علی شاہ کی کتاب ” ونگ دا وینڑ”کی تقریب رونمائی

بھکر کی تحصیل منکیرہ میں مقیم صاحب اسلوب شاعر ،ادیب اور صحافی علی شاہ کی کتاب ” ونگ دا وینڑ”کی تقریب رونمائی “شریف اکیڈمی”جرمنی کے زیرِ اہتمام ادبی بیٹھک الحمرا ہال لاہور میں منعقد ہوئی ۔ تقریب کی صدارت پی ٹی وی لاہور کے جنرل منیجر آغا ذوالفقار نے کی جب کہ مہمان خصوصی امریکہ سے آئی ہوئی ممتاز افسانہ نگار اور شاعرہ فرحت پروین تھیں ۔ معروف ادیب اور صحافی شاہد نذیر چوہدری اور اسلام آباد میں مقیم شاعر و ادیب اور ماہنامہ ساحل کے مدیر تنویر اختر مہمان اعزاز تھے ۔ دوران تقریب شریف اکیڈمی لاہور کے ڈائریکٹر ولایت احمد فاروقی اور سرگودہا میں مقیم خوبصورت لہجے کی شاعرہ ثمینہ گل نے عمدہ کمپیئرنگ کے ذریعے تقریب کو گرمائے رکھا۔تلاوت کلام پاک اور نعت رسول ﷺ کے بعد صدر تقریب اور مہمان خصوصی نے شریف اکیڈمی کی روایت کے مطابق شمع روشن کر کے شریف اکیڈمی کا علم و ادب کی روشنی کو عام کرنے کا نصب العین عام کیا ۔ یہ تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی ۔ پہلی نشست میں ممتاز دانشوروں ،مہمان خصوصی فرحت پروین ،تنویر اختر ،شاہد نذیر،چوہدری ، عذرا اصغر (کراچی)، ناز رضوی،ملک بشیر گوندل ، ڈاکٹر فاخرہ شجاع، اعجاز فیروز اعجاز ، تسنیم کوثر ،شاہین بھٹی ،جاوید شیدا،سعید عاصم،شبنم ناگی ایڈووکیٹ ،افضل حمید ،فرید فیصل،شبہ طرازاور افضل حمید نے کتاب اور صاحب کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ونگ دا وینڑ” علی شاہ کی ادب کے فروغ و ترویج کے حوالے بے مثال کاوش ہے ۔ علی شاہ محنت کو عظمت کا قائل ہے اور علاقہ تھل اور بالخصوص ضلع بھکر میں ادب کے فروغٖ میں علی شاہ کا کلیدی کردار ہے ۔ مقررین نے کہا کہ علی شاہ نے اپنی خداداد صلاحیتوں اور شبانہ روز محنت کی بدولت اپنی تخلیقات کے ذریعے نہ صرف اپنی تھل دھرتی کا مان بڑھایا ہے بلکہ اپنی خداداد صلاحیتوں اور انتھک کوششوں کے ذریعے اپنا اور اپنے علاقہ بھکر کا نام ملک بھر میں روشن کیا ہے۔مقررین نے ادب کے فروغ و ترویج کے حوالے سے شریف اکیڈمی کے چیف ایگزیکٹو شفیق مراد اور اس کی پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شریف اکیڈمی دنیا بھر میں اردو ادب کے فروغ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی علاقائی زبانوں کے ادب اور مضافاتی تخلیق کاروں کے کام کو بھی بھر پور طریقے سے اُجاگر کر رہی ہے اور یہی کام شریف اکیڈمی کو دیگر تنظیموں سے ممتاز کرتا ہے ۔ آغا ذوالفقار نے آخر میں صدارتی خطاب میں کہا کہ علی شاہ ایک محنتی اور کہنہ مشق نوجوان ہے اور اپنی محنت اور ادب دوستی کی بدولت آج قومی ادبی افق کا ستارہ بن چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں علی شاہ کی ادبی خدمات پر اسے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اسے مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ آخر میں شریف اکیڈمی کی ساؤتھ ایشیاء کی ڈائریکٹر محترمہ غزالہ عالم نے پروگرام کو ایک یادگار تقریب قرار دیتے ہوئے صدر تقریب اور تما م مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔ صاحب تقریب علی شاہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تھل دھرتی کے قلمکار بھرپور صلاحیتوں سے مالا مال ہیں لیکن دور دراز علاقہ ہونے کی وجہ سے انہیں اپنی صلاحیتوں کے بھرپور مواقع نہیں پاتے ۔ علی شاہ نے شریف اکیڈمی جرمنی کے چیف ایگزیکٹو شفیق مراد اور دیگر تمام عہدیداران کے ساتھ ساتھ تقریب کے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔ دوسری نشست محفل مشاعرہ پر مشتمل تھی جس کی صدارت تنویر اختر نے کی۔ مشاعرہ کی نشست میں جن شعرائے کرام نے اپنا کلام پیش کیا ان میں فرحت پروین،تنویر اختر، ڈاکٹر شوکت حیات، ڈاکٹر فاخرہ شجاع،نگہت یاسمین خان،شاہین بھٹی،علی شاہ،ولایت احمد فاروقی، سعید عاصم ،تسنیم کوثر ، اعجاز فیروز اعجاز،ثمینہ گل،آصف نقوی ،رضا عباس ، مقصود عامر ، لیلیٰ خٹک شامل تھیں۔
***
Viewers: 833
Share