Shoukat Ali Naz | نسیم شاہد کے نام۔۔۔ایک شام

ایک شام ۔پروفیسر نسیم شاہدکے نام
قطرکی معروف ادبی و ثقافتی تنظیم شائقینِ فن دوحہ کے زیرِ اہتمام ملتان سے تشریف لائے ہوئے شاعرو ادیب پروفیسر نسیم شاہد کے اعزاز میں ایک تقریب بعنوان ایک شام ۔ پروفیسر نسیم شاہدکے نام بتاریخ ۳۰۔ستمبر ۲۰۱۲ء شیزان ہوٹل میں انعقاد پذیر ہوئی،جس کی صدارت چئیرمین شائقینِ فن دوحہ محمد عتیق نے کی،مہمانِ خصوصی قونصلر سفارت خانۂ پاکستان محمد افضل شیخ تھے جبکہ نظامت کے فرائض پروفیسر فرتاشسیّد نے خوش اسلوبی سے سرانجام دیئے۔
پروفیسر محمد شفیق اختر نیتقریب کا آغازتلاوتِ کلام پاک سے کیا۔صدرِ شائقینِ فن دوحہ شوکت علی ناز ؔ نے صاحبِ شام پروفیسر نسیم شاہد ،مہمانِ خصوصی محمد افضل شیخ اور چئیرمین شائقینِ فن دوحہ محمد عتیق کا استقبال کیا۔ پروفیسر نسیم شاہد کے ہمدمِ دیرینہ محمد افضل شیخ نے اپنے مضمون قلم کا سخی میں پروفیسر نسیم شاہدکی زندگی کے مختلف گوشوں کو بڑی خوبصورتی ،صراحت اور فنی چابکدستی سے پیش کیا۔
پروفیسر نسیم شاہد کے اعزاز میں ہونے والی اِس محفلِ مشاعرہ میں قطر میں مقیم پاکستان سے تعلق رکھنے والے جملہ شعرائے کرام نے شرکت کی جن میں محمدممتاز راشدؔ ،پروفیسر فرتاشسیّد، پروفیسر محمد شفیق اختر ؔ ،شوکت علی نازؔ ،سیّد فہیم الدین،اعجاز حیدر، پروفیسر قیصرمسعود اور پروفیسر رضاحسین نے اپنے منتخب اشعار پیش کر کے سامعین سے بہت داد وصول کی اور صاحبِ شام کو بھرپور شعری ماحول فراہم کیا۔ پروفیسر نسیم شاہد نے اپنی کئی ایک خوبصورت غزلیں اور نظمیں پیش کر کے بھرپور داد سمیٹی،انھوں نے اپنے اعزاز میں انتہائی یادگار تقریب منعقد کرنے پر چیئرمین شائقینِ فن دوحہ محمد عتیق ،صدرشائقینِ فن شوکت علی نازؔ اور جملہ عہدیداران و اراکین کا شکریہ ادا کیا۔انھوں نے اپنے یارِ خاص محمد افضل شیخ کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وجہ سے مجھے اتنے خوب
صورت شعراء اور دوحہ میں مقیم دیگر ادبی شخصیات سے ملنے کا موقع ملا۔
میرِ مشاعرہ محمد عتیق نے صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے قونصلر محمد افضل شیخ ، امین موتی والا اور احساس تنظیم کے دیگر عہدیداران کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج کی تقریب میں پیش کی جانے والی شاعری مدتوں یاد رہے گی۔انھوں نے مزید کہا کہ پروفیسر نسیم شاہدکا نام تو ایک عرصہ سے فیس بک اور ادبی رسائل و جرائد میں نظر نواز ہوتا رہا ہے ،تاہم ان سے ہونے والی بالمشافہ ملاقاتیں دو ایک دن سے تواتر سے ہو رہی ہیں۔اِس دوران میں ان کی مربوط اور برجستہ گفتگو بھی سماعت کی، محترم امجد اسلام امجدکے حوالے سے ان کے ہلکے پھلکے تنقیدی و تاثراتی
مضمون سے بھی لطف اندوز ہونے کا موقع ملا۔اور آج ان کی خو بصورت شاعری نے بھی ربابِ دل کے لیے
مضراب کا کام سرانجام دیا۔
سیّدفہیم الدین کے حرفِ تشکر اور پُر تکلف عشائیہ کے بعد یہ یادگار تقریب اختتام پذیر ہوئی۔ تقریب کے نمایاں شرکاء میں معروف صحافی لیاقت ملک،اشرف صدیقی ، محمد عبدالباسط،امین موتی والا، انجینئر طاہر جمیل ،
حفیظ اللہ اورشائقینِ فن کے جنرل سیکرٹری جاوید ہمایوں شامل تھے۔شعراء کے کلام کا نمونہ ملاحظہ ہو:

پروفیسر نسیم شاہدؔ
کبھی بارش کے موسم میں اگر میں یاد آ جاؤں
تو مٹھی میں مرے حصے کی بوندیں جذب کر لینا

محمد ممتاز راشدؔ
اپنی تعلیم پر توجہ کرو
مت پڑو عشق کے عذابوں میں
عمر کٹتی ہے اُن کی کانٹوں پر
پھول رکھتے ہیں جو کتابوں میں
پروفیسر فرتاشسیّد
دیارِ عشق میں کوئی بھی روک تھام نہیں
خوش آمدید جو آئے،جو جائے بسم اللہ
پروفیسر محمد شفیق اخترؔ
صلیب ودار کے تحفے ملیں جب حق پرستوں کوؒ ٰؓ
وہ رستہ اپنے مقتل کا کبھی پوچھا نہیں کرتے
شوکت علی ناز
بھوک سے مرنے نہیں دیتا پرندہ کوئی
ان کے حصے کو برابر سے الگ رکھتا ہوں
سید فہیم الدین
تجھے کیا بتاؤں کہ کس لیے ترا شہر میرا حریف ہے
ترا حسن ہے مرا قافیہ،ترا عشق میری ردیف ہے
اعجازحیدر
اب اِس سے آگے تو کھاتا ہے خوف صحرا کا
اب اِس سے آگے مرا گھر دکھائی دیتا ہے
پروفیسر قیصرمسعود
بے خودی تیری اداؤں سے ودیعت ہوئی ہے
حا لتِ جذب کبھی جان کے طاری نہیں کی
پروفیسر رضاحسین
مزاحیہ نظم یہ شاعر ہمارے پیش کی۔

Viewers: 1572
Share