Fazal Ullah Mukarram | نذرِ پروفیسر تراب علی

کتاب : نذرپروفیسر تراب علی
مرتب : ڈاکٹر سید شجاعت علی(شجاع کامل)
تعارف نگار : ڈاکٹر سید فضل اللہ مکرم

پروفیسر میر تراب علی کی پیدائش پربھنی میں لیکن ان کی تعلیم و تربیت شہر حیدرآباد میں ہوء۔پھر ملازمت کے لیے پربھنی کا رخ کیا وظیفہ کے بعد دوبارہ حیدرآباد کو منتقل ہوے اور وہ یہیں سے اپنی علمی و ادبی سرگرمیاں جاری رکھے ہوے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ اچھا استاد کا ملنا خوش بختی ہے لیکن اچھے شاگرد کا ملنا بھی کوئ نعمت سے کم نہیں ہے۔افسوس کہ کبھی استاد تو کبھی شاگرد اس بات کو سمجھ نہیں پاتے اور زندگی بھر کف افسوس ملتے رہتے ہیں لیکن پروفیسر میر تراب علی اور ڈاکٹر سید شجا عت علی ایک اچھے استاد اور شاگرد ہیں۔پروفیسر میر تراب علی نے علاقہ مرٹھواڑہ میں برسوں اردو زبان و ادب کی خدمت کی ہے اور اور اپنے شاگردوں میں تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں کوئ کسر نہیں چھوڑی تبھی توآج یہ پورا علاقہ ا ردو زبان و ادب کے لیے سرسبزوشاداب ہے۔
گزشتہ دنوں ڈاکٹر سید شجا عت علی نے نذرپروفیسرتراب علی کے نام سے ایک کتاب ترتیب دی ہے۔ اس سے قبل ان کی تین کتابیں ‘میں اور میرا وطن ‘ سمندر کے کنارے ‘ اور مضامین شجاع شائع ہوچکی ہیں جبکہ دو کتابیں تاریخ ناندیڑ اورجدید اردو افسانے میں ترک وطن و ہجرت کے مسائل زیر ترتیب ہیں۔اس کے علاوہ یورپ میں بسے تارکین وطن افسانہ نگاروں کی تخلیقات کاجائزہ کے موضوع پر یو جی سی پروجیکٹ پر کام کررہے ہیں اور آج کل صدر شعبہء اردو ‘ یشونت کالج‘ناندیڑ ہیں۔
زیر نظر تصنیف میں جملہ پندرہ مضامین شامل ہیں جس کے لکھنے والوں میں جناب میر ہاشم ‘ پروفیسر یونس فہمی‘ ڈاکٹر فہیم احمد صدیقی‘ خواجہ معین الدین‘ ڈاکٹر مسعود جعفری‘ ابراہیم اختر‘ محمد تقی‘ ڈاکٹر رئیس النسا صدیقی‘ محمد عبدالسمیع‘ اقبال مجیداللہ‘ ڈاکٹر حامد اشرف‘ شفیع اقبال‘ مظہر علی خان‘ باسط خان‘ اور ڈ اکٹر سید شجا عت علی شامل ہیں جبکہ عرفان پربھنوی‘ فیروز رشید اور احمد علی برقیؔ اعظمی کی منظوم تہنیت بھی شامل تصنیف ہے۔عرض مرتب کا پہلا جملہ یا توتفنن طبع کے خاطر لکھا گیا ہے یا پھر اس میں غلط فھمیوں کا سارا کرب سمٹ کر آگیاہے۔مرتب کہناہے کہ نذر پروفیسر تراب علی کے منظر عام پر آنے کا سبب کوئ ذاتی فائدہ یا امریکہ کا دورہ ہرگز نہیں،، (ص ۹)
زیر مطالہ تصنیف میں شامل تمام مضامین تاثراتی نوعیت کے ہیں.مرتب نے ہر مضمون سے قبل مضمون نگار کا مختصرتعارف کروایا ہے جس سے مضمون کی قدروقیمت کے تعین کرنے میں کوئ دشواری نہیں ہوتی۔ جناب میر ہاشم نے پروفیسر صاحب کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوے اپنا ایک شعر ان کی نذر کیا ہے۔
کچھ بات اس کی طرزو اد ا میں سخن میں ہے
وہ شخص جس جگہ بھی ہے‘ایک انجمن میں ہے
پروفیسر میر تراب علی کا تعلق ایک معزز اور علمی گھرانے سے رہا ہے۔وہ اردو ادب کے بہترین استاد‘ محقق‘نقاد اور بہترین منتظم رہے ہیں۔(ڈاکٹر)محمد تقی‘مدیر روزنامہ ورق تازہ نے میر تراب علی کی ایک خوبی کا تذکرہ کرتے ہوے لکھتے ہیں۔ ‘‘ ان کی یہ خصوصیت تھی کہ شہر میں جتنے گروپ تھے سیاسی ہوں یا ادبی ان کے سب سے خوشگوار تعلقات تھے۔سب سے خندہ پیشانی سے ملتے تھے ہر ایک کے د کھ درداور خوشی و غم میں شریک ہوا کرتے تھے۔بزرگوں کا قول ہے کہ آدمی ہر شخص کو ایک ساتھ خوش نہیں رکھ سکتا لیکن یہاں تراب علی نے اس قول کو غلط ثابت کردکھایا۔‘‘(53) جبکہ ڈاکٹر مسعود جعفری نے اپنے مضمون تاریخ کی رعایت سے پروفیسر صاحب کی شخصیت پر یوں رائے دی ہے ۔ ؛ ان کے شاگردوں اور چاہنے والوں کا حلقہ مہاراشٹرا ۔تلنگانہ سے لے کر لندن‘شکاگو تک پھیلا ہوا ہے۔جو بھی ان سے ملتا ہے ان کاگرویدہ ہوجاتاہے۔ان کا دلکش لب و لہجہ‘دلنشیں انداز گفتگو دلوں میں نقش کردیتی ہے۔وہ غالب واقبال کی حسین وراثت ہیں۔ حالی و محمدحسین آزاد کے خوا بوں کی تعبیر ہیں۔ سرسید اور مولاناآزاد کے تصورات کا پیکر ہیں۔ پنڈت نہرو کے نظریات کے آئینہ دار ہیں۔‘‘(ص 43)
ڈاکٹر فہیم صدیقی نے پر وفیسر صاحب کی تخلیقی صلاحیتوں کا تذکرہ کرتے ہوے لکھتے ہیں: پروفیسرتراب علی نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کوانتہائ لا پروائ سے نظرانداز کر رکھا ہے۔میں نے ان کے کم و بیش تیس چالیس مضامین پڑھے ہیں لیکن وہ بے نیاز انسان ہیں۔مجھے یقین کامل ہے کہ ان کے پاس ایک مضمون محفوط نہیں ہوگا۔جنوب کے قلمکاروں کا ایک بڑا عیب یہ ہے کہ وہ اپنی قدر نہیں کرتے۔شمالی ہند کے لوگوں کو دیکھئے ان کے پاس اگر چار پانچ مضمون بھی ہوجائیں تو وہ ان کو کتابی شکل میں شائع کرکے بڑے ادیبوں کی صف میں شامل ہو جاتے ہیں۔( ص 29)
ڈاکٹر شجاع کاملؔ نے اپنے مضمون خضرراہ میں اپنے استاد کا پربھنی میں قیام کا تذکرہ کرتے ہوے لکھتے ہیں۔:پربھنی کی علمی و ادبی فضاء میں پروفیسر صاحب کی گہری چھاپ ہے۔ان کی علمی وادبی خدمات کو رد کرنے کی کسی میں ہمت نہیں ہے۔سادگی و مروت کی وجہ سے انہیں تلخ تجربات سے گزرنا پڑا مگر انہوں نے ذاتی نقصان کی کبھی پروا نہیں کی اور سماجی و علمی کاموں میں لگے رہے۔ان کی راہ کٹھن ہی نہیں پر خطر تھی۔پربھنی جیسے شہر میں جہاں انسان کو ناپنے‘انہیں پسند کر نے اوررد کرنے کے اپنے پیمانے ہوں وہاں اپنے آپ کو منوا نا بڑی بات ہے‘‘(ص32)
جناب فیروز رشید نے پروفیسر میر تراب علی اور شجاع کامل کے لیے منظوم تہنیت پیش کی ہے۔پروفیسر صاحب کے لیے وہ لکھتے ہیں۔
ادب کے راستے کا آج بھی وہ ایک راہی ہے
ادب ہے زندگی اس کی ادب کا وہ سپاہی ہے
نہیں یہ بات پوشیدہ‘ زمانہ اس کا شاہد ہے
سبھی یہ بات کہتے ہیں وہ اردو کا مجاہد ہے
جبکہ شجاع کامل کے لیے بھی ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو۔
ادب کی سلطنت میں نام تیرا ہے شجاع کامل
یہاں روشن بہت ہر کام ترا ہے شجاع کامل
غرض یہ پوری کتاب تاثراتی مضامین کا مجموعہ ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ پروفیسر میر تراب علی یداللہی کے فکر و فن پر گفتگو کی جائے۔پروفیسر رحمت یوسف زئ نے بھی اپنے جامع پیش لفط یوں اظہار خیال کیا ہے کہ ‘ اگر چہ یہ مضامین پروفیسر صاحب کی شخصیت‘قابلیت اور صلاحیت کے پوری طرح غماز نہیں کہے جاسکتے کیو ں کہ میر تراب علی کی شخصیت پیاز کی ڈلی کی طرح پرت در پرت ہے۔
یقین کامل ہے کہ مرتب اس جانب توجہ کریں گے اور پروفیسر صاحب کی علمی و ادبی خدمات ایک بھرپور کتاب مرتب کریں گے۔تقریباٌ (96) صفحات پرمبنی خوبصورت طباعت کی حامل کتاب کی قیمت ایک سو پچاس روپیئے ہے۔جسے ھدی پبلشرز۔ پرانی حویلی حیدرآباد کے علاوہ مرتب (09881524785) سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
***
Viewers: 1009
Share