Nighat Ikram | Interview | نوجوان شاعر کامی شاہ کی باتیں

کامی شاہ نوجوان نسل کے پسندیدہ شاعر
تحریر : نگہت اکرام۔ لاہور
’’تجھ بن ذات ادھوری ہے۔‘‘ منظر عام آیا تو لوگوں میں بے پناہ مقبولیت اختیار کی۔
کامی شاہ کی شاعری اپنے اندر معنویت کا ایک جہاں سمیٹے ہوئے ہے، جہاں محبت ہے سچائی ہے انفرادیت ہے زندگی کے رنگ ابھرتے دکھائی دیتے ہیں۔کامی شاہ کی نظمیں ،غزلیں اتنی خوبصورتی سے بیان کی گئی ہیں کہ بار بار پڑھنے کو دل کرتا ہے۔
لفظوں کے چناؤ اور خیالات کی خوبصورتی اسلوب بیان نے کامی شاہ کی شاعری کو منفرد بنا کر قاری کو زیر کر لیا ہے۔کامی شاہ شاعر کے علاوہ ایک افسانہ نگار ،مضمون نگار ،تجزیہ نگار بھی ہیں۔
مختلف ادبی رسائل اور مختلف ڈائجسٹ میں ان کے مضامین ،کہانیاں ،نظمیں،غزلیں ،تبصرے اور تجزے شائع ہو رہے ہیں۔بہترین افسانہ نگاری، بہترین شاعری اور بہترین مضمون نگار ہونے کے ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔
کامی شاہ سے ایک ملاقات قارئین کے لیے:
اسلام علیکم کامی شاہ کیسے ہیں آپ؟
میں خیریت سے ہوں اللہ کا شکر ہے۔
*کامی شاہ سب سے پہلے آپ اپنا پورا نام بتائیں۔
میرا پورا نام سید کامران علی شاہ ہے۔
*آپ کا ادبی نام کیا ہے؟
کامی شاہ
*آپ کی تاریخ پیدائش
18مئی1979
*زمانہ طالب علمی میں آپ کی سرگرمیاں کیا تھیں؟
زمانہ طالب علمی میں میں تعلیم حاصل کرتا تھا یہی میری سرگرمیاں تھیں۔
*آپ اپنی فیملی کے بارے میں بتائیں۔
میری فیملی بہت چھوٹی ہے بیوی ہے۔بیٹا ہے ،ماں ،ابا ،بہن بھائی اور سارے رشتے اچھے لگتے ہیں ۔اچھے پڑھنے والے ہیں،شاعری سے محبت کرنے والے،بے شمار لوگ میری فیملی میں شامل ہیں۔
*آج کل کیا کر رہا ہے؟
آج کل میں بہت کام کر رہا ہوں جاب ہے ’’آج‘‘ ٹی وی میں ۔لکھنے پڑھنے کا کام ہے کتاب کلچر کے فروغ کی کوشش بھی ہے۔
*شاعری کا آغاز کب کیا؟
شاعری کا آغاز 1996میں کیا۔
*آپ کا پہلا شعر کون سا تھا؟
مرنے کے خوف سے
مگر جینا پڑا مجھے
*آپ کا پہلا مجموعہ کلام کون سا ہے؟
تجھ بن ذات ادھوری
*آج کل نثری شاعری کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے آپ کا کیا خیال ہے؟
نثری نظمیں بھی اچھی ہوتی ہیں۔لوگ لکھ رہے ہیں میں خود بھی لکھتا ہوں نثری نظمیں ،ذیشان ساحل نے لکھی ہیں۔احمدفواد اور کاشف اصفا بھی نثری شاعری ہی لکھ رہے ہیں۔سو جو کوئی بھی علم وادب اور شاعری کے فروغ کے لیے کر رہا ہے وہ اچھا ہے۔
*شاعری جو منظر عام پر آ رہی ہے آپ اس سے کس حد تک مطمئن ہیں؟
میرے خیال میں جو شاعری اب منظر عام پر آرہی ہے بہت اچھی ہے لوگ بہت اچھے شعر کہہ رہے ہیں اور بہت اچھی کتابیں بھی آ رہی ہیں۔
*آپ کے نزدیک شاعری کیا ہے؟
میرے نزدیک شاعری ایک منصب ہے ۔ایک عہدہ ہے جو آپ کو ذمہ دار سمجھ کر دیا جاتا ہے ۔اپنی کفیات،جذبات ،محسوسات،خیالات اور نظریات کو متن اور سنجیدہ الفاظ میں سمجھ کر پیش کرنا۔اب جس کے نزدیک زندگی حسین ہو گی وہ ویسا ہی لکھے گا۔مگر ہر شعر کہنے والے کو شاعر قرار نہیں دیا جا سکتا۔
*ہر شاعر کے کلام میں کب فکری اور نظریاتی شعور ہوتا ہے۔آپ کن عوامل کو شاعری میں جگہ دیتے ہیں؟
میری فکری نظام محبت اور ایمانداری پر استوار ہے۔میں محبت کوا یمان سمجھتا ہوں آپ جھوٹ بول کر شعر نہیں کہہ سکتے۔
*آپ کا مجموعہ کلام شائع ہوا یہ تجربہ کیسا رہا؟
مجموعہ کلام شائع ہونے کا تجربہ بہت اچھا رہا ابھی تک مزا آ رہا ہے۔۔
*کتابوں کی رونمائیوں کی تقریبات ہوتی ہیں کیا یہ شہرت کے لیے ہوتی ہیں؟
کتابوں کی رونمائیوں کی تقریبات ایک شخص کے کام کو سراہنے کے لیے ہوتی ہیں ۔اور ہمیں ہر اچھے کام کو سراہنا چاہیے۔یہ ایک اچھی روایت ہے اس سے کتاب لکھنے والے شاعر ادیب کا تعارف بھی ہوتا ہے۔
*کیا کمپیوٹر نے کتابوں کی اہمیت کو کم کر دیا ہے ؟آپ کا کیا خیال ہے؟
کمپیوٹر نے کتابوں کی اہمیت کو بالکل کم نہیں کیا ۔بلکہ کام پہلے سے زیادہ آسانی سے ہونے لگا ہے کتب کی اشاعت زیادہ سہل ہو گئی ہے۔
*محبت کے بدلے محبت پر یقین رکھتے ہیں؟
میں صرف محبت پر یقین رکھتا ہوں۔
*زندگی کے بارے میں آپ کی رائے۔
زندگی میں ہوں اور زندگی مجھ سے ہے۔میں زندگی کو جتنا خوبصورت بناؤں گا اتنی ہی خوبصورت ہو جائے گی۔سو میں ہی زندگی ہوں اور زندگی تسلیم کرتا ہوں
*عشق آپ کے نزدیک کیا ہے؟
عشق چاہت کی انتہا ہے زندگی میں چیزوں کو چاہنے اور پرکھنے کے سات درجے ہیں۔عشق ان درجوں کی آہٹ ہے جہاں ہر طرف محبت ہی محبت ،چاہ ہی چاہ ہوتی ہے وہ مقام ہوتا ہے عشق۔
*محبت کے بارے میں آپ کا خیال۔
محبت میرے نزدیک زندگی کا پانچواں عنصر ہے۔
*محبت سکھ دیتی ہے یا دکھ۔آپ کا نظریہ کیا ہے؟
محبت دکھ بھی ہے اور سکھ بھی دیتی ہے یہ آپ پر منحصر ہے۔آپ اس میں سے کیا چنتے ہیں ۔محبت کا دائرہ بہت وسیع ہے آپ اسے دکھ یا سکھ میں قید نہیں کر سکتے۔
*لوگ آپ کو بہت چاہتے ہیں یہ احساس کیا لگتا ہے ؟
مجھے بہت اچھا لگتا ہے جب لوگ محبت سے بات کر کے میرے شعر SMSکرتے ہیں مجھے۔ذکر کرتے ہیں تو ظاہر ہے اچھا ہی لگتا ہے۔
*آپ کس جذبے کی قدر کرتے ہیں ۔
میں سچائی اور محبت کی قدر کرتا ہوں اور اس کے ساتھ اگر بہادری اور ذمہ داری بھی ہو تو کیا ہی بات ہے۔
*کیا آپ کو گفٹ لینا اور دینا پسند ہے؟
مجھے گفٹ لینا اور دینا اچھا لگتا ہے میں دوسروں کو کتابیں دیتا ہوں اور خود بھی کتابیں لینا پسند کرتا ہوں۔
*کون سے شاعر اورادیب کو زیادہ پڑھتے ہیں؟
میں بہت سے شاعروں اور ادیبوں کو پڑھتا ہوں شاعروں میں غالب،فیض،فراز،جون ایلیا،ثروت حسین،سلیم احمد،شاہین عباس،علی زریوں،احمد نوید،کاشف حسین اجمل سراج کہانی میں سعادت منٹو،عصمت چغتائی،قرۃ العین حیدر، مظہر اسلام، انتظار حسین،عبداللہ حسن،بانو قدسیہ، ابرٹ کاہو،سید اسد علی،خالدہ حسن،انیقہ ناز،اور بہت سے لکھنے والے۔
*آپ کی پسندیدہ کتاب کون سی ہے؟
قرآن حکیم
*پسندیدہ ناول:
دشت سوس، کینرواڑ، اداس ،باگھ،راجہ گرھ
*پسندیدہ شاعری کی کتابیں:
جون ایلیا کی’’شاید‘‘۔ دیوان غالب،دیوان میر،شامیں ماس کی ’’واسینہ‘‘ شام کے بعد، تجھ بن ذات ادھوری۔کاشف حسین غائر کی ’’راستے گھرنہیں جانے دیتے‘‘
*آپ کی شاعری کے اہم موضوعات کیا ہیں؟
میری شاعری کا موضوع ،زندگی ،انسان،اور محبت ہے ان تینوں کے بننے ،بگڑنے اور گھٹنے بڑھنے کی کیفیات سے میری شاعری بنتی ہے۔
*زندگی کا مشکل ترین کام:
میری زندگی میں کوئی کام مشکل نہیں ہے۔میں اپنے سارے معاملات بہت مزے سے انجام دیتا ہوں ۔اللہ سائیں سوہنا میرے سارے معاملات کو خوش اسلوبی سے گزرتا ہے میں اللہ پاک کا شکر گزار رہتا ہوں ہمیشہ۔
*کیا آپ کو موسیقی پسند ہے کیسی موسیقی سنتے ہیں؟
موسیقی مجھے پسند ہے غزل ،گیت نغمے سرساز سب سنتا ہوں۔
* پسندیدہ گلوکار /گلوکارہ
پٹھانے خان،نصرت فتح علی خاں،علی عظمت ،سونم نگم ،اے آر درجن ، ححگیت سنگھ ایسے لگتے ہیں عابدہ پروین لتا نیرہ نور کو بھی سنتا ہوں۔
*خوبصورتی متاثر کرتی ہے یا خوب سیرتی؟
خوبصورتی اور خوب سیرتی دونوں اچھی لگتی ہیں اس پر دماغ بھی صاف ستھر اہو تو دوست بتائیے کو جی چاہتا ہے
*آپ کا کلام کن ادبی جرالذکن دائجسٹ میں شائع ہوتا ہے؟
میرا کلام پچھلے 10سال سے تمام بڑے ادبی جرالذ میں شائع ہورہا ہے۔اس کے علاوہ دوشیزہ بھی کہانیاں ردا ناز میں ،آنچل ،آداب عرض،اور است اخبارات میں باقائدگی سے شاؤ ہوتا ہے۔
پیغام
شامیں عباس کا شعر ہے میرا یہی پیغام:
کتاب چہرہ روشن کھلی ہے طالب علم
جسے پڑھ کے پڑھائی ضرورت رہتی ہے۔
کامی شاہ آپ کو اپنی کون سی نظم اور غزل زیادہ پسند ہے
کامی شاہ کی شاعری سے انتخاب:
غزل
اتنی مشکل میں تو نہ ڈال مجھے
اپنے دل سے نہ یون نکال مجھے
دیکھ ٹوٹے ہوئے ہیں پیرمیرے
اپنی بانہوں میں لے سنبھال مجھے؂
پہلے وہ لے گیا ستاروں پر
اور پھر دے گیا وبال مجھے
یوں لگا خوشبوئیں سی اتری ہیں
جب بھی آیا تیرا خیال مجھے
اس میں تیر قصور کچھ بھی نہیں
راس آیا نہیں وصال مجھے
میرا اپنا بدن برا مجھ پر
میرے ملبے سے اب نکال مجھے
سچ کہو کیا دیا محبت نے
تم کو بے چینیاں ملال مجھے
****************************************************
Viewers: 2070
Share