اسماعیل نیشنل گرلز انٹر کالج ،میرٹھ میں جشنِ سر سید تقریبات کا شاندارآغاز

اسماعیل نیشنل گرلز انٹر کالج ،میرٹھ میں جشنِ سر سید تقریبات کا شاندارآغاز

میرٹھ 13اکتوبر ۲۰۱۲ء۔ شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی،میرٹھ اور سر سید ایجو کیشنل سوسائٹی ،میرٹھ کے باہمی اشتراک سے مصلح قوم، اور ہندوستان میں جدید تعلیم کے بانی سر سید احمد خاں کے یوم پیدائش پر منعقد ہو نے وا لی ہفتہ بھر کی تقریبات کا آج ۱۱؍بجے اسماعیل نیشنل گرلز انٹر کالج ،پرانی تحصیل ،میرٹھ کے اسلم سیفی سیمینار ہال میں افتتاحی اجلاس منعقد ہوا۔جس کی صدارت پروفیسر زین الساجدین (شہر قاضی ،میرٹھ) نے کی۔مہمان خصوصی پروفیسر بصیر احمد خاں (سابق نائب شیخ الجامعہ،اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی، دہلی) اور مہمانان ذی وقار کی حیثیت سے،ڈاکٹر معراج الدین(سابق وزیر حکومت اتر پردیش)۔جی ۔ایم مصطفیٰ اورڈاکٹر ارشد اقبال اور خصوصی مقرر کی حیثیت سے ڈاکٹر راحت ابرار (پی آر او،اے ایم یو، علی گڑھ ) نے شرکت کی۔ استقبالیہ ڈاکٹر شاداب علیم جب کہ شکریے کی رسم محترمہ سلطانہ جیلانی اور نظا مت کے فرائض محترم آ فاق احمد خاں نے بحسن و خوبی انجام دیے۔
تقریب کا آ غاز اسماعیل گرلز نیشنل انٹر کالج کی طالبہ نے تلا وت کلام پاک سے کیا ۔ اس کے بعدمیزبانوں نے مہمانوں کا پھولوں سے استقبال کیا۔بعد ازاں ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے ہفتہ بھر چلنے وا لی ان تقریبات کا مکمل تعارف و خاکہ پیش کیا۔انہوں نے اپنی تقریرمیں کہا کہ ان تقریبات کا مقصد طلبا کو سرسید کی حیات ،خدمات اور مشن سے آ گاہ کرنا ہے۔اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ذیشان احمد خاں نے کہا کہ آج اردو جو عوام میں اتنی مقبول ہے اس کو پروان چڑھانے میں سر سید نے نمایاں کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر معراج الدین نے ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کو اس طرح کی کوششوں کے لیے مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ سرسید صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری تحریک ،مشن اور تہذیب کا نام ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مسلم بچے تعلیم میں بہت پیچھے ہیں اور سر سید نے ان بچوں کو تعلیم یافتہ دیکھنے کا خواب دیکھا تھا ہم سب کو ان کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنا ہوگا۔
خصوصی مقرر ڈاکٹر راحت ابرار نے میرٹھ اور سر سید کے تعلق سے تفصیلی روشنی ڈالتے ہو ئے کہا کہ سرسید کی تحریک کو آ گے بڑھانے میں با شندگانِ میرٹھ نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے اور آج تحقیق کا دور ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے افراد پر بھی تحقیق ہونی چاہئے جنہوں نے کسی نہ کسی شکل میں سر سید کے مشن کو آگے بڑھایا اور ادبی خدمات انجام دیں۔
پروفیسر قاضی زین الساجدین نے شعبۂ اردو اور سر سید ایجو کیشنل سو سائٹی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سر سید کے پیغام کو عام کر نا ہی ان کو سچی خراج عقیدت ہے ۔مسلمان کے ساتھ سچا مسلمان ہونا بھی ضروری ہے ۔اعلی تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ اپنا مذہب ،اپنی تہذیب اور اپنی زبان کو بھی نہ بھولیں اور اس کا بہترین نمونہ رسالہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ ہے۔
اس موقع پر سر سید کوئز کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں مختلف اسکولوں کے بچوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور صحیح جوابات پر انعامات حاصل کیے۔انعام حاصل کرنے وا لوں میں،حمیدیہ گرلز، ہائی اسکول،میرٹھ کی چار طالبہ،اسماعیل گرلزنیشنل انٹر کالج کی دو طالبہ اور ایک ایک انعام گرین ویلی اور حیدر پبلک اسکول کے بچوں نے حاصل کیا۔پروگرام کے آخر میں مہمانان اعزازی کو مومنٹو پیش کیے گئے۔
واضح ہوکہ کل سر سید تقریبات کے دو سرے دن ۱۴؍اکتو برء کو ۲؍ بجے جامعہ مدنیہ،ہاپوڑ روڈ، میرٹھ میں سرسید لکچر سیریز اور کوئز منعقد ہو گی جس میں جی ایم مصطفی،مولانا گلزار قاسمی،نائب شہر قاضی زین الراشدین اور دیگر مہمان شرکت کریں گے۔
اس تقریب میں ڈاکٹر یونس غازی ،انجینئر رفعت جمالی ، نذیر میرٹھی ،پرنسپل اسماعیل نیشنل گرلز انٹر کالج ، ظہیرانور، رخسانہ عثمانی، ایاز احمد ایڈوکیٹ، ماسٹر حامد،ساجد علی، سمیع اللہ الائی، طالب حسین،سمت کمار، ڈار، گلستاں، روما خاتون اور میرٹھ کے اقلیتی و تعلیی اداروں کی طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

Viewers: 871
Share