غالب اکیڈمی میںافسانہ نگار انتظار حسین کے ساتھ ایک شام منائی گئی۔

غالب اکیڈمی میں بزرگ افسانہ نگار انتظار حسین کے ساتھ ایک شام
لاہور سے تشریف لائے برصغیر کے بہترین لکھنے والے انتظار حسین کے ساتھ گزشتہ روز غالب اکیڈمی ، نئی دہلی میں ایک شام کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر غالب اکیڈمی کے صدر پروفیسر شمیم حنفی نے استقبالیہ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ انتظار حسین نے لکھنے کا آغاز صحافت سے کیاعصر حاضر کے بہترین ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ لیکن ادب کو صحافت سے الگ رکھا اسی طرح صحافت کو ادب سے الگ رکھا۔ کنکری، گلی کوچے، بوند بوند، قطرے سے گہر ہونے تک ان کی تخلیقات ہیں۔ جن میں آزادی کا ہولناک تجربہ شامل ہے ان کی کہانیوں میں تاریخ کی تہذیب کی معاشرتی زندگی کی جھلک ملتی ہے۔
اس موقع پر انتظار حسین نے کہا کہ جب میں پہلی بار پاکستان گیا تو خاندان کو چھوڑ کر گیا تھا کچھ دن کے لیے پرمٹ لے کر آیا تو مجھے دلی شہر اجنبی لگا۔ حضرت نظام الدین کی درگاہ، امیر خسرو کی درگاہ پر حاضری دی۔1976ء سے برابر آنا ہوتاہے لاہور میں حکیم اجمل خاں پر کتاب لکھی۔ جس کے دو ایڈیشن فورا! ختم ہو گئے۔ میرے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان میں بیٹھ کر ہندوستان کی بات کرتا ہوں۔ میں پاکستان سے لاتعلق نہیں ہوں۔ میرا ناول بستی بنگال تحریک سے وابستہ ہے، آگے سمندر ہے، کراچی میں مہاجرین کے مسائل سے متعلق ہے۔ برصغیر میں مسلمانوں کی ایک ہزار سالہ تاریخ ہے اس سے کوئی بھاگ نہیں سکتا میں جو لکھتا ہوں تو اس میں یہی ہزار سال کا پس منظر ہوتا ہے۔ میں ہزار سالہ تہذیب کا پیداوار ہوں۔
اس موقع پر انجم عثمانی نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی تخلیقات میں ہندودیو مالا کی اصطلاحیں اساطیری اصطلاحیں خوب استعمال ہوتی ہیں کیا پاکستانی قاری کو سمجھنے میں دشواری نہیں ہوتی۔ انتظار حسین کہا کہ داستانی روایتوں سے سب واقف ہیں۔ اس موقع پر پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کہا کہ انتظار حسین کی کہانیوں میں ہم عصر بلکہ آنے والی زندگی کی جھلکیاں ملتی ہیں۔ جلسے کی صدارت مشہور افسانہ نگار محترمہ ترنم ریاض نے کی۔ انھوں نے کہا کہ انتظار حسین آج کے بہترین افسانہ نگار ہیں۔ اس موقع پر متین امروہوی اور ڈاکٹر احمد علی برقی نے استقبالیہ نظمیں پیش کیں۔ اس جلسے میں بڑی تعداد میں دہلی کی اہم شخصیات موجود تھیں۔ جن میں ابرار کرت پوری، شہباز ندیم ضیائی، راہول گھوش، نسیم عباسی، فضل بن اخلاق، ڈاکٹر نگار عظیم کے اسماے گرامی شامل ہیں۔
***
Viewers: 1009
Share