Abdul Majid Malik | ایک شام۔۔گُلِ نوخیز کے ساتھ

ایک شام۔۔گُلِ نوخیز کے ساتھ
اپنے آفس میں کام میں مصروف تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی ،دوسری طرف فرخ شہباز وڑائچ تھا جو کہ رہا تھا کہ ملک صاحب!جلدی سے سب کام چھوڑ کر اس ایڈریس پر پہنچیں جو میں آپ کو میسیج کر رہا ہوں ایک خوبصورت شخصیت سے ملاقات کرنی ہے ،میں نے نام پوچھا تو اس نے بتایا کہ گُلِ نوخیز سے ملنا ہے ،سب کاموں کو چھوڑ کر فائلوں کو ایک طرف رکھ کر آفس سے نکلنے کی تیاری ہونے لگی کیونکہ جب کسی حسینہ کا ذکر ہو اور اس سے ملاقات بھی ہونی ہو تو کاموں کو خیر باد کہ دینا پرانی عادت ہے اسی عادت سے مجبور و لاچار ہو کر صنف نازک کی کشش میں اس کے سراپے میں کھو کر بال بنا کر ،فینسی چشمہ لگا کر اور پرفیوم کی آدھی بوتل سے نہانے کے بعد اس ایڈریس پر چل دیے ،جہاں اس حسین و مہ جبیں سے ملاقات ہونا تھی۔پورے راستے میں اسی پری چہرہ کے بارے سوچتے ہوئے کہ وہ ایسی دلنشیں ہو گی ،اس کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں ہوں گی ،اس کے ہنسنے پر اس کے رخسار’ گُل‘ کی طرح کھلتے ہوں گے ،اور وہ نام ہی طرح ’نوخیز‘ ہوگی ،غرض انہی حسیں خیالوں میں کھویا اس آفس پہنچ گیا جہاں بقول فرح شہباز ’خوبصورت شخصیت ‘سے ملاقات ہونا تھی ۔
ٹشو پیپر سے منہ صاف کر کے ،ہیئر سٹائل درست کرکے خود پر طائرانہ نگاہ ڈال کر آہستہ سے دروازے پر دستک دی تو آگے سے اک مترنم سی آواز گونجی کہ آ جائیں ،دل تھام کر اندر داخل ہوئے ،تو ایک حسین وجمیل چہرے کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا لیکن ’’ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں ‘‘کے مصداق گُلِ نوخیز کا دیدار ابھی باقی تھا کیونکہ یہ ان کی سیکرٹری ٹائپ کوئی شے تھی ،یہاں اک بار پھر خیالوں کی یلغار نے آگھیرا کہ اگر سیکرٹری ایسی ہے تو گُلِ نوخیز خود کیسی ہوگی ؟؟؟پھر اک بار اس کی مترنم آواز آئی تو میں خیالی دنیا سے لوٹ آیا اور اس سے گُلِ نوخیز کے بارے استفسار کیا ۔اس نے اک ادا سے اندر کی جانب اشارہ کیا دل پہ ہاتھ رکھ کر جب اندر داخل ہوئے تو حیراں رہ گئے۔
اک محفلِ یاراں جمی ہوئی تھی جس میں سر فہرست ہمارے محترم دوست جناب حافظ مظفر محسن صاحب اپنی ناجائز تجاوزات (ان کے بڑھے ہوئے پیٹ کو ناجائز تجاوزات کہتے ہیں)کے ساتھ موجود تھے ،ان کی بغل میں ایک معصوم صورت مگر شرارتی کمزور سا ایک سو چار کلو گرام کا فرح شہباز بھی تھا ،اک طرف مسکراتے چہرے کے ساتھ ہمارے دوست وسیم عباس تشریف فرما تھے ،سید بدر سعید بھی وہاں کسی کے تعاقب میں پہنچے ہوئے تھے اک اور اجنبی شخص بھی تھے ،جنہیں میں نہیں جانتا تھاسب سے ہاتھ ملانے کے بعد جب یہ پوچھا کہ گُلِ نوخیز کب آئے گی؟وہ کہاں ہے؟تو سب دوست قہقہے لگانے لگے ،میں سمجھا کہ شاید مجھے گُلِ نوخیز کے دھوکے میں یہاں بلا کریہ لوگ انجوائے کر رہے ہیں لیکن حقیقت کچھ اور ہے ابھی اسی مخمصے میں ہی تھا کہ وہ اجنبی بول پڑا کہ آپ کے ذہن میں گُلِ نوخیز کا کیا خاکہ ہے ؟؟تو مجھے حقیقت بتانا پڑی کہ اک پری چہرہ ہوگا،نوخیز سی کلی کی طرح ہو گی جب کسی بات پر ہنسے گی تو اس کے منہ سے ’’گُل‘‘جھڑیں گے لیکن یہاں پہنچ کر سخت مایوس ہوا ہوں آخر ڈرامہ کیا ہے ؟؟؟اک بار پھر وہی ہنسی کا دور شور ہوا اور وہ اجنبی مجھ سے گلے لگ کر بولا مجھ سے ملئے میں ہوں ’’گلُ نوخیز اختر‘‘۔
یہ سن کر میرے اوساں خطا ہوگئے ،پیروں کے نیچے سے زمیں نکل گئی ،آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا گیا اور زور دار چیخ ماری جس سے شاید بے ہوش ہی ہو گیا ،شاید وہ بے ہوشی ہی کی کیفیت تھی جب مجھے گل نوخیز اختر کے بارے بتایا جاتا رہا کہ یہ دور حاضر کے معروف مزاح نگار ہیں ۔
سب دوست ہنس رہے تھے اور قہقہے لگا رہے تھے کیونکہ اس شام ہر بات پر گل نوخیز اختر لطائف پہ لطائف سنائے جا رہے تھے وہ لطائف کچھ وجوہات کی بنا پر یہاں نہیں لکھ سکتا کیونکہ پھر یہ تحریر کہیں پر شائع نہیں ہو سکے گی کیونکہ گل نوخیز اختر کے منہ سے ہر وقت ’’گُل ‘‘ہی جھڑتے رہتے ہیں ۔
Viewers: 1827
Share