Nighat Akram | Interview | مشہور معروف ناول نگار امجد جاوید کی کھٹی میٹھی باتیں

 مشہور معروف ناول نگار امجد جاوید
نگہت اکرم لاہور
مشہور ناول نگار اور شاعر امجد جاوید سے ایک خصوصی ملاقات آپ سب کے لیے

؂اسلام علیکم امجد جاوید کیسے مزاج ہیں آپ
*وعلیکم سلام میں بالکل خیریت سے ہوں
؂کیا مصروفیت ہے آجکل!
*وہی لکھنا ،پڑھنا اور پڑھانا۔
؂آپ کا پورا نام
*امجد جاوید
؂آپ کا ادبی نام
*امجد جاویدہی ہے
؂آپ کی تعلیمی قابلیت
*ایم اے ابلاغیات ۔اردو و اقبالیات
؂آپ کی تاریخ پیدائش
* میں 27ستمبر1965ء کی رات ایک بجے کے قریب پیدا ہوا تھا۔یہ اس لیے یاد ہے کہ اس رات 65ء کی جنگ کے بعد بلیک آؤٹ ختم ہو ا تھا۔بارہ بجے کے بعد روشنیاں جگمگا اٹھی تھیں۔میں دنیا میں امن کا پیامبر بن کر آیا ہوں ۔میری پیدائش پر یہی تبصرہ ہوا تھا۔
؂آپ کا سٹار کیا ہے؟ کیا آپ ستاروں کے علم پر یقین رکھتے ہیں؟
*تاریخ پیدائش کے حساب سے تو میرا سٹار ’’میزان‘‘ ہی بنتا ہے ۔ستاروں کا علم کوئی الہامی شے نہیں ہے۔یہ محض انسانی تحقیق ہے ۔سورج کو ’’سورج‘‘ کا نام انسان نے دیا ہے۔وہ تو اپنا نام رکھنے پر بھی قادر نہیں۔ اصل میں یہ انسانی صلاحیت ہوتی ہے اور انسان پر اللہ پاک کی کرم نوازی۔اگر انسان اپنی صلاحیتوں کو فلاحِ انسانی اور مثبت انداز میں استعمال کرے تو یہ فنائے الہی ہے ۔ورنہ آزمائش اور امتحان۔۔۔۔۔۔
؂ اپنی فیملی کے بارے میں بتائیں۔
*میرے والد محترم،میری بیگم اور میرے بچے،سمن فاطمہ،احمد بلال ، احمد جمال۔ مختصر سی فیملی ہے۔
؂آپ نے لکھنے کا آغاز کب کیا؟ سب سے پہلے کہاں لکھا اور کہاں شائع ہوا؟
*نومبر87ء کے آخری دنوں میں ،میں نے ایک مختصرسی کہانی لکھی۔جو سچی کہانیاں کراچی جنوری 88ء کے شمارے میں شائع ہوئی۔اس سے پہلے میں نے کبھی کچھ نہیں لکھا تھا۔
؂کہانی لکھنے کا محرک کیا تھا؟
*مجھے یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ میرے اندر کوئی تخلیقی صلاحیت ہے تھی یا نہیں۔تا ہم مجھے مصوری کا بہت شوق تھا۔باقاعدہ کہیں سیکھنے کا موقعہ نہیں ملا ۔رنگوں سے خود ہی کھلتا اور خود ہی خوش ہو لیا کرتا تھا۔پھر پنسل سے چہرے بنانے لگا۔اس میں کافی حد تک مہارت آ گئی تھی ۔پھر مجھے سمجھایا گیا کہ تصویریں بنانا جائز نہیں تو میں نے یہ سلسلہ یکسر ختم کر دیا۔ممکن ہے میرے اندر کی یہی صلاحیت مجھے اکساتی رہی ہو۔یہاں تک کہ میں لفظوں سے تصویریں بنانے لگ گیا ۔آج بھی خوبصورت رنگوں والی تصاویر مجھے اپنی جانب کھینچ لیتی ہیں۔شاید لکھنے کی جانب میری توجہ اس لیے بھی گئی کہ مجھے مطالعہ کا بہت شوق تھا۔شاید ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی امروز،مساوات،نوائے وقت کے بچوں والے صفحات ،بچوں کی دنیا،تعلیم و تربیت اور نونہال پڑھتا تھا۔جبکہ اس قدر پڑھا کہ پانچویں یا شاید چھٹی کلاس میں تھا کہ میں نے محی الدین نواب کا شاہکار ’’دیوتا‘‘ پڑھنا شروع کر دیا تھا۔مجھے یاد ہے کہ میں نے اس کی پہلی قسط پڑھی تھی۔
؂ادبی حوالے سے گھریلو ماحول کیسا تھا؟
* قطعاً نہیں تھا۔میرے خاندان میں دور دور تک ادبی ماحول نہیں تھا۔لیکن اتنا ضرور تھا کہ مجھے پڑھنے سے کہانیاں قصے۔۔۔یا غیر نصابی مواد پڑھنے سے کبھی نہیں روکا گیا۔
؂آپ کی تحریر کس پرچے میں شائع ہوئی ۔اشاعت کے بعد کیا رنسپانس ملا؟
*بتایا نا سچی کہانیاں کراچی میں۔اشاعت کے بعد مجھے دو طرح سے رنسپانس ملا۔میرے اردگرد جو لکھنے والے نہیں تھے انہوں نے قدرے حیرت اور خوشی کا اظہار کیا اور جو لکھنے والے تھے انہوں نے حسد محسوس کیا۔جو بعد میں لکھنے رہنے کا محرک بھی بنا۔مجھے اپنی ذات میں خوشی تو ہوئی یہ فطری تھا۔دوسرا میں نے خود پر بڑی تنقید کی۔’’اگر یہاں یہ لکھ لیتا تو زیادہ مزید اچھا بن جاتا۔‘‘یہ میرے اپنے اندر کا رنسپانس تھا۔
؂آپ نے شاعری کا آغاز کب کیا؟پہلا شعر کون سا تھا؟
*یہ یاد نہیں،لیکن اتنا یاد ہے کہ ہم یار لوگوں کا ایک ٹولہ ہوتا تھا جن پر مشاعرے خراب کرنے اور وہاں پر جگت بازی اور ہلہ گلہ کرنے کے لیے تیار رہتا تھا۔ہم مشاعروں کی ضرورت بنتے چلے گئے۔جس مشاعرے میں ہم نہ جاتے وہ پھیکا محسوس کیا جانے لگا۔جو شاعر اچھا شعر کہتا اسے خوب داد دیتے اور جو متاثر نہ کر سکتا،اس کی درگت بن جاتی۔اس دورانیے کے لاتعداد واقعات ہیں جو آج بھی یاد آئیں تو دل بھر آتا ہے ۔شاید کسی دل جلے شاعر کی بد دعا لگی کہ میں بھی تک بندی کرنے لگا۔محترم ڈاکٹر شفقت حسین قاصی ۔حجرہ شاہ مقیم سے میں نے اصلاح لی۔اور پہلا شعر یہ تھا۔’’ان کی مجھ سے جو بات ہو جائے کیف آور حیات ہو جائے‘‘ میری یہ اصلاح شدہ غزل آداب عرض میں شائع ہوئی۔اور اس پر جو پہلا تعریفی خط مجھے ملا،وہ محترمہ شاہدہ صائقی(ہارون آباد) کا تھا۔انہیں یہ شعر بہت پسند آتھا۔
’’ان کی آمد نوید فصل بہار رشک گل میر ذات ہو جائے۔‘‘
؂آپ کی شاعری کے موضوعات کیا ہیں؟
* میرے محسوسات۔۔۔۔۔۔ اور میری کیفیات۔۔۔کیونکہ میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ شاعری اپنے من کی جو کیفیات ہوتی ہیں ،اس کا اظہار ہے۔۔۔اس لیے کوئی خاص موضوعات نہیں ہیں۔اگر مجموعی طور پر کہا جائے تو میری شاعری کا موضوع ’’زندگی‘‘ ہے۔یا پھر زندگی کے دیئے ہوئے احساس
؂آپ نے شاعری کم کی ہے یا پھر اس پر توجہ نہیں دی۔
*اگر میں یہ کہوں کہ میں نے اب تک شاعری نہیں کی۔بلکہ عشق سخن کی ہے تو یہ زیادہ بہتر ہو گا۔میں نے اپنے اظہار کا ذریعہ شاعری کو نہیں چنا تھا۔میں نے شاعری کے فن سے آشنائی اس لیے لی تھی کہ میں اپنے تئیں یہ خیال کرتا تھا ۔اگر مجھے کسی میگزین کا مدیر بننا پڑے تو میں شاعری دیکھ کر اسے شائع کر سکوں۔۔اور پھر 96ء کی برسات میں ایک واقعہ ہوا۔اعتبار ساجد کے ساتھ میں آداب عرض کے دفتر میں جناب خالد بن حامد کے ساتھ تھے۔باہر بارش ہو رہی ہے اور ہم چائے کی پیالیوں پر یونہی گپ شپ کرتے چلے جارہے تھے ۔تب میرا لکھنا لکھانا بھی موضوع بحث بنا۔وہیں مجھے یہ مشورہ ملا کہ اظہار کے معاملے میں شاعری یا نثر میں سے کسی ایک کو چن کر اس پر محنت کروں۔تب میں نے نثر کو چن لیا تھا۔
؂آپ کے کتنے مجموعہ کلام ہیں؟
*ایک ہی ہے ۔’’تمہیں چاہوں گا شدت سے‘‘۔شاید یہ بھی منظرعام پر نہ آتا۔اگر میرے ڈرامہ سیریل ’’پہچان‘‘ کا تھیم سانگ میں نہ دیتا۔ اتفاقیہ طور پر یہ تھیم سانگ بنا تو پھر مجھے خیال آیا۔جو شاعری ادھر ادھر بکھری پڑی ہے۔اسے سمیٹ لوں وہ مجموعہ کی صورت بنا تو جناب گل فراز (علم و عرفان پبلیشرز لاہور) نے اسے شائع کردیا۔ہو سکتا ہے مستقبل میں کوئی آجائے،لیکن مجھے کوئی امید نہیں۔
؂آپ کے اب تک کتنے ناول منظر عام پر آ چکے ہیں۔اور کون کون سے ؟
*تعداد جو کتابی صورت میں شائع ہو چکے ہیں۔۱)چہرہ ۲)عشق کا شین(حصہ دوئم) ۳)عشق کا شین(حصہ سوئم) ۴)تاج محل ۵) جب عشق سمندر اوڑھ لیا۔ ۶) عشق کا قاف ۷) روشن اندھیرے ۸) ذات کا قرض ۹)عشق فنا ہے عشق بقا ۱۰)عشق کسی کی ذات نہیں۔ ۱۱) عشق سیڑھی کانچ کی۔ ۱۲) سائباں سورج کا۔ ۱۳) کیمپس ۱۴) امرت کور
؂اس کے علاوہ آپ کی کتابیں۔
*۱) انقلابی شاعری۔(شعراء کے کلام سے کشید اشعار) ۲) منٹو کے نسوانی کردار ۳) حکمرانی کیسے کی جاتی ہے(ترجمہ) ۴) کامیابی 30دنوں میں۔(ترجمہ) ۵) لکھاری کیسے بنتا ہے۔
۶) روحانیت اور جنسی لذت (گرور جنٹس کے افکار سے کشید)
؂آپ عشق پر ہی کیوں لکھتے ہیں؟
*یہ حقیت ہے کہ ’’عشق کائنات کا خلاصہ ہے‘‘عشق ہی ہو قوت ہے جو انسان کو محدود سے لا محدود انتہاؤں تک لے جاتی ہے۔دیم دل سے حریم ذات تک کا سفر عشق ہی طے کراتا ہے۔
؂آپ کی شاعری کے مجموعہ کلام اور ناول منظر عام پر آئے تو آپ کو کیسا لگا؟
*اچھا لگا۔زیادہ اعتماد محسوس ہوتا ہے۔قارئین کا رنسپانس اتنا ملا کہ میں تصور بھی نہیں کر سکتا ۔بہت پیار ملا۔
؂آپ نے اب تک کتنی کہانیاں لکھیں؟
*مجھے تو شمار یاد نہیں
؂کہانیاں محض تفریح طبعے کا ذریعہ ہوتی ہیں ۔یا ان کا مقصد اصلاح کا باعث بھی بنتا ہے۔
*میں نہیں سمجھتا کہ کہانی یا افسانہ بلا مقصد لکھا جاتا ہے ۔کہانی یا افسانہ وہی کامیاب اور موثر ہوتا ہے جس میں مقصدیت ہو۔بقول خالد بن ماجد،’’قاری اپنے ذوق سے مخلص ہوتا ہے۔‘‘وہ کچھ نہ کچھ حاصل ضرور کرتا ہے ۔تا ہم یہ ایک لمبی بحث ہے۔
؂دورحاضر کے کہانی کاروں کی طرز فکر کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟
*بہت اچھا۔!فطری سی بات ہے کہ ہر آنے والی نسل زیادہ علم اور معلومات رکھتی ہے ۔کیونکہ علم و دانش کا ورثہ ان کے پاس ہوتا ہے ۔وہ انہی سے اپنی نئی جہت نکالتے ہیں۔ان کے پاس زیادہ سوال ہیں،جن کی کھوج میں انسانی فطرت کے نئے نئے رنگ سامنے آ رہے ہیں۔وہ زیادہ اعتماد سے رہے ہیں۔ ان موضوعات کو بھی لکھ رہا ہے، جو کبھی شجرِممنوعہ تھے۔
؂آپ کی کہانیوں میں تخیل زیادہ ہوتاہے یا مشاہدات زیاد ہوتے ہیں۔
*میں کوئی ماورائی کہانیاں تو نہیں لکھتا ۔اس معاشرے سے کشید ہوتی ہیں جو جیتا جاگتا ہمارے سامنے ہے۔مشاہدے کو بنا سنوار کر پیش کرنے میں تخیل لازمی طور پر کار فرما ہوتا ہے۔تخیل شامل نہ ہو تو مشاہدہ محض رپورٹ بن کر رہ جائے۔
؂آپ کی کہانیوں کا مجموعہ کب آ رہا ہے؟
*جب کوئی پبلشر چاہے،میرے پاس تو بے شمار کہانیاں ہیں۔
؂آپ کی کہانیوں میں حقیقت کا عنصر زیادہ ہوتاہے ۔کیا آپ کہانی لکھنے سے پہلے کوئی ریسریچ کرتے ہیں؟
*دیکھیں،معلومات حاصل کرنے کے تین بنیادی ذرائع ہیں۔۱۔مطالعہ ۲۔ مشاہدہ اور ۳۔ مکالمہ ۔ میں ان تینوں سے استفادہ کرتا ہوں۔تحقیق کو نظر انداز نہیں کرتا بلکہ میری کوشش ہوتی ہے کہ معلومات درست ہوں۔اس لیے آپ کہہ سکتی ہو کہ میں تحقیق بہر حال کرتا ہوں۔
؂آپ کا پسند یدہ موضوع ،جس پر آپ زیادہ تر کہانی لکھتے ہیں۔
*میرا موضوع انسان ہے۔کیونکہ انسان ہی تو وہ کلام ہے ،جس کا پڑھا جانا ہی مقصد ہے۔انسان ایسا لا محدود موضوع ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔خالق کائنات کا شاہکار انسان جس کے دم سے ہی زندگی ہے۔اور جو ساری کائنات کا مرکز و محور ہے۔خالق اور مخلوق کے درمیان رابطہ ہی میرا اصل موضوع ہے۔
؂آپ عرض میں کب سے لکھ رہے ہیں؟
*آداب عرض میں میری پہلی کہانی’’شلف میں رکھی کتاب‘‘اپریل93 ء میں شائع ہوئی۔
؂ہمارے ہاں تخلیق ہونے والا ادب،عالمی ادب میں کیا مقام رکھتا ہے۔
*زبان کوئی سی بھی ہو۔انسان جس ادب کا موضوع ہو گا وہ عالمی ادب میں شمار ہو جاتا ہے۔ہمارے ہاں بہت سارا ایسا کام ہے جو عالمی ادب کے معیار پر پورا اترتا ہے۔لیکن اس وقت ہمیں اعتماد ہو گا۔ جب نام نہاد دانشور ہمیں دوسری زبانوں اور غیر ملکی افکار کے رعب سے نکالیں گے۔جو انہوں نے اپنی دوکان چمکانے کے لیے خواہ مخواہ ہم پر مسلط کیا ہوا ہے۔
؂خوشی کب ہوتی ہے؟
*جب کوئی معصومانہ انداز میں بناجتائے اپنے خلوص کا اظہار کر جاتا ہے۔
؂جب پریشانی ہوتی ہے؟
*میں گبھرا جاتا ہوں پھر خود ہی اپنے آپ کو حوصلہ دے لیتا ہوں اور اس پریشانی سے نکل آتا ہوں
؂پچھتاوا کب ہوتا ہے؟
*جب کسی پر خلوص بندے پر اعتماد نہ کو سکوں۔
؂کہتے ہیں شاعر و ادیب حساس ہوتے ہیں ۔آپ کا کیا خیال ہے؟
*حساس ہوتے ہیں تو ۔ایک عام آدمی سے زیادہ محسوس کرتے ہیں ۔اور پھر یہ اس کی حساسیت ہی تو ہے جو اسے اظہار پر مجبور کر دیتی ہے۔حساسیت ہی قوت اور حوصلہ دیتی ہے۔
؂کتابوں کی رونمائی کی تقریبات ہوتی ہیں ۔کیا یہ شہرت کے لیے ہوتی ہیں؟
*کہہ سکتے ہیں ۔جدید دور میں اس تقریب کے معنی بھی بدل گئے ہیں۔
؂کیا آپ ادب کے فروغ میں میڈیا کے کردارسے مطمئن ہیں؟
*جہاں تک پرنٹ میڈیا ہے۔اس سے تو میں بہر حال مطمئن ہوں۔الیکٹرانک میڈیا نے ابھی اس جانب توجہ نہیں دی۔
؂اس وقت شاعروں اور ادیبوں کا معاشرے میں کیا مقام ہے؟
*اچھا مقام ہے۔جو واقعتا شاعر یا ادیب ہیں۔انہیں عزت و احترام ملتا ہے۔وہ اگر قلم مزدوری کریں تو کماتے بھی ہیں۔
؂کسی کے خلوص کا جواب کیسے دیتے ہیں؟
*فوراً ردعمل کا اظہار کر ہی نہیں پاتا۔بلکہ کسی ایسے موقع کی تلاش میں لگ جاتا ہوں کہ اس کے لیے بہتر اور اچھا جواب دے سکوں۔
؂آپ کا کوئی قریبی دوست ۔آپ کے دوستوں کی تعداد
*میرا قریب ترین دوست میری بیگم ہے۔حلقہ احباب وہ ہے جنہیں میں اور وہ مجھے بھائیوں کی طرح چاہتے ہیں ۔میں بہر حال اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کرتا ہوں ۔مجھے بہت پیار ملا ہے۔
؂جب با رش برستی ہے تو کیسا لگتا ہے؟
*بارش میری کمزوری ہے۔میں اپنے آپ میں گم ہو جاتا ہوں ۔مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے کائنات مجھے سے لپٹنے کے لیے بے تاب ہے۔
؂آپ کی کوئی چھپی ہوئی خواہش۔
*میں سفر حجاز کرنا چاہتا ہوں۔حج کی سعادت حاصل کرنا میری شدید خواہش ہے۔
؂کیا اچھا لگتا ہے دن یا رات؟
*چمکتا ہوا روشن دن
؂آپ کی سالگرہ کا دن،کیا آپ سالگرہ مناتے ہیں۔
*27ستمبر،صرف ایک بار میرے یونیورسٹی فیلو نے منائی۔
؂پاکستان کے لوگوں کے بارے میں آپ کیا خیال کیا ہے؟
*پاکستانی بہت غیور ،بہادر اور جرأت مند قوم ہیں۔وہ لاشعوری طور پر متحد ہیں ۔المیہ فقط یہ ہے کہ نام نہاد دانشوروں نے انہیں بانٹ کر رکھ دیا ہوا ہے۔اپنی شخصیت کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔مثلایہ تک فیصلہ نہیں ہو پایا کہ ہماری ثقافت کیا ہے؟ اس کی سب سے بڑی وجہ جاگیرداری کا بے غیر تانہ نظام مسلط ہے۔کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے تعلیم سب سے اہم ہوتی ہے۔تا کہ انسانی وسائل کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جا سکے۔جاگیر دار ہی نہیں چاہتا کہ قوم کو شعور ملے۔انسانی وسائل ضائع ہونے کے باوجود پاکستانی قوم بہت مضبوط ہے۔
؂آپ کی زندگی کا قیمتی اثاثہ
*میرے بچے،سمن فاطمہ ، احمد بلال، احمد جمال
؂کیا موسیقی پسند ہے ،کیسی موسیقی سنتے ہیں؟
*مجھے موسیقی پسند ہے اور وہی سنتا ہوں جو سماعتوں کو بھلی لگے۔
؂خود غرض لوگ کیسے لگتے ہیں؟
*یہی خیال آتا ہے کہ انہیں اللہ کی ذات پر یقین کیوں نہیں ہے۔
؂پسندیدہ موسم کون سا ہے؟
*گرمیاں۔جب بارشوں کا موسم ہو۔ویسے ہرموسم کا اپنا مزہ ہوتا ہے۔
؂کیا تحائف کا تبادلہ پسند کرتے ہیں؟
*جی،لیکن اس وقت جب اس میں غرض شامل نہ ہو۔
؂آپ کو اپنا کون سا ناول بہت پسند ہے؟
*عشق کسی کی ذات نہیں
؂محبت کیا ہے،آپ کی نظر میں؟
*محبت ایک رویہ ہے۔۔۔ پانی کی مانند،بے رنگ،بے بو،بے ذائقہ،لیکن زندگی بخش ہے۔یہ جس من میں جاتی ہے۔ویسی ہی ہو جاتی ہے۔آلودہ من محبت کو بھی آلودہ کر دیتا ہے اور شفاف من،محبت آ جانے سے روحانی مقامات تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔محبت،چنبے کی وہ بوٹی ہے ،جو من ہی میں جا کر کھلتی ہے۔
؂آپ کے نزدیک زندگی کیا ہے؟
*خالق حقیقی اور زندگی دینے والے قادر کی منشاء ہے۔
؂شدید اداسی کے عالم میں دل کیا چاہتا ہے؟
*میں گوشہ نشین ہو جاتا ہوں۔اور اپنی دنیاؤں میں کھو جاتا ہوں۔
؂دل پسند منظر کون سا ہے؟
*ساحل سمندر پر ڈوبتے ہوئے سورج کا منظر
؂پسندیدہ کتاب /ناول۔
*دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر /جانگلوس
؂کون سے شاعروں ادیبوں کو زیادہ پڑھتے ہیں؟
* شاعر۔ حضرت علامہ اقبال قلندر لاہوری۔ اختر شیرانی۔ اور کاشف سجاد
ادیب۔ اختر حسین شیخ۔ انوار صدیقی۔محی الدین نواب۔وحشی مارہروی۔ منٹو اور پریم چند
؂لباس کیسا پسند کرتے ہیں؟
*شلوار قمیض۔ جین کرتا۔
؂سیاست سے دلچسپی ہے
*ہے تو سہی لیکن دکھائی نہیں دیتی۔
؂کبھی کوئی مشکل پیش آجائے تو اس کا حل کیسے نکالتے ہیں؟
*سچی بات تو یہ ہے کہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتا ہوں۔پھر خود بخود ہی مشکل حل ہو جاتی ہے ۔یہ بہر حال میرے رب کا مجھ پرکرم ہے۔
؂ملک کی موجودہ صورت حال کو کیسی نظر سے دیکھتے ہیں؟
*اُمید افزاء ہے۔وہ انقلاب ،جو شاید ہم اپنی زندگی میں نہ دیکھ سکیں ،وہ دکھائی دے رہا ہے۔جب وسائل پر قابض لوگوں کی حاکمیت ختم ہو گی۔ہر غریب کی عزت نفس بحال ہو گی۔
؂اپنی کون سی عادت جو سب سے زیادہ پسند ہے؟
*گپ شپ کرنے کی۔مجھے باتونی لوگ بہت پسند ہیں۔
؂وہ شخصیت جیسے آپ بھلا نہ پائیں ہوں۔
*ایسے تو بے شمار لوگ ہیں۔اگر میں انہیں یاد کرنا شروع کردوں تو ایک ضحم کتاب بن جائے۔
؂آپ کا پسندیدہ اخبار اور میگزین
*روزنامہ جنگ،اور وہ بھی لاہور کا۔کیونکہ یہیں سے میں نے بہت کچھ سیکھا اور یہاں سے صحافت کی ابتداء کی تھی۔
؂آپ کے خیال میں سچی خوشی کیا ہے؟
*پورے خلوص اور بے غرضی سے دوسروں کے کام آنا۔
؂کوئی ایسی عادت جو آپ کے گھر والوں اور دوستوں کو نا خوش رکھتی ہے؟
*میرا جلدی غصے میں آ جانا۔
؂مذہب سے کس حد تک لگاؤ ہے۔
*دین ہی زندگی کا بہترین لائحہ عمل دیتا ہے۔میں فخر سے خود کو بنیاد پرست کہہ سکتا ہوں۔لیکن دوسروں پر اپنے افکار و مسلط کرنا پسند نہیں کرتا۔آپ کا کردار ہی آپ کے فکر کا اظہار ہے۔
؂ڈیپرس ہوں تو کیا کرتے ہیں؟
*خوب نہا تا ہوں۔صاف ستھرا لباس پہن کر ،خوشبو لگا کر کسی ایسے بندے کی تلاش کرتاہوں جو باتیں کرتے ہوئے نہ تھکے۔بعض اوقات میں ایسی کیفیت سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔
؂دوسروں کی شخصیت میں کیا چیز متاثر کرتی ہے؟
*باتیں ،خوبصورت باتیں۔
؂فرصت کے اوقات کیسے گذارتے ہیں؟
*’’بیٹھے رہیں تصور جاناں کیئے ہوئے‘‘
؂خوشبو سے رغبت ہے ،کون سی خوشبو زیادہ پسند کرتے ہیں؟
*اچھی خوشبو کمزوری ہے۔خس،صندل،چارلی اور یڈی وائے،تا ہم نئے نوٹوں کی خوشبو تو اپنا جواب نہیں رکھتی۔
؂زندگی کا وہ لمحہ جس نے آپ کو بالکل بدل کر رکھ دیا ہو۔
*جب میں نے یہ سنا کہ وقتِ نزع میری والدہ کے یہ لفظ تھے کہ مجھے بہت پڑھا لکھا ہونا چاہیے۔
؂غصے میں آپ کا ردعمل کیا ہوتا ہے؟
*بہت زیادہ بولتا ہوں۔
؂تنہائی میں آپ کیا سوچتے ہیں ۔
*اپنی کہانیوں اور کرداروں کے بارے میں سوچتا ہوں۔اور کبھی کبھی اپنے بارے میں بھی،کیا کھویا،کیا پایا۔
؂کھانے میں کیا چیز پسندہے؟
*مٹن اور چکن جس طرح کا بھی بنا ہوا ہو۔میٹھے میں کھیر بہت پسند ہے۔
؂کیا راہ کی دشواریاں کامیابی کی دلیل ہوتی ہیں؟
*بالکل،جتنی دشواریاں،اتنی اعلی کامیابی
؂انسان کے سر میں غرورکب سماتا ہے؟
*جب وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اسے دوسروں کی حاجب نہیں رہی۔
؂دوستوں کو فون کرنا اچھا لگتا ہے یا SMSکرنا۔
*فون ہو تو لمبی بات ہو۔جی بھر کے بات ہو۔اگر ذرا سی بات ہوتو SMS۔
؂یادیں انسان کو کب تڑپاتی ہیں؟
*جب کھو جانے کا احساس ہونے لگے۔
؂کیسے لوگ پسند ہیں؟
*محنت کرنے والے
؂وہ لمحہ جس نے زندگی میں قوس و قزح کے رنگ بکھیر دیئے۔
*جب میری خواہش کے مطابق میرے ہاں بیٹی پیدا ہوئی۔باپ بن جانے کا احساس بڑا روح پرور تھا۔
؂دولت،شہرت اور محبت میں آپ کا انتخاب
*سیدھی سی بات ہے محبت
؂بحثیت ادیب و شاعر آپ کا نظریہ فن کیا ہے؟
*انسان بہترین کلام ہے،اسے پڑھنا اور اس کے نت نئے پہلوؤوں کی تلاش ہی نظریہ فن ہونا چاہیے۔
؂خوبصورتی متاثر کرتی ہے یا خوب سیرتی۔۔۔
*خوب سیرتی ہی اصل میں خوبصورتی ہے۔اس کا براہ راست تعلق انسان کے من سے ہوتا ہے۔
؂آپ خوابوں کی دنیا میں رہتے یا حقیقت پسند ہیں۔
*کچھ کچھ خوابوں میں رہتا ہوں اور زیادہ تر حقیقت پسند ہوں۔
؂شاعری جواب منظر عام پر آ رہی ہے۔
*
؂اس مادی دور میں شاعری کی ضرورت کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
*لطیف جذبات کا،امیجری اور تصورات بیان کرنے کے لیئے شاعری تو لازمی ہے نا۔۔۔دور جتنا بھی مادی ہو،انسان کے جذبات تو ہیں نا۔
؂چاندتی راتیں کیا پیغام دیتی ہیں؟
*اندھیری راتوں میں بھی روشن منظر مل سکتے ہیں۔
؂گروہ بندی شعروادب کے لیے فائدہ مندہ ہے یا نقصان دہ۔آپ کا کیا خیال ہے؟
*اس میں دو اتنہائیں پیدا ہوتی ہیں۔خوامخواہ نوازتے رہنا اور خوا مخواہ کی منفی تنقید۔اس کا اچھا پہلو یہ ہے کہ مقابلے کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ اور برا پہلو یہ ہے تو آموز کا پنی جگہ بنانے میں بہت توانائی ضائع کرنا پڑتی ہے۔بہر حال یہ وقت ثابت کرتا ہے کہ کون سی تخلیق زیادہ جاندار ہے۔
؂آج جبکہ کمپیوٹر ہماری زندگی میں شامل ہو گیا ہے توآپ سمجھتے ہیں کہ کتابوں کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔
*نہیں۔!بلکہ بڑھی ہے۔صرف کتابوں کی اشاعت ہی نہیں بڑھی،پرنٹ میڈیا زیادہ توانا ہوا ہے۔
؂کہا جاتا ہے کہ شاعری خداداد صلاحیت کا نام ہے کیا کوئی آدمی شعوری کوشش سے بن سکتا ہے؟
*اگر شاعری ردیف قافیے کی جمع بندی یا وزن ہی کا نام ہے تو شعوری کوشش میں بہترے شاعربن گئے ہیں۔دل سے نکل کر دل میں اترنے والی بات ،احساسات و جذبات کو چھو جانے والی کیفیت یہ تو خداداد ہی ہے۔آپ مجموعہ ہائے کلام کی تعداد پر نظر ڈالیں تو سب سمجھ میں آ جاتا ہے۔
؂آپ نے مشاعروں میں شرکت کی،کتنے مشاعروں میں؟
*مشاعرے خراب کرنے کی تعداد زیادہ ہے۔پڑھنے کا اتفاق بہت کم مشاعروں میں۔زیادہ تر مجھے نقیب ہی بنا دیتے ہیں۔
؂پسندیدہ شہر،رنگ ،پھول ،مشروف،کھیل اور کھلاڑی۔
*لاہور،نیلا،خوشبو میں موتیا۔دیکھنے میں ٹیولپ،گرمیوں میں چاٹی کی لسی اور سردیوں میں بلیک کافی۔کھیل وہ جو دو کھلاڑی کھیل سکیں۔مارٹینا ہنگس،جان شیر خان۔
؂آپ کی پسندیدہ شخصیت
*نبی اکرم کے بعد حضرت بلالؓ بن رباح
؂مزاجاً کیسے ہیں؟
*میرا مزاج معشوقانہ ہے ۔میں چاہتا ہوں کہ کوئی مجھ سے پیار کرے اور پھر میٖں اسے ٹوٹ کر چاہوں۔مطلب میں ردعمل کرتا ہوں۔
؂جب دل ٹوٹ جائے تو کیا کرتے ہیں؟
*شدت سے اپنی کمیوں او کوتاہوں کا حساب کتاب کرنے بیٹھ جاتا ہوں کہ مجھ سے کیا ایسا ہوا جس کی وجہ سے میرا دل ٹوٹا۔
؂آپ کا پیغام قارئین آداب عرض کے نام
*خوش رہیں ۔آباد رہیں ۔اپنا اور دوسروں کا بہت سا را خیال رکھیں۔
؂آپ کا پیغام نئے لکھنے والوں کے نام
*لکھنا،لکھنالکھنا۔۔پڑھتے رہنے کے بعد۔
*

Viewers: 2267

Share