشق رسول ﷺ اور حسین حقانی کی بدزبانی

یومِ عشق رسول ﷺ اور حسین حقانی کی بدزبانی
قاسم علی
نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخانہ فلم پر پوری دنیاسراپااحتجاج ہے اورہوبھی کیوں نہ آپ ﷺ وجہ کائنات ہی نہیں محسن کائنات ،فخرانسانیت اور رحمۃ اللعٰلمین بھی ہیں توایسے میں کسی بدبودار اور غلیظ شیطانی گروہ کی جانب سے ایسی عظیم ترین ہستی کے بارے میں کسی گستاخی پر کیسے چپ رہا جاسکتاہے بیشک دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر پوری دنیاکو یرغمال بنانے والے امریکہ کی جانب سے یہ سب سے بڑی دہشتگردی ہے اب امریکی صدر یا ہیلری کلنٹن لاکھ صفائیاں دیں کہ یاس کے پیچھے امریکی حکومت کا ہاتھ نہیں ہے ایک فضول بکواس کے سوا کچھ نہیں لیکن اگر فرض کریں اس بات کو درست مان بھی لیا جائے کہ اس کے پیچھے امریکی ہاتھ نہیں ہے تو اس کا جواب امریکی کیوں نہیں دیتے کہ انہوں نے اس غلیظ وڈیو کو اب تک یوٹیوب سے ہٹوایا کیوں نہیں حالاں کہ اس وڈیو کو انتہائی ناپسندیدہ قراردیاگیاہے دہشتگردامریکہ نے اس وڈیو کی آڑ میں ہماری ایمانی حرارت جانچنے کی کوشش کی ہے لیکن امریکہ اور اس کے ناپاک حواریوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ مسلمان ہرچیز پر سمجھوتہ کرسکتا ہے لیکن کسی بھی صورت میں محمد ﷺ کی ذات مبارک کی توہین برداشت نہیں کرسکتا۔ایک صحابی کو جسے سزائے موت سنادی گئی تھی سے پوچھاگیاکہ کیاتم اس بات کو پسندکرتے ہو کہ تمھاری جگہ محمد ﷺ کو جلادیا جائے اور تمھیں زندہ چھوڑ دیاجائے تو صحابی رسول نے یہ ایمان افروزجواب دیاکہ” اے ظالم تو یہ کہتاہے کہ میری جگہ حضور ﷺ کوسزادی جائے اللہ کی قسم میں اس چیز کو بھی پسند نہیں کرتا کہ میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کروں اور حضور ﷺ کے پاؤں میں ایک کانٹا بھی چبھے” اس بات سے قطعی انکارنہیں کیاجاسکتا کہ آج کا مسلمان گناہوں اور بداعمالیوں کی غلاظتوں میں ڈوبا ہواہے لیکن کوئی بھی مسلمان جس کے دل میں ایمان کا ایک ذرہ بھی موجود ہے وہ آپ ﷺ کی ذات اطہر کے بارے میں کسی بھی قسم کی ادنیٰ سے گستاخی بھی برداشت نہیں کرسکتا کہ ایمان نام ہی آپ ﷺ سے محبت کا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتاجب تک میں اس کو اس کی اولاد،والدین مال اور عزیزترین چیزوں سے زیادہ محب نہ ہو جاؤں یہی وجہ ہے آج ہر شہرہرگاؤں،ہرقریہ اورہرگلی میں عوام اپنے جذبات اور غم و غصے کااظہارکررہے ہیں یقیناََ سب کچھ نہ ہوتا اگر نام نہادعالمی برادری اور اسلامی دنیا پر مسلط امریکی غلاموں میں ضمیرنام کی کوئی چیز ہوتی اور انہوں نے اس فلم کے ٹریلر کے منظرعام پرآتے ہی اس کو بند کرکے اس کی پوری ٹیم کو بدترین اورعبرتناک انجام سے دوچارکیاہوتاتو یقیناََ یہ مظاہرے نہ ہوتے ،امریکی سفارتخانوں پر حملے ہوتے اور نہ ہی لیبیا میں امریکی سفیر قتل ہوتا لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ اس وقت پوری دنیا پر ظلم ،ناانصافی اور یہودی برانڈ میڈیاکا راج ہے جوبظاہرتو غیرجانبداری کاڈھنڈورہ پیٹتے نہیں تھکتا لیکن درحقیقت دن رات مسلمانوں اوراسلامی تعلیمات کی تضحیک کرنے میں مصروف نظرآتاہے آزادی اظہار کے نام پر یہ دجالی میڈیا اسلامی شعائر خصوصاََپردہ اورداڑھی کو بنیادپرستی کی علامت بناکرتو دکھاتاہے مگر جب حضور ﷺ کی شان میں گستاخی ہوتی ہے تو اس وقت ان کاآزادی اظہار کا نعرہ ڈالروں کی جھنکار میں کہیں گم ہوجاتاہے جو برطانوی شہزادی کیتھرین کی توہین کرنے والے رسالے کا محاسبہ کرتے ہوئے اسے بندکرواسکتاہے لیکن فخرالزماں ﷺ کی توہین آمیزوڈیوز کو یوٹیوب سے نہیں ہٹاتا میں کسی غیر کوکیادوش دوں کہ میرے اپنے ملک میں ایسے ”روشن خیال دانشوروں ”کی کمی نہیں جو آئے روزمغرب کی ترقی کی مدح سرائی اور اسلام،پاکستان،خلفائے راشدین ،اورقائدواقبال پر بیچ ” چوراہے” لاف زنی کرنا اپنا فرضِ منصبی سمجھتے ہیں لیکن اس بدترین گستاخی پر اُن کی زبانیں گنگ ہوچکی ہیں ۔اس ضمن میں امریکہ میں متعین پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کا بیان پڑھ کر دل و ماغ کی چولیں ہل گئیں کہ ”توہین رسالت پرمبنی فلم کوئی غلط چیز نہیں اس پر مسلمانوں کااحتجاج پاگل پن ہے ہیلری کلنٹن کو اس فلم کی مذمت نہیں کرنا چاہئے تھی کیوں توہین آمیز فلم کوئی مسئلہ نہیں بلکہ اصل مسئلہ مسلمانوں کا پرتشدد احتجا ج ہے”کیا پاکستان کی طرف سے اہم ترین عہدوں پر تعینات رہنے والے اس شخص حسین حقانی کی بدزبانی کے بعدیہ ضروری نہیں کہ زرداری حکومت حقانی سے اس کی وضاحت طلب کرے ورنہ عوام کیلئے یہ سمجھنا ذرا مشکل نہ ہوگاکہ پاکستان میں اعلیٰ ترین مناصب پر کس قسم کے لوگ فائز ہیں اوران کی تعیناتی کے آرڈر کہاں سے آتے ہیں یہاں یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ یہ بیان ایک ایسے وقت میں منظرعام پرآیاہے جب کہ ہیلری کلنٹن اوربان کی مون جیسے لوگ (جن کا یہ نمک خوارہے وہ) بھی اس فلم کی مذمت کرتے ہوئے اسے شرمناک اور غیرمہذب قدم قراردے چکے ہیں ۔جمعۃ المبارک کو حکومت نے یومِ عشق رسول ﷺ اور عام تعطیل کا اعلان کیا گیاجوکہ ایک اچھاقدم ہے اور اس دن پاکستان کے غیور مسلمانوں نے جس طرح نبی ﷺ کی محبت کا ثبوت دیتے ہوئے انتہائی موثر احتجاج کیا ہے اس سے یقیناََ کفر کے علمبرداروں کو یہ پیغام ملاہوگاکہ ایک مسلمان کسی قیمت پر آنحضور ﷺ کی اہانت برداشت نہیں کرسکتالیکن حکومت کواس سے آگے برھتے ہوئے اوآئی سی اورعرب لیگ کو اس پرآمادہ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اقوام متحدہ کو توہین رسالت ﷺ پر عالمی سطح پر قانون سازی پر مجبورکرے بصورت دیگر اس وقت تک تمام اسلامی ممالک کو اقوام متحدہ سے اپنی رکنیت ختم کردینی چاہئے جب تک وہ توہین رسالت پر عالمی طور پر کوئی منظم قانون سازی نہیں کرتی ۔اس تجویز پر اگرچہ بہت سے اگرچہ بہت سے عقل کے گھوڑے دوڑانے والے ہنسیں گے اور امریکہ واقوام متحدہ سے وابستہ مفادات کے حوالے دیں گے لیکن ان کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ عقل اور عشق کی دوڑ میں عقل ہمیشہ ہار جاتی ہے اور جب بات عشق رسول ﷺکی ہو تو اس کے مقابلے میں عقلی تاولیلات پیش کرنا ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے ۔اور ہم کوبحیثیت مسلمان یہ یقین رکھنا چاہئے کہ ہماری سب سے قیمتی متاع ہماراایمان ہے اور ہمارا ایمان حضور ﷺ کی محبت کے بغیر ہرگزہرگز مکمل نہیں ہوسکتا۔

 

Viewers: 865
Share