Nazar Haffi | خواجہ سرائوں کا احتجاج اور اوبامہ کی ٹافیاں

nazarhaffi@yahoo.com

خواجہ سراوں کا احتجاج اور اوبامہ کی ٹافیاں

نذر حافی

بچہ بالاخر بچہ ہوتاہے،ایک ٹافی دے کر آپ بچے سے ایک ہزار کا نوٹ ہتھیا سکتے ہیں،بچہ ٹافی کو مزے لے لے کر چوستاہے اور ہزار کے نوٹ کو بھول جاتاہے۔کچھ ایسا ہی استعماری طاقتوں نے بھی امت مسلمہ کے ساتھ کیاہے۔وہ ہمیں ایوارڈز،اعزازات،نوکریوں،وزارتوں صدارتوں اور قرضوں کی ٹافیاں دے کر ہمارے قدرتی وسائل پر قبضہ کر چکے ہیں۔

اگر آپ کو یقین نہ آئے تو اپنی آنکھیں کھول کر یہ منظر دیکھیں۔یہ کوئی پرانی بات نہیں،آج کل کی بات ہے،ذرا دیکھئے تو یہ  کتنا دلخراش منظر ہے۔کسی غیر مسلم ملک کی کہانی بھی نہیں۔یہ فلسطین بھی نہیں اور کشمیر بھی نہیں۔یہاں پر غیر مسلم افواج  بھی قابض نہیں لیکن اس کے باوجود ہر روز مسلّح فوجی لوگوں کے گھروں میں گھس آتے ہیں۔

یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ جب فوجی گھروں میں گھس آئیں تو پھر باقی کیا بچتا ہے۔حسبِ معمول کچھ روز پہلے کچھ سرکاری کارندے ایک گھر میں گُھسے  اور ایک بیس سالہ خوبصورت دوشیزہ کو اُٹھا  کر لے گئے۔کہاں لے گئے؟ یہی سوال لے کر دوشیزہ کی ماں گلی  گلی کوچے کوچے پھرتی رہی۔ہر طرف سے اسے یہی جواب ملا کہ آپ کی بیٹی کہیں گُم ہو گئی ہے،لاپتہ ہو گئی ہے۔

یہ گم ہونے والی لڑکی کوئی اور نہیں بحرین کی “آیات قرمزی” ہے۔اس کا جرم یہ ہے کہ وہ شاعرہ ہے ۔ہو سکتا ہے کہ آپ  سوچیں کہ شعر کہنا تو کوئی جرم نہیں لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ بادشاہوں کہ عشرت کدوں ،آمریت کے محلات،نوابوں کی حویلیوں  اور اوباشوں کی کوٹھیوں میں عشقیہ غزلیں ،رومانوی  شاعری  سب کچھ جائز ہے لیکن چور کو چور،ظالم کو ظالم، اور بدمعاش کو بدمعاش کہنا جائز نہیں ہے۔”آیات قرمزی”کا جرم بھی یہی ہے کہ وہ کسی شاہی  شہزادے کی بزم کی شمع نہیں بنی  بلکہ  اس نے شہنشایت اور  آمریت کے خلاف  اشعار کہے ہیں۔

آیات قرمزی کی گمشدگی کو چند دن گزر  گئے تو اچانک  ایک روز اس کی والدہ کو کسی نامعلوم نمبر سے یہ ٹیلی فون آیا کہ آپ کی بیٹی مر گئی ہے اور فلاں ہسپتال میں اس کی لاش پڑی ہوئی ہے۔

ڈاکٹروں نے معائنہ کیا تو کہاکہ “آیات قرمزی”وحشیانہ تشدد کے باعث سکتے میں چلی گئی ہے اور خوشبختی سے زندہ بچ گئی ہے۔

آج جب ملالہ یوسف زئی کی خاطر مسٹر اوبامہ کی آنکھوں سے برسات کی جھڑی لگتی ہے تو ہر باشعور انسان پوچھتاہے کہ “آیات قرمزی” کی خاطر تو مسٹر اوبامہ کا دل نہیں جلا،ہمارے سیاستدانوں کے آنسو نہیں بہے،امریکہ اور مغرب  کے ہم مشرب میڈیا نے آہیں  نہیں بھریں،دنیا بھر میں کسی نے آواز بلند نہیں کی لیکن پاکستان کی ایک چودہ سالہ بچی ملالہ یوسفزئی پر شدت پسندوں کے حملے نے دنیا کی ایک سپر پاور کے صدر اور بین الاقوامی میڈیا کی توجہ فوراً  کیسےحاصل کرلی؟۔ملالہ کو دنیا میں پہلی مرتبہ تین سال پہلے گیارہ سال کی عمر میں بی بی سی کے ایک نمائندے نے “Schools Dismissed” نامی ویڈیوکے ذریعے متعارف کرایا تھا۔ یہ ویڈیو New York ٹائمز کیWebsite پرآج بھی دیکھی جاسکتی ہے،اس ویڈیومیں موصوفہ نے مسٹر اوباما سے اپنی محبت جبکہ داڑھی والوں سے نفرت کا اظہار کیاتھا،چند دن پہلے جب موصوفہ پر حملہ ہوا تو منصوبہ بندی  اور ہم آہنگی کے مطابق حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی تاکہ پھر سے بدنام داڑھی والے ہی ہوں اور لوگوں میں  نفرت کی آگ دیندار طبقے کے خلاف ہی بڑھکے۔

بظاہر ہر صاحبِ عقل یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ آخر ملالہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ  صدر اوبامہ اور ان کے حواری  اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود اس پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔اگر بات انسانی ہمدردی کی ہے تو ہم عرض کرتے چلیں کہ2006ء میں خیبر پختونخواہ میں ہی ایک مدرسے پر کئے جانے والے ڈرون حملے کے نتیجے میں 69 سے ۱۰۰ تک لگ بھگ بچے مارے گئے تھے لیکن اس وقت بھی کسی بچے کو کسی اعزاز سے نہیں نوازا گیا لیکن اب کی بار جو ملالہ پر حملہ ہوا تو آج نیوز کے مطابق اور تو اورخواجہ سراوں نے بھی صدائے احتجاج بلند کی ہے اور اپنا احتجاج رقم کروایاہے۔

اسی طرح جون 2004ء سے لے کر ستمبر 2012ء تک  دی بیورو آف انویسٹیگیٹیو جرنلزم کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہونے والے ڈرون حملوں کے نتیجے میں 176 بچوں نے اپنی جانیں گنوائیں لیکن اس وقت تو مسٹر اوبامہ کے دریائے ہمدردی نے ٹھاٹھیں نہیں ماریں۔

ملالہ یوسفزئی پر حملےکو ایک ابین الاقوامی  ایشو کے طور پر اٹھانے والے یہ بات بھول گئے ہیں کہ  وہ جس قوم میں آج اعزازات اور اپنی نوازشوں کی ٹافیاں تقسیم کرنے چلے ہیں وہ قوم اب بیدار ہوچکی ہے،  اس قوم کا بچہ بچہ اب وحدت اسلامی اور بیداری ملت کی باتیں کررہاہے ۔ یہی باتیں کچھ عرصہ پہلے جب ایران میں شروع ہوئی تھیں تو  شہنشاہیت کے بتکدے کو مسمار ہونے میں دیر ہی کتنی لگی تھی۔عقلمندوں کے لئے تاریخ انقلاب کے ہر باب کے آخر میں یہی عبارت کنندہ ہے کہ جب  کوئی قوم بیدار ہوجائے تو خواجہ سراوں کے احتجاجات اور استعماری طاقتوں کی ٹافیاں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔

Viewers: 1072
Share