Amjad Javed | Campus Ep: 3 | کیمپس۔ قسط نمبر:3

کیمپس قسط: ۳ راوی: ابان علی تحریر: امجد جاوید وہ دشمنِ جاں میری طرف یوں دیکھ رہی تھی جیسے میرے چہرے پر لکھی ہوئی تحریریں پڑھ رہی ہو۔ اس کے […]
کیمپس
قسط: ۳
راوی: ابان علی
تحریر: امجد جاوید

وہ دشمنِ جاں میری طرف یوں دیکھ رہی تھی جیسے میرے چہرے پر لکھی ہوئی تحریریں پڑھ رہی ہو۔ اس کے تازگی بھرے چہرے پر بھنورا آنکھوں میں شرارت چھلک رہی تھی اور لبوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ ہم دونوں سیڑھیوں میں کھڑے تھے۔ وہ بالکل میرے یوں قریب کھڑی تھی جیسے میرے ساتھ لگ گئی ہو۔ اس سے اٹھتی بھینی بھینی سی مہک خوشگوارتاثر دے رہی تھی۔ وہ میری طرف یوں دیکھ رہی تھی جیسے میں نے کوئی انہونی بات کر دی ہو۔ وہ مجھے منتظر دیکھ کر خمار آلود لہجے میں بولی۔
’’تو پھر سچ یہ ہے ابان۔۔۔ کہ تمہارے کے بارے میں جو اندازہ میں نے لگایا تھا، وہ بالکل درست ثابت ہوا ہے، افسوس مجھے اس پر ہوتا اگر تم۔۔۔‘‘
’’یہ بات تم ابھی کہہ چکی ہو، کیوں کہی، میں وہ پوچھنا چاہتا ہوں‘‘۔ میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا ۔
’’تو پھرآؤنا لان میں، وہیں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں‘‘۔ اس نے اشارے سے چلنے کے لیے کہا تو میں نے بھی محسوس کیا، ہم دونوں راستہ روکے کھڑے تھے۔ کوئی اور لمحہ ہوتا تو شاید میں اس کے قرب سے کچھ اور معنی اخذ کرتا، لیکن اس وقت ماہم کی بات نے مجھے پوری طرح متوجہ کیا ہوا تھا۔ ہم چلتے ہوئے لان تک چلے گئے۔ اس دوران ہم دونوں میں خاموشی رہی۔آہنی کرسیوں پر بیٹھتے ہوئے اس نے میری جانب دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولی۔
’’ابان۔۔۔! ہر بندے کا ایک آئیڈیل ہوتا ہے، میرا بھی ہے، وہ آئیڈیل کیسا ہے، یہ تو شاید میں تمہیں نہ بتا سکوں، لیکن تم میرے آئیڈیل کے بہت قریب تر ہو‘‘۔اس نے کہا تو میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’کس حد تک۔۔۔اور۔۔۔‘‘ میں نے کہنا چاہا تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے روکتے ہوئے کہا۔
’’یہ بھی شاید میں نہ بتا سکوں، کیونکہ یہ کوئی دو اور دو چار والی بات نہیں ہے، خیر، تمہاری بات کا جواب یہ ہے کہ قدرت نے مجھے ایک وصف سے نوازا ہے۔ میں کسی کو بھی دیکھتی ہوں تو اس کے بارے میں جو میری پہلی رائے ہوتی ہے، وہ ویسا ہی ہوتا ہے، جیسے تمہیں دیکھتے ہی میری یہ رائے تھی کہ تم اناوالے، حوصلہ مند اور جرأت رکھنے والے شخص ہو اور بس‘‘۔ یہ کہتے ہوئے وہ دھیرے سے مسکرا دی تھی۔
’’میں نے کہا، پتا نہیں تم میرا کیا زائچہ بنانے چلی ہو‘‘۔ میں نے اس کی بات کو نظر انداز کرنا چاہا۔
’’پھر ایک بات اور بھی ہے ابان۔۔۔؟ کہ اتنے لڑکوں میں صرف تم نے کیوں ان سینئرز کے ساتھ مقابلہ کرنے کی جرأت کی! ایسا ایک جرأت مند اور حوصلہ رکھنے والا ہی۔۔۔‘‘
’’ماہم۔۔۔! خدا کے لیے سیریس ہو جاؤ۔۔۔ یہ تم کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی ہو۔ میں نے جو ٹھیک سمجھا وہ کیا ، آؤ اب ساری کلاس آجانے والی ہے۔ ان کے پاس چلتے ہیں، یوں اکیلے میں اچھا نہیں لگتا‘‘۔ میں نے کہا اور اٹھ گیا ناچار ماہم کو بھی اٹھنا پڑا۔ ہم چلتے ہوئے اپنی کلاس میں جا پہنچے، جہاں زور وشورسے کل رات والا موضوع ہی چل رہا تھا۔ ہر کوئی اپنا اپناتبصرہ کر رہا تھا اور میں خاموشی سے سنتا رہا۔ جب سارے اپنی اپنی کہہ چکے تو میں بولا۔
’’اب میری سنو! میں نے جو کچھ کیا ، اپنے دوست کے لیے ، اس کی بھی عزتِ نفس ہے، میں اسے یوں افسردہ نہیں دیکھ سکا۔ آپ لوگ کہہ رہے ہو کہ میرے اس عمل کا ردِعمل ہو گا، تو ہوتا رہے، میں بھگت لوں گا‘‘۔ میں نے صاف انداز میں کہا تاکہ میری یہ بات ان تنظیم والوں تک پہنچ جائے۔ مجھے پورا یقین تھا کہ ہماری کلاس میں ان کے لوگ ضرور ہوں گے۔ وہاں ہرکوئی مجھے یہ یقین دلانے لگا کہ وہ میرے ساتھ ہے۔ یوں باتیں کرتے، کھاتے پیتے رہے، پھر وہاں سے اٹھ گئے۔ اس دوران میں نے محسوس کیا کہ ماہم میری طرف نہ صرف مسلسل دیکھتی رہی ہے، بلکہ وہ میری ہر بات کو بہت زیادہ اہمیت دینے لگی تھی۔ ہم سب کلاس لینے کے لیے چلے گئے۔
کلاس ختم ہو جانے کے بعد میں سیڑھیاں اتر کر ڈیپارٹمنٹ کے مین گیٹ سے چند قدم کے فاصلے پر تھا کہ ماہم نے میرے عقب سے مجھے پکارا، میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ خراماں خراماں آرہی تھی، اس کے انداز میں کوئی جلدی نہیں تھی جیسے اسے امید تھی کہ میں اس کا انتظار کروں گا۔ میں رک گیا، یہاں تک کہ وہ میرے پاس آ گئی ۔ وہ میری طرف دیکھ کر بولی۔
’’تم مصروف تو نہیں ہو؟‘‘
’’خیریت۔۔۔؟‘‘ میں نے براہِ راست اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
’’کیا خیال ہے، آج لنچ اکٹھے نہ لیں؟‘‘
’’مجھے کوئی اعتراض نہیں، اور کون کون ہو گا ہمارے ساتھ‘‘۔ میں نے کندھے اچکاتے ہوئے جان بوجھ کر پوچھا۔
’’کوئی بھی نہیں، ایک آپ اور دوسری میں‘‘۔ اس نے خوشگوار انداز میں کہا۔
’’اوکے۔۔۔! جیسے تمہاری مرضی‘‘۔ میں نے کہا تو اس نے مجھے ایک نئے ریسٹوران کے بارے میں بتایا۔ جہاں میں پہلے نہیں گیا تھا۔ پھر بولی۔
’’میں وہیں تمہارا انتظار کروں گی‘‘۔
یہ کہہ کر وہ چل دی۔ اس کا رخ پارکنگ کی طرف تھا، میں بھی اس جانب بڑھ گیا۔
ماہم اپنی گاڑی میں بیٹھ کر جا چکی تھی اور میں گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا۔ ایسے میں میری نگاہ دور سے آتے ہوئے اسد پر پڑی۔ وہ تیز تیز قدموں سے میری جانب آرہا تھا۔ مجھے اپنی طرف دیکھتے ہوئے پا کر ہاتھ کے اشارے سے رکنے کو کہا۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا میرے پاس آگیا۔ تب میں نے پوچھا ۔
’’خیریت تو ہے اسد!‘‘
’’سب ٹھیک ہے، لیکن میں ہاسٹل کیسے جاؤں۔۔۔ وہاں تو۔۔۔‘‘ وہ کہتے کہتے رک گیا۔ میں نے گیٹ کھولا تو وہ بیٹھ گیا۔
’’ہاں، یہ مسئلہ تو ہو گا، آؤ چلیں، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے‘‘۔میں نے گاڑی کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے کہا۔
’’نہیں، ایسے نہیں، وہ میرے منتظر ہیں، میں یوں گیا تو لازماً کوئی نہ کوئی بات ہو جائے گی۔ کیونکہ وہیں سے میرے روم میٹ نے مجھے بتایا ہے کہ میرا سامان انہوں نے توڑ پھوڑ دیا ہے اور دھمکیاں بھی دی ہیں‘‘۔ اسد نے دھیمی آواز میں یوں کہا جیسے وہ مجھ سے شرمسار ہو رہا ہو۔
’’کب بتایا تمہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’یہی چند منٹ پہلے۔۔۔ ورنہ میں تو ہاسٹل ہی جارہا تھا‘‘۔ اس نے تیزی سے بتایا۔
’’چلو، پھر سبزہ زار چلتے ہیں، اس کا بھی کوئی حل نکالتے ہیں‘‘۔ میں نے کہا اور گاڑی پارکنگ سے نکالنے لگا۔ پھر اسی خاموشی سے کیمپس کے اس راہ پر آگئے جو باہر کی جانب جاتا تھا۔ وہیں مجھے خیال آیا کہ ماہم تو ریسٹوران میں میرا انتظار کر رہی ہو گی۔ اگر میں اسد کو ساتھ میں لے گیا تو کہیں وہ ناراض ہی نہ ہو جائے اور میں اسد کو بھی تنہا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ میں نے چند لمحے سوچا اور پھر اسے فون کر کے منع کر دینا چاہا۔ میں نے فون نکال کر ماہم کے نمبرزپش کیے اور رابطہ ہو جانے کا انتظار کرنے لگا۔ چند لمحوں بعد ہی فون ریسیو کر لیا کیا۔
’’جی ابان۔۔۔ بولو۔۔۔‘‘ اس نے عام سے لہجے میں کہا۔
’’کہاں ہو؟ ‘‘میں نے پوچھا۔
’’میں ابھی ریسٹوران نہیں پہنچی،تم نے فون کیوں کیا، خیرت تو ہے نا۔۔۔‘‘ اس نے یوں پوچھا جیسے وہ میری غیر متوقع کال پر گڑبڑا گئی ہو تب میں نے اسد کے بارے میں بتا کر کہا۔
’’سو ، میں سبزہ زار جارہا ہوں، لنچ، پھر کسی اور وقت سہی‘‘۔
’’نہیں۔۔۔! تم سیدھے ریسٹوران آؤ گے۔۔۔ اسد بھی ہے تو کوئی بات نہیں۔ بس تم آجاؤ‘‘۔ اس نے کہا اور فون بند کر دیا۔
میں نے فون رکھا اور میں ریسٹوران کی تلاش میں گاڑی بھگانے لگا۔ ہم دونوں میں خاموشی تھی۔ اسد نے مجھ سے نہیں پوچھا کہ فون کس کا تھا۔ ماہم کی گاڑی باہر ہی کھڑی دکھائی دی تو میں نے اس سے کچھ فاصلے پر گاڑی پارک کر دی۔ ہم دونوں ریسٹوران کے اندر چلے گئے۔ چند لمحوں میں ہی میں نے ماہم کو دیکھ لیا۔ وہ ایک میز پر تھی اور اس کے پاس تین لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ جن میں ایک لڑکی تھی اور دوسرے دو مرد تھے جو کافی حد تک جوان تھے، انہیں بہر حال لڑکے نہیں کہا جا سکتا تھا، مجھے ذرا سا جھٹکا لگا کہ وہ تو مجھے تنہا بلا رہی تھی، لیکن وہ تو یہاں اکیلی نہیں تھی۔ یہ کون لوگ ہیں؟ ماہم میری طرف دیکھ رہی تھی اور ان لوگوں کی نگاہیں بھی مجھ پر ٹکی ہوئی تھیں۔ اس سے میرا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ وہ میرے ہی انتظار میں تھے۔ میں اور اسد ان کے پاس جا پہنچے۔ علیک سلیک کے بعد ماہم نے تعارف کرایا۔
’’یہ رخشندہ ہے، فائنل میں ہے اور یہ کاشف اور یہ عدنان، یہ سمجھ لیں یہاں کے ایکس سٹوڈنٹ ہیں‘‘۔
’’بہت خوشی ہوئی آپ سب سے مل کر‘‘۔ میں نے رسمی سا جملہ کہہ دیا۔ تب ان میں سے زیادہ عمرکے جوان کاشف نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میں نے تو کل رات ہی سے آپ کی تلاش کرنا شروع کر دی تھی، لیکن آپ سے رابطہ نہیں ہو پارہا تھا، آج صبح ماہم سے رابطہ ہوا تو آپ کا نمبر ملا، خیر پھر انہوں نے ہی آپ سے ملانے کا وعدہ کر لیا، مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ آپ ایک جرأت مند نوجوان ہیں‘‘۔
’’اور کاشف ، یہ ان کے ساتھ میں اسد ہیں، جن کی وجہ سے یہ سارا معاملہ ہوا‘‘۔
’’اوہ۔۔۔! یہ تو بہت اچھا ہوا، یہ بھی مل گئے‘‘۔ کاشف نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔ پھر میری جانب دیکھ کر بولا۔ ’’زیادہ تجسس نہیں پھیلاؤں گا اور نہ ہی تمہید میں وقت لوں گا۔ سیدھی سی بات ہے، ہم ان تنظیم والوں کے مخالفین ہیں اور آپ کی ہر ممکن مدد کرنا چاہتے ہیں۔ آپ یہ مت سمجھئے گا کہ ہم کوئی آپ کی ہمدردی میں آپ تک پہنچے ہیں، ایسی کوئی بات نہیں، ہم اپنا مقصد بھی چاہتے ہیں‘‘۔
’’کیا مقصد ہے؟‘‘میں نے آہستگی سے پوچھا تاکہ وضاحت ہو جائے۔ یہ کہتے ہوئے میں نے عدنان کی جانب دیکھا جو اب تک خاموش تھا۔ اس نے میری بات کا جواب نہیں دیا، بلکہ بناء کسی تاثر کے میری طرف دیکھتا رہا۔ تب کاشف نے پُرسکون لہجے میں کہا۔
’’سیدھی سی بات ہے ابان، کیمپس پر ہمارا قبضہ تھا، چند برس پہلے انہوں نے ہم سے یہ چھین لیا۔ اب ہم نے دوبارہ قبضہ کرنا ہے ، ہمارا یہی مقصد ہے ۔ اس کے لیے ہم ہر اس بندے کی مدد کریں گے، جو انہیں کمزور کرے گا‘‘۔
’’تو یہ ساری گیم قبضے کی ہے؟‘ ‘ میں نے پوچھا۔
’’ابا ن ، آپ نے ابھی تک وہ لطف نہیں چکھا جو قبضہ کر لینے کے بعد کیمپس پر حاکمیت کرنے کا ہے اور پھر انہوں نے ہمارے ساتھ زیادتی بھی بہت کی ہے۔ ہمارے دو دوست قتل کیے ہیں، ان کا بدلہ بھی ہم نے لینا ہے‘‘۔ یہ کہتے ہوئے وہ بہت حد تک جذباتی ہو گیا۔ تب میں نے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
’’کاشف بھائی! مجھے نہ قبضے کی ضرورت ہے اور نہ میں کوئی حاکمیت چاہتا ہوں۔ یہ تو انہوں نے خود ہی۔۔۔‘‘ میں نے کہنا چاہا مگر اس نے میری بات قطع کرتے ہوئے کہا۔
’’میں سب جانتا ہوں۔ انہوں نے دوسرے کئی لوگوں کے ساتھ بھی زیادتی کی ہے لیکن وہ خاموش رہے، مزاحمت اگر کی ہے تو آپ نے ، لیکن اب آپ یہ بھی توقع نہ کریں کہ وہ خاموش ہو جائیں گے یا کچھ بھی نہ کریں گے، وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، جب تک آپ ان کی خواہش کے مطابق روبوٹ کی طرح نہ چلنے لگیں، یہ میں آپ کو ڈرا نہیں رہا اور نہ ہی کوئی حوصلہ شکنی کر رہا ہوں۔ بلکہ آئندہ آنے والے دنوں میں ان کا ردِعمل واضح کررہا ہوں۔ ہم اگر مل جائیں تو ہم بھرپور انداز میں مزاحمت کر سکتے ہیں‘‘۔
’’میں پھر آپ سے کہوں گا، مجھے صرف یہاں دو سال گزارنے ہیں۔ فائنل امتحان دینا ہے اور چلے جانا ہے۔ اس کے علاوہ مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔ ہاں اگر مل بیٹھنے کی بات ہے، تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ‘‘۔ یہ کہتے ہوئے میں نے ماہم کی جانب دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولا۔ ’’ماہم جو چاہے ، اس نے اگر آپ سے ملوا دیا ہے تو آپ مجھے اپنادوست سمجھیں‘‘۔ میں نے کہا ہی تھا کہ عدنان نے اپنا ہاتھ میر ی جانب بڑھا دیا۔ میں نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں خوشی کاتاثر تھا۔ میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اس نے مضبوطی سے میرا ہاتھ پکڑ کر ہلایا اور بولا ۔ ’’ہماری دوستی سے مایوسی نہیں ہو گی‘‘۔
’’میں یہی امید کرتا ہوں‘‘۔ میں نے کہا تو اس نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا۔ کاشف اپنا ہاتھ بڑھا چکا تھا۔ میں نے اس سے ہاتھ ملایا۔ ایسے ہی دونوں نے اسد کے ساتھ کیا۔ انہی لمحات میں میری نگاہ ماہم کے چہرے پر پڑی، جہاں بھرپور خوشی چھلک رہی تھی۔ میں نہیں جانتا تھا کہ ان لوگوں سے ہاتھ ملا کر میں نے اچھا کیا ہے یا غلط، لیکن اتنا ضرور جانتا تھا کہ ماہم سے تعلق چند قدم آگے بڑھ گیا ہے۔ ماہم سے یہ تعلق بھی بڑا عجیب سا تھا۔ معلوم نہیں میں جو کچھ بھی اس کی قربت کے لیے کرتا جارہا تھا، وہ میرے لیے ٹھیک تھا یا میری تباہی تھی۔ میں اسے بہت وقت دینا چاہتا تھا۔ ان لمحات میں وہ مجھے صحرا میں بھاگتی ہوئی ہرنی دکھائی دی۔ جسے میں قابو کرنا چاہ رہا تھا۔ چاہے تو وہ مجھے سراب دکھا کر ان ٹیلوں میں پیاسا مار دے یا پھر کسی نخلستان تک لے جائے۔ میں اب اس کی راہ پر تھا۔ جہاں تک وہ جاتی، میں نے اس کے پیچھے جانا تھا۔ ماہم نے میری جانب دیکھا اور چند لمحے دیکھتے رہنے کے بعد اس نے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں سے ذرا سا کچلا اور پھر کاشف کی طرف دیکھ کر بولی۔
’’کاشف۔۔۔! میرا خیال ہے ابان کو بتا دینا چاہئے، کیمپس میں ہمارا کتنا اثر ور سوخ ہے‘‘۔
’’وقت کے ساتھ ساتھ انہیں خود معلوم ہو جائے گا۔ اب ان کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔ باقی رہی اس اسد کی بات۔۔۔ تو لنچ کے بعد یہ سیدھا اپنے ہاسٹل جائے گا اور کس کی ہمت نہیں ہوگی کہ اسے ہاتھ بھی لگا سکے‘‘۔ کاشف نے کہا تو اتنے میں ویٹر منیوکارڈ لیے ہماری طرف آتا ہوا دکھائی دیا۔ تب ماہم نے کہا۔
’’اوکے۔۔۔! اب باتیں ختم ، کھانے پر توجہ دی جائے۔ یہ باتیں تو چلتی رہیں گی‘‘۔
مختلف باتوں کے دوران لنچ ختم ہو گیا۔ کاشف مجھے بتاتا رہا کہ وہ کیمپس میں اب بھی اپنا کتنا اثرورسوخ رکھے ہوئے ہیں۔ مخالفین کے ایسے کون لوگ ہیں جو خطرناک ہیں۔ آئندہ ہمیں کس طرح رہنا ہو گا۔ ان کی سیاسی جماعت کی طرف سے کس حد تک انہیں آشیرواد حاصل ہے۔ اٹھنے سے پہلے کاشف نے کہا۔
’’اسد۔۔۔! آپ جاؤ، عدنان خود آپ کو ہاسٹل تک چھوڑ کے آئے گا‘‘۔
’’ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے کاشف بھائی۔۔۔! میں خود چلا جاؤں گا، حالانکہ مجھے پتہ ہے وہ میرے منتظر ہیں۔ ان سے ڈرتا رہا تو پھر جی لیا میں نے ۔۔۔‘‘ اسد نے کہا تو میرا دل خوش ہو گیا۔ اس نے مردوں والی بات کی تھی۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔
’’نہیں اسد، میں تمہارے ساتھ جاؤں گا، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ کتے بلے صرف بھونکتے ہیں، کاٹتے نہیں، اصل کردار تو ان لومڑیوں کا ہوتا ہے، جو کتوں کو بھونکنے پر مجبور کرتی ہیں۔ ہمارا ٹارگٹ یہ کتے نہیں، وہ لومڑیاں ہیں۔ چلو چلتے ہیں‘‘۔ یہ کہتے ہوئے میں اٹھ گیا۔
’’میں بھی تمہارے ساتھ جاؤں گی‘‘۔ ماہم نے کہا اور اٹھ گئی۔ ہم پانچوں ریسٹوران سے باہر آگئے۔
میں اسد کو لے کر نکلاتو ماہم اپنی گاڑی میں اور کاشف، عدنان کو لے کر اپنی گاڑی میں میرے پیچھے چل دیئے۔ کچھ دیر بعد ہم ہاسٹل پہنچ گئے۔ میں نے گاڑی روکی اور اِدھراُدھر دیکھا۔ مجھے وہاں کوئی بھی مشکوک بندہ دکھائی نہیں دیا۔ وہ دو گاڑیاں ہاسٹل سے باہر ہی تھیں۔ میں اسد کے ساتھ ہاسٹل میں چلا گیا۔ اسد کا کمرہ گراؤنڈ فلور پر ہی تھا۔ میں اسے اپنے ساتھ لیے لاؤنج میں کھڑا رہا تاکہ معلوم ہو جائے کہ اسد آگیا ہے۔ کافی دیر تک کوئی نہیں آیا۔ اس وقت میں کمرے کی طرف جانے کے لیے پلٹا ہی تھا کہ چند نوجوان مجھے دائیں جانب کے کاریڈور میں سے آتے ہوئے دکھائی دیئے۔ وہ تیز تیز آرہے تھے۔ میں رک گیا۔ وہ ہمارے بالکل قریب آ کر رک گئے۔ پھر ان میں سے ایک لمبے قد والے، سانولے سے لڑکے نے کہا۔
’’آپ ابان علی ہیں، اور یہ اسد‘‘۔
’’ہاں، آپ کون ہو؟‘‘ میں نے جواب دیتے ہوئے پوچھا۔
’’مجھے کاشف بھائی نے ابھی فون پر بتایا ہے۔ آپ بے فکر ہو جائیں۔ ہم بھی منتظر تھے کہ کوئی معاملہ ہو تو ان لوگوں کو یہاں سے بھگائیں‘‘۔ یہ کہتے ہوئے اس نے ہاتھ ملایا اور بولا ۔ ’’مجھے میاں فیاض کہتے ہیں‘‘۔
’’ٹھیک ہے میں اب چلتا ہوں‘‘۔ میں نے کہا اور پھر اسد کی طرف دیکھ کر بولا۔ ’’مجھے اطلاع کرتے رہنا، میں بھی رابطے میں رہوں گا‘‘۔ یہ کہہ کر میں نے میاں فیاض کا ہاتھ چھوڑا اور ہاسٹل سے باہر نکل آیا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے میں نے پھر اِدھر اُدھر دیکھا، مجھے کچھ دکھائی نہیں دیا ۔ میں ہاسٹل کے مین گیٹ سے باہر آگیا۔ کچھ فاصلے پر مجھے ماہم کی گاڑی دکھائی دی، اس کے ساتھ ہی کاشف کی گاڑی تھی۔ میں ان کے پاس نہیں رکا چلتا چلا گیا۔ میں نے بیک مرر میں دیکھا، وہ دونوں میرے پیچھے آرہے تھے۔ مین سڑک پر پہنچا تو ماہم کا فون آگیا۔
’’اب کیا پروگرام ہے؟‘‘
’’جیسا تم کہو؟‘‘ میں نے خمار آلود آواز میں کہا۔
’’اچھا، کچھ دیر بعد بتاتی ہوں‘‘۔ اس نے کہا اور فون بند کر دیا۔ میں نے گاڑی بڑھا دی۔ میرا رخ سبزہ زار کی طرف تھا۔
l l l
مجھے سبزہ زار پہنچے ہوئے اتنا زیادہ وقت نہیں ہوا تھا۔ میرا ذہن پوری طرح اسد کی طرف تھا۔ وہ ہر دس پندرہ منٹ کے بعد مجھے اپنی خیریت کی اطلاع دے رہا تھا۔ میں اگرچہ مطمئن تھا لیکن میری تسلی نہیں ہو رہی تھی۔ یوں حبس تھا جیسے طوفان کے آنے سے پہلے خاموش حبس ہوتا ہے۔ بنیادی طورپر میری بے چینی کی یہی وجہ تھی۔ دوسری طرف لاشعوری طور پر میں ماہم کے فون کا منتظر تھا۔اس نے کچھ دیر بعد مجھے فون کرنے کے لیے کہا تھا، جو اس نے نہیں کیا تھا۔ میں ڈرائنگ روم میں صوفے پر اپنے پاؤں پھیلا کر بیٹھا ہوا تھا۔ یونہی بیٹھے بیٹھے دن غروب ہو گیا۔ اسد کی طرف سے خیریت کی اطلاع تھی جبکہ ماہم نے فون نہیں کیا۔ میں اسے خود فون نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں اس کے بارے میں سوچتا رہا۔وہ پرت در پرت میرے سامنے کھل رہی تھی۔ کاشف اور عدنان سے ملانے کے لیے اس نے کتنا خوبصورت طریقہ اپنایا تھا، میں یہی سمجھ رہا تھا کہ وہ مجھے اپنے طور پر لنچ پر بلا رہی ہے۔ ان سے ملاقات ہو جانے سے ایک لمحہ پیشتر بھی مجھے احساس نہیں ہونے دیا۔ اس واقعہ سے میں یہی اندازہ لگا سکتا تھا کہ ماہم جو بظاہردکھائی دے رہی ہے ، وہ نہیں ہے، وہ بہت کچھ ہو سکتی ہے۔ کیمپس پر قابض تنظیم کے مخالفین سے اس کا رابطہ یونہی معمولی بات نہیں ہو سکتی تھی۔ میں اس کے خیالوں میں گم تھا کہ سلیم آگیا۔ وہ آتے ہی سلام کر کے سامنے والے صرف پر بیٹھ گیا۔ تب میں نے پوچھا۔
’’سناؤ۔۔۔! کہاں رہے سارا دن؟‘‘
’’بس سر۔۔۔! اِدھر اُدھر گھومتا رہا‘‘۔ آوارہ گردی ہوتی رہی ہے۔’’اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’یار کوئی ہمیں بھی آوارہ گردی کروا دیا کرو اور ادھر گھر میں تو بور ہو جاتا ہوں‘‘۔ میں نے یونہی مذاق میں کہا تو وہ چہکتے ہوئے بولا۔
’’کیا بات کرتے ہیں سرجی، سارا دن تو آپ کا رنگینیوں میں گزر جاتا ہے۔ آپ کو کہاں بوریت ہوتی ہو گی‘‘۔
’’کیسی رنگینی یار ، کیا سوچ کر آیا تھا، آتے ہی پھڈوں میں پھنس کر رہ گیا ہوں۔ اس سے جان چھوٹے گی تو کوئی رنگینی دکھائی دے گی‘‘۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’اچھا ہے نا سر، ایسے پھڈے مردوں کے لیے ہی ہوتے ہیں۔ یہ تو کوئی مسئلہ نہیں ہے، مسئلہ تو یہ ہے کہ آ پ خود ہی اگر رنگینی دیکھنا پسند نہیں کرتے وہ نظر کیسے آئے؟‘‘ وہ اس بار قہقہہ لگاتے ہوئے بولا تھا۔
’’یار، میں نے کون سا آنکھیں بند کی ہوئی ہوتی ہیں‘‘۔ میں نے خوشگوار حیرت سے کہا۔
’’بات دراصل یہ نہیں ہے، اصل میں برطانیہ کا ماحول اور یہاں کے ماحول میں آپ ابھی تک فرق محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ اسی فرق کو جیسے ہی آپ نے محسوس کیا، آپ کو رنگینی دکھائی دینا شروع ہو جائے گی‘‘۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
’’یہ عجیب منطق ہے، ایسا نہیں ہے، میں چاہے لاکھ برطانیہ میں رہا ہوں لیکن میرا اندر اب بھی وہی مشرقی ہے۔ شرماتی، لجاتی، نازونخرہ دکھاتی، دل میں کچھ اور زبان پر کچھ اور ، اشاروں کنایوں سے سمجھاتی لڑکی میری آئیڈیل ہے، ایک ہی مرد پر اپنا سب کچھ وار دینے والی ایسی لڑکی میری کمزوری ہے‘‘۔ میں نے اسے مسکراتے ہوئے بتایا۔
’’تو سرجی، پھر ایسی لڑکی تو شاید ہی آپ کوملے۔ اب وہ دور گزر گیا۔ مغربی ماحول کو اپناتے ہوئے نئی نسل اپنی اقدار بھی بھول گئی ہے۔ سو نہ وہ ادھر کے رہے ہیں اور نہ ادھر کے۔۔۔ میں اکثر سوچا کرتا ہوں ہم خود پر جتنی بھی مغربیت طاری کرلیں، کیا ہم اندر سے مغربی ہو سکتے ہیں؟ کیا ہم میں سے مشرقیت نکل سکتی ہے۔ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو کیوں خود کوچوں چوں کا مربہ بنا رہے ہیں‘‘۔ وہ بڑی حد تک جذباتی ہو گیا تھا۔
’’بات تو تمہاری ٹھیک ہے۔ اصل میں یہ کیمسٹری وراثتی بھی ہے، کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ہر انسان کی اپنی ایک کیمسٹری ہے۔ وہ اس کے مطابق جذبات واحساسات رکھتا ہے، اس کے مطابق اپنا رویہ اور برتاؤ رکھتا ہے۔ ہر روح کی اپنی کیمسٹری ہے، رنگ ہے اور خوشبو۔۔۔‘‘ میں یہ کہتے کہتے اچانک خاموش ہو گیا۔ میرے سامنے سلیم تھا نہ جانے وہ میری بات کو سمجھ بھی رہا تھا یا نہیں۔ پھر لمحہ بھر توقف کے بعد بولا۔ ’’خیر۔۔۔! ہم تو رنگینی کی بات کر رہے تھے‘‘۔
’’لیکن میں آپ کی اس کیمسٹری والی بات میں اٹک کر رہ گیا ہوں۔ اس کی ذرا تشریح کر دیں۔۔۔‘‘ اس نے کہا تو میں چونک گیا۔ میں نے جو اس کے بارے میں انداز لگایا تھا وہ درست نہیں تھا۔ وہ مجھے اس معاملے میں بھی بہت سمجھ دار لگا تھا۔ سو میں نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’چھوڑ، فی الحال تو رنگینی کی بات کرو، کیمسٹری پر کسی اور وقت میں بات کرلیں گے۔۔۔‘‘
’’جیسے آپ کی مرضی اور باقی رہی رنگینی کی بات تو وہ آپ مجھ سے بہتر سمجھتے ہیں۔ رنگوں میں بسے ہوئے بندے کو باہر بے رنگی ہی دکھائی دے گی نا۔۔۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ گیا۔ پھر چند قدم کے بعد بولا۔ ’’چائے پئیں گے آپ؟‘‘
’’لے آؤ، دونوں مل کر پیتے ہیں، جندوڈا دو بار پوچھ گیا ہے، لیکن دل نہیں مانا‘‘۔ میں نے اسے بتایا۔
’’میں خود اپنے ہاتھوں بنا کر لاتا ہوں‘‘۔ یہ کہہ کر وہ تیز قدموں سے اندر چلا گیا اور میں اس کی بات کو سوچنے لگا کہ وہ رنگوں اور بے رنگی کے بارے میں کیا بات کر گیا۔ ہے میں اسی خیال میں گم تھا کہ میرا سیل فون بج اٹھا۔ دوسری جانب ماہم تھی۔
’’سور ی ابان۔۔۔! میں فوراً فون نہیں کر سکی۔ معاملات ہی کچھ ایسے آن پڑے تھے‘‘۔
’’کوئی بات نہیں، بندہ مصروف ہو ہی جاتا ہے، اس میں سوری والی کیا بات ہوئی‘‘۔ میں نے کہا تو وہ تیزی سے بولی۔
’’اونہیں، دراصل میں نے خود فون کرنے کے لیے کہا تھا، خیر۔۔۔! کل کیمپس سے تو آف ہے نا، آپ کیا کر رہے ہیں کل‘‘۔
’’کچھ نہیں، سو کر ہی دن گزاروں گا‘‘۔ میں نے یونہی عام سے انداز میں کہا۔
’’نہیں آپ سوئیں نہیں کل، آپ کا دن میں ضائع کروں گی۔ آپ رات کو جی بھر کے سولیں‘‘۔ اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔
’’جیسے حکم ۔۔۔!‘‘ میں نے خوشگوار لہجے میں کہا۔
’’ٹھیک ہے، میں صبح بات کروں گی‘‘۔ اس نے کہا اور پھر چند باتوں کے بعد فون بند کر دیا۔ میں پُرسکون ہو گیا اور اپنے بستر میں چلا گیا۔ اب مجھے صرف اسد کی فکر تھی۔ اس کی طرف سے بھی خیریت کے پیغام سیل فون پر آرہے تھے۔ وہ کیا کچھ کر رہا ہے، یہ بھی ساتھ ساتھ وہ مجھے مطلع کر رہا تھا۔ میں نے ڈنر لیا، جندوڈا اور سلیم سے باتیں کیں ، کچھ دیر ٹی وی کے سامنے بیٹھا رہا اور پھررات گئے سو گیا۔
صبح میری آنکھ فون کی بیل پر ہی کھلی۔ میں نے خمار بھری آنکھوں سے فون دیکھا تو ماہم کی کال تھی۔ میں نے کال ریسیو کر کے آنکھیں بند کرلیں۔
’’مجھے اندازہ تھا کہ تم ابھی تک سورہے ہو گے۔ اس لیے فون کیا ہے میں نے‘‘۔ اس نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’تمہارا انداز درست نکلا‘‘۔ میں نے بھاری لہجے میں کہا تو وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر جلدی سے بولی۔
’’اچھا جلدی سے اٹھواور پھر تیزی سے تیار ہو جاؤ، ہمیں کہیں جانا ہے‘‘۔
’’کہاں جانا ہے، یہ تو میں نہیں پوچھوں گا، لیکن آپ کے حکم کے مطابق تیار ضرور ہو جاتا ہوں‘‘۔ میں نے بھی خوشگوار انداز میں کہا۔
’’چلیں، پھر دیر مت کریں، میں ہر دس منٹ بعد فون کر کے چیک کرتی رہوں گی‘‘۔ یہ کہتے ہی اس نے فون بند کر دیا۔ میں چند لمحے فون کو تکتا رہا، پھر اٹھ کر باتھ روم کی جانب بڑھ گیا۔
میرے ناشتہ ختم کر لینے تک اس نے کئی بار فون کرلیا۔ میں نے چائے کا آخری سپ حلق سے اتارا اور خود اسے فون کر کے بتا دیا کہ میں تیار ہوں، بتاؤ کہاں آنا ہے۔ اس نے شہر میں ایک جگہ بتائی جو سبزہ زار سے دس پندرہ منٹ کی ڈرائیو پر تھی۔ شاید اس نے مجھے اندر سے دیکھ لیا تھا، میرے رکتے ہی وہ باہر آگئی۔ اس کے ساتھ ہی اسد، رابعہ، تنویر کے علاوہ چند اور بھی کلاس فیلوز باہر آگئے۔ میں جلدی سے باہر آگیا۔ وہ سب خوب تیاری کر کے آئے ہوئے تھے۔ میں نے ان کی طرف دیکھ کر حیرت سے پوچھا۔
’’خیریت تو ہے تم سب لوگ۔۔۔‘‘
’’جناب جی کو تو جیسے معلوم ہی نہیں ہے‘‘۔ رابعہ نے یوں کہا، جیسے وہ ناراض سی ہو۔ تبھی فوراً ماہم بولی۔
’’نہیں رابعہ، انہیں قطعاً پتہ نہیں ہم نے کہاں جانا ہے، میں نے انہیں بتایا ہی نہیں ہے‘‘۔
’’کیوں؟‘‘ اب اس نے ماہم کی طرف گھور کر دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ایسے ہی سرپرائز کے لیے، میں نے سوچا کہیں انکار کرنے کے لیے کوئی بہانہ ہی نہ بنا دے‘‘۔ ماہم نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا تو میں نے کہا۔
’’چلو اب تو بتادو‘‘۔
’’ہم سب ہمارے فارم ہاؤس پر جا رہے ہیں، پک نک کے لیے سارا دن وہیں گزاریں گے‘‘۔ ماہم نے میری طرف دیکھ کر کہا اور اپنی گاڑ ی کی طرف بڑھ گئی۔ رابعہ میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔ پچھلی نشست پر اسد اور تنویر آ گئے، باقی سب لڑکیاں اور لڑکے اپنی اپنی گاڑیوں میں تھے۔ فریحہ ہی صرف ماہم کے ساتھ بیٹھ گئی۔ ہم کل سترہ تھے، جن کا قافلہ چلا تو بس پھر چلتا چلا گیا۔ ہمارے درمیان خاموش تھی ، جسے میں نے توڑا۔
’’تم سب لوگ تو یوں خاموش ہو جیسے کسی خطرناک مہم پر جارہے ہو۔ کوئی بات وات کرویار‘‘۔
’’بات کیا کریں، کوئی ہے بات ایسی‘‘۔ رابعہ نے سلگتے ہوئے کہا۔
’’کیوں کیا ہوا؟‘‘ میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’جس دن سے آئے ہیں،کوئی دن پُرسکون نہیں گزرا، روزانہ کوئی نہ کوئی مسئلہ، کیمپس نہ ہوا۔ ہم تو کسی میدانِ جنگ میں آگئے ہیں‘‘۔ اس نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔
’’کہتی تو تم ٹھیک ہو، پہلے ہی دن سے ہمارے ساتھ ایسے ہی ہو رہا ہے‘‘۔ تنویر گو پانگ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تو اسد بولا۔
’’کوئی شک نہیں کہ رابعہ ٹھیک کہہ رہی ہے لیکن اب قسمت ہی میں ایسا ہے، اب بتاؤ، ہم چاروں میں سے کوئی یہ جنگی قسم کے حالات چاہتا ہے۔ میرے خیال میں کوئی بھی نہیں‘‘۔
’’چھوڑو یار، کیوں مایوسی کی باتیں کرتے ہو، ان حالات کا مقابلہ کرنا ہو گا، یہی حقیقت ہے‘‘۔ میں نے انہیں حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔
’’وہ تو اب کرنا ہے ابان، لیکن ایسا بھی کیا، ہم یہاں پڑھنے آئے ہیں کوئی جنگ لڑنے نہیں‘‘۔ رابعہ نے پھر اسی اکتائے ہوئے لہجے میں کہا تو میں ہنس دیا اور سکون سے بولا۔
’’رابعہ۔۔۔ کچھ دن کی بات ہے، سب ٹھیک ہو جائے گا، لیکن تم مجھے ایک بات بتاؤ اتنا اکتائی ہوئی کیوں ہو؟‘‘
’’تمہیں نہیں معلوم ابان، یہ ہاسٹل میں نا، مجھے بہت زیادہ لڑکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے ہی فضول قسم کی باتیں کرتی رہتی ہیں۔ ہاں زیادہ سینئرز ہوتی ہیں نا‘‘۔ اس نے روہانسو ہوتے ہوئے وجہ بتاتی تو میں سمجھ گیا، وہ بہت حد تک دباؤ میں آگئی ہوئی تھی۔ ایسے وقت میں اسے حوصلہ دینا بہت ضروری تھا، اس لیے میں نے چند لمحے سوچ کر کہا۔
’’رابعہ۔۔۔! یقین جانو، مجھے تمہاری بہت ساری باتوں سے حوصلہ ملا ہے، ایک وقت تھا کہ میں بالکل مایوس ہو گیا تھا۔ تمہارے چند فقروں نے سمجھو مجھے ایک ایک نئی زندگی دے دی تھی۔ اب تم ہو کہ خود مایوس ہو رہی ہو، جو ہونا ہے، وہ ہو کر ہی رہے گا، تم دل چھوٹا مت کرو، مسکراؤ، اسی طرح ہم نے ان حالات کا مقابلہ کرنا ہے؟‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے مگر۔۔۔‘‘ رابعہ نے زخمی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو اسد نے دھیمے سے لہجے میں کہا۔
’’یقین جانو رابعہ، اس طرح تمہارا چہرہ بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا ہے۔ ذرا فریش فریش ہو جاؤ، تو اس گاڑی میں بھی بہار آجائے۔ صرف ایک قہقہہ اور ماحول کو زندگی مل جائے گی‘‘۔
وہ کچھ اس انداز سے بولا کہ رابعہ نے ایک ترچھی نگاہ اس پر ڈالی اور اپنے قہقہہ کو ضبط کرتے ہوئے بولی۔ ’’تم بھی نا‘‘۔
’’چلو اب ۔۔۔‘‘ اسد نے کہا تو وہ دھیما سا ہنس دی۔’’ یہ ہوئی نا بات‘‘۔
’’اچھا مجھے یہ بتاؤ، یہ ماہم نے اچانک کیسے پروگرام بنا لیا، کانوں کان خبر بھی نہ ہونے دی‘‘۔ میں نے ماحول کو بدلنے کے لیے موضوع ہی بدل دیا ۔ اس وقت ہم شہر سے باہر آگئے تھے اور ہمارے دونوں طرف فصلیں لہلہارہی تھیں۔
’’یقین جانیں ابان، مجھے بالکل بھی معلوم نہیں تھا۔ ا س نے صبح فون کر کے مجھے کہا۔ ’’رابعہ نے وضاحت کی۔ پھر کافی حد تک چھیڑنے والے انداز میں کہا۔ ’’آپ خود ہی پوچھ لینا، وہ ہم سب سے زیادہ آپ کے قریب ہے‘‘۔
’’زہے نصیب، یہ کبھی سچ ہو جائے‘‘۔ میں نے تیزی سے کہا تو سبھی ہنس دیئے۔ پھر سارا راستہ ایسی ہی باتوں میں کٹ گیا۔
ماہم کے فارم ہاؤس تک پہنچے تو دوپہر ہو جانے والی تھی۔ چمکتی ہوئی دھوپ میں کئی ایکڑ پر پھیلا ہوا فارم ہاؤس بالکل منفرد لگ رہا تھا ۔ اردگرد لہلہاتی فصلوں کے سر ے پر سفید عمارت اور پھر کے ساتھ پارک کی طرز پر پھیلے ہوئے لان بہت خوبصورت لگ رہے تھے۔ انہیں دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ یہاں خوب محنت کی گئی ہے اور یہ فارم ہاؤس کسی نے دل سے بنایا ہے۔ پختہ فرش پر گاڑیاں روک دی گئیں، جس کے ساتھ ہی سبز لان میں سفید رنگ کی کرسیاں بچھی ہوئیں تھیں اور وہاں پر فارم ہاؤس کے ملازمین کھڑے تھے۔ ہم سبھی وہیں جا بیٹھے تو ملازمین نے فوراً ہی ہمارے سامنے مختلف برانڈ کا سوڈا رکھ دیا۔ماہم مجھ سے ذرا فاصلے پر بیٹھی ہوئی تھی اور باتوں میں مصروف تھی۔ میں نے دائیں طرف بنی عمارت کو دیکھا اور پھر اردگرد کے ماحول کا جائزہ لیا۔ تبھی اچانک میرے ذہن میں ایک خیال بجلی کے کوندے کی طرح چمکا۔ یہ فارم ہاؤس کہیں اس جگہ تو نہیں بنا ہے جو میرے پاپا کے گاؤں کے قریب زمینیں تھیں۔ میرے دل میں شدید خواہش ابھری کہ انکل زریاب سے اس بارے میں معلومات لوں۔ مگر وہ موقعہ ایسا نہیں تھا کہ میں ان سے پوچھا سکتا۔ میں نے اپنی اس خواہش پر بڑی مشکل سے قابو پایا۔ میں نے سوچ لیا کہ جاتے ہی یہ ساری معلومات لوں گا۔ وہ کچھ ایسے لمحات تھے، جب میرے دل میں رک ہو ک سی اٹھی اور میں ایک طویل سانس لے کر رہ گیا۔ کچھ لمحے یونہی گزر گئے۔ تبھی ماہم نے سب کو متوجہ کرتے ہوئے کہا۔
’’ہیلو فرینڈز۔۔۔! آ ج کے دن میں یہ جو تھوڑا سا وقت ہم ساتھ گزاریں گے، یہ بہت پُرلطف ہونا چاہئے، کھانا ہم اکٹھے کھائیں گے، چاہیں تو یہیں اکٹھے رہیں اور جو گھومنا پھرنا چاہتے ہیں وہ اپنے طور پر انجوائے کر سکتے ہیں۔ شام چار بجے یہاں سے واپسی ہو گی، تب تک ہم یہاں اکٹھے ہو جائیں گے۔ ڈن۔۔۔‘‘ یہ کتے ہوئے اس نے سب کی طرف دیکھا۔
سبھی متفق دکھائی دیئے ۔ فارم ہاؤس دیکھنے کا تجسس تو سب کو تھا۔ وہ سب دھیرے دھیرے اٹھنے لگے۔ یہاں تک کہ میں اور ماہم وہیں رہ گئے۔ اس نے میری جانب دیکھا اور بڑے خمار آلود سے لہجے میں بولی۔
’’ہم بھی چلیں۔۔۔‘‘ تب میں نے اس کی طرف بہت غور سے دیکھا۔ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
’’کہاں۔۔۔؟‘‘ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تو وہ چند لمحے میری طرف دیکھتی رہی، پھر بولی۔
’’آؤ، اندر چلیں، میں نے آپ سے کچھ باتیں بھی کرنا ہیں‘‘۔
’’چلو۔۔۔‘‘ میں نے اٹھتے ہوئے کہا تو وہ بھی فوراً اٹھ گئی۔ سفید عمارت کی طرف بڑھتے ہوئے اس نے بڑے عجیب سے لہجے میں کہا۔
’’ابان۔۔۔! یہ فارم ہاؤس میرے پاپا نے بہت شوق سے بنوایا ہے۔ وہ یہاں اکثر آتے رہتے ہیں اور پتہ ہے میں آج یہاں کیوں آئی ہوں۔۔۔؟‘‘
’’مجھے کیا پتہ تمہارے دل میں کیا ہے‘‘۔ میں نے یونہی کہہ دیا۔ بلاشبہ یہ فقرہ میرے لبوں سے یونہی پھسل گیا تھا۔ شاید کچھ دیر پہلے آنے والے خیال کا میرے ذہن پر اثر تھا۔ اسی وجہ سے ایسا ہو گیا تھا۔
’’میرے دل میں۔۔۔ہاں میرے دل میں کیا ہے، میں بہت کچھ کہنا چاہتی ہوں ابان لیکن۔۔۔ شاید ابھی وقت نہیں۔ میں یہ بات کیسے کہوں، سمجھ میں نہیں آرہی‘‘۔ وہ اپنا اظہار کرتے کرتے ایک دم سے گڑبڑا سی گئی تھی۔ پھر چند سیڑھیاں پار کرنے کے بعد وہ بولی۔ ’’ہو جائیں گی یہ بھی باتیں۔۔۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ ایک دم سے شوخ ہو گئی۔ میں اس کی پل پل بدلتی کیفیات کو دیکھ رہا تھا۔ ہم عمارت کے اندر چلے گئے۔ مختلف کمروں میں گھومتے، ان پر تبصرہ کرتے، میں کافی حد تک نارمل ہو چکا تھا۔ کچھ دیر پہلے جو کیفیت مجھ پر طاری ہو گئی تھی، وہ ختم ہو کر رہ گئی تھی۔ عمارت کی دوسری طرف ایک چھوٹی سی جھیل بنائی ہوئی تھی، جس کے درمیان سے ایک پختہ راستہ جارہا تھا اور عین جھیل کے وسط میں گول جگہ پر ختم ہو جاتا تھا۔ وہاں فائبر کی چھتری لگی ہوئی تھی۔ دائرہ میں لوہے کا جنگلا اورفائبر کی نشستیں بنی ہوئی تھیں۔ ماہم مجھے لے کر ایک جانب بڑھ گئی۔ ہم جھیل کے وسط میں ان فائبر کی نشستوں پر آن بیٹھے۔ وہاں سے اردگرد کا ماحول بڑا پُر کشش دکھائی دے رہا تھا۔ جھیل کا پانی اور کناروں پر اُگے ہوئے پودوں کے درمیان ان گنت کھلے ہوئے رنگین پھول۔ پس منظر میں سفید عمارت اور دوسری طرف سرسبز لہلہاتی ہوئی فصلیں، بڑے دلکش نظاروں میں گھرے ہم دونوں آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ماہم کی طرف دیکھا وہ میری جانب دیکھ رہی تھی۔ تب میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’کیا دیکھ رہی ہو؟‘‘
’’یہی کہ تم اتنے اچھے کیوں لگ رہے ہو‘‘۔یہ کہتے ہوئے وہ ایک دم سے کھلکھلا کر ہنس دی۔ جبکہ میں تذبذب میں پڑ گیا۔ کیا یہ اس کے دل کی آواز تھی یا کہ اس نے مزاح میں ایسا کہا تھا؟ میں نے ایک لمحے کو سوچا اور پھر مذاق ہی میں بولا۔
’’میں اچھا ہوں۔۔۔ اس لیے اچھا لگ رہا ہوں‘‘۔
’’یہ تو ہے۔۔۔‘‘ اس نے فوراً اعتراف کر لیا، پھر میری طرف دیکھ کر بولی۔ ’’کل میں بہت ساری باتیں کہتے کہتے رک گئی جب تم نے سیڑھیاں اترتے ہوئے مجھ سے سچ پوچھا تھا۔ کل میں نے کاشف وغیرہ سے تمہیں ملوانا تھا، اس لیے وہ ماحول نہیں بنا۔۔۔ کل شام میں نے فیصلہ کیا کہ یہاں بیٹھ کر تم سے باتیں کروں گی‘‘۔
’’ہوں۔۔۔ اتنی اہم باتیں ہیں؟‘‘ میں نے دلچسپی لیتے ہوئے کہا ۔ تو وہ چند لمحے میری طرف دیکھتی رہی پھر جذباتی لہجے میں بولی۔
’’ہاں ابان۔۔۔! تم مجھے بہت اچھے لگنے لگے ہو‘‘۔
’’واہ۔۔۔ ! میری قسمت، تم جیسی حسین اور طرح دار لڑکی مجھے پسند کرنے لگے‘‘۔ میں نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔
’’میں کیا ہوں۔۔۔ اسے چھوڑو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تم پہلی نگاہ ہی میں مجھے بہت اچھے لگے تھے، آئیڈیل کے قریب تر ہو، میں چاہے جتنا مغربی انداز پوز کروں، لیکن ہوں تو ایک مشرقی لڑکی، مجھے یہ اظہار نہیں کرنا چاہئے تھا، لیکن اس لیے کر دیا کہ میں اپنی چاہت کو بہت خاص رکھنا چاہتی ہوں۔ اتنا خاص، اتنا منفرد کہ وہ صرف میرے لیے ہو۔۔۔‘‘ وہ بڑے جذباتی انداز میں کہتے ہوئے کھو گئی تھی۔ میں نے اس کی طرف غور سے دیکھا ۔
’’مطلب تم جملہ حقوق اپنے نام کر رہی ہو‘‘۔ میں نے مسکراتے ہوئے مزاحیہ انداز میں کہا تو وہ تڑپ کر بولی۔
’’ابان، اسے مذاق مت سمجھ، میں سیریس ہوں‘‘۔
’’اگر تم سیریس ہو، تو مجھے بھی اپنے ساتھ پاؤ گی، یقین جانو، تمہارے جیسی اچھی اور خوبصورت لڑکی کا ساتھ ہو۔اس سے بڑھ کر میری خوش قسمتی کیا ہو سکتی ہے‘‘۔میں نے بھی انتہائی سنجیدگی سے کہا تو اس نے بڑے ناز سے میرا ہاتھ تھام لیا اور لرزتے ہوئے لہجے میں بولی۔
’’ابان۔۔۔! زندگی نے مجھے سب کچھ دیا ہے اور وہ کچھ جو میں نے چاہا۔ نہ جانے کیوں تم مجھے اتنے اچھے لگنے لگے ہو۔ میں نے ہمیشہ من مانی کی ہے، لیکن تمہارے معاملے میں میرے دل نے میری ایک نہیں سنی۔ جو میرے خیالوں میں بسا ہوا تھا، تم ویسے ہی لگتے ہو، میں بس اتنا چاہتی ہوں کہ تم مجھے کبھی ہرٹ مت کرنا، جہاں تک جملہ حقوق کی بات ہے، میں اس نہیں گھبرانے والی، مجھے اپنی محبت پر یقین ہے، تمہاری جتنی بھی چاہنے والیاں ہوں گی میری محبت تمہیں میرے پاس لے آئے گی۔ میں بس یہ چاہتی ہوں کہ ۔۔۔‘‘ وہ کہتے کہتے رک گئی۔
’’بولو، کیا چاہتی ہو؟‘‘ میں جلدی سے پوچھا تو اس نے میرے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے کہا۔
’’یہ تعلق جس قدر دنیا کی نگاہوں میں نہیں ہو گا، ہم اتنا ہی پُر سکون رہیں گے۔یہ تعلق اگر لوگوں کی زبان پر آگیا تو سمجھو ہمارے لیے مصیبتیں کھڑی ہو جائیں گی۔ دو سا ل بعد، جب ہم کیمپس سے جائیں گے تب دیکھا جائے گا کہ ہم نے کیا فیصلہ کرنا ہے میں تم پر کبھی بھی بوجھ نہیں بنوں گی، لیکن یہ دو سال میں تمہارے ساتھ پُر سکون گزار دینا چاہتی ہوں‘‘۔
اس نے کچھ اس انداز سے کہا کہ میں حیران رہ گیا۔ وہ باتیں جو میں نے اس سے کہنا تھیں، یہ باتیں وہ کر رہی تھی اور اتنی جلدی وہ اپنا آپ میرے سامنے کھول کر رکھ دے گی؟ میں حیران اور متذبذب ہو گیا۔ شاید آسانی سے ہاتھ آ جانے والی چیز کے بارے میں ایسی ہی کیفیت ہو جاتی ہے، لیکن کیا وہ واقعتاً میرے ہاتھ آگئی ہے؟ یہی سوال میرے دماغ میں ٹھوکریں مارنے لگا۔ نہ جانے کیوں میرے دماغ میں یہ سوال اٹھنے لگا کہ چند روزہ تعلق اتنا گہرا نہیں ہوا کر تا، جس قدر ماہم ظاہر کر رہی ہے، پہلی نگاہ کی محبت کا میں قائل تھا یا نہیں، اگر ہو بھی تو کیا کوئی جذباتی پن میں اس قدر آگے بڑھ جاتا ہے کہ بات فیصلہ کرنے یا نہ کرنے تک آ پہنچی ہے۔ میں انہی خیالات میں کھویا ہوا تھا کہ ماہم نے میرے ہاتھ کودباتے ہوئے کہا۔ ’’کیا سوچنے لگے ابان؟‘‘
’’کچھ نہیں‘‘۔ میں نے چونکتے ہوئے کہا پھر مسکراتے ہوئے بولا۔ ’’کتنا رومانوی خیال ہے ماہم، دنیا کی نگاہوں میں ہم صرف کلاس فیلو کی حد تک ہوں اور ایک دوسرے کے اتنے قریب ہو جائیں کہ ۔۔۔‘‘ میں نے جان بوجھ کر فقرہ ادھورا چھوڑ دیا۔
’’بس، میں اب اپنی محبت کو آزماؤں گی‘‘۔ اس نے گہری نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ہاں، ہمار ی محبت بالکل منفرد انداز میں پروان چڑھے گی‘‘۔ میں نے کہا تو وہ قہقہہ لگا کر ہنس دی۔
پھر بولی۔ ’’ابان۔۔۔! تم بھی کیا سوچو گے، میں اتنی جلدی اپنا دل کھول کر تمہارے سامنے رکھ دیا‘‘۔
’’اچھا کیا نا، کوئی دوسرا اس دل پر قابض ہو جاتا‘‘۔ میں نے کہا۔
’’میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گی‘‘۔ اس نے تیزی سے کہا اور میرا ہاتھ چھوڑ دیا۔ انہی لمحات میں مجھے خیال آیا تو میں نے اسی کے تحت کہا۔
’’ماہم ، تم بہت خوبصورت ہو، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن ایک شے تمہارے چاند سے حسن میں داغ کی مانند لگتی ہے‘‘۔
’’وہ کیا؟‘‘ وہ بے ساختہ بولی۔
’’یہی تمہاری زلفیں، انہیں تراشانہ کرو، مجھے لانبے بالوں والی لڑکی اچھی لگتی ہے‘‘۔ میں نے اس کی طرف محبت پاش نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’یہ تو کوئی بات نہ ہوئی، اب میں بال بڑھا لوں گی‘‘۔ اس نے کہا اور میری طرف حیا بار آنکھوں سے دیکھا، انہی لمحات میں اس کا سیل فون بج اٹھا، اس نے دیکھا اور بولی۔ ’’لو، کھانا لگ گیا، آئیں‘‘۔
ہم دونوں سفید عمارت کی جانب بڑھ گئے۔ اس دوران وہ فون کر کے سب کو مطلع کرتی رہی۔ جبکہ میں اس کی باتوں میں کھویا ان کے معنی تلاش کرتا رہا۔
فارم ہاؤس کے ملازمین نے کھانے پر خاصا اہتمام کیا ہوا تھا۔ سب نے خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا۔ پھر وہیں ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر باتیں کرتے رہے۔ یہاں تک کہ سہ پہر ہو گئی۔ سبھی واپس پلٹنے کے لیے پر تولنے لگے۔ واپسی پر گاڑی میں میرے ساتھ تنویر گوپانگ تھا۔ اسد اور رابعہ ایک دوسری گاڑی میں تھے۔ میں نے بیٹھتے ہی گاڑی سٹارٹ کی اور چل دیا۔
’’وہ دونوں ادھر کیوں بیٹھ گئے ہیں‘‘۔ میں نے یونہی سرسری انداز میں پوچھا تھا، جس پر تنویر نے میری طرف دیکھا اور لبوں پر خاص طرح کی مسکراہٹ لاتے ہوئے بولا۔
’’یار اگر وہ دونوں خوشگوار ماحول چاہتے ہیں تو ہمیں ان کا خیال رکھنا چاہئے‘‘۔
’’مطلب۔۔۔؟‘‘ میں نے معنی خیز انداز میں پوچھا تو قہقہہ لگا کہ ہنس دیا۔ پھر بولا۔
’’اگلی بار جب ہم یہاں پر آئے نا تو میری اپنی گاڑی ہوگی اور میں بھی کسی کو اپنے ساتھ نہیں بٹھاؤں گا، سوائے ایک خصوصی مہمان کے ، ماہم نے بڑ ا اچھا موقعہ دیا ہے۔ ’’تنویر نے بڑی گھما پھرا کر بات کی تو میں سمجھ گیا، رابعہ اور اسد میں کوئی نرم جذبہ پروان چڑھ گیا ہے۔ ہم دونوں آج کی اس پکنک کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے جارہے تھے۔ میری گاڑی آگے تھی اور باقی پیچھے ، اتنی زیادہ رفتار بھی نہیں تھی۔ ہم ایک قافلہ کی صورت بڑے آرام سے جارہے تھے ۔ ایک جگہ پر موڑ تھا، جیسے ہی ہم وہاں پہنچے، میں نے گاڑی موڑی تو سامنے سڑک کے دائیں بائیں جانب دو گاڑیاں کھڑی ہوئی تھیں۔ ایک لینڈ کروزر تھی اور دوسری ہنڈا اکارڈ ، چشم زدن میں ان گاڑیوں کے دروازے کھلے، ان میں سے دو گنوں کی نالیں بر آمد ہوئیں اور فائر ہو گیا۔ ان کا نشانہ سیدھ میں نہیں تھا، بلکہ گاڑی کے ٹائر تھے، ایک کے بعد ایک دھماکا ہوا۔ میں فقط اتنا ہی دیکھ سکا کہ وہ گاڑیاں چل دی تھیں۔ میرے ہاتھوں میں اسٹیئرنگ بے قابو ہو گیا اور گاڑی ایک درخت سے جا ٹکرائی۔ پھر اس کے بعد اندھیرا چھا گیا۔ میں ہوش وحواس سے بے گانہ ہو گیا۔
l l l
زندگی کس قدر پائیدار ہے یا نا پائیدار، یہ بحث اپنی جگہ، لیکن موت کو انتہائی قریب سے دیکھنے کے بعد زندگی کی طرف پلٹ آنا، یہاں تک کہ موت کے لمس کو بھی محسوس کیا جا سکے، بحث اس بعد کی کیفیت سے ہے۔ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا حوصلہ بہت کم لوگوں میں ہوتا ہے۔ جو با حوصلہ لوگ موت سے آنکھیں چار کر لیتے ہیں، ان کے لیے خوف کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ وہ لوگ جو موت کے لمس کو محسوس کر لیتے ہیں، وہ یا تو بے خوف ہو جاتے ہیں یا پھر انتہائی بزدل، میں کس کیفیت میں تھا، یہ احساس مجھے اس وقت ہوا، جب میں ہوش میں آیا تو پہلا خیال یہی آیا کہ میں زندہ ہوں۔ ابھی موت مجھے چھو نہیں سکی ہے۔ آنکھوں کی دھند لائٹ ختم ہوئی تو مجھ پر کئی چہرے جھلے تھے۔ واضح کوئی بھی نہیں تھا۔ مجھے لگا جیسے میری بنیائی نہیں رہی۔ وہ دھندلی ہو گئی ہے جیسے آئینے پر کہر چھا جائے۔ میں نے گھبرا کر آنکھیں بند کرلیں۔ تبھی مجھے دھیرے سے آواز آئی۔
’’ابان۔۔۔! میں ہوں اسد، آنکھیں کھو لو پلیز‘‘۔
میں نے کوشش کر کے دوبارہ دیکھا تو کافی حد تک واضح ہو گیا۔ اسد کا کہر آلود سا چہرہ مجھے دکھائی دیا۔
’’کہاں ہوں میں؟‘‘ میں نے پوری قوت لگا کر پوچھا مگر آواز بہت دھیمی سی نکلی۔
’’تم ہسپتال میں ہو‘‘۔ اﷲ نے بڑا کرم کیا ہے کہ تم بچ گئے ہو۔ ’’اسد نے بتایا تو مجھے تنویر کا خیال آیا۔
’’وہ تنویر کہاں ہے؟ ‘‘ میں نے پوچھا۔
’’وہ بھی بچ گیا ہے، لیکن وہ بہت زخمی ہے، بہر حال ٹھیک ہے وہ اس کی نسبت تمہیں تو کچھ بھی نہیں ہوا‘‘۔ وہ بولا۔
’’آپ اب انہیں تنہا چھوڑ دیں اور ہمیں اپنا کام کرنے دیں پلیز‘‘۔ ایک ڈاکٹر نے کہا تو اسدہٹ گیا۔ ڈاکٹر مختلف آلات سے مجھے دیکھنے لگا۔ تب لاشعوری طور پر میں نے ڈاکٹر سے انگریزی میں پوچھا۔
’’ڈاکٹر۔۔۔! مجھے میرے بارے میں ٹھیک ٹھیک بتا دیں۔ میں اپنے آپ کو سنبھالنے کا بھرپور حوصلہ رکھتا ہوں‘‘۔
’’تمہاری صرف بازو کی ہڈی ٹوٹی ہے اور زخم بہت زیادہ آئے ہیں۔ ممکن ہے بعد میں کچھ اور بھی سامنے آجائے، فی الحال تم خطرے سے باہر ہو۔ ہاں مگر چند دن ہمارے مہمان ضرور رہو گے‘‘۔ اس نے اچھے انداز میں مجھے بتایا۔
’’اور میرا دوست۔۔۔‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ایک بازو اور ٹانگ دونوں فریکچر ہیں، مزید دیکھ رہے ہیں، اسے بھی بہر حال اتنا مسئلہ نہیں ہے۔ میں انجکشن دے رہا ہوں۔ اس سے آپ کو نیند آجائے گی، سکون کیجئے گا۔ بعد میں بہت ساری باتیں کریں گے‘‘۔ ڈاکٹر نے نرم سے لہجے میں کہ اور انجکشن دے دیا۔ کچھ ہی دیر بعد میں ہوش سے بے گانہ ہو گیا۔
ہوا دراصل یہ تھا کہ جیسے ہی گاڑی بے قابو ہوئی وہ درخت سے جا ٹکرائی، اسی طرف تنویر بیٹھا ہوا تھا، اس لیے زیادہ چوٹیں اسے آئیں۔ چونکہ رفتار زیادہ نہیں تھی اور موڑ ہونے کی وجہ سے مزید کم ہو گئی تھی ، اس لیے بچت ہو گئی۔ فائرنگ کرنے والے کون تھے ، ان کا پتہ نہیں چل سکا تھا۔ اگلی صبح جب مجھے ہوش آیا تو اسد ایک طرف لیٹا ہوا تھا اور رابعہ میرے سرہانے بیٹھی کوئی میگزین دیکھ رہی تھی، میں چند لمحے اس کی طرف دیکھتا رہا۔ پھر اسے متوجہ کیا۔ اس نے فوراً ہی رسالہ ایک طرف پھنکا اور مجھ پر جھک گئی۔ وہ میرے چہرے پرہاتھ پھیرتے ہوئے پیار سے بولی۔
’’کیسے ہوابان۔۔۔؟‘‘
’’میں ٹھیک ہوں، مجھے پانی دے دو‘‘۔ میں نے کہا تو وہ فوراً ہی میرے لیے پانی لے آئی۔ میرے ایک ہاتھ پر کہنی تک پلاسٹر تھا اور دوسرے میں سوئیاں لگی ہوئیں تھیں۔ رابعہ ہی نے مجھے پانی پلایا۔ پھر اسی نے مجھے وقت بتا کر ساری صورتِ حال سے آگاہ کیا۔
’’رات گئے سب لوگ یہاں تھے۔ تمہارے جاگنے کا انتظار کرتے رہے‘‘۔
’’ماہم کے والدین کو معلوم ہو گیا‘‘۔ میں نے فکر مندی سے پوچھا۔
’’نہیں، اس نے بتایا ہی نہیں، ہم سب آپ دونوں کو سیدھا یہاں لے آئے تھے۔ فائرنگ وغیرہ کا بتاتے تو پولیس کیس بن جانا تھا۔ یہ سب ماہم نے ہی کیا ہے۔۔۔ مزید اس سے پوچھ لینا‘‘۔
’’اوکے۔۔۔!‘‘ میں نے سکون کا سانس لیا۔ اگر انہیں معلوم ہو جاتا تو میرے بارے میں ضرور تحقیق ہو جانی تھی اور پھر سارا پول کھل جاتا۔ میں خاموش ہو کر لیٹ گیا۔ رابعہ نے ایک دوبار کھانے پینے کے بارے میں پوچھا مگر میرا دل نہیں چا رہا تھا۔ میں نے انکار کر دیا۔ مجھے یوں لگا جیسے نیند آرہی ہے، ہلکے سے جھپکے کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ پھر نیند نہیں آئی۔ میں یونہی پڑا رہا۔ ا س وقت سورج نہیں نکلا تھا۔ میرے سامنے کی کھڑکی میں سے آسمان پر ہلکی سی شفق کا احساس ہو رہا تھا۔ رابعہ میگزین میں کھوئی ہوئی تھی۔ تبھی دروازہ ہلکے سے بچا۔
’’اس وقت کون ہے‘‘، رابعہ نے کہا اور اٹھنے لگی، مگر اس سے کہیں پہلے اسد کسی چیتے کی مانند اچھل کرکھڑا ہو گیا اور دروازے کے قریب جا کربولا۔
’’کون ہے؟‘‘
’’میں ہوں کاشف، دروازہ کھولو‘‘۔ دوسری طرف سے کہا گیا، تب اس نے میری جانب دیکھا، میں نے آنکھ کے اشارے سے دروازہ کھولنے کے لیے کہہ دیا۔ اسد بڑھا اور اس نے دروازہ کھول دیا۔ کاشف اندر داخل ہوا اور بڑے ٹھہرے ہوئے انداز میں میرے قریب آیا اور پھرہاتھ ملائے بغیر بیٹھ گیا۔ وہ میری طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کی خاموشی بڑی عجیب سی تھی۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ کچھ کہنا چاہتا ہو، مگر کچھ کہہ نہیں پار ہا ہو یا پھر وہ بات کی شروعات کے لیے کوئی سرا تلاش کر رہا ہو۔
وہ چند لمحے میری طرف دیکھتا رہا، پھر لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ لا کر بولا۔
’’ابان۔۔۔! میں سوچ رہا ہوں کہ تمہارے زخمی ہونے پر افسو س کرو یا تمہارا بدلہ لے لینے پر خوشی کا اظہار کروں‘‘۔ اس کا لہجہ بڑا سرد تھا، میں بُری طرح چونک گیا۔ یہی حالت رابعہ اور اسد کی بھی تھی۔
’’میں سمجھ نہیں، تم کیا کہنا چاہ رہے ہو؟‘‘ میں نے واقعتا نہ سمجھتے ہوتے کہا۔
’’ابھی سمجھاتا ہوں۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنی جیکٹ کی جیب سے سیل فون نکالا اور پھر ایک ویڈیو کلپ نکال کر میری طرف بڑھا دیا۔ ’’دیکھو اسے ۔۔۔‘‘
میں نے سیل فون پکڑا اور ویڈیو کلپ چلا دیا۔ وہ کلپ ایک منٹ اور چند سیکنڈ کا تھا۔ اس میں دونوجوان تھے، جنہیں باندھ کرفرش پر بٹھایا ہوا تھا۔ ان کے چہروں پر وحشت تھی اور وہ بری طر ح گھبرائے ہوئے تھے۔
’’یہ کون ہیں؟‘‘ میں نے سیل فون اسے واپس دیتے ہوئے کہا۔ تو وہ سرد سے لہجے میں بولا۔
’’کرائے کے قاتل۔۔۔ ان کا تعلق کیمپس سے نہیں ۔ بلکہ کیمپس پر قابض تنظیم سے ہے۔ یہ وہی لڑکے ہیں جنہوں نے تم پر فائرنگ کی ہے۔ میں چاہتا تو انہیں مار کر تمہارے پاس آتا، لیکن یہ ابھی تک ڈیرے پر ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک تم ان کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کر دو‘‘۔
’’مطلب یہ تمہارے قبضے میں ہیں‘‘۔ میں نے تیزی سے پوچھا۔
’’ہاں اور اس وقت تک رہیں گے ، جب تک تم ٹھیک ہو کر انہیں خود اپنے ہاتھوں سے گولی نہیں مارو گے‘‘۔ وہ پھر عجیب سے انداز میں بولا تو میرے بدن میں سنسنی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ نہ جانے کیوں میرے اندر سے ایک الجھن امنڈ آئی تھی، جس کا اس وقت کوئی جواز نہیں تھا۔ مجھے تو خوشی ہونی چاہئے تھی کہ پورا دن بھی نہیں گزرا تھا کہ اس نے بندے پکڑ لیے اور اپنے قبضے میں بھی لے لیے۔
’’کاشف تم ان تک کیسے پہنچے ہو؟‘ اسد نے پوچھا تو میری توجہ ان کی جانب ہو گئی۔
’’حادثہ ہوتے ہی ماہم نے مجھے فون کر دیا۔ میں ان کے طریقہ واردات ہی سے سمجھ گیا کہ یہ کون لوگ ہو سکتے ہیں، بس پھر میں پہنچ گیا ان لوگوں تک۔۔۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے بتایا۔
’’اتنی جلدی۔۔۔‘‘ میں نے پوچھا۔
’’یہ علاقہ کوئی اتنا بڑا نہیں ہے۔ سب لوگوں کو ایک دوسرے کے بارے میں معلوم ہے، کون کیا کر رہا ہے۔ بس جو چھا گیا، وہی کامیاب ہے اور ہاں۔۔۔! ایک بات اور ابان شاید تمہیں یقین نہ آرہا ہو۔ یا پھر تم مجھ پر شک بھی کر سکتے ہو کہ میں نے کوئی ڈرامہ کیا ہے۔ ممکن ہے بہت سارے سوال ذہن میں آتے ہیں۔ میں کبھی نہیں کہوں گا کہ تم مجھ پر سو فیصد یقین رکھو، مگر مجھے تمہاری ضرورت ہے اور میں ہر حال میں تمہاری حفاظت کروں گا۔ یہاں پر بھی میرے لوگ موجود ہیں۔ تمہاری ضرورت کیسے ہے، یہ باتیں بعد میں ہوتی رہیں گی، فی الحال تم صرف اپنے تندرست ہو جانے پر توجہ دو۔۔۔ میں روزانہ آتا رہوں گا‘‘۔ یہ کہہ کروہ اٹھا اور ہاتھ ملائے بغیر واپس چلا گیا۔ چند لمحوں تک ہم تینوں اس کی پُراسرار آمد پر اپنے اپنے طور پر خاموش رہے، پھر اسد بولا۔
’’اگر کاشف نے سچ کہا ہے تو یہ بڑا خطرناک آدمی ہے‘‘۔
’’وہ خطرناک ہے یا بہت بڑا ڈرمہ باز۔۔۔ چند دن میں خود ہی کھل جائے گا۔ ایسے لوگوں کے لیے فقط وقت در کار ہوتا ہے‘‘۔ میں نے کہا اور سوچ میں پڑ گیا، اسے میری کیا ضرورت آن پڑی ہے۔ میں نے چند لمحے تو اس پر سوچا پھر سر جھٹک دیا۔ میں قبل از سوچ کر فضول وقت کیوں ضائع کروں۔
’’پھر بھی ابان کہیں یہ ہمیں۔۔۔‘‘ اس نے کہنا چاہا لیکن میں نے ٹوکتے ہوئے کہا۔
’’چھوڑو، کوئی اور بات کرو‘‘۔ میں نے کہا تو رابعہ ایک دم سے بولی۔
’’سنو ، میں تمہیں لطیفے سناتی ہوں۔ میں نے ابھی اس میگزین میں پڑھے ہیں‘‘۔ یہ کہہ کروہ میگزین کے صفحے الٹنے لگی۔ میں حیران ہو گیا کہ وہ کس حد تک ماحول کو سمجھنے والی لڑکی ہے۔
اس وقت ڈاکٹرز راونڈ لگا کر جا چکے تھے جب سلیم میرے پاس پہنچا، وہ مجھ سے سخت ناراض تھا اس نے چند لمحے میری جانب دیکھا اور بولا۔
’’سر جی، اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو میں خود کو کبھی معاف نہ کرتا۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے، آپ نے مجھے اپنے بارے میں بتایا ہی نہیں۔ شام ہوتے ہی میں آپ کو کال کر رہا ہوں، ساری رات گزر گئی۔ آپ کا فون بند جارہا ہے۔ آدھی رات سے میں آپ کو تلاش کر رہا ہوں‘‘۔ اس نے ناراضی بھرے لہجے میں خفگی سے کہا۔
’’ہاں یار، مجھے یاد آیا، میرا سیل فون کہاں ہے؟‘‘ میں نے اسد سے پوچھا تو اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ تب میں چونک گیا۔ وہ سیل فون کسی کے ہاتھ نہیں لگنا چاہئے۔ اس میں نمبرز سے میرے بارے میں بہت کچھ معلوم کیا جا سکتا تھا میرے پاپا کے اورانکل زریاب کے نمبر تھے۔ میں نے سلیم کی طرف دیکھتے ہوئے بے بسی سے کہا۔
’’سوری یار۔۔۔! میں ہوش میں ہی نہیں تھا، تقریباً دو گھنٹے ہوئے میں ہوش میں آیا ہوں۔ تب سے ۔۔۔‘‘ میں نے مزید کہنا چاہا تو سلیم نے میری بات ٹوکتے ہوئے کہا۔
’’خیر۔۔۔! یہ سب تو ہو جائے گا۔ اب میں ہوں، آپ کوئی فکر نہ کریں، میں سب دیکھ لوں گا‘‘۔
’’مجھے معلوم ہے، تم ایسا ہی کرو گے۔۔۔‘‘ میں نے دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو وہ فوراً پلٹ گیا۔ پتہ نہیں۔ اس کے دماغ میں کیا تھا۔ میں آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا۔ مجھے اپنے سیل فون کی فکر ہو رہی تھی۔ میں ابھی اچھی طرح سوچ بھی نہیں پایا تھا کہ مجھے مختلف ٹیسٹ کے لیے لے جایا گیا۔ تقریباً دو گھنٹے بعد میں واپس آیا تو کمرے میں رابعہ کے ساتھ ماہم بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کا چہرہ بہت سوگوار سا تھا، جیسے وہ رات بھر نہ سو سکی ہو۔ مجھے دیکھتے ہی اٹھ کر میری طرف آئی۔ میں جب بیڈ پر سکون سے لیٹ گیا تو وہ بولی۔
’’کیسے ہو؟‘‘
’’ٹھیک ہوں‘‘۔ میں نے دھیرے سے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ چند لمحے میرے طرف دیکھتی رہی، پھر بولی۔
’’میں اسد اور رابعہ کو ہاسٹل چھوڑ کر آتی ہوں۔ یہ تھک گئے ہوں گے، آرام کرلیں‘‘۔
’’مگر وہ تنویر کہاں ہے، سنا ہے اس کی حالت۔۔۔‘‘ میں نے کہنا چاہا تو وہ بولی۔
’’دوسرے کمرے میں ہے، کچھ دیر پہلے ہی اسے انتہائی نگہداشت سے روم میں شفٹ کیا ہے۔ اس کے پاس کچھ لوگ ہیں۔ تم فکر نہ کرو، میں کچھ ہی دیر میں آ جاؤں گی‘‘۔
’’ماہم۔۔۔! تم رابعہ کو چھوڑ آؤ۔ میں یہیں پر ہوں۔ مجھے کچھ نہیں ہوتا‘‘۔ اسد نے سنجیدگی سے کہا تو رابعہ بولی۔
’’کچھ نہیں ہوتا ، یہاں آرام ہی آرام ہے۔ تم سکون سے بیٹھو‘‘۔
’’گاڑی کی حالت کیسی ہے، کیمپس آتے ہی دوسری گاڑی ضائع ہو گئی ہے‘‘۔ میں نے کہا تو وہ بولی۔
’’ہاں ایک سائیڈ تو بری طرح خراب ہو گئی ہو گئی ہے اور ہاں۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنا پرس کھولا اور اس سے میرا سیل فون نکال کر بولی۔ ’’یہ تمہارا فون میں نے سنبھال لیا تھا‘‘۔
میں نے فون لیا۔ وہ بند تھا۔میں نے ایک طرف رکھ دیا اور ماہم سے باتیں کرنے لگا۔ اس نے کاشف کے متعلق کوئی بات نہیں کی۔ مجھے احساس ہوا کہ اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ ان لوگوں تک پہنچ گیا ہے۔ کافی دیر تک ہم باتیں کرتے رہے۔ اس دوران میری رپورٹس بھی آگئیں۔ اندرونی طور پر مجھے نقصان نہیں ہوا تھا۔ اس سے مجھے کافی حوصلہ ہوا۔ میں نے اسی وقت تنویر کو دیکھنے کے بارے میں کہا۔ میں اس کے پاس جانا چاہتا تھا۔ اسد مجھے سہارا دے کر اس کے روم کی طرف چل دیا۔ مجھے اتنی مشکل نہیں ہوئی۔ تب میں نے محسوس کیا کہ مجھے زیادہ دیر بیڈ پر نہیں لیٹنا نہیں چاہئے۔
تنویر کی حالت خاصی خراب تھی۔ میں اس کے پاس کچھ وقت رہا۔ وہ بے ہوش تھا۔ میں کمرے میں پڑا اس کے بارے میں سوچتا رہا۔ مجھے بہت بے چینی ہو رہی تھی اور اس کے ساتھ غصہ بڑھتا چلا جارہا تھا۔ اسی بے چینی کے باعث میرے دل میں دکھ بڑھتا گیا۔ تنویر میری وجہ سے اس حالت میں پڑا تھا۔ ماہم اسد اور ابعہ کچھ دیر کے لیے گئے تھے۔ جبکہ سلیم میرے پاس کئی بار آ کر جا چکا تھا۔ میں اکیلا پڑا ہی سوچتا رہا یہاں تک کہ میں نے فون اٹھایا اور کاشف کو فون کر دیا۔
’’کہاں ہو؟‘‘
’’تم سے دس پندرہ منٹ کے فاصلے پر ، بولا، بات کیا ہے؟ اس نے سرد لہجے میں کہا۔
’’مجھے آ کر لے جاؤ‘‘۔ میں نے کہا۔
’’ابھی آیا‘‘۔ اس نے مختصرسا جواب دیا اور فون بند کر دیا۔
l l l
وہ دونوں میرے سامنے فرش پر بیٹھے ہوئے تھے۔ میرے دائیں جانب کاشف اور پیچھے کہیں عدنان تھا۔ شہر سے ہٹ کر مضافات میں موجود ایک حویلی کے تہہ خانے میں جانے تک ہمیں تقریباً آدھا گھنٹہ لگا تھا۔ مجھے تکلیف تو ہو رہی تھی لیکن میرا غصہ اور دکھ اتنا حاوی تھا کہ میں تکلیف کو محسوس نہیں کر رہا تھا۔ میں کرسی پر بیٹھا انہیں دیکھ رہا تھا اور وہ جذبات سے عاری چہرے کے ساتھ میری جانب دیکھ رہے تھے۔ میں چند لمحے ان کی طرف دیکھتا رہا پھر پوچھا۔
’’کیا فیصلہ کیا ہے تم لوگوں نے۔۔۔ سب کچھ یونہی بتا دو گے یا پھر ہمیں ہی کچھ کرنا پڑے گا‘‘۔
’’یہ ٹھیک ہے کہ ہم نے تم پر حملہ کیا، لیکن ہم تمہیں قتل نہیں کرناچاہتے تھے، ہمارا مقصد صرف تمہیں دھمکانا تھا‘‘۔ ان میں سے ایک نے بے خوف لہجے میں کہا۔
’’اور وہ تنویر۔۔۔ جو اس وقت موت وحیات کی کشمکش میں ہے۔ اگر اس کی جگہ میں ہوتا تو ، خیر۔۔۔! میں نے یہ نہیں پوچھنا، تمہیں صرف یہ بتانا ہے کہ ایسا کیوں کیا؟‘‘میں نے پُرسکون ہوتے ہوئے کہا تو وہ خاموش رہے۔ کتنے ہی لمحے یونہی بیت گئے۔ میرادل چاہ رہا تھا کہ اٹھوں اور اس وقت تک ان کی ٹھکائی کرتا رہوں جب تک وہ سارا کچھ نہ بک دیں ، لیکن گلے میں لٹکا ہوا بازو اور بدن سے اٹھتی ہوئیں ٹیسیں مجھے ایسا کرنے سے روک رہی تھیں۔ میں نے کاشف کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر بلا کی وحشت تھی۔ یوں جیسے ابھی ان پر ٹوٹنے کے لیے خود کو بمشکل روکے ہوئے ہو۔ تب اس نے سرد سے لہجے میں کہا۔
’’یہ لوگ باتوں سے ماننے والے نہیں ہیں۔ تم چاہے جتنا مرضی ان سے پوچھتے رہو۔ جب انہیں یقینی موت دکھائی دے گی تب یہ سے منہ سے پھوٹیں گے۔۔۔‘‘
’’تو پھر تمہیں روکا کس نے ہے، تنویر کے بدن پر جتنے زخم آئے ہیں، اتنے ہی زخم ان کے جسم پر بن جائیں تو بعد میں بات کرنا ان سے۔۔۔‘‘لفظ ابھی میرے منہ ہی میں تھے کہ عدنان تیرکی طرح آگے بڑھا اور ان دونوں میں سے ایک پر جھپٹ پڑا۔ پہلا گھونسہ ہی اس قدر زور دار تھا کہ سامنے والے کے منہ سے خون نکل آیا۔ اس نے لمحے کے ہزارویں حصے میں بھی خود کو نہیں روکا، وہ سامنے والا مزاحمت نہیں کر رہا تھا۔ ایک دو منٹ میں عدنان نے اسے یوں بے دم کر دیا جیسے اس میں جان ہی نہ ہو۔ عدنان نے اسے اٹھایا اور فرش پر پٹخ دیا۔ اس کے منہ سے کراہ نکلی اور وہ بے ہوش ہو گیا۔ عدنان نے قریب پڑا ہوا پانی کا جگ اٹھایا اور اس کے چہرے پر پانی پھینک دیا۔ وہ ہوش میں آگیا تو عدنان نے پھر سے اس کی ددھنائی کرنا شروع کر دی۔ وہ گوشت کے بے جان لوتھڑے کی طرح ایک طرف گر گیا تو عدنان نے دوسرے کی طرف دیکھا، آہستہ آہستہ اس کے قریب گیا اور ایک زور دار ٹکر اس کے ناک پر ماری، ساتھ ہی خون کا فوارہ ابل پڑا۔ اس کے منہ سے چیخ نکل گئی۔
وہ چیخ اس وقت ہی منہ میں گھٹ گئی جب عدنان نے دونوں ہاتھوں کو باندھ کر اس کے سینے پر ہاتھ مارا، وہ اوغ کی آواز کے ساتھ دوہرا ہو گیا۔ وہ ہاتھ سے رکنے کا اشارہ کرنے لگا۔ مگر عدنان اسے دیکھ ہی نہیں رہا تھا، اس نے اپنی لات گھما کر اس کی گردن پر ماری، وہ الٹ کر فرش پرجا پڑا اورپھر وہیں پڑا رہا، عدنان اس کی پسلیوں پر زور دار ٹھوکریں مارتا رہا مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔
’’اوئے دیکھو، کہیں مر تو نہیں گیا‘‘۔ کاشف نے پوچھا تو عدنان اسے دیکھنے لگا، پھر دھیرے سے بولا۔
’’زندہ ہے ابھی۔۔۔‘‘
’’چل ابھی چھوڑ، پوچھ ان سے بتاتے ہیں تو ٹھیک، ورنہ گولی مار کے پھینک دو انہیں‘‘۔ کاشف بولا تو پہلے والے نے سر اٹھایا اور پیلے ہوتے ہوئے چہرے سے میری جانب دیکھا۔
’’ہمیں۔۔۔ فر۔۔۔فرخ چوہدری۔۔۔ نے بھیجا تھا۔۔۔ صرف آپ لوگوں کو ڈرانا تھا۔۔۔‘‘
’’کون فرخ چوہدری۔۔۔‘‘ میں نے تیزی سے پوچھا تو کاشف بولا۔
’’میں جانتا ہوں۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنا سیل فون نکالا اور رابطہ ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ اس نے سپیکر آن کر دیا ہوا تھا۔ جیسے ہی رابطہ ہوا تو وہ بولا‘‘۔ فرخ چوہدری۔۔۔ جن بندوں کو کسی کام کے لیے بھیجا جائے۔ پھر بعد میں ان کا پتہ بھی رکھتے ہیں‘‘۔
’’کیا بک رہے ہو‘‘۔ دوسری طرف سے کہا گیا تو وہ تیزی سے بولا۔
’’میں بک نہیں رہا، بلکہ جب میں تمہیں یہ بتاؤں گا کہ تیرے بندے میرے پاس ہیں تو تم بھونکنا بھی شروع کردو گے‘‘۔
’’سیدھی بات کرو، کہنا کیا چاہتے ہو‘‘۔
’’میں نے کیا بات کرنی ہے، تمہارا بھیجا گیا کتا بات کرے گا۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر وہ سیل فون پہلے والے کے پاس لے گیا اور اس کے منہ کے قریب کر دیا۔ تو وہ جلدی سے روہانے والے لہجے میں بولا‘‘۔
’’میں ہوں۔۔۔ ذیشان۔۔۔ میرے ساتھ ابرار بھی ہے اور انہوں نے۔۔۔‘‘
’’پتہ چلا چوہدری۔۔۔‘‘
’’ہاں۔۔۔‘‘
’’کیوں۔۔۔ کیوں بھیجا۔۔۔ تمہیں معلوم نہیں تھا کہ۔۔۔‘‘
’’جب دو دو باتیں ہو جائیں تو معاملہ اپنے ہاتھ میں لینا ہی پڑتا ہے۔۔۔ تمہیں معلوم ہے کہ ماہم اپنی پسند ہے، جان چھڑکتا ہوں میں اس پر۔۔۔ وہ اگر کل کے لونڈے میں دلچسپی لینے لگ جائے تو اسے ڈرانا بنتا ہے۔۔۔ اور پھر ماہم کی بے وقوفی یہ دیکھو کہ اسے تمہارے ساتھ ملا دیا۔ شکرکرو، میں نے اسے مارنے کے لیے بندے نہیں بھیج دیئے‘‘۔
’’بڑی باتیں کرلی ہیں تم نے چوہدری۔۔۔ تم جو چاہو شوق پورے کرو۔۔۔ لیکن اب مجھ سے بچ جانا۔۔۔ تجھے مارنا اب فرض ہو گیا ہے‘‘۔
’’صرف ایک رات ماہم کومیرے پاس بھیج دو۔۔۔ اپنا سرکاٹ کر تیری طرف بھیج دوں گا‘‘۔ یہ کہہ کر اس نے زور دار قہقہہ لگایا۔
’’پہلے اپنی بہنوں کی راتوں کا بندوبست کرلو۔۔۔ جنہیں کوئی نہیں پوچھتا، پھر بات کرنا مجھ سے۔۔۔‘‘
’’اوئے۔۔۔ میں تیری۔۔۔‘‘
’’میں نے کہا ناتم بھونکو گے۔۔۔ اب جتنا چاہے بھونکو۔۔۔ میں نے تمہاری دم پر پاؤں رکھ دیا ہے‘‘۔ یہ کہہ کر کاشف نے زور دار قہقہہ لگایا تو دوسری طرف فرخ چوہدری زور زور سے غلیظ گالیاں بکنے لگا۔ وہ چند لمحے سنتا رہا، پھر بولا۔ ’’اب یہ بھی بتا دو۔۔۔ یہ تمہارے دو کتے میرے پاس ہیں۔ بھیج دوں میں تمہاری دونوں بہنوں کے لیے۔۔۔‘‘ اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ وہ ہذیانی انداز میں بکنے لگا۔ چند لمحوں بعد وہ خاموش ہوا تو کاشف نے کہا۔ ’’میں انہیں پولیس کے حوالے کر رہا ہوں۔ وہ خود ہی تمہارا نام پوچھ لیں گے‘‘۔
’’تم اور وہ دونوں جاؤ بھاڑ میں۔ وہ کبھی ثابت نہیں کر سکیں گے میں نے انہیں بھیجا ہے۔۔۔ انہوں نے ایک لمبی رقم لے کر کام کیا ہے، اب پھنس گئے ہیں تو میں کیا کروں۔۔۔ میرا کام ہو گیا ہے، اب وہ جانیں اور ان کا کام، میرا نام لیا تو میں انہیں خود پھنسا دوں گا‘‘۔
’’چل ٹھیک ہے۔۔۔ دیکھتے ہیں اور ہاں سن۔۔۔! اب اگر تم نے ماہم اور ابان کے درمیان آنے کی کوشش کی تو میں سارے کام چھوڑ کر پہلے تیرا کام کر دوں گا۔۔۔‘‘ کاشف نے کہا اور فون بند کر دیا۔ اس نے فرش پر پڑے ان دونوں کی طرف دیکھا اور کہا ۔
’’سن لیا۔۔۔ ! کرائے کے ٹٹو کا یہی حال ہوتا ہے۔۔۔ بولا، مرنا پسند کرو گے یا پولیس کے پاس جانا۔۔۔‘‘
’’خدا کے لیے ہمیں چھوڑ دو۔۔۔ آئندہ آپ لوگوں کے راستے میں نہیں آئیں گے۔۔۔‘‘ وہ منتیں کرنے لگے۔ دوسرا لیکن گرتے پڑتے میرے پاؤں میں آن پڑا۔ میں نے اس کی طرف دیکھا، پھر بولا۔
’’کاشف۔۔۔! تم جو بہتر سمجھتے ہو، وہی کرو۔۔۔ میں اب ہسپتال جاؤں گا‘‘۔ یہ کہہ کر میں اٹھا اور باہر کی جانب چل دیا۔ میں کار میں جا بیٹھا تو کچھ ہی دیر بعد عدنان ڈرائیونگ سیٹ پر آگیا۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد ہم واپس ہسپتال پہنچ گئے۔
میں ہسپتال کے کمرے میں پڑا سوچ رہا تھا کہ یہ فرخ اور ماہم کا معاملہ کیا ہے؟ ظاہر ہے مجھے الہام تو ہوتے نہیں تھے۔ اس کی تفصیل کوئی مجھے بتاتا تو معلوم ہوتا ۔ مجھے یہ سارا معاملہ کاشف سے پوچھناچاہئے یا براہِ راست ماہم سے یا پھر اس کا ذکر ہی نہیں کرنا چاہئے۔ میں کوئی فیصلہ نہیں کر پارہا تھا، میرے کیمپس میں آتے ہی ایسی ہنگامہ خیزیاں شروع ہو گئی تھیں، جن کا میرے مقصدکے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ وہ مجھے ان میں الجھا کر مقصد سے دورکر رہی تھیں۔ تاہم ان معاملات کی نوعیت کچھ ایسی تھی کہ ان کا تعلق براہِ راست ماہم سے نہیں بنتا تھا، لیکن فرخ چوہدری کا سامنے آنا اور اس کا ماہم کی ذات بارے اس قدر دلچسپی لینا میرے مقصد کے راستے میں بڑی رکاوٹ تھا۔ میں اسے نہیں جانتا تھا لیکن وہ میرے بارے میں معلومات رکھتا تھا۔ یہ بڑی خطرناک بات تھی۔ اگر وہ انکل زریاب کے بیٹے ابان کو جانتا ہے تو پھر میرے بارے میں ذراسی تحقیق مجھے ظاہر کر دیتی۔ میں چونک گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ مجھ تک پہنچیں، مجھے یہ معاملہ صاف کر دینا چاہئے تھا۔ اس کے لیے مجھے کیا کرنا ہو گا۔ یہی مجھے سوچنا تھا اور سوچ اس وقت آگے نہیں بڑھ سکتی تھی جب تک مجھے فرخ چوہدری کے بارے میں آگاہی نہ ہو تی اور ماہم کے لیے وہ کس قدر جذباتی ہے یہ معلوم کرنا بہت ضروری تھا۔
’’کہاں کھوئے ہوئے ہو؟‘‘ اسد نے میرے قریب آ کر میری آنکھوں کے سامنے ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔ میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی سوچوں کے حصار سے باہر آگیا اور مسکراتے ہوئے بولا۔
’’کہیں بھی نہیں، بس یونہی۔۔۔‘‘
’’نہیں، کہیں تو تھے۔ ورنہ اس قدر کھوئے ہوئے نہ ہوتے، کوئی اہم بات ہے، تمہیں میرے آنے کے بارے میں معلوم نہیں ہوا؟‘‘
’’یار وہ خواب آور وواؤں کے زیر اثر ہوں نا۔۔۔ اس لیے اکثر جھپکی سی آجاتی ہے‘‘۔ میں نے یونہی بہانہ تراش دیا۔
’’اوکے۔۔۔! یہ بتاؤ، کچھ کھاؤ پیؤ گے ؟‘‘ اس نے بات ختم کرتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں، دل نہیں چا ہ رہا ہے‘‘۔ میں نے بیزاری سے کہا۔
’’تم یہ کہہ رہے ہو کہ تمہارا دل نہیں چا ہ رہا ہے لیکن کچھ دیر بعد تم کھاؤ گے‘‘۔ اس نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’مطلب ۔۔۔‘‘ میں نے آنکھیں سکیڑتے ہوئے پوچھا تو اس نے قہقہہ لگایا، پھر مزاحیہ انداز میں بولا۔
’’مطلب یہ کہ محترمہ ماہم بی بی کا فون آیا تھا، فرمارہی تھیں کہ تمہیں کچھ بھی کھانے نہ دوں، وہ خصوصی طور پر تمہارے لیے کچھ بنا کر لارہی ہے۔ اب کیا کچھ ہو گا، یہ میں نہیں جانتا‘‘۔
’’اچھا چلو جب آئے گی تو دیکھا جائے گا‘‘۔ میں نے کہا اور بیڈ پر سیدھا ہو کر لیٹ گیا۔ اسد میری طرف چند لمحے دیکھتا رہا، پھر کچھ کہے بنا واپس پلٹ گیا۔میں کمرے میں تنہا رہ گیا۔ اچانک مجھے سلیم کا خیال آیا۔ وہ صبح سے دکھائی نہیں دیا تھا۔ میں نے فون نکالا اور اس کے نمبر پش کر ویئے ۔ لمحوں میں سے رابطہ ہو گیا۔
’’کہاں ہو؟‘‘
’’یہیں ہسپتال میں‘‘۔ اس نے جواب دیا۔
’’سامنے نہیں آئے تم‘‘۔ میں نے پوچھا۔
’’لیکن آپ صبح سے میرے سامنے ہیں۔ جب گئے اور جب واپس آئے۔ سوجہاں آپ گئے ہیں۔ میں ساتھ تھا۔ مگر ذرا ساتھی دور تھا‘‘۔
’’اوہ۔۔۔!‘‘ میں نے خوشگوار حیرت سے کہا۔
’’سر جی،میں ابھی آپ کے پاس آجاتا۔۔۔لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ پارکنگ میں ماہم بی بی موجود ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ میرا اور اس کا آمنا سامنا ہو‘‘۔
’’اوکے۔۔۔! تم بہتر سمجھتے ہو‘‘۔ میں نے کہا تو وہ تیزی سے بولا۔
’’سرجی، میں نے اپنے طور پر معلوم کر لیا ہے، لیکن تصدیق باقی ہے، میں کچھ دیر بعد آپ کو فون کروں گا‘‘۔
’’فرخ چوہدری ہے نام اس کا۔۔۔ جانتے ہو اسے۔۔۔؟‘‘ میں نے اسے بتایا۔
’’اوہ۔۔۔! تو اس کا مطلب ہے، میں ٹھیک پہنچا ہوں خیر۔۔۔! آپ پہلے اس تک پہنچ گئے۔ میں جانتا ہوں سر اسے، وہ یہاں کی معروف جاگیردار فیملی سے تعلق رکھتا ہے۔ باپ اس کا فخر الدین چوہدری اسی علاقے کا ایم این اے ہے، فرخ اسی کیمپس میں پڑھتا رہا ہے، ا س وقت جو تنظیم یہاں پر قابض ہے، اس کے سر پرستوں میں سے ایک ہے۔ اس کا زیادہ تر وقت انہی سر گرمیوں میں گزرتا ہے۔ اس کے بارے میں یہ سننے میں آیا کہ خاصا عیاش قسم کا بندہ ہے، عورت اور شراب اس کی کمزوری ہے۔ اس کے لیے بڑے سے بڑا رسک لینے سے بھی گریز نہیں کرتا ، ممکن ہے کیمپس پر قبضے میں اس کی یہی دلچسپی ہو‘‘۔
اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ ماہم کمرے میں داخل ہوئی، اس کے ساتھ اسد تھا، تب میں نے بڑے نارمل انداز میں الوداعی باتیں کیں اور فون بند کر دیا۔
’’کیا مسئلہ ہے ابان، سنا ہے تم نے صبح سے کچھ کھایا پیا نہیں؟‘‘
اس نے یوں پوچھا تو مجھے خیال آیا کہ میں نے واقعتاً صبح سے کچھ بھی نہیں کھایا پیا تھا۔
’’تمہیں کس نے بتایا۔۔۔؟‘‘ میں نے اسد کی جانب دیکھ کر مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’الہام ہوتے ہیں مجھے، جن بتا جاتے ہیں۔ تم اٹھو اور کچھ کھاپی لو۔۔۔‘‘ ماہم نے بڑے مان سے کہا اور کھانے کے برتنوں کو سیدھا کرنے لگی۔ تب میں نے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’یہ فرخ چوہدری کون ہے؟‘‘
میرے پوچھنے پر وہ ایک لمحہ کو ساکت ہو گئی۔ اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ اگلے ہی لمحے اس نے خود پر قابو پالیا اور بڑے سکون سے بولی۔
’’تم کچھ کھا پی لو، میں پھر تمہیں تفصیل سے بتاتی ہوں‘‘۔
یہ کہہ کر اس نے کھانا نکالا اور میرے سامنے رکھنے لگی۔ میں اس کی طرف دیکھتا رہا۔ وہ کھانا رکھ چکی تو اسد کو بھی بلا لیا۔ ہم کھانے لگے۔ تبھی اس نے کہنا شروع کیا۔
’’میں ان دنوں کا لج کے آخری سال میں تھی۔ مطلب یہ تقریباً چھ ماہ پہلے کی بات ہے ہم چند لڑکیاں شاپنگ سنٹر میں کچھ خریدنے گئی تھیں۔ وہیں میرا اور فرخ کا آمنا سامنا ہوا تھا۔ اس نے مجھے دیکھ کر بونگی ماری تھی اور میں نے اسے وہیں پر کھری کھری سنا دیں۔ اسے شاید معلوم نہیں تھا کہ میں کون ہوں اور مجھے بھی علم نہیں تھا کہ وہ کون ہے۔ اس کے ساتھ چند لڑکے تھے۔ اسی وجہ سے فرخ نے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ بس اتنی سی بات ہے‘‘۔ اس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تو میں نے پوچھا۔
’’کیا تم نے اپنے والدین سے بات نہیں کی؟‘‘
’’نہیں۔۔۔! مجھ میں اتنی ہمت ہے کہ میں ایسے لوگوں کا مقابلہ کرسکوں۔ اب نہ صرف اسے پتہ ہے کہ میں کون ہوں، بلکہ مجھے بھی علم ہے کہ وہ کون ہے اور کیا ہے۔ وہ مجھے شکست دینے کا ہر حربہ استعمال کررہا ہے۔ میں اب تک اپنا دفاع ہی کرتی آئی ہوں، لیکن اس واقعہ کے بعد لگتا ہے کہ اب مجھے ہی کچھ کرنا ہو گا۔۔۔‘‘ اس بار اس کے لہجے میں غصہ اور نفرت نمایاں ہو گئی تھی۔
’’کہیں ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں یہ سب کچھ فرخ چوہدری کی وجہ سے تو نہیں ہو رہا۔ اس نے اپنی ساری توجہ اس طرف لگائی ہوئی ہو؟‘‘میں نے اپنی سوچ اس کے سامنے رکھی۔
’’میں اس بارے کیا کہہ سکتی ہوں ابان۔۔۔ میں نے صرف اپنے دفاع کے لیے کاشف اور عدنان گروپ کے ساتھ شامل ہونا چایا ہے۔ وہ اگر کیمپس میں میرا دفاع کریں گے تو مجھے بھی ان کے کچھ کام کرنے پڑیں گے۔ویسے بھی اب معاملہ یہاں تک آن پہنچا ہے کہ مجھے خود فرخ سے نفرت ہونے لگی ہے اور میں چاہتی ہوں کہ اسے ایسا سبق دوں کہ وہ یاد رکھے۔۔۔‘‘ اس نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
’’تو بات یہاں تک آپہنچی ہے‘‘۔ میں نے سوچتے ہوئے کہا۔
’’مجھے بہت افسوس ہے ابان کہ میری اس لڑائی میں تم زخمی ہو گئے ہو۔ اس کا بدلہ میں فرخ سے ضرور لوں گی۔ میں اسے چھوڑوں گی نہیں‘‘۔ وہ غصے میں اپنی آواز کو دباتے ہوئے بولی۔
’’ماہم ۔۔۔ ! تمہاری لڑائی میں معاملات بہت خراب ہو رہے ہیں۔ تم یہ بات اپنے والد کو کیوں نہیں بتا دیتی ہو‘‘۔ میں نے پوچھا۔
’’واہ ابان واہ۔۔۔! پھر میرا ہونا کیا ہوا۔پاپا زیادہ سے زیادہ کیا کریں گے۔ ان سے دشمنی ہو جائے گی۔ فرخ تو ماننے والا نہیں۔ مجھ پر ہی گھر سے باہر نکلنے پر پابندی لگ جائے گی، میں ایسا نہیں چاہتی، میں فرخ کو ایسی شکست سے دو چار کرنا چاہتی ہوں کہ وہ زندگی بھر یاد رکھے‘‘۔ اس بار وہ اپنے غصے پر قابو نہ رکھ سکی تھی۔
’’ٹھیک ہے ماہم جیسا تم چاہو، اب جبکہ ہم دوست ہیں، میں ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہوں، مجھے اپنے ساتھ پاؤ گی۔۔۔‘‘ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تو ایک دم سے خوش ہو گئی۔ پھر اگلے ہی لمحے وہ انتہائی سنجیدگی سے بولی۔
’’ابان۔۔۔! تم اپنے ذہن میں یہ بات کبھی بھی مت لانا کہ میرا تم سے یا یہاں کیمپس میں اسی وجہ سے کوئی تعلق ہے، یا میں یہی سوچ کر تم سب لوگوں کی طرف بڑھی ہوں۔۔۔ ایسا قطعاً نہیں، ہر بندہ لاشعوری طور پر یہ چاہتا ہے کہ جہاں وہ رہے وہاں اس کی عزت کی جائے، اسے احترام دیا جائے۔ میں بھی ایسا ہی چاہتی ہوں اور فرخ لوگوں کے لیے میں نے الگ سے بندوبست کرنے کی کوشش کی ہے، اب یہ قسمت ہے کہ تم۔۔۔‘‘ وہ کہتے کہتے رک گئی تو پھر میں نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
’’نو پرابلم۔۔۔ دیکھ لیں گے ہم ۔۔۔ میں آج یہاں سے ڈسچارج ہو جاؤں گا، پھر چند دن گھر میں ہی رہوں گا۔۔۔ پھر کیا کرنا ہے، یہ ہم طے کرلیں گے۔۔۔‘‘
’’مجھے تنویر کا بہت زیادہ افسوس ہو رہا ہے۔۔۔ خیر وہ بھی ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔‘‘ ماہم نے کہا تو اسد بولا۔
’’یار یہ حادثے، چوٹیں، غم، دکھ خوشیاں، انعام۔۔۔ غیر متوقع انعام۔۔۔ یہ سب قسمت سے ہوتے ہیں اور یہی زندگی ہے۔ ان سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ انہیں زندگی سمجھ کر ان سے لطف لینا چاہئے۔ ہاں صرف ایک بات ذہن میں رکھنی چاہئے۔ بندہ نقصان برداشت کر لیتا ہے، لیکن یہ انسان کی سب سے بڑی بد قسمتی ہوتی ہے کہ ان لوگوں کو اپنا دوست سمجھ بیٹھتا ہے جو منافق ہوتے ہیں ساری دنیا سے بندہ جیت جاتا ہے، نقصان بھی ہوجائے، شکست کھا جائے، اس کا بھی دکھ نہیں رہتا، لیکن منافق کی منافقت بہت دکھ دیتی ہے‘‘۔
’’منافقت بھی زندگی کا ایک حصہ ہے میری جان۔۔۔ تم کیا سمجھتے ہو، منافق کون ہوتا ہے ارے وہ تو پہلے ہی بے غیرتی کی انتہا پر جا کر شکست قبول کرلیتا ہے۔ یہ اس کی شکست ہوتی ہے، حسد کی انتہا ہوتی ہے، تبھی وہ منافقت کرتا ہے۔ قدرت کی طرف سے وہ پہلے ہی سزا یافتہ ہوتا ہے، اپنی شکست کے ردِعمل میں ہی تو وہ منافقت کرتا ہے‘‘۔ میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تو اس نے پوچھا۔
’’ہر شے کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے، منافقت کا نہیں۔ ان کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔۔۔‘‘
’’صبر سے۔۔۔ منافق جو چاہتا ہے، وہ نہیں ہو پاتا تو حسد کی آگ زیادہ بھڑک جاتی ہے۔ وہ ہر لمحہ تڑپتا ہے۔ منافق کو سزا دینا تو بہت آسان ہے ۔ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ کیونکہ وہ تو پہلے ہی بے غیرتی کی انتہا پر جا کر شکست کھائے ہوئے ہوتا ہے۔ تب وہ دہری سزا میں مبتلا ہو جاتا ہے‘‘۔
’’میں سمجھا نہیں ، تم کیا کہنا چاہ رہے ہو؟‘‘
’’یہی کہ منافق دنیا کا ناکام ترین انسان ہوتا ہے اور سارے ہی منفی جذبے اس کی ذات میں پرورش پا رہے ہوتے ہیں۔ اس کا سب کچھ جھوٹ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ جو خود ہی قدرت کی طرف سے لعنت کا مستحق ہو، وہ اپنے اندر خود ہی سزا جھیل رہا ہو۔۔۔ اسے کیا کہنا۔۔۔‘‘
’’لیکن سب سے زیادہ نقصان تو وہی پہنچاتا ہے‘‘۔ اسد نے باقاعدہ بحث شروع کر دی۔
’’اور وہ خود بھی تو سامنے آجاتا ہے۔۔۔ یہ صرف صبر لاتا ہے۔۔۔ خیریہ بات میں تمہیں کسی اور وقت سمجھاؤں گا کہ مذہب نے اس کو لعنتی قرار دیا ہے تو کیوں۔۔۔‘‘
’’ہاں فی الحال کھانے پر توجہ دی جائے‘‘۔ ماہم نے کہا اور مزید کچھ چیزیں میرے سامنے رکھ دیں۔
ماہم دوپہر تک ہمارے ساتھ رہی۔ رابعہ بھی تب تک آگئی۔ میں پوری طرح یہ فیصلہ کر چکا تھا کہ ہسپتال سے گھر شفٹ ہو جانا ہے۔ میں نے اسد سے کہہ دیا کہ وہ خود تنویر کا بہت زیادہ خیال رکھے۔ اس شام جب ڈاکٹرز کا راؤنڈ ہوا تو مجھے ڈسچارج کر دیا گیا۔ اس وقت شہر کے چراغ جل اٹھے تھے۔ جب میں سبزہ زار میں اپنے بیڈ روم میں اپنے بیڈ پر تھا۔
l l l
وہ بڑی روشن صبح تھی۔ میں ناشتے کے بعد لان میں آبیٹھا۔ وہیں جندوڈانے مجھے اخبار تھما دیا۔ چمکتی ہوئی نرم دھوپ میں بہت لطف آرہا تھا۔ میں اخبار میں کھویا ہوا تھا کہ میرا سیل فون گنگنا اٹھا۔ کوئی اجنبی نمبر تھا۔ میں چند لمحے اسکرین پُر دیکھتا رہا، پھر میں نے کال ریسیور کرلی۔
’’ہیلو۔۔۔! ‘‘ میں نے آہستگی سے کہا۔
’’میں ہوں فرخ چوہدری۔۔۔‘‘ دوسری طرف سے بڑے سرد لہجے میں کہا گیا۔ جو بالکل مصنوعی تھا، صاف لگ رہا تھا کہ وہ زبردستی لہجے کو خوف ناک بنانے کے لیے سرد کئے ہوئے ہے۔ مجھے بے ساختہ ہنسی آگئی۔ اس لیے بڑے پر لطف لہجے میں کہا۔
’’ہوں۔۔۔! بولو، کیا کہناچاہتے ہو‘‘۔
’’صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اگر تمہیں اپنی زندگی عزیز ہے تو دوبارہ کیمپس میں نہ آنا ور نہ تمہاری سانسیں تک چھین لیں گے‘‘۔
’’یہ تم مجھے دھمکی دے رہے ہو یا لطیفہ سنا رہے ہو۔۔۔‘‘ میں نے طنزیہ انداز میں کہا تو شاید وہ بھنا گیا۔ اس لیے بہت غصے میں بولا۔
’’تم شاید مجھے نہیں جانتے، لیکن میں تمہیں بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔۔۔ میں۔۔۔‘‘
’’نہیں، تم جھوٹ بول رہے ہو۔ اگر میرے بارے میں تجھے معلوم ہوتا نا تو تم مجھے یوں فون کرنے کی جرأت نہ کرتے‘‘۔
میں نے اسے مزید غصہ دلایا۔
’’میں کیا کر سکتا ہوں۔۔۔ اس کا تمہیں پتہ نہیں‘‘۔
’’پتہ ہے میری جان۔ ہیجڑوں کی طرح چھپ کر وار کرنا۔۔۔ یا عورتوں کی طرح سازشیں کرنا ہی تمہارا کام ہے۔ اگر مرد کے بچے ہو تو سامنے آؤ۔۔۔ پھر پتہ چل جائے گا کہ تم کیا کر سکتے ہو۔۔۔‘‘ میں نے طنزیہ انداز میں کہا۔
’’ڈرو اس وقت سے جب میں سامنے آؤں گا۔۔۔ پھر تمہیں کوئی بچانے والا نہیں ہو گا۔۔۔ میں۔۔۔‘‘ اس نے کہنا چاہا لیکن میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
’’صرف دھمکیاں ہی دیتے رہو گے۔۔۔ سامنے نہیں آؤ گے۔۔۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے۔۔۔ میں ہی تمہیں مل لیتا ہوں۔۔۔ انتظار کرو۔۔۔ میں آرہا ہوں‘‘۔
’’میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔ جلدی پہنچو۔۔۔‘‘ میں نے کہا اور فون بند کر دیا۔ اب دو ہی آپشن تھے ۔ یا تو وہ مرد کا بچہ ہوتا تو اس نے یہاں تک آکے چڑھائی کروینا تھی، یا پھر کسی چوہے کی مانند بل میں چھپا رہتا۔۔۔ وہ جو کچھ بھی کرتا، مگر مجھے اپنی پوری تیاری کرنا تھی۔
(جذبات میں ہلچل مچا دینے والی یہ داستان جاری ہے)
J J J

Viewers: 10623
Share