شعبۂ اردو ،پٹنہ یونیورسٹی میں اردو جرنل (۳) کا ڈائرکٹر قومی اردو کونسل کے ہاتھوں سے اجرا

’’اردو جرنل عالمی سطح کا رسالہ ہے‘‘۔ ڈاکٹر خواجہ اکرام الدین
شعبۂ اردو ،پٹنہ یونیورسٹی میں اردو جرنل (۳) کا ڈائرکٹر قومی اردو کونسل کے ہاتھوں سے اجرا
پٹنہ۔۵ اکتوبر۔ ’’شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی کی موجودہ سرگرمیوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شعبے کا زریں دور اب پھر شروع ہو رہا ہے۔اردو جرنل کی اشاعت نے شعبے کو ہندستان کے چند اہم شعبوں کی صف میں لا کھڑا کیاہے۔اس کا ہر شمارہ اہم ہوتا ہے مگر تازہ شمارہ دیکھ کر بلا مبالغہ کہا جاسکتاہے کہ اسے عالمی پیمانے کے کسی بھی رسالے کے ساتھ بڑی آسانی کے ساتھ رکھا جا سکتاہے‘‘ان خیالات کا اظہار قومی اردو کونسل برائے فروغ اردو زبان،نئی دہلی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر خواجہ اکرام الدین نے آج شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی سے شہاب ظفر اعظمی کی ادارت میں شایع ہونے والے ’اردو جرنل‘۳ کا اجرا کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ شعبۂ اردو پٹنہ یونیورسٹی میری مادر علمی ہے اس لیے مجھے یہاں آکر نہ صر ف اپنے اساتذہ سے ملنے کا موقع ملتا ہے بلکہ بے انتہا خوشی کا احساس بھی ہوتاہے۔انہوں نے قومی اردو کونسل کی جانب سے شعبے کو حاصل کلیم الدین احمد خطبے کی طر ح پٹنہ کالج کو بھی ایک خطبے کی پیش کش کی اور کہا کہ شعبۂ اردو کی جانب سے تجویز پیش کی جائے تو علامہ جمیل مظہری پہ ایک سیمینا ر کے لیے بھی کونسل ایک لاکھ روپے کی خطیر رقم دے گی۔
واضح ہو کہ آج شعبۂ اردو میں اردو جرنل کے تازہ شمارے کی رسم اجر ا کی تقریب منعقد کی گئی تھی،جس کی نظامت جرنل کے مدیر شہاب ظفر اعظمی نے کی اور صدارت کے فرائض پروفیسر علیم اللہ حالی نے انجام دیے۔جبکہ مہمانان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر امتیاز احمد ،ڈاکٹر قاسم خورشید اور پروفیسر اسلم آزاد نے شرکت کی۔شہاب ظفر اعظمی نے مہمانوں کا استقبال کرنے کے بعد جرنل کے تازہ شمارے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ شمارہ دو مخصوص گوشوں پر مشتمل ہے ۔منٹو صدی کے موقعے پہ ایک گوشہ منٹو کی شخصیت اورفن کا احاطہ کرتا ہے جبکہ دوسرا گوشہ غیر افسانوی اصناف ادب کے مطالعہ پیش کرتا ہے۔تین سو صفحات کا حامل یہ شمارہ صوری اور معنوی طورپہ گونا گوں خوبیوں کا حامل ہے۔شہاب ظفر اعظمی نے مزید کہا کہ آج سے تین سال قبل جرنل کی اشاعت کا سلسلہ نامساعد حالات میں شروع ہو ا تھا مگر ایک خواب تھا جس کی تعبیر کی تلاش کے جنون نے مجھے اس سفر میں آگے او رآگے بڑھنے پر مجبور کیا ۔اور آج جب میں اس سفر کی تیسری منزل پہ کھڑا ہوں ،میں اپنے خوابوں پہ فخر اور خوشی محسوس کر رہاہوں۔
تقریب کا افتتاح کرتے ہوئے مدیر اعلیٰ پروفیسر اعجاز علی ارشدنے جرنل کے اغراض و مقاصد پہ روشنی ڈالی اور نئے لکھنے والوں کی وابستگی اور تربیت کو جرنل کی بڑی کامیابی قرار دیا۔
خدا بخش لائبریری کے ڈائرکٹر پروفیسر امتیاز احمد نے کہا کہ اس شعبے سے اردو جرنل کا شایع ہونا ایک بڑا کام ہے جس کی تقلید ہر شعبے کو کرنا چاہیے۔یہ اہم بات ہے کہ اردو جرنل کا ہر شمارہ پچھلے شمارے سے معیار و اقدار کے اعتبار سے فزوں تر ہے۔عام طورپہ ہم ادب میں افسانے اور غز ل تک گفتگو کو محدود رکھتے ہیں،اور دیگر اصناف سے پہلو تہی کرتے ہیں۔غیر افسانوی ادب پہ تفصیلی مطالعہ پیش کرکے جرنل نے اس جمود کو توڑنے کی کوشش کی ہے،جو قابل ستائش ہے۔
اردو کے معروف ادیب ڈاکٹر قاسم خورشید نے کہا کہ اردو جرنل ہند وپاک کے کسی بھی بڑے رسالے سے کسی طرح کم نہیں ہے۔مواد،پیش کش اور معیار کے اعتبار سے یہ ایک دستاویزی اور حوالہ جاتی رسالہ ہے جس سے کئی نسلیں استفادہ کریں گی۔انہوں نے شعبے سے اپنے جذباتی لگاؤ کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ یہ دھرتی جب بھی آواز دے گی میں لبیک کہ کر دوڑتا ہو ااس کی بانہوں میں آؤں گا۔شعبے کے سینیر استاد اور سابق ایم ایل سی حکومت بہار پروفیسر اسلم آزاد نے کہا کہ اجر اکی کسی تقریب میں سامعین کی اتنی بڑی تعداد میں نے خال خال ہی دیکھی ہے ۔یہ اردو جرنل کی مقبولیت اور خواجہ اکرام الدین کی محبوبیت کا ثبوت ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جرنل اپنے مواد اور گیٹ اپ کے لحاظ سے اردو کے چند معیاری رسائل میں شمار کیا جائے گا۔تقریب کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر علیم اللہ حالی نے شعبے سے اپنی جذباتی وابستگی کا اظہار کیا اور کہا کہ میرے لیے فخر کی بات ہے کہ میں اس شعبے کے نامور اساتذہ کا شاگر د رہاہوں۔آ ج جرنل کی اشاعت دیکھ کر مجھے وہی زریں ایام یا د آرہے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ جرنل نہ صرف تسلسل کے ساتھ شایع ہوگا بلکہ شعبے کو پھر سے ہندستان کے ایک نمایاں اور سرگرم شعبے کے طور پر متعارف کرائے گا۔شکریے کی تجویز شعبے کی صدر محترمہ ڈاکٹر اشرف جہاں نے پیش کی ،جبکہ مہمانوں کااستقبال شعبے کی چند طالبات نے گلہائے عقیدت پیش کر کے کیا۔اس تقریب میں ڈاکٹر جاوید حیات ،ڈاکٹر فرزانہ اسلم ،پروفیسر محمد افضل،ڈاکٹر صوفیہ نسرین،ڈاکٹر مسعود کاظمی،ڈاکٹر سرور عالم،ڈاکٹر نوشاد احمد،ڈاکٹر زرنگار یاسمین،ڈاکٹر فرحت یاسمین،نورالسلام ندوی اورمستفیض احد کے علاوہ شہر کی متعدد علمی شخصیات اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔
***

 

Viewers: 1211
Share