Imran Akif Khan | Story | خواب ادھورے

خواب ادھورے عمران عاکف خان imranakifkhan@gmail.com 85،ڈیگ گیٹ ،گلپاڑہ ،بھرت پور (راجستھان) 321 331 +91-9911657591 خواب کسی کے پور ہو ئے ہیں جو اس کے ہوتے مگر اس نے بھی […]
خواب ادھورے
عمران عاکف خان
imranakifkhan@gmail.com
85،ڈیگ گیٹ ،گلپاڑہ ،بھرت پور (راجستھان) 321 331
+91-9911657591
خواب کسی کے پور ہو ئے ہیں جو اس کے ہوتے مگر اس نے بھی پورے ہو نے کی پر واہ کیے بنا خواب سجانے کا سلسلہ جاری رکھا ۔جب کبھی وہ اور وں کو زندگانی کی راہ میں بڑھتا دیکھتا تو اس کے خوابوں کا سلسلہ اور بڑھ جاتا ۔وہ بڑا آدمی بننا چاہتا تھا ۔شاندار گھر کا مالک ‘قیمتی گاڑیوں میں گھومنے والا سماج اور معاشرے میں اچھا وقاروغیرہ وغیرہ۔ اس کا خاندنی پس منظر ایسا نہیں تھا کہ اسے وراثت میں یہ سب چیزیں مل جاتیں۔ اس نے شاندار نشانات سے ایم بی اے پاس کیا اور اس کی توقع کے مطابق جاب بھی ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی برانچ میں لگ گئی مگر اس کا بادلوں سے بھی اونچا اڑنے کے خوابوں کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا بلکہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ان میں اضافہ ہی ہوا۔ایک پائے دان سے دوسرے پائے دن اور اِتنی آمدنی سے اُتنی آمدنی‘پیدل چلنے اور تھکن سے بچنے کے لیے گاڑی کی تمناؤں کے عالم میں اس کی شادی ہو گئی ۔شادی کے چند ماہ بعد اس کا تبادلہ مرکز ی کمپنی میں ہو گیا مگر اس کی خواب دیکھنے کی عادت یہاں بھی نہیں چھوٹی حالانکہ یہاں اس کی شاندار عزت ہوتی ‘وقار اور مرتبہ الگ تھا مگر پھر بھی اسے احساس ہوتا کہ کچھ اور ہے جو اسے نہیں ملا ‘وہ اسے ملنا چا ہیے اور ضرور ملنا چا ہیے ۔شام کو چھٹی کے بعد جب گھر آتا تو بظاہر ہنستا بولتا ہوتا مگر چہرے پر خوابوں کے نقوش ہوید ا ہوتے جنھیں پہچان کر سائرہ اس سے کہتی ’’سر مد اتنا نہ سو چا کر و ….خواب دیکھنے کی ایک حد ہوتی ہے مگر آ پ تو دیوانہ وار دیکھے ہی جا رہے ہیں ۔یہ اچھی عادت نہیں ہے ‘اسے ناشکر ی کہا جاتا ہے ‘کیا نہیں ہے ہمارے پاس ‘کیا کمی ہے ؟آ پ اتنا سوچتے کیوں ہیں ….طبی لحاظ سے بھی یہ مرض آدمی کا قاتل ثابت ہوتا ہے…خدا کے لیے آپ ایسا مت کیجیے ۔‘‘ وہ اچھا خاصا لکچر جھاڑتی مگر وہ سر مد ہی کیا جو بیوی کی بات مانتا اور خوابوں سے ناطہ توڑ لیتا ۔وہ خواب دیکھتا ہی چلا گیا ۔
ایک دن اس نے سائرہ کو خوش خبری سنا ئی کہ ہم آیندہ ماہ گاڑی لینے والے ہیں ‘اور سائرہ سر پیٹ کر رہ گئی ‘’’کیا ضرورت تھی گا ڑی کی ‘ابھی تو اور کام بھی کر نے ہیں ‘ گھر گر ہستی کی فکر کر نی ہے اور چند سال تک ایک معقول ذخیرہ کرنا ہے مگر تم جیسا آدمی میں نے زندگی پہلی بار دیکھا ہے جسے چادر سے زیادہ پیر پھیلانے کی عادت ہے نیز ضد بھی….۔‘‘سائر ہ اسے خوب سنا رہی تھی اور چپ چاپ سنے جارہا تھا ۔’’مگرسائرہ اب تومعاملہ پکا ہو چکا اور میں پہلی قسط بھی کمپنی کے حوالے کر آیا ہوں ‘بس ضروری کارروا ئی کے بعد گاڑی ہماری ہو گی ۔‘‘اس نے سر جھکا کر کہا اور سائرہ کو بے اختیار اس پر پیار آگیا ….وہ ہمیشہ ایسا ہی کر تا تھا جب سائرہ اس کی خبر لیتی تھی ۔
پانچویں دن ایک چمچماتی اسٹیمسر مد کے گھر کے دروازے پرکھڑ ی تھی اور اس کی جھلک سے آس پاس کے مکانوں میں نگاہیں چکا چوند ہو رہی تھیں ۔سائرہ نے دیکھا تو اس کی خوشی کی انتہا نہیں رہی ‘وہ اپنا پہلا اندازپر قابو نہ پا سکی ۔سر مد یہی چاہتا تھا۔ یہی اس کے خوابوں کو پر واز عطا کر نے کے لیے کافی تھا ۔بس پھر کیا تھا اب گاڑی کے بعد شاندار گھر کا خواب دیکھنے لگا ۔سائرہ چند دن تو گاڑی کی چمک دمک کی طرح خوش رہی مگر گاڑی کا رنگ اڑنے کے ساتھ ساتھ اس کی خوشی بھی کافورہو گئی۔سر مد پھر خواب آگیں صورت لیے اس کے سامنے آتا اور وہ سنا دیتی ۔گاڑی کا خواب ابھی پورا بھی نہیں ہوا کہ ایک زبر دست سڑک حادثے میں اس کا حلیہ تبا ہ ہو کر رہ گیا ‘وہ تو خیر ہو ئی کہ سر مد کو چند چوٹوں سے زیادہ کچھ نہیں ہوا اور خواب دیکھنے کے لیے زندہ رہ گیا ۔سائرہ کی آنکھوں کے سامنے اندھیرے پھیل گئے وہ بہت رو ئی ‘شاید یہ سوچ کر کہ اس کے آنسوں سرمد کے خوابوں کا سلسلہ توڑدیں گے ..چند دن تو اس کی یہ تمنابر آئی مگرسرمد نے جب اس سے کہا کہ ’سائرہ میں سو چ رہا ہوں کہ ہمارے پاس ایک شاندار گھر ہوتا ۔ !‘ تو اسے بجلی کا سا جھٹکا لگااور وہ اس دیوانے کی صورت دیکھتی رہ گئی ۔وہ جانتی تھی کہ سر مد اپنی ضد سے باز نہیں آئے گا لہٰذا اس نے کچھ زیادہ بحث کر نے کی ضرورت نہیں سمجھی اور اپنے کاموں میں لگ گئی ۔
ان دنوں’ سویرا پر اپرٹی ایسو سی ایشن گروپ‘ کے ذریعے بنا ئے گئے لگژری اپارٹمنٹوں کا خوب چر چا تھا ۔چو نکہ یہ کمپنی نئی نئی لانچ ہو ئی تھی اس لیے سستے داموں پر فلیٹ فرو خت کر نے سلسلہ شروع کیا ۔سر مد نے موقع غنیمت جان کر اس موقع سے فائدہ اٹھا یا اور ’سویر اپارٹمنٹس میں ایک فلیٹ اپنے نام کر الیا ۔سائرہ کو اس کاپتا چلا تووہ پھر بر ق و بجلی اور آندھی و طوفان پر بن کر اس پر گر ج برس رہی تھی ۔’’سائر ہ ایک بارتم چل کر تو دیکھو تمھیں میری پسند ضرور پسند آئے گی ۔میر ا یقین ہے کہ تم وہیں کی ہو کر رہ جا ؤ گی ۔‘‘ سر مد نے اسی طرح سر جھکا کر کہا اور سائرہ کے دل سے غصیکا طوفان ہلکی ہو ا کی طرح اڑ گیا ۔جلدی سی ضروری سامان لیا اور وہ دونوں ’سویر ا اپارٹمنٹس‘ کی طرف چل دیے۔ بڑے پر فضا مقام پر یہ فلیٹس بنا ئے گئے تھے ۔تھوڑی ہی دور پر ند ی بہتی تھی اور سامنے شاندار پلے گر اؤنڈ تھا ۔پانی بجلی کا معقول انتظام تھا اور عمارت میں استعمال شدہ میٹریل مناسب ….سائرہ اتنے اچھے مکانوں کو دیکھ کر سچ مچ یہیں کی ہو کے رہنے کا من بنانے لگی ۔جلدی ہی وہ نئے گھر میں شفٹ ہو گئے ۔سائرہ یہاں بہت خوش تھی اور اس سے زیادہ خوش سر مد تھا اسے تو دوہری خوشی تھی ‘ایک تو بیوی خوش اور دوسرا خواب پورا ہو نے جارہا تھا ….اور اس سے پہلے کے خواب پورا ہوتا صبح ہونے سے پہلے پہلے اس کے تانے بانے بکھر گئے ۔’سویر ااپارٹمنٹس‘آندھی و طوفان کا ہلکاسا جھونکابر داشت نہ کر سکے اور ایک ہی آن میں لمبے لمبے زمین پر پڑے تھے ۔سرمدکی قسمت اچھی تھی جو وہ کہیں اور خواب دیکھ رہا تھا ورنہ اس کے خوابوں کا سلسلہ سائرہ اور فلیٹوں کے دوسرے مکینوں کے ساتھ ہی ٹو ٹ جاتا ۔ سائرہ کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد سر مد کی حالت ناگفتہ بہ ہو گئی ۔اس کے خوابوں میں اب رو مانیت اور نئی اڑان بھر نے کے مناظر کے بجائے سائرہ آنے لگی جو اسے اس کے پاگل پن ‘ اونچے خواب دیکھنے اور اسے موت کے منہ میں دھکیلنے پر جلے کٹے سنا تی اور وہ لر ز کر رہ جاتا …اس کا دنیا میں اب کو ئی نہیں بچا تھا بس ایک کمپنی تھی جس کے سہارے اس کی گذر بسر ہو رہی تھی مگر ایک دن کمپنی کا آسر ا بھی اس کے سر سے اٹھ گیا اوروہ کاروباری مافیا کے ظلم کا شکار ہو کر شعلوں کی نذر ہو گئی ۔کمپنی کے ملازمین کی آرزوئیں ‘سہارے اور آسرے تو ٹوٹے ہی ساتھ میں سرمد کے خواب بھی ادھورے رہ گئے ۔
Viewers: 3015
Share