Nighat Ikram | نوجواں شاعر صحافی ادیب کمپیرعلی شاہ کی باتیں

نوجواں شاعر صحافی ادیب کمپیرعلی شاہ کی باتیں

انٹرویو: نگہت اکرام۔ لاہور


علی شاہ کا شما رمضافات میں رہنے والے ان اہل قلم میں ہوتا ہے جو حقیقی معنوں میں توانا ادب کو پروان چڑھ رہے ہیں۔علی شاہ بیک وقت شاعر،ادیب صحافی اور کمپیر ہیں۔اور اپن خداداد تخلیقی صلاحیتوں اور شبانہ روز جدوجہد کی بدولت مختصر وقت میں ملک بھر میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔خصوصاً انکی منفرد رومانوی شاعری کی بدولت انکا شمار نوجوان نسل کے مقبول ترین شعراء میں ہوتا ہے۔ اردو، غزلیں،نظمیں ،سرائیکی گیت نگاری،نثری ادب ،افسانے،انٹرویو نگاری ،تنقید نگاری،سیاسی،سماجی اور ادبی کالم نگاری ،سٹیج کیمپرنگ ،ہر شعبہ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔علی شاہ،شاعری اور نثر نگاری پر مشتمل تقریباً 8کتابوں کے مصنف ہیں ۔بھکر جیسے دورافتادہ اور صحرائے تھل کے وسطی علاقہ سے تعلق رکھنے والے یہ خوش گفتار اور کینہ شق تخلیق کار گزشتہ دنوں لاہور آئے ان کے ساتھ ایک تفصیل ہو گی ان کے ساتھ ہونے والی گفتگو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
اسلام علیکم علی شاہ کیسے ہیں آپ
علیکم اسلام میں بالکل خیریت سے ہوں۔
سب سے پہلے آپ اپنا پورا نام بتائیں۔
میرا پورا نام سید علی شاہ ہے اور قلمی نام علی شاہ۔
1)آپ کی تعلیمی قابلیت
میں نے اردو ،ہسٹری اور ایجوکیشن میں ایم اے کیا ہے۔
2)گھر میں سب سے زیادہ انڈر سٹینڈنگ کس کے ساتھ ہے۔
میری زندگی بھر سب سے زیادہ انڈر سٹینڈنگ والدہ صاحبہ کے ساتھ رہی وہ گذشتہ سال فوت ہو گئیں ہیں۔تا ہم اپنی بیوی سے بھی بھر پور انڈرسٹینڈنگ ہے۔
3)ادبی حوالے سے گھریلو ماحول کیسا ہے؟
میں اپنے کیثر الابادی قبیلے کا اولین اور اب تک واحدشاعر اور ادیب ہوں۔میرے قبیلے کے زیادہ لوگ زمیندار ہیں اور آج بھی قبائل طرز پر کلاشنکوف کلچر سے وابستہ ہیں۔
4) بچپن کہاں پر اور کیسا گذرا۔آپ کے بچپن کی کوئی یاد۔

میرے آباؤ اجداد میانوالی کے نواحی علاقہ ڈھیرا میر علی سے ہجرت کر ضلع خانیوال کے قصبہ کچہ کھوہ چلے گئے۔جہاں چک نمبر 38/10Rمیں ان کی زمینں تھیں۔بہت خوبصورت سرسبز و شاداب گاؤں تھا۔نہر کنارے گاؤں کے اطراف میں تاحد نظر لہلہاتے کھیت اور کھیتوں میں جامن اور شہتوت کے درخت اس گاؤں کی گلیوں میں کھیلنے،کھیتوں کھلیانوں میں بھاگتے دوڑتے اور جون جولائی کے چلچلاتی دوپہروں میں نہر میں اپنے دیگر ہم عمر بچوں کے ساتھ نہاتے میرا خمار آلود بچپن گذرا۔پرائمری تک تعلیم اسی گاؤں سے حاصل کی۔چھٹی اور ساتویں جماعت کچہ کھوہ کے ہائی سکول میں پڑھی۔پھر ہم لوگ بھکر کی تحصیل درخاں کے قصبہ کہاوڑ کلاں کے چک نمبر38/10Rمیں آگئے۔یہاں ہماری برادری کے بہت سے زمیندار لوگ ہیں۔آٹھویں کا امتحان کہاوڑ کلاں کے مڈل سکول سے اول درجے میں پاس کیا پھر بھکر کی تحصیل منکیرہ میں آباد ہو گئے۔اور یہ آخری پڑاؤ ثابت ہوا۔
ویسے میں نے کرکٹ بہت کھیلی ہے بائیں ہاتھ سے فاسٹ باولر تھا ۔لمبے قد کا اڈوانٹیج بھی تھا۔سکول لائف میں فٹ بال اور اتھلیٹس میں بھی حصہ لیا۔بیڈ منٹن سے وابستگی رہی کالج میں ادبی مقابلہ جات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
5)آپ نے لکھنے کا آغاز کب کیا؟ سب سے پہلے کیا لکھا اور کہاں شائع ہوا؟
جب میں پرائمری سکول میں پڑھتا تھا تو مجھے عمروعیار ،ٹارزن،اور عمران سیریز وغیرہ پڑھنے کا شوق تھا۔جب میں مڈل سکول کہاوڑ کلاں میں تھا۔تو ہم لوگ اپنی زمین میں اپنے ڈیرے پر رہتے تھے۔لہذا کھیل کود کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے وقت گذاری کا واحد ذریعہ اپنے ڈیرے پہ رہتے تھے۔لہذا کھیل کود کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے وقت گذاری کا واحد ذریعہ کتابوں کا مطالعہ تھامیٹرک تک میں نسیم حجازی ، اسلم دراہی ،عمر سعدابن جعنی اور دیگر کئی ناول نگاروں کی تقریباً عام کتابیں پڑھ چکا تھا۔مطالعہ سے لکھنے کی تحریک پیدا ہوئی ۔جس عمر میں بچے کہانیاں پڑھنا شروع کرتے ہیں اس عمر میں میں نے لکھنا شروع کیا۔تا ہم جب میٹرک میں تھا تو بھکر کے ایک اخبار ہفت روزہ ’’نوائے حق‘‘ میں پہلی دفعہ ایک کہانی ’’ہم نے بلی پکڑی‘‘شائع ہوئی پھر یہ سلسلہ چل نکلا۔
6)آپ نے شاعری کا آغاز کب کیا آپ کا پہلا شعر کون سا تھا؟
میں آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا ۔ایک رشتہ دار کے گھر گیا ایک ڈائجسٹ پڑا تھا۔جس کے اندرونی صفحات پر لکھا تھا کہ سرورق کی تصویر پر شعر لکھیں یہ انعامی مقابلہ تھا۔سرروق کی تصویر ایک دوشیزہ کی تھی جسکی آنکھوں میں نمی سے تیر رہی تھی۔جبکہ اس کے لبوں پر مسکراہٹ تھی جس ذہن میں یہ شعر آ گیا کہ۔
ہونٹوں پہ ہے تبسم دل میں ہے رنج و غم جب سے تمہیں ملے ہیں اس روپ میں ہیں ہم
یہ شعر مذکورہ میگزین کو بھیجا جس پر دوسرا انعام ملا۔لیکن پھر کبھی شاعری نہ کی۔میں کہانی نویسی ۔افسانہ نگاری اور دیگر اصناف پر کام کیا۔چند سال قبل احساس ہوا کہ کچھ ہے جو نہ ہونے سے ہونے کی طرف مائل ہے ۔ تب باقاعدہ شاعری شروع کر دی۔تا ہم اردو ،سرائیکی اور پنجابی ادب سے گہرے مطالعے کے علاوہ فارسی ،انگریزی اوردیگر زبانوں کے ادب کے تراجم بھی بہت دل جمعی سے پڑھے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔
7)آپ نے شاعری میں کسی سے اصلاح لی۔
معاشرہ سب سے بڑا استاد ہے۔کتابوں او ر استاد سے بھرپور استفادہ کیا تا ہم باقاعدہ کسی استاد کی شاگردی کا شرف حاصل نہیں ہوا (مسکراتے ہوئے) اس معاملہ میں یتیم ہوں۔
8)آج کل کی نثری شاعری کے بارے میں کیا کہیں گے؟
دراصل نثر اور نظم دو مختلف چیزیں ہیں جنہیں کچھ نہیں آتاوہ اسی طرح حرکتیں کرتے رہتے ہیں۔
9)آج کل جو شاعری منظر عام آ رہی ہے اس کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
یوں لگتا ہے جیسے شاعری آج کل گلیمرس ہو گئی ہے۔اس لیے ہرکوئی ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑھ گیا ہے۔تا ہم آ ج بھی سنئیر شعرا کے علاوہ نوجوانوں کی بڑی تعداد بامقصد شاعری کر رہی ہے۔
10)ہر شاعر کے اندر ایک نظریاتی شعور ہوتا ہے آپ کا نظریہ فن کیا ہے؟
میرا تعلق جس علاقے سے ہے وہاں آج کے جدید دور میں بھی سہولیات نہیں ہیں۔تعلیمی سہولتوں کا فقدان ہے ضروریات زندگی کے حوالے سے مسائل ہیں۔لہذا فطری طور پر میری شاعری میں مزاحمتی اور رومانوی رنگوں کا امتراج ہے۔
11)آپ کی پہلی کتاب کب اور کس نام سے شائع ہوئی؟
میری پہلی کتاب ’’نومی کی شرارتیں‘‘ کے نام سے بچوں کی کہانوں پر مشتمل تھی جو 1999ء کو شائع ہوئی۔
12)کیا دشواریاں کامیابی کی دلیل ہوتی ہیں۔
ادب کی حد تک تو یہ بات سو فی صد درست ہے۔
13)آپ کے خیال میں غریب اور امیر کی فرق کب ختم ہو گا؟
جب لوگ قرآن کریم کو سمجھنا شروع کر دیں گے۔
14)آپ کی شاعری کے موضوعات کیا ہیں؟
میں نے ہمیشہ سماجی موضوعات کو مشق سخن بنایا ہے۔سماجی موضوعات کو رومانوی رنگوں میں منلعوم کیا ہے۔
15)آپ نے شاعری کے علاوہ کس صنف ادب میں بلع آزمائی کی۔
جی میں نے افسانچے تحقیق ۔کہانیاں ،بچوں کا ادب،تصند ،انٹرویو نگاری ،کالم نگاری کی ہے اگرچہ کالم نگاری خالصتاً صحافی صنف ہے۔لیکن میں نے اپنے کالموں میں صحافت اور ادب کا امتزاج پیش کیا ہے۔شاعری میں بھی میں نے غزل،نظم،گیت،دوہرے،لغت و سلام لمیت ہر صنف شاعر ی لکھی۔
16)بطور کہانی نویس آپ کے ہاں تخیل زیادہ ہوتا ہے یا مشاہدہ؟
کہانی کے لیے مشاہدہ بنیادی عنصر ہے تا ہم جب مشاہدہ تخیل کی پرواز سے بغلگیر ہوتا ہے تو توانا تخلیق سامنے آتی ہے۔
17)کیا آپ کہانی لکھنے سے پہلے کوئی ریسرچ کرتے ہیں؟
بالکل جی میں اپنے موضوع کا ہر پہلو سے جائزہ لے کر ہی کہانی لکھ پاتا ہوں۔
18)بطور کہانی نویس آپ کا پسند یدہ موضوع
معاشرتی مسائل
19)آپ نے کالم نگاری بھی کی ہے۔اس شعبہ میں کن موضوعات کو تحریر میں لائے ہیں؟
میرے کالم بھی سماجی مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔میں نے علامتی کالم نگاری بھی کی ہے۔
20)کوئی مشکل آ جائے تو اس کا حل کیسے نکالتے ہیں؟
مشکلات زندگی کا حصہ ہیں دوستوں سے گھر والوں سے مشورہ کر لیتا ہوں۔
21)تقدیر یا قسمت کس چیز پر بھروسہ کرتے ہیں؟
ان دونوں کی بجائے محنت پر بھروسہ ہے اللہ نے محنت کا پھل دینے کا وعدہ کیا ہے۔
22)خوشی کب ہوتی ہے؟
کسی کی مدد کر کے
23)جب پریشانی ہوتی ہے
اللہ سے بہتری کی دعا مانگتا ہوں
24)پچھتاوا کب ہوتا ہے؟
وقت ضائع ہونے پر یا پھر میری وجہ سے کسی کا دل ٹوٹے تو
25)کن لوگوں پر رشک آتا ہے؟
جو اپنی شبانہ روز محنت کی بدولت ملک و ملت کا نام روشن کر رہے ہیں۔
26)کتابوں کی رونمائی تقریبات ہوتی ہے کیا یہ شہرت کے لیے ہوتی ہیں؟
میری دو تین کتابوں کی رونمائی کی تقریبات ہوئی ہیں چونکہ میرا تعلق مضافات سے ہے لہذا ان تقریبات کے انعقاد سے ادب فروغ پاتا ہے۔لوگ ادب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
27)آپ کی کتابوں کے نام اور تعداد۔
مختلف موضوعات پر دس کتابیں آ چکی ہیں۔
(۱) نومی کی شرارتیں (بچوں کی کہانیاں) (۲) زردپتے(افسا نے) (۳)بارش مجھ کو راس نہیں(اردو شعری مجموعہ) (۴) اجلے رنگ محبت کے (اردو شعری مجموعہ) (۵) محبت تھی گی اے (سرائیکی گیت اور دوہڑے) (۶)دھرتی کے رنگ (کالم /خاکے) (۷) تیکوں ملن ڈی سک (مرتبہ تحیق) (۸) ماں۔۔۔ میں اکیلا ہوں(ماں کی سوانح) (۹)نواسہ رسول کا(مرتبہ /تحیق) (۱۰) ادبی منظرنامہ(تحیق)
28)پہلی نظرمیں محبت پر کس حد تک یقین رکھتے ہیں ؟نیز محبت کے بارے میں آپ کی رائے۔
دیکھیں جی محبت تو ایک احساس ہے خوشبو کی طرح اور محبت کے لیے ایک نظر دیکھنا بھی ضروری نہیں ۔یہ ایک لافانی جذبہ ہے جو قربانی کے میٹریل سے تعمیر ہوتا ہے۔
29)زندگی کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟
شیکسپر نے کہا تھا زندگی ایک سٹیج ہے اور ہم سب اس کے اداکار ہیں ہرکوئی اپنا اپنا کردار ادا کر کے چلا جاتا ہے اور بعد میں ہمیشہ اپنے کردار کے حوالے سے یاد رکھا جاتا ہے۔
30)کیا آپ ادب کے فروغ کے حوالے سے میڈیا کے کردار سے مطمئن ہیں؟
ہرگز نہیں ۔الیکٹرانک میڈیا کے پاس سنسنی پھیلانے کے سوا کیا ہے۔ہمارا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا چینل بھی غیر ذمہ داری اور بددیانتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ایسے چینلز ارض کی بجائے دشمن ملک کی امنگوں کے ترجمان ثابت ہو رہے ہیں جس سے قوم کا میڈیا سے اعتماد اٹھ گیا ہے ۔میڈیا کی اس بے راہ روی میں ادب کی کہاں جگہ بنتی ہے۔تا ہم پرنٹ میڈیا کسی حد تک ادب کو پرموٹ کر رہا ہے۔
31)کیا آپ مشاعروں میں شریک ہوتے ہیں یا آپ کے اعزاز میں کوئی تقریب منعقد ہوئی ہو؟
میں مختلف ٹی وی چینلز میں اور ریڈیو کے علاوہ ملک کے مختلف شہروں میں مشاعروں میں حصہ لے چکا ہوں۔جہاں تک تقریبات کا تعلق ہے تو لاہور،ملتان،خانیوال ،ڈیرہ اسمعیل خان،اسلام آباد،میانوالی،بھکر، مری،اور میرے اپنے شہر میکرہ میں میرے اعزاز میں تقریبات ہو چکی ہیں۔روہی ٹی وی،وببب ٹی وی،پی ٹی وی ،رائل ٹی وی۔ریڈیو پاکستان ڈیرہ اسمعیل خان،ریڈیو پاکستان اسلام آباد،ریڈیو پاکستان لاہور، ریڈیو پاکستان فیصل آباد ،ریڈیو FM 95لاہور،اور مختلف ملکی و غیر ملکی اخبارات اور رسائل و جرائد میں میرے انٹرویو نشر اور شائع ہو چکے ہیں۔
32)کوئی ایسی تقریب جو ناقابل فراموش ہو؟
امیری لڑیری سرکل،ایک ایسی معروف ادبی تنظیم ہے جس کے زیر اہتمام فیض احمد فیض ،مجید امجد ،جوش ملیح آبادی ،پروین شاکر،احمد ندیم قاسمی ، احمد فراز،امجد اسلام امجد،مصطفی زیدی اور دیگر ایسے کئی شہرہ آفاق ، شاعروں اور ادیبوں کے ساتھ سامیں منائیں گی وہاں جولائی 2009ء میں میرے اعزاز میں ایک خوبصورت اور دلفریب شام منعقد کی گئی جو واقعی میرے لیے اعزاز ہے اور وہ تقریب میں کبھی نہیں بھول سکتا۔
33)شاعری میں آپکو کیا پسند ہے۔نظم یا غزل اور کیوں؟
میں نے اردو میں نظم،غزل کہی ہے توسرائیکی میں گیت اور دوہڑہ بھی کہا ہے مجھے یہ سب پسند ہے میں موڈ پر منحصر ہے ویسے میں اپنے سفر کا آغاز آزاد نظم سے کیا تھا۔
34)چاندنی راتیں کیا پیغام دیتی ہیں؟
چاندنی راتیں محبت کا پیغام دیتی ہیں۔میرا تعلق تو صحرائے تھل سے ہے جہاں کی راتیں ہر موسم میں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔یہاں جب چاندنی ریت کے بھورے ٹیلوں سے ریت کے چمکتے ذرات سے بغلگیر ہوتی ہے تو چاندنی راتیں واقعی محصور کر دیتی ہیں۔
35)غصہ آتا ہے تو کیا کرتے ہیں؟
ٹھیک ٹھاک شور کرتا ہوں گھر میں ۔لیکن گھر کو سر پر نہیں اٹھاتا۔
36)کوئی ایسی عادت جو آپ کے دوستوں اور رشتہ داروں کو ناخوش رکھتی ہے۔
زیادتی برداشت نہیں ہوتی۔اور کوئی دوستی کی اڑ میں بیوقوف بنانا چاہتا ہے تو اسے منہ کی کھانی پڑتی ہے ۔اور اگر کسی کے مفاد پر پورا نہ اترا جائے تو وہ کیسے خوش ہو سکتا ہے چاہے دوست ہی کیوں نہ ہو۔
37)یادیں انسان کو کب تڑپاتی ہیں؟
تنہائی اور اداس موسم میں
38)کہتے ہیں ناکام محبت سے اچھے شاعر پیدا ہوتے ہیں۔
محبت کبھی ناکام نہیں ہوتی اور شاعری خداداد صلاحیت ہے۔
39)کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں ادب ختم ہو جائے گا اور صرف سائنس رہ جائے گی؟
ہرگز نہیں ۔ادب گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ فروغ پا رہا ہے۔اور سائنس کا تعلق شعاشرتی ضروریات سے ہے ۔انسان کے جذبات و احساست سے نہیں بقول اقبال ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
40)ڈش،کیبل،انٹرنیٹ اور کمپیوٹر سے ہماری قوم صحیح مقاصد حاصل کر رہی ہے یا ہم بھٹک رہے ہیں؟
ان سائنسی سہولیات کا فائدہ تو کم ہو ا ہے لیکن نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر آ گئی ہے انگریزی اورانڈین کلچر ہماری چاردیواری میں پہنچ چکا ہے ہماری توانا روایات معدوم ہو رہی ہیں اور تخلیقی صلاحیتیں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔
41)آپ کا قیمتی اثاثہ
ماں کی دعائیں اور ماں کی ناقابلِ فراموش یادیں
42)آپ کو کیا اچھا لگتا ہے دن یا رات؟
دونوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے تا ہم رات سے زیادہ دوستی ہے۔
43)آپ کی کوئی چھپی ہوئی خواہش؟
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
44)کوئی ایسی چیز جس کے بغیر آپ اپنی زندگی ادھوری سمجھتے ہوں؟
ماں کی وفات کے بعد سے زندگی ادھوری اور بے رنگ محسوس ہوتی ہے۔
45)تنہائی میں کیا سوچتے ہیں؟
اپنا احتساب کرتا ہوں اپنی کوتاہیوں اور خامیوں کا احاطہ کرتا ہوں۔
46)کس چیز کا افسوس ہوتا ہے؟
جب کوئی اپنا دھوکہ دینے کے چکر میں ہو۔
47)کوئی چیز جو بہت زیادہ پسند ہو؟
کتابیں
48)کسی یاد آنکھیں نم کر دیتی ہے؟
ماں کی یاد
49)آپ کے خیال میں سچی خوشی کیا ہے؟
کسی کے کام آنا
50)کس قسم کا گفٹ لینا اور دینا پسند کرتے ہیں؟
کتاب اور خوشبو کا تحفہ دینا اور لینا پسند کرتا ہوں۔
51)آپ خوابوں کی دنیا میں رہنا پسند کرتے ہیں یاحقیقت پسند ہیں؟
حقیقت پسند ہوں لیکن خواب دیکھنا بھی ضروری ہے ،خواب جذبوں کو جلا بخشتے ہیں۔
52)آپ کس جذبے کی قدر کرتے ہیں؟
سچے جذبے کی قدر کرتا ہوں۔
(53)مذہب سے کس حد تک لگاؤ ہے۔
مذہب انسان کی بنیادی ضرورت ہے مذہب محض روحانی تسکین کا باعث ہی نہیں بلکہ سماجی ضرورت اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کا ضامن بھی ہے۔لیکن میں ملاء ازم کا بدترین مخالف ہوں۔یہ لوگ مذہب کے نام پر نفرت پھیلاتے ہیں۔جبکہ ہمارا مذہب تو محبت کا دین ہے۔
54)لو میرج یا ارینج کس کے حق میں ہیں۔
میکڈ ارینج۔ویسے میری شادی مکمل طور پر ارینج تھی اور الحمد اللہ کامیاب بھی ہے۔
55)کسی شاعر کے لیے چاہت زیادہ اہم ہے چاہا جانا۔
ہر کسی کا اپنا نقطہ نظر ہے تا ہم میرے لیے چاہت زیادہ اہم ہے۔
56)جب بارش برستی ہے تو کیسا لگتا ہے؟
بہت اچھا لگتا ہے بشرطیکہ بارش سیلاب کا پیش خیمہ ثابت نہ ہوا ور غریب کی کٹیا بھی نہ ڈبو دے۔ویسے میرے صحرائی علاقہ میں زراعت کا انحصار ہی باران رحمت پر ہے ۔اگر سال بھر میں بھی دو تین اچھی بارشیں ہو جائیں توتھل کے لوگوں کی زندگیوں میں قوش قزح کے رنگ عود کو آئے لیکن ایسا کم ہوتا ہے زیادہ تر خشک سالی کا سامنا رہتا ہے۔
57)شدید اداسی کے عالم میں دل کیا چاہتا ہے؟
اداسی کی نظمیں لکھتا ہوں
58)فارغ اوقات میں کی مشاغل ہیں؟
کتابیں پڑھنا،اگر پاکستان کا میچ ہو رہا ہوتو ٹی وی پر کرکٹ دیکھتا ہوں
59)دولت ،شہرت اور محبت میں آپ کا انتخاب
محبت زیادہ اہم ہے باقی چیزیں معاشرتی ضرورتیں ہیں۔
60)لباس کیسا پسند ہے؟
سفید شلوار پر کسی بھی کلر کا کرتہ یا پھر سفید شلوار قمیض
61)رنگ کون سا اچھا لگتا ہے؟
گہرا نیلا رنگ مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔
62)پسندیدہ شخصیت
نبی پاک (ﷺ) اور ان کی اہلیت
63)پسندیدہ مشروب
چائے میرا پسندیدہ مشروب ہے۔
64)پسندیدہ کھیل اور کھلاڑی
کرکٹ اور کئی کھلاڑی
65)وہ شخصیت جس کو آپ بھلا نہ سکتے ہوں
ماں
66)آپ کا پسندیدہ اخبار
نوائے وقت،فیملی میگزین ،پاکستان،اور وینز انٹرنیشنل اور بہت سے ادبی رسائل وغیرہ پڑھتا ہوں۔
67)ڈپریشن ہو تو کیا کرتے ہیں؟
درود شریف کا ورد کرتا ہوں۔
68)کون سی خوشبو زیادہ پسند ہے؟
چنبیلی،گلاب ،کرنا سے کشید ہونے والی خوشبوئیں
69)اپنی وہ خوبی جو آپ کو بہت پسند ہو
صلح جو ہوں۔
70)اپنی وہ عادت جو آپ کو پسند نہ ہو۔
احتجاج پر آؤں تو حد سے گزر جاتا ہوں
71)دوستوں کوفون کرنا پسند کرتے ہیں یا SMSکرنا
میں فون کرنازیادہ پسند کرتا ہوں۔
72)لوگ جب آپ کی شاعری ،کالم،کہانی پر پسندیدگی ظاہر کرتے ہیں تو کیسا لگتا ہے؟
لوگ جب میری کہانیوں ،شاعری اور کالموں کو پسند کرتے ہیں مجھے SMSکرتے ہیں تو مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔
73)مزاجاً کیسے ہیں؟
خوش مزاج ہوں
74)پسندیدہ شہر ملک
ارض وطن،اور سوہنی دھرتی کے سارے شہر
75)کیا میوزک پسند ہے کیسا میوزک پسند ہے نیز پسندیدہ سٹار
جی مجھے میوزک پسند ہے۔فوک اور نیم کلاسکی سنتا ہوں۔سنگرز میں عطااللہ عیسیٰ خیلوی ۔منی بیگم ،عابدہ پروین۔نصرت فتح علی خان۔ثریا ملتان علام علی۔ل ۔رفیع
76)آپ کی سالگرہ کا دن ۔کیا آپ سالگرہ مناتے ہیں۔
میری سالگرہ کا دن یکم فروری ہے۔سالگرہ مناتا نہیں تاہم کوئی دوست فون پر یاد کرا دیتے ہیں یا کارڈز وغیرہ بھیج دیتے ہیں۔
77)کسی کی مدد کر کے کیسامحسوس کرتے ہیں؟
سچی خوشی محسوس ہوتی ہے۔
78)نئے لکھنے والوں کے لیے آپ کا پیغام
زیادہ سے زیادہ مطالعہ کریں اور حقیقت نگاری کو اپنا شعار بنائیں
79)قارئین کے نام پیغام
قاری ہی لکھاری کا سرمایہ ہے۔اور استاد بھی ان سے یہی گزارش ہے کہ اپنی دعاؤں اور محبتوں میں یاد رکھیں۔
80)آپ کی شاعری سے انتخاب
تجھے سوچنا چھوڑرکھا ہے ہم نے
وگرنہ
یہ شاعر تجھے اپنے اشعار میں ڈھال دیں گے
اپنی تو کوئی کام ہوتا نہیں ہے
قلمکار سارے لکھیں گے تجھے اپنے افسانوں میں
فسانہ گروں کا یہی مشغلہ ہے
یہ حیرت زدہ داستان کہنے والے بھی
یوپال جا کر
سنائیں گے لوگوں کو قصے تمہارے
یہ فنکار سارے جہاں بھر کے دوشی
تجھے اپنے نغموں میں رسوا کریں گے
مصور بتائیں گے تصویر تیری
چاند چہروں کو پامال کرنے
فن آ گیا ہے۔

Viewers: 1965
Share