Hafiz Muzafar Mohsin | ’’دعا‘‘۔۔۔ مگر بہتے آنسووں کے ساتھ‘‘

’’دعا‘‘۔۔۔ مگر بہتے آنسووں کے ساتھ‘‘

حافظ مظفر محسن
101 چراغ پارک ، شاد باغ ، لاہور
+92300-9449527 ای میل: muzafarmohsin@yahoo.com

’’ واہ‘‘۔۔۔ کمال کر دیا۔۔۔ تم نے ملالہ کو مار دیا۔
بہت بڑے ’’ بزدل ‘‘ ہو ۔۔۔ تم
جہالت ۔۔۔ تم پر ہمیشہ فخر کرے گی۔
تم تو کلاشنکوف سے ’’ بلی‘‘ بھی مار سکتے ہو۔
پھول کو آ گ لگا سکتے ہو۔
پتیاں جھلسا سکتے ہو۔
لگتا ہے۔۔۔ تمہارے ’’ آ قا ‘‘ مذہب کے نام پر اب تمہیں کلاشنکوف تھما کر ۔۔۔ کہتے ہیں ۔۔۔ جاؤ۔۔۔ ’’ بزدلو۔۔۔ نکل جاؤ۔۔۔ شام گئے ۔۔۔ جب اندھیرا ہو۔۔۔ تو لوٹ آ نا۔۔۔ اور کم از کم ایک ایک بلی ضرور مار کے لے آنا۔
جو ’’ بلی‘‘ مار کے واپس آ ئے گا اُسے کھانا ملے گا ورنہ بھوکے سو جانا!۔۔۔ اور اگر ’’ بلی‘‘ نہ مار سکو تو اپنی چھوٹی بیٹی پر گولی چلا دینا ۔۔۔ ’’ بزدلی دکھا کر فخر بھی کر تے ہو‘‘۔۔۔ کیا کہنے ۔۔۔ بھوکے بے یارو مدد گار ۔۔۔ بچے کو ’’ توپ‘‘ سے مارنا اور پھر ’’ ذمہ داری بھی قبول کرنا‘‘۔
کبھی اپنے اِس عمل کے بعد اپنے گریبان میں جھانکنا۔۔۔ اگر ضمیر نامی کوئی چیز پانچویں پسلی کے نیچے ہوئی تو۔۔۔ اُس سے مشورہ کرنا اور پھر ۔۔۔ سینہ پھلا کر ۔۔۔ سینہ تان کر ۔۔۔ ’’ ذمہ داری قبول کر لینا‘‘ کہ ہم دس بیس ’’ جاہلوں ‘‘ نے مل کر ایک معصوم نہتی مخلوق پر فائر کر دیا۔۔۔ آگ برسا دی۔
اُسے مار ڈالا اور سونے پر سہاگہ۔
’’ ہم نے ذمہ داری بھی قبول کر لی‘‘
کس بات کی ذمہ داری؟۔۔۔ ’’ واہ‘‘ تم نے انسانیت کو رُلا دیا۔
میں نے زندگی میں اِک بار ائیرگن سے بچپن میں ’’ چڑیا ‘‘ مار ڈالی اُس کا گرنا۔۔۔ اُس کا مرتے ہوئے تیز تیز سانس لینا اور دو بوند
خون کا اُس کے پروں میں سے گرنا۔۔۔ اور پھر موت کے مُنہ میں چلے جانا ۔۔۔ مجھے آج تک یاد ہے۔ میں جب بھی بہادر بن کر خود کلامی کرتا ہوں۔ تو شرم سے ڈوب جانے کو دل چاہتا ہے۔ میں خود کو ظالم مخلوق سمجھتا ہوں اور دل چاہتا ہے کہ ’’ چُلو بھر پانی میں ڈوب مروں‘‘۔ حالانکہ میں ’’ سُور‘‘ بھی مار سکتا ہوں۔
سُور میرے اردگرد منڈلا رہے ہوتے ہیں مگر اِن سوروں کو مارنے کے لیے حکومت وقت نے ’’ عملہ‘‘ رکھا ہوا ہے ۔۔۔ وہ جانیں یا سور جانیں۔ پچیس ، تیس سال بعد بھی جب کبھی درختوں پر ادھر سے اُدھر اڑتی چہچہاتی چڑیا۔ دیکھتا ہوں تو مجھے وہ ’’ چڑیا‘‘ ضرور یاد آ تی ہے۔ جس کو میں نے یونہی۔۔۔ اپنی ائیرگن کا نشانہ چیک کرنے کے لیے جان سے مار ڈالا ۔
میں دنیا کی خوبصورتی میں کمی کا باعث بنا ۔۔۔ میرا ضمیر ملامت کرتا ہے۔ تم غور کرو۔۔۔ تم بھی تو سوچو۔۔۔ تم نے نشانہ لے کر ویگن سے اتار کر اُس کی چھوٹی چھوٹی ساتھی ۔۔۔ اُس جیسی معصوم اور پاک صاف بیٹیوں کے سامنے ۔۔۔ اُس کو خون میں نہلا دیا۔
سچ بتانا۔۔۔ رات سو سکے ہو۔۔۔ سنا ہے تم نماز بھی پڑھتے ہو۔۔۔ میں جب وضو کر تا ہوں تو خدا کی قسم مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرا جسم ڈھیلا ہو گیا ہے، نرم ہو گیا ہے ، دل کی دھڑکن نہایت آہستہ ہو گئی ہے۔ کیونکہ میں پروردگار عالم کے حضور پیش ہونے جا رہوں ۔میں تیاری کر رہا ہوں۔ مجھے دنیا میں سب سے پیاری چیز اپنی بیٹی بھی اُس وقت کبھی یاد نہیں آ ئی۔ مجھے موت سے محبت ہونے لگتی ۔۔۔ گویا میں نہایت پر سکون انداز میں وضو کوتے ہوئے۔۔۔ پروردگار عالم کے حضورپیش ہونے جا رہا ہوں۔
کیا تم نے جب وضو کیا ہوگا۔۔۔ تو اُس معصوم بیٹی کی معصوم آ نکھیں ۔۔۔ یاد آ تی ہونگی۔۔۔ اُس کے کپکپاتے ہونٹ تمہیں ضرور رُلا رہے ہونگے۔ وضو کرتے ہوئے وہ خاص کیفیت تو نہیں پیدا ہوئی ہوگی جو سچے مسلمان کے جسم پر طاری ہو جاتی ہے۔ پروردگار عالم کے حضور خود کو پیش کرتے ہوئے۔ خیال تو آ یا ہو گا کہ ۔۔۔ بلاوجہ ایک معصوم روح کو روند ڈالا۔
سچ بتانا ۔۔۔ رات تم نے نیند لی؟۔۔۔ کیا تم آ نکھیں بند کر سکے؟۔۔۔ کیا تمہیں محسوس ہوا کہ تم انسان ہو؟۔
اے ظالم شخص ۔۔۔ خدا کے واسطے مجھے آ ج سچ بتا دے ’’ موت کی ذمہ داری قبول کر لینے والے‘‘۔
کیا تمھاری آ نکھیں ساری رات بھیگی رہی تھیں یا نہیں؟۔ اِک بار تو تم نے بھی آ نسو بہائے ہونگے۔
یاد رکھ۔۔۔ وہ بیٹی جسے تم نے اذیت دے کر اپنی طرف سے تو مار ڈالا۔۔۔ اگر پروردگار عالم نے اُسے نئی زندگی عطاء کر دی۔۔۔ تو تم پھر کیا کرو گے۔
ایسے عمل کا اگلا حصہ ایمان سے دوری ہو سکتا ہے۔ خدائے واحدہ لا شریک ۔۔۔ جِسے چاہے زندگی دے دے جِسے چاہے موت!۔
مگر یاد رکھ وہ معصوم بیٹی تو شاید اللہ کے فضل سے اذیت سہہ کر بھی بچ جائے۔
مگر تمھیں ہر رات مرنا ہے۔۔۔ کہ جب سارے دن کے اچھے برے عمل کر کے جب انسان آرام اور سکون کی نیند لینے بستر پر لیٹتا ہے تو جو بُرا عمل کیا ہوتا ہے وہ عمل سامنے آتا ہے اور ضمیر کچوکے دیتا ہے ۔ غصے یا لالچ میں کئے بُرے عمل اُسے سونے نہیں دیتے۔ رُلاتے ہیں کہ وہ اکیلا ہوتا ہے۔ اُس وقت کوئی راز دار نہیں ہوتا۔۔۔ اور جب انسان اکیلا ہو سچ سوچتا ہے۔۔۔ سچ بولتا ہے۔۔۔ اور روتا بھی ہے۔۔۔ عجیب و غریب حرکت سر انجام ہونے پر بے اختیار اکیلے میں ہنس بھی پڑتا ہے۔
تیرا یہ اذیت میں ڈوبا عمل ہر رات تجھے جگا ئے رکھے گااور سونے نہیں دے گا۔ آ نکھوں سے آنسو رواں ہوں گے کہ آ نکھیں دل کا حکم مانتی ہیں اور دل تو اللہ پاک نے ہر ذی روح کو بہت نرم دیا ہے۔۔۔ محبت سے لبریز دیا ہے۔
یہ آ نسو ۔۔۔ کیسے رُک سکتے ہیں؟۔
جا اپنے اِس جاہلانہ عمل پر پرودرگار عالم کے حضور گڑ گڑ ا کر معافی مانگ۔۔۔ ’’ توبہ ‘‘ کر مگر ’’ توبہ‘‘ کب قبول ہوگی۔۔۔ یہ تو حقوق العباد کا معاملہ ہے ۔
آخری حل یہی ہے۔۔۔ کہ اُس پاک روح کی زندگی کے لیے دعا مانگ مگر یاد رکھ ۔۔۔ ’’دعا‘‘ کی قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ’’ دعا‘‘ مانگتے ہوئے آنکھیں آ نسوؤں سے لبریز ہوں۔
زندگی بھر تو نے مجھ کو کیسے کیسے غم دئیے
میں بھی ہر غم کو تیرے گھر کا پتا دے جاؤں گا
***

Viewers: 1570
Share