Qasim Ali | توانائی بحران کے خاتمے کیلئے ایک موثر فیصلہ لیکن

توانائی بحران کے خاتمے کیلئے ایک موثر فیصلہ لیکن
قاسم علی
آخر طویل عرصہ تک عوام کوخواری ،بیروزگاری اور شدید نفسیاتی دباؤ میں رکھنے کے بعدحکومت کوہوش آہی گیا کہ توانائی بحران ملک کا بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس کو حل کرنے کاایک بہترین ذریعہ یہ ہے کہ ملک بھر میں چلنے والے تمام تر پاور پلانٹس کوتھر کے کوئلے سے چلا یا جانا چاہئے گزشتہ دنوں وزیراعظم پرویزاشرف کی زیرصدارت ہونیوالے تھرکول اینڈانرجی بورڈ کے اجلاس میں وزیراعظم نے موجودہ اور نئے تمام پاور پلانٹس کو تھرکول کے مطابق ڈیزائن کرنے کی منظوری دے دی گئی ۔بیشک یہ موجودہ حکومت کی جانب سے توانائی بحران کے حل کیلئے ایک اہم ترین پیشرفت ہے جس کو تحسین کی نظر سے دیکھاجانا چاہئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک انتہائی اہم اور قابل غور سوال ہے کہ یہ اقدام اس سے پہلے کیوں نہیں اٹھایا گیا حالاں کہ ساڑھے چارسال قبل برسرِ اقتدارآنیوالی اس حکومت نے عوام سے سب سے پہلے جو وعدہ کیا وہ یہ تھا کہ وہ جلدازجلد توانائی بحران کو ختم کردیں گے لیکن اس اعلان کے غبارے سے اسی وقت ہی ہوانکل گئی جب اس وقت کے وزیرِ پانی و بجلی اور موجودہ وزیراعظم راجہ پرویزاشرف نے کالا باغ ڈیم کو ہمیشہ کیلئے دریائے سندھ میں دفن کرنے کا اعلان کیا تھا اوراسی وقت ماہرین نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ توانائی بحران ختم ہونے کی بجائے مزیدشدت اختیارکرسکتا ہے کیوں کہ اس اعلان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے یہ ضروری تھاکہ حکومت فوری طور پرمہنگے ترین فرنس آئل جیسے مہنگے ایندھن(جس سے ہماری 65%بجلی بنائی جاتی ہے کی بجائے) ہنگامی طور پر شمسی توانائی سے بجلی کے حصول یا ڈیمز کی تعمیرکاآغاز کرتی یا کم از کم اس کا ایک حل یہ بھی ہوسکتا تھا کہ پاکستان اپنے دوست ممالک مثلاََ چین،ایران،ترکی یا خلیجی ریاستوں سے سستی بجلی خرید کر لوڈشیڈنگ کے عذاب سے عوام کو نجات دلاتی یا یہی فیصلہ جوآج کیا گیا ہے وہ چار سال پہلے کرلیاجاتالیکن ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا اور عوام بیس بیس گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ کے سائے تلے سسکتے رہے پاکستانی تاریخ کے اس بدترین توانائی بحران نے ملک کو حقیقی معنوں میں کنگال کرکے رکھ دیا ایک اندازے کے مطابق صرف پنجاب کواس بحران کی وجہ سے 55ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا صنعتیں تباہ ہوگئیں ،کاروبار ختم ہوگئے اور بیروزگاری اس حد تک بڑھ گئی کہ لوگ خودکشیوں اور اپنے بچوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہوگئے لیکن حکومت کوآئے روز اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے نت نئے ڈراموں سے ہی کہاں فرصت تھی کہ وہ عوام کی جانب دیکھتی اور اب جب کہ الیکشن قریب ہیں تو اس بلا سے نپٹنے کیلئے وہی طریقہ اپنایا گیا ہے جو اگر پہلے اپنایا جاتا تو یقیناََ ملکی معیشت اس طرح نزاعی ہچکیاں نہ لے رہی ہوتی۔بہرحال اب دیرآیددرست آیدحکومت نے تھرمیں موجود175بلین ٹن کے دنیا کے چھٹے بڑے ذخیرے سے استفادہ کرنے کا فیصلہ کرہی لیا ہے تو اس کو جلدازپایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے عملی اقدامات کرے ماہرین کے مطابق پاکستان میں موجود کوئلہ بجلی پیدا کرنے کیلئے موزوں ترین ہے جس سے باآسانی 60ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت اُن مگرمچھوں پر بھی ہاتھ ڈالے جو توانائی بحران کا ایک برا سبب بھی ہیں یہ وفاق اور صوبوں کے وہ برے ادارے اور معروف شخصیات ہیں جن کے ذمے بجلی بلوں کی مد میں تقریباََ 300ارب روپے کے بقایا جات ہیں ۔ اس کے علاوہ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس بحران کے مستقل حل کیلئے اپنی سفارتی کوششوں کو بھی تیز کرے اور خارجی محاذ پر اس کیلئے باقاعدہ لابنگ کرے اوردنیا کو یہ بتائے کہ کس طرح بھارت پاکستانی دریاؤں پر170ڈیم تعمیر کرکے ہمیں ان دریاؤں کے پانی سے محروم کرچکاہے یہ ہماری ایک کمزوری بلکہ ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی کا بڑا ثبوت ہے کہ انڈیا ہمارے دریاؤں سے پانی چوری کرکے بھی عالمی قوتوں کی آنکھ کا تارا ہے بلکہ حال ہی میں امریکہ نے بھارت میں 1100میگا واٹ کے جوہری ری ایکٹر تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ دوسری جانب ہماری بے بسی اورنادانی کا اندازہ کیجئے کہ ہم دیامربھاشا ڈیم کی تعمیر کیلئے اسی بھارت کی منتیں کررہے ہیں کہ وہ عالمی بنک کی جانب سے اس ڈیم کی تعمیر کیلئے ملنے والی امداد کی مخالفت نہ کرے کیوں کہ عالمی بنک نے بھی ہمیشہ کی طرح منافقت کرتے ہوئے دیامربھاشاڈیم کی تعمیر کو بھارت کی رضامندی سے مشروط کیاہے اور یہاں سب سے زیادہ مضحکہ خیز صورتحال یہ ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کی بھارت کے ہاتھوں دھجیاں اڑتی دیکھ رہاہے لیکن کچھ نہیں کرپارہا ،کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے نہ صرف سستی اور وافر بجلی پیدا کرسکتا ہے بلکہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بھی بچ سکتا ہے،ہم ملک میں پڑنے والی شدید گرمی سے فائدہ اٹھاکرسولر انرجی پروجیکٹس سے لاکھوں میگاواٹ بجلی حاصل کرسکتے ہیں لیکن کبھی ہماری بدانتظامی و کرپشن ،کبھی اندرونی سیاسی مجبوریاں اور کبھی بیرونی دباؤ ہمیں اس مفید منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے سے روک دیتا ہے جبکہ دوسری جانب بھارت ہمارے ہی دریاؤں سے بجلی پیدا کرکے ہمیں ہی فروخت کرنے کی پیشکش کررہاہے ۔
***
Viewers: 799
Share