Muhammad Azam Khan | Story | ستم

سِتم تحریر : محمد اعظم خاں بی کام کا امتحان دینے کے بعدعمران اپنے باپ کا ہاتھ بٹانے لگا تھا، رنگ محل میں ان کی موتی تارے کی دکان تھی، […]
سِتم
تحریر : محمد اعظم خاں
بی کام کا امتحان دینے کے بعدعمران اپنے باپ کا ہاتھ بٹانے لگا تھا، رنگ محل میں ان کی موتی تارے کی دکان تھی، اشرف نے ساری زندگی خوب محنت کی تھی، یہی وجہ تھی کہ اس نے جس دکان میں کرایہ دار کی حیثیت سے اپنا کاروبار شروع کیا تھا ،اب وہ دکان اس کی ذاتی ملکیت تھی، مگر جب سے اسے گردوں کی تکلیف رہنے لگی تھی ، اس کی ہمت جواب دے گئی تھی، عمران کے آجانے سے اشرف نے سکھ کا سانس لیا تھا اوروہ یہ سوچ کر مطمئن تھا کہ اب اسے گردوں کے ڈیلیسز کروانے کے لئے دکان بند نہیں کرنا پڑا کرے گی، اب اس کی غیر موجودگی میں اس کا اکلوتا بیٹا، عمران دکان سنبھال لیا کرے گا۔
اشرف بلڈ پریشر کا پرانا مریض تھا، بلڈ پریشر نے اس کے دونوں گردوں پربری طرح اثر کیا تھا، شروع میں وہ مختلف ادویات استعمال کرتا رہا ، لیکن جب حالت زیادہ ہی خراب رہنے لگی تو ڈاکٹروں نے اسے ڈیلیسز کروانے کا مشورہ دیاتھا، پہلے پہل اسے پندرہ دن بعد گردے واش کروانے کے لئے ہسپتال جانا پڑتا تھا، پھر رفتہ رفتہ یہ وقفہ کم ہوتا گیا اور دکان بھی بند رہنے لگی تھی،عمران کے آجانے سے اشرف کو یہ سکون ہو گیا تھا کہ اب اس کے نہ ہونے سے کاروبار متاثر نہیں ہو گا، وہ طویل عرصے تک گردوں کے مرض سے لڑتا رہا ، مگر ایک روز تھک کر اس نے ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کر لیں۔
باپ کی موت کے بعد گھر کی ذمہ داری عمران کے کندھوں پر آگئی تھی، وہ اپنی اکلوتی بہن مہوش کا اکلوتا بھائی تھا، مہوش، عمران سے عمر میں دو سال بڑی تھی، وہ تعلیم یافتہ اور خوبصورت تھی، مگر باپ کی طویل علالت کے باعث کاروبارنہ ہو نے کی وجہ سے، وہ مناسب رشتے کے انتظار میں گھر بیٹھی تھی۔عمران نے اپنی عقل و فہم سے بہت جلدکاروبار سنبھال لیا تھا، مگر دکان سے ہونے والی آمدن کا بڑا حصہ باپ کی بیماری کی نزر ہو جاتا تھا، اس لئے ماں کے بار بار احساس دلانے کے باوجود، وہ بہن کی شادی کے لئے کچھ نہیں کر پایا تھا۔
عمران نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ یوں اچانک سب کچھ بدل جائے گا، وہ کئی روز تک گھر میں ہی بیٹھا رہا تھا، پھر اس نے ماں کے سمجھانے پر بے دلی سے دکان کھول لی، کئی دن تک بند رہنے کی وجہ سے دکان میں پڑی ہر چیز پر مٹی کی تہیں جمی دکھائی دے رہی تھیں،وہ کرسی صاف کر کے بیٹھ گیاتھا مگر کسی چیز کو بھی ہاتھ لگانے کواس کا دل نہیں چاہ رہا تھا، وہ کچھ دیر تک اسی طرح ہاتھ پہ ہاتھ رکھے بیٹھا رہا، دکان کھلی دیکھ کر آس پاس کے کچھ دکاندار اس کے پاس افسوس کے لیے آ کھڑے ہوئے تھے ، اس لئے اسے مجبوراً اٹھنا پڑا اور اس نے جلدی سے ڈسٹر لے کر سامنے پڑے ہوئے بنچ صاف کر دیے تاکہ اس کے پاس آنے والے لوگ بیٹھ سکیں۔
دوپہر تک دکاندار، عمران کے پاس اس کے والد کی وفات پر افسوس کے لئے آتے رہے، جب لوگوں کا آناجانا ختم ہوا تو وہ اٹھا اور دکان کی صفائی میں لگ گیا، دکان میں مال بھی بہت کم ہی رہ گیا تھا کیونکہ جتنی بھی سیل ہوتی تھی ، اس رقم کا مزید مال آنے کی بجائے باپ کے علاج پر لگ جاتی تھی، جو کچھ پاس بچا تھا وہ بھی باپ کے فوت ہونے پرخرچ ہو گیاتھا، وہ شام تک بے دلی سے دکان پر بندھا بیٹھا رہا پھر دکان بند کی اور گھر کے لئے نکل پڑا۔
’’ کیا بات ہے بیٹا، آج تم بہت تھکے ہوئے دکھائی دے رہے ہو…..؟‘‘ فرحت نے عمران کے گھر پہنچنے پر دریافت کیا۔
’’نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں…..‘‘ عمران نے ماں کے پوچھنے پر تسلی دینے کے لئے کہا۔
’’ آج تم کئی دن بعد دکان پر گئے تھے، شاید اس لئے ایسا محسوس ہو رہا ہو ‘‘
’’ دکان پر بھی آج سارا دن بے کار بیٹھے گزرا….. کوئی گاہگ ہی نہیں تھا ‘‘
’’تم پریشان مت ہو …..آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا‘‘ فرحت نے بیٹے کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
’’ امی ! ایسا کچھ بھی نہیں ہے…. آپ بے فکر رہیں ….. بس دعا کرتی رہا کریں، وقت نے مجھ پر جو ذمہ داریاں ڈال دی ہیں ، خدا مجھے وہ ذمہ داریاں پوری کرنے کی ہمت دے ‘‘
’’ آمین…..آمین‘‘ فرحت نے ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے عمران کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
ان دونوں کی باتوں کے دوران مہوش نے میز پر کھانا لگا دیاتھا، وہ کھانا رکھ کر ان کے پاس آئی اور عمران کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ’’ عمران بھائی آ جاؤ ، کھانا کھا لو ‘‘ پھر ماں کی طرف دیکھ کر بولی ’’ امی آپ بھی آ جائیں….. آپ نے تو دوپہر کو بھی کچھ نہیں کھایا تھا ‘‘
’’کیوں امی! آپ نے دوپہر کو کھانا کیوں نہیں کھایا ؟‘‘ عمرا ن نے مہوش کی بات سن کر ماں سے سوال کیا۔
’’بس بیٹا بھوک نہیں تھی‘‘
’’چلیں آجائیں پھر….. تینوں مل کر کھانا کھاتے ہیں ‘‘ عمران نے بات کی تو فرحت خاموشی سے اس کے ساتھ چل پڑی، ان تینوں نے مل کر کھانا کھایا اوراپنے اپنے کمروں میں جا کر لیٹ گئے۔
*****
اب دکان پہلے کی طرح وقت پر کھلنے اور بند ہونے لگی تھی، جن پارٹیوں کے ساتھ ادھار چلتا تھا، عمران نے ان سے کافی مال ادھار اٹھا لیا تھا، ایک بار پھر سے کام چل نکلا تھا، ان کا کام ایسا تھا کہ انہیں دکان کے لئے مال لینے کی خاطر کہیں جانا نہیں پڑتا تھا، لوگ خود ان کی دکان پر آکر مال دے جاتے تھے اور اپنی پچھلی رقم میں سے جو ادائیگی ہوتی ، وہ لے جاتے تھے۔
خاوند کے ہوتے ہوئے بھی فرحت کو مہوش کی شادی کی فکر لگی رہتی تھی، اب وہ نہیں رہا تھا تو اس کی یہی کوشش تھی کہ وہ اس فرض سے جلد فارغ ہو جائے، عمران کو دن بھر دکان سے ہی فرصت نہیں ملتی تھی،بمشکل ہفتے میں ایک دن چھٹی کا ملتا تھا، وہ بھی کچھ ہفتے بھر کی نیند پوری کرنے اور کچھ گھر کے کام کاج نمٹانے میں گزر جاتاتھا، اس لئے وہ چاہتے ہوئے بھی مہوش کے لئے رشتہ تلاش کرنے کے لئے وقت نکال نہیں پاتا تھا۔
چھٹی کا دن تھا، جب ایک محلے دار خاتون کسی عورت کو ساتھ لئے ان کے ہاں آئی اور فرحت کو بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کے لئے مہوش کو دیکھنے آئی ہے، جو عورت رشتے کے لئے آئی تھی ، اس کا نام زاہدہ تھا،وہ شکل وصورت اور پہناوے سے کسی کھاتے پیتے گھرانے کی لگتی تھی، ان کے ہاں آنے سے پہلے ہی محلے دار خاتون نے ان کے بارے میں سب کچھ بتا دیا تھا،اس لئے اسے پوری طرح تسلی تھی ، جب اس نے مہوش کو دیکھا اور فرحت سے ملاقات ہوئی تو اسے مزید اطمینان ہو گیاتھا ۔ عمران کسی کام سے باہر گیا ہو ا تھا، ماں کے کہنے پر مہوش نے اسے موبائل پر فون کر دیا تھااور ساتھ ہی تاکید کر دی تھی کہ وہ آتا ہوا بیکری سے کچھ چیزیں بھی لیتا آئے ۔
’’ بہن !خیر سے کتنے بچے ہیں آپ کے ؟ ‘‘ فرحت نے زاہدہ سے سوال کیا۔
’’ میرا بیٹا ظفر ہی میری کل کائنات ہے ‘‘ فرحت کے پوچھنے پر زاہدہ نے جواب دیا۔
’’ اور ظفر کے ابو کیا کرتے ہیں ؟‘‘
’’ وہ تو ایک مدت ہوئی اللہ کو پیارے ہو گئے….. بس یوں سمجھ لیں ،ظفر کی ماں بھی میں ہوں اور باپ بھی….. ‘‘ زاہدہ نے اداس لہجے میں بات کی ۔
’’ یہ سن کر بہت افسوس ہوابہن….. ‘‘
’’یہ سب تو اوپر والے کے کام ہیں….. وہ جب چاہے ، جس کو چاہے اپنے پاس بلا لے….. ظفر ابھی چھوٹا ہی تھا جب میرے شوہر ایک حادثے میں فوت ہو گئے، تب سے میں نے اپنے بیٹے کو باپ بن کر پالا اور میں خدا کا جس قدر بھی شکر ادا کروں وہ کم ہے کہ اس نے میری محنت، حوصلے اور صبر کا پھل ایک اچھے بیٹے کی شکل میں مجھے دیا….. ماشاللہ اب وہ ایم سی ایس کرنے کے بعد بنک میں ملازم ہے ‘‘ زاہدہ نے تفصیل سے بات کی، شوہر کا ذکر کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے ، مگر اس نے انہیں بہنے سے روکے رکھا تھا۔
’’ حوصلہ کریں بہن….. آپ کا مشکل وقت تو جیسے تیسے کٹ گیا، اب پریشان نہ ہوں ‘‘ فرحت نے زاہدہ کو حوصلہ دیا۔
’’ سنا ہے….. آپ کے خاوند بھی فوت ہو گئے ہیں؟ ‘‘ زاہدہ نے رومال سے آنسو صا ف کرتے ہوئے پوچھا۔
’’ ہاں…..انہیں فوت ہوئے تو ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے ‘‘
’’ خدا آپ کو صبر دے ‘‘
’’ آمین…..‘‘
مہوش نے تھوڑی ہی دیر میں چائے کے ساتھ بہت سی کھانے کی اشیاء میز پر سجا دی تھیں، چائے پینے کے دوران بھی ان کے درمیان گفتگو کا سلسلہ جاری رہا، چائے کے بعد زاہدہ نے مہوش کو اپنے پاس بٹھا لیا اور بولی’’ آج میں بہت خوش ہوں ، مجھے اپنے بیٹے کے لئے جس طرح کی بہو چاہئے تھی وہ مل گئی اور آج میری تلاش بھی ختم ہو گئی، ورنہ ظفر کے رشتے کے لئے میں کہاں کہاں نہیں گئی….. اب خدا کرے کہ آپ لوگوں کو بھی میرا بیٹا پسند آ جائے اور جلد بات طے ہوجائے تاکہ میں اسے بیٹی بنا کراپنے گھر لے جاؤں ‘‘
’’ خدا سب ٹھیک کر ے گا….. ان معاملات میں جلدبازی اچھی نہیں ہوتی ، آپ بھی گھر جاکر تسلی سے سوچ لیں اور مشورہ کر کے ہمیں بتا دیجئے گا، پھر ہم بھی کسی روز آکر آپ کے بیٹے کو دیکھ لیں گے ‘‘
’’ میں نے کس سے مشورہ کرنا ہے بہن…..؟ دنیا میں بیٹے کے سوا میرا ہے ہی کون ؟….. میں جانتی ہوں، میرے فیصلے کو میرا بیٹا بھی کبھی نہیں ٹالے گا، پھر بھی میں آپ کے کہنے پر ظفر سے بات کر لوں گی اور آپ کے آنے کا پروگرام بھی پوچھ لوں گی ‘‘ زاہدہ نے بات کی اورساتھ ہی جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی،اسے اٹھتے دیکھ کر دیگر افراد بھی اٹھ کھڑے ہوئے تھے، فرحت اور مہوش انہیں دروازے تک چھوڑنے آئے تھے ، جب وہ چلے گئے تو وہ دونوں اندر آگئیں۔
اگلے ہی روززاہدہ نے مسکراتے ہوئے اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھااور اتوار کے روز انہیں اپنے گھر آنے کی دعوت بھی دے ڈالی تھی ، اتوار کو عمران کو بھی دکان پر نہیں جانا تھا،اس لئے پروگرام کے مطابق، دونوں ماں بیٹا ظفر کو دیکھنے ان کے ہاں جا پہنچے، زاہدہ نے ظفر کے متعلق جو کچھ کہا تھا، وہ ہر لفظ سچ تھا، ظفر تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی سمارٹ اور ہینڈسم تھا، انہوں نے باتوں کے دوران ہی وہیں بیٹھے مہوش اور ظفر کی شادی کا فیصلہ کر لیا تھا۔
زاہدہ کو بیٹے کے سر پر سجا سہرا دیکھنے کی جلدی تھی جبکہ عمران کو جہیز کی تیاری کے لئے وقت درکار تھا، گوکہ زاہدہ نے واضح الفاظ میں کہہ دیا تھا ’’ اس کے گھر میں خدا کا دیا ہوا سب کچھ ہے اس لئے وہ کسی قسم کا جہیز نہیں لیں گی‘‘، مگر عمران کی خواہش تھی کہ وہ اپنی بہن کو اس طرح گھر سے رخصت کرے کہ اسے باپ کی کمی محسوس نہ ہو۔
دونوں گھروں میں ہی شادی کی تیاریاں ہونے لگی تھیں ، ادھر ماں بیٹی میں سے کسی کے لبوں سے کسی بھی خواہش کا اظہار ہوتا ، عمران اسے پورا کرنے کے لیے دوڑ پڑتا، اس کی یہی کوشش تھی کہ کسی بھی بات سے اس کی ماں کو شوہر کی اور بہن کو باپ کی کمی محسوس نہ ہونے پائے ،پھر باہمی مشورے سے شادی کی تاریخ طے کر لی گئی اور مہوش دلہن بن کر ظفر کے گھر چلی آئی، عمران نے جہیز سے لے کر شادی کے تمام تر انتظامات میں کوئی کمی نہیں رہنے دی تھی،یہی وجہ تھی کہ جس پارٹی سے وہ دکان کے لیے مال لیا کرتا تھا اس کی بہت سی رقم سر پر چڑھ گئی تھی۔
*****
مہوش بہت خوش تھی ،اسے ایسا جیون ساتھی ملا تھا جسے پانے کی ہر لڑکی کے دل میں خواہش ہوتی ہے،اسے بن چاہے ،بن مانگے وہ سب کچھ مل گیا تھا جس نے اس کی زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں بھر دی تھیں۔ شادی کے فوراً بعد ہی دعوتوں کا سلسلہ چل نکلا تھا ،آئے روز کہیں نہ کہیں ان کی دعوت ہوتی ،کبھی مہوش کے رشتہ داروں اور کبھی ظفر کے عزیز ،رشتہ داروں یا دوستوں کی طرف سے انہیں کھانے پر بلا یا گیا ہوتا، روز روز کی دعوتوں اور پر تکلف کھانوں کی وجہ سے ان دونوں کے جسم بھر گئے تھے اور وہ پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت دکھائی دینے لگے تھے۔
ظفر کا معمول تھا کہ وہ ہفتے کی شام ،مہوش کو ساتھ لیے اپنے سسرال میں آجاتا،اتوار کو عمران کو دکان پر نہیں جانا ہوتا تھا اور ظفر کو بھی آفس سے چھٹی کی وجہ سے صبح اٹھنے کی جلدی نہیں ہوتی تھی اس لیے وہ دونوں رات گئے تک ادھر رہتے، اس روز مہوش اور ظفر کسی دوست کے ہاں سے پارٹی کے بعد آئے تھے اور پھر دیر تک گپ شپ لگاتے رہنے کے بعد واپس گھر جانے کے لیے چل پڑے تھے۔
مہوش کو اس بات کا بخوبی احساس تھا کہ ظفر چاہے جتنا بھی تھکا ہوا ہو وہ اسے ہفتے کی رات کو اس کے گھر والوں سے ملوانے ضرور لے جاتا ہے تاکہ اس کا دل بھی لگا رہے اور وہ ماں اور بھائی کے بغیر اداس بھی نہ ہو۔
’’ ظفر آپ کتنے اچھے ہیں ‘‘ گھر واپس جاتے ہوئے مہوش نے ظفر کو پیار سے دیکھتے ہوئے بات کی۔
’’ مجھے کیا پتہ میں کتنا اچھا ہوں؟‘‘ظفر نے مہوش کو چھیڑنے کے لیے کہا۔
’’ میرا مطلب یہ ہے کہ آپ بہت اچھے ہیں ‘‘
’’ ویسے یہ کمال نہیں ہو گیا ۔۔۔ مجھے پتہ بھی نہیں کہ میں بہت اچھا ہوں اور تمہیں پتہ بھی چل گیا ‘‘
’’ آپ اچھے ہیں تو میرا اتنا خیال رکھتے ہیں ‘‘
’’ بھئی کتنا خیال رکھتا ہوں ؟‘‘ ظفر جان بوجھ کر مہوش کو الجھا رہا تھا،اس وقت مہوش جس قدر پیار بھر ی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی،اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ لمحے طویل ہو جائیں، اسی لیے اس نے گاڑی کی رفتار کم کر دی تھی اور مہوش کی باتوں سے پوری طرح لطف اندوز ہو رہا تھا۔
’’ اب دیکھیں ناں ۔۔۔ یہ کوئی معمولی بات تونہیں کہ آپ ہر ہفتے اپنی نیند اور آرام قربان کر کے مجھے میری ماں اور بھائی سے ملوانے لے جاتے ہیں۔۔۔‘‘
’’ خوبصورت لڑکی پہلو میں بیٹھی ہو تو لڑکے کو ہوش ہی کہاں رہتا ہے ۔۔۔لڑکی جس قدر چاہے اسے اشاروں پہ نچا لے‘‘
’’ مگر میں لڑکی نہیں۔۔۔بیوی ہوں ‘‘
’ ’ یہ تو شکر ہے تم نے جلدی سے بتا دیا کہ تم بیوی ہو۔۔۔ ورنہ جب تم نے یہ کہا کہ میں لڑکی نہیں ، تو مجھے زوردار جھٹکا لگا کہ کہیں میری کسی اور ہی مخلوق سے تو شادی نہیں ہو گئی ‘‘
’’ ظفر آپ بھی بڑے وہ ہیں ‘‘ مہوش نے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بنا کر مسکراتے ہوئے پیار سے اس کے بازوؤں پر مارتے ہوئے کہااور پھر اپنا سر ا س کے کندھے پر رکھ دیا۔
’’ بس اب اتنی رومانٹک بھی نہ ہوں۔۔۔ گھر آگیا ہے ‘‘
ظفر کی بات سنتے ہی مہوش نے اپنا سر اس کے کندھے سے اٹھا لیا اور اپنی سیٹ پر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی تھی۔
وہ اپنی گلی میں داخل ہو چکے تھے، ظفر نے گھر کے سامنے گاڑی روک دی اور گیٹ کھولنے کے لیے گاڑی سے باہر نکل آیا، اسی لمحے ایک موٹر سائیکل بجلی کی سی تیزی سے عین ان کی گاڑی کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی، جس پر ہلکی عمروں کے دو نوجوان سوار تھے ان دونوں نے ہی جین کی پینٹ اور شارٹ شرٹس پہن رکھی تھیں ،موٹر سائیکل کھڑی کرتے ہی انہوں نے اپنے اپنے پستول نکال کر ان دونوں پر تان لیے تھے،ظفر تو پہلے سے ہی گاڑی سے باہر کھڑا تھا، مہوش بھی گاڑی سے نکلنے کا اشارہ پا کر خاموشی سے گاڑی سے نکل کر باہر کھڑی ہو گئی تھی، ظفر اور مہوش اپنی باتوں میں اس قدر محو تھے کہ ان میں سے کسی کو بھی راستے میں یہ احساس نہیں ہوا تھا کہ کوئی موٹر سائیکل پر ان کا پیچھا کر رہا ہے، یہ کام اس قدر اچانک ہوا تھا کہ انہیں سنبھلنے اور کچھ سوچنے کا بھی موقعہ نہیں ملا تھا۔
’’ جو کچھ ہے جلدی سے نکال کر ہمارے حوالے کر دو ‘‘ظفر پر پستول تانے کھڑے نوجوان نے کرخت آواز میں کہا۔
’’ اور تم بھی۔۔۔ ‘‘ دوسرے نوجوان نے اپنے پستول والے ہاتھ کو نچاتے ہوئے مہوش کو حکم دیا۔
’’میں سب کچھ تمہیں دے دیتی ہوں مگر انہیں کچھ مت کہنا ‘‘ مہوش نے التجا کی۔
’’تو پھر جلدی کرو۔۔۔ ہمیں باتوں میں مت الجھاؤ ‘‘
ظفر نے اپنا موبائل،گھڑی اور پرس نکال کر خاموشی سے ان کے حوالے کر دیا تھا ،مہوش بھی ایک ایک کر کے اپنے تمام زیورات نکال کر ان کے حوالے کر تی جا رہی تھی،مگر انہیں وہاں سے بھاگنے کی اس قدر جلدی تھی کہ ایک نوجوان تاخیر سے بچنے کے لیے آگے بڑھ کر مہوش کے کانوں اور گلے سے زیورات نوچنے لگا۔
’’ اسے ہاتھ مت لگاؤ۔۔۔ ‘‘
’’ ورنہ کیا کرو گے ؟‘‘
’’ ظفر آپ خاموش رہیں پلیز۔۔۔‘‘ مہوش نے بات بڑھنے کے خوف سے ظفر سے کہا اور پھر مزید تیزی سے زیورات اتارنے لگی۔
اب مہوش کے کانٹے، ہار اور انگوٹھیاں اس کے جسم سے اتر کر نوجوان کی جیبوں میں ٹھونسی جا چکی تھیں مگر اس کے بازو میں پہنی ہوئی چوڑیاں اور کنگن اتارنے میں مشکل پیش آ رہی تھی ۔
’’ شہباز! لگتا ہے اس کا چوڑیاں دینے کو دل نہیں کر رہا۔۔۔یہ کام ہمیں خود ہی کرنا پڑے گا ‘‘ جو نوجوان ظفر پر پستول تانے کھڑا تھا اس نے اپنے ساتھی کی طرف دیکھتے ہوئے بات کی۔
’’ ٹھیک ہو گیا۔۔۔ ‘‘ شہباز نے ساتھی کی بات سنتے ہی مہوش کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور خود چوڑیاں اتارنے کی کوشش کرنے لگا۔
’’ دیکھو میں تمہیں بار بار کہہ رہا ہوں اسے ہاتھ مت لگاؤ۔۔۔ جب تمہیں ہر چیز مل رہی ہے تو بار بار اسے ہاتھ کیوں لگاتے ہو ‘‘ ظفر نے غصے میں بات کی ،پھر مہوش کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ’’ تم جلدی سے چوڑیاں اتار کر ان کے منہ پر مارو اور جان چھڑاؤ۔۔۔ میں تمہیں اور بنوا دوں گا ‘‘
’’ میں کب دیر کر رہی ہوں۔۔۔چوڑیاں تھوڑی سی تنگ ہیں ۔۔۔ آہستہ آہستہ ہی اتریں گی مگر یہ بے صبرے ہو رہے ہیں ۔۔۔ ‘‘
’’ شہاز تم بھی کن چکروں میں پڑ گئے ہو۔۔۔ جلدی سے کٹر نکالو اور کام فارغ کر و ‘‘
’’ ٹھیک ہو گیا۔۔۔ ‘‘ شہباز نے کہا اور اپنی جیب سے کٹر نما آلہ نکال کر پھر سے مہوش کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
شہباز نے مہوش کا ہاتھ پکڑا تو ظفر غصے سے بے قابو ہو کر اس پر جھپٹ پڑا، اسی لمحے پستول سے گولی چلی اور ظفر کے سینے میں دھنس گئی ، گولی لگنے سے ظفر زمین پر گر پڑا تھا،شہباز نے کسی بے رحم قصائی کی طرح الیکٹرانک کٹر سے ایک ہی جھٹکے میں مہوش کا بایاں ہاتھ کلائی تک کاٹ ڈالا تھا،مہوش بے ہوش ہو کر زمین پر گرپڑی تھی مگر ان دونوں کو ہی اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی، اب چوڑیوں اور کنگن والی کلائی شہباز کے ہاتھوں میں تھی، تب تک دوسرا نوجوان موٹر سائکل سٹارٹ کر چکا تھا،پھر جس قدر تیزی سے وہ وہاں آئے تھے اسی تیزی سے وہ وہاں سے نکل گئے۔
رات کی خاموشی میں پستول سے نکلنے والی گولی کی آواز دور تک سنائی دی تھی،لوگ اپنے اپنے گھروں میں سوئے پڑے تھے اس لیے کسی نے بھی انہیں لٹتے ہوئے نہیں دیکھا تھا،جب گولی چلی تو ایک دو گھروں کے لوگ کمروں سے نکل کرصورت حال جاننے کے لیے اپنے اپنے ٹیرس میں آ کھڑے ہوئے تھے ، انہوں نے سٹریٹ لائٹس کی روشنی میں اپنی آنکھوں سے انہیں مہوش کی کلائی کاٹتے ہوئے اور پھر موٹر سائیکل پر فرار ہوتے دیکھا تھا ،مگر کسی میں بھی ان کے سامنے آنے کی ہمت نہیں ہو ئی تھی۔
ان دونوں لٹیروں کے جانے کے بعد ایک ایک کرکے بہت سے محلے دار وہاں آ کھڑے ہوئے تھے، اوپر تلے بار بار ظفر کے گھر کی ڈور بیل بجائی گئی تو زاہدہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اور ٹیرس سے جھانک کر دیکھا، وہ آدھی رات کو اپنے دروازے پر کھڑے بہت سے لوگوں کو دیکھ کر پریشان ہوئے بغیر نہ رہ سکی اور دھڑکتے دل کے ساتھ گیٹ کھولنے کے لیے نیچے اتر آئی،گیراج میں ظفر کی گاڑی کھڑی نہ دیکھ کر اس کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔
زاہدہ نے گیٹ کھولا تو سامنے ہی اس کا بیٹا اور بہو خون میں لت پت زمین پر گرے پڑے تھے، ان دونوں کو اس حالت میں دیکھ کراس کی چیخ نکل گئی ، قریب تھا کہ وہ چکر اکر گر پڑتی ، کسی شخص نے آگے بڑھ کر اسے سنبھال لیا اور پھر اس کے پوچھنے پر تمام تفصیلات بیان کیں،کسی نے صورت حال دیکھ کر 15 اور پھر 1122 پر کال کر دی تھی ، فون کرنے پر کچھ ہی دیرمیں ایمبولینس وہاں پہنچ گئی تھی۔
*****
موبائل کی گھنٹی بج رہی تھی مگر عمران فون نہیں اٹھا رہاتھا، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ان کی ہدایات کے مطابق مہوش اور ظفر گھر پہنچتے ہی مس کال ضرورکرتے تھے ،جس سے انہیں تسلی ہو جاتی تھی کہ وہ بخیریت گھر پہنچ گئے ہیں، وہ یہی سوچ کر فون نہیں اٹھا رہا تھا کہ اس کے موبائل پر بیل انہوں نے ہی کی ہو گی مگر جب بار بارموبائل کی گھنٹی بجنے لگی تو اس نے موبائل اٹھاکر دیکھا،کال ظفر کے موبائل سے نہیں کی جارہی تھی۔
’’ ہم لٹ گئے ، ہم برباد ہوگئے بیٹا۔۔۔ ‘‘ فون آن کر تے ہی عمران کے کانوں میں ظفر کی والدہ کی آواز پڑی۔
’’ کیا ہوا آنٹی۔۔۔ سب خیر تو ہے ناں ؟‘‘ عمران نے پریشانی کے عالم میں دریافت کیا۔
’’ خیر ہی تو نہیں ہے۔۔۔‘‘ زاہدہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی ’’ ڈاکوؤں نے ظفر کو گولی مار دی اور مہوش کا ہاتھ کاٹ دیا ۔۔۔ ہم اسے جناح ہسپتال لے کر جارہے ہیں ۔۔۔‘‘
’’ یہ تو بہت برا ہوا۔۔۔آپ فکر نہ کریں ہم آرہے ہیں آنٹی۔۔۔‘‘ عمران نے بات کی ، ابھی وہ بات کر رہا تھا کہ فون کٹ گیا۔
عمران جانتا تھا کہ اس وقت اگر اچانک اس نے یہ خبر ماں کو سنائی تو وہ صدمہ برداشت نہیں کر پائے گی، مگر اسے اطلاع دیے بغیر بھی چارہ نہیں تھا،وہ اپنے کمرے سے نکل کر ساتھ والے کمرے میں لیٹی اپنی ماں کے پاس آیا اور آہستہ سے آواز دی، اس کی پہلی ہی آواز پر فرحت نے آنکھیں کھول دی تھیں۔
’’ کیا بات ہے عمران۔۔۔؟‘‘ فرحت نے آدھی رات کو بیٹے کو اپنے بیڈ کے پاس کھڑے دیکھ کر سوال کیا۔
’’ ابھی ابھی آنٹی زاہدہ کا فون آیا تھا۔۔۔‘‘
’’ اس وقت!!!۔۔۔ وہاں سب ٹھیک تو ہے ناں۔۔۔ ؟‘‘
’’ ہاں۔۔۔ وہ کہہ رہی تھیں ظفر کی کچھ طبیعت ٹھیک نہیں تھی ، اس وقت قریب کوئی کلینک بھی نہیں کھلا تھا، اس لیے وہ اسے ہسپتال لے کر جا رہے ہیں ‘‘ عمران نے جان بوجھ کر بات بنائی۔
’’ اللہ خیر کرے۔۔۔‘‘ فرحت نے کہا اور پھر بولی ’’ ہمیں بھی فوراً ہسپتال پہنچنا چاہئے ‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ گئی اور باتھ روم میں جا کر جلدی سے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔
فرحت باتھ روم سے باہر آئی تو عمران ہاتھ میں موٹر سائیکل کی چابی پکڑے گھر سے نکلنے کے لیے تیار کھڑا تھا، انہوں نے گیٹ پر تالا لگایا اور ہسپتال کی طرف چل پڑے،عمران صورت حال سے پوری طرح آگاہ تھا اس لیے اس کی آنکھوں میں مسلسل آنسو تیر رہے تھے، جنہیں اس نے بمشکل بہنے سے روکے رکھا تھاجبکہ فرحت کے ہاتھوں میں تسبیح تھی، لبوں پہ ذکر خدا اوردل سے داماد کی خیریت کے لیے دعائیں نکل رہی تھیں۔
*****
ماں ،بیٹا جناح ہسپتال کی ایمرجینسی میں پہنچے توانہیں دیکھ کر زاہدہ ،فرحت سے لپٹ کر رونے لگی،اب تک فرحت کو عمران نے یہی بتایا تھا کہ ظفر کی طبیعت ٹھیک نہیں مگر ہسپتال پہنچتے ہی زاہدہ کے آنسو کچھ اور ہی کہانی سنا رہے تھے، فرحت اسے حوصلہ کرنے اور ظفر کے لیے دعا مانگنے کو کہہ رہی تھی، جب زاہدہ نے روتے ہوئے تمام واقعات بیان کیے ، ظفر کوگولی لگنے اور مہوش کی کلائی کاٹنے کا بتایا تو فرحت، جو اب تک زاہدہ کو حوصلہ دے رہی تھی ،خود بھی دھاڑیں مار کر رونے لگی تھی۔
ڈاکٹر ،ظفر کو بچانے کی پوری کوشش کر رہے تھے مگر اسے جس حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا وہ انتہائی تشویشناک تھی،دوسری طرف مہوش بھی ابھی تک بے ہوش تھی، ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اگر کسی طرح مہوش کا ہاتھ مل جائے تو اسے آپریشن کے ذریعے جوڑا جا سکتا ہے، جیسے ہی عمران نے ڈاکٹروں کے منہ سے یہ بات سنی تو وہ فوراً موٹر سائیکل پر ظفر کے گھر کی طرف چل پڑا۔
عمران نے ظفر کے گھر کے سامنے پہنچ کر موٹر سائیکل ایک طر ف کھڑی کر دی تھی، وہاں ظفر اور مہوش کے جسم سے نکلنے والا خون جگہ جگہ گرا دکھائی دے رہا تھاجوجم کر بھوری رنگت اختیار کر چکا تھا،اس نے وہاں کا بغور جائزہ لیا مگر کہیں بھی مہوش کا کٹا ہوا ہاتھ دکھائی نہیں دے رہا تھا،جب وہ ادھر ادھر کا مکمل جائزہ لے چکا تو اس نے موٹر سا ئیکل سٹارٹ کی اور مایوس ہو کر واپس چل پڑا،وہ آہستہ آہستہ موٹر سائیکل چلا رہا تھا، اس کی آنکھیں اب بھی بہن کا کٹا ہوا ہاتھ تلاش کر رہی تھیں، وہ گلی سے نکل کر بڑی سڑک پر آگیا تھا مگر کہیں ہاتھ دکھائی نہیں دیا تھا۔
وہ ہسپتال پہنچا تو دو مائیں ہاتھوں میں تسبیح لیے بنچ پر پاس پاس افسردہ بیٹھیں اپنے دونوں بچوں کی خیریت کی دعائیں مانگ رہی تھیں،انہیں اس حالت میں دیکھ کر عمران کا دل بھر آیا تھا، قریب تھا کہ وہ رو پڑتا لیکن اس نے خود کو سنبھالاکیونکہ وہ جانتا تھا کہ دونوں گھروں میں اس کے سوا کوئی دوسرا مرد نہیں تھا، اگر وہ بھی رو پڑا تو انہیں تسلی دینے والا کوئی بھی نہیں رہے گا۔
’’مہوش کا ہاتھ ملا۔۔۔؟‘‘ عمران کو دیکھتے ہی فرحت اور زاہدہ نے ایک ساتھ سوال کیا۔
’نہیں۔۔۔‘‘ عمران نے ایک لمبی سانس چھوڑتے ہوئے کہا۔
’’ ادھر ادھر اچھی طرح دیکھ لینا تھا ‘‘ فرحت نے بات کی۔
’’ میں نے وہاں گلی میں ہر طرف بغور دیکھا اور واپسی پر بھی دور تک سڑکوں پر ادھر ادھر دیکھتا ہوا آیا ہوں مگر کہیں بھی مہوش کا ہاتھ دکھائی نہیں دیا ‘‘
’’ کوئی ان ظالموں سے پوچھے ،بھئی تم نے جو کچھ لینا ہے لے لو مگر بچی کا ہاتھ تو نہ کاٹو ‘‘ زاہدہ نے بھرائی ہو ئی آواز میں کہا۔
’’ ایسی سوچ ہو تو وہ لوگ اس طرح کے کام ہی کیوں کریں آنٹی ۔۔۔ کسی کا ہنستا بستا گھر اجڑ جائے یا کوئی ان کے ہاتھوں مارا جائے انہیں اس کی کہاں پرواہ ہوتی ہے ‘‘ عمران نے بات کی۔
عمران کی بات سن کر دونوں مائیں روتے ہوئے جھولیاں اٹھا اٹھا کر ڈاکوؤں کو بد دعائیں دینے لگی تھیں، عمران کو مہوش اور ظفر کی فکر لگی ہوئی تھی ، ڈاکٹر کئی بار ان کے لیے فوری طور پر مزید خون کا انتظام کرنے کے لیے کہہ چکے تھے اس لیے وہ وہاں سے ایک طرف ہو کر اپنے دوستوں اور عزیزوں کو فون کرنے لگاتھا۔
رات صبح میں بدل گئی تھی ، لیکن ظفر زندگی کی وہ صبح دیکھ نہیں پایا تھا،زاہدہ بیٹے کی لاش سے لپٹ کر اس قدر تڑپتے ہوئے بین کر رہی تھی کہ پاس کھڑے ہوئے لوگوں کی آنکھوں سے بھی بے اختیار آنسو نکل پڑے تھے، فرحت دہرے دکھ میں مبتلا تھی ، ایک طرف اس کی نو بیاہتہ بیٹی کا سہاگ اجڑ گیا تھا ، دوسری طرف اس کی بیٹی اپنا ایک ہاتھ کٹوا کر زندگی اور موت کی کشمکش میں تھی، اس کے آنسو بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے، عمران بھی اندر سے ٹوٹ چکا تھا،اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے مگر اس کے باوجود وہ دونوں ماؤں کو حوصلہ بھی دے رہا تھا،کچھ دیر بعد عمران ،ظفر کی میت کو ایمبولینس میں ڈال کر اس کے گھر چھوڑ آیا تھا، زاہدہ اور فرحت بھی اس کے ساتھ ہی گھر چلی گئی تھیں۔
مہوش کو ہوش آگیا تھا اور ڈاکٹروں نے اسے خطرے سے باہر قرار دے دیا تھا، عمران، ظفر کی میت کو گھر پہنچانے اور قبر کے لیے دوستوں کو ضروری ہدایات دینے کے بعد واپس مہوش کے پاس آ بیٹھا تھا مگر اس نے جان بوجھ کر اس سے ظفر کے بارے میں بات نہیں کی تھی ۔
’’ ظفر کیسے ہیں ؟‘‘ ہوش میں آتے ہی مہوش نے اپنے ہاتھ کے متعلق پوچھنے کی بجائے خاوند کے بارے میں سوال کیا۔
’’ وہ دوسری وارڈ میں ہے۔۔۔بس تم فکر نہیں کرو سب ٹھیک ہو جائے گا ‘‘ عمران نے حوصلے سے بات کی مگر پھر بھی اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔
’’ تم مجھے اس کے پاس لے چلو۔۔۔ میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی ہوں ‘‘
’’ میں نے کہا ناں وہ باالکل ٹھیک ہے ‘‘
’’ کہیں تم مجھ سے جھوٹ تو نہیں بول رہے ؟‘‘
’’ میں کیوں جھوٹ بولنے لگا ‘‘
’’ تو پھر مجھے اس کے پاس لے کر کیوں نہیں جاتے۔۔۔ ایک بار ۔۔۔ صر ف ایک بار ۔۔۔ میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں ۔۔۔ میرا وعدہ ہے میں اس سے کوئی بات بھی نہیں کروں گی اور تمہارے ساتھ ہی یہاں واپس چلی آؤں گی ‘‘
’’ میں تمہیں کیسے بتاؤں میری بہنا ۔۔۔ ظفر بھائی اب اس دنیا میں نہیں رہے ‘‘ عمران بات کرتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
’’ کیا کہا تم نے ؟؟؟‘‘
’’ ہاں۔۔۔ ظفر بھائی ہمیں روتا ہو ا چھوڑ کر چلے گئے ‘‘
’’ ظفر چلے گئے۔۔۔ تو پھر میں کیسے زندہ ہوں ۔۔۔جس شخص نے میرے لیے جان دے دی ۔۔۔ میں اس کے ساتھ کیوں نہیں مرگئی ‘‘ مہوش کو خود پر قابو نہیں رہا تھا اور وہ روئے جارہی تھی، اس کے آنسو آنکھوں سے نکل کر بیڈ کی چادر میں جزب ہو رہے تھے ، پھر اسے کچھ ہوش نہ رہا۔
عمران اس کی حالت دیکھ کر جلدی سے وارڈ میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کو بلا لایا، تھوڑی سی کوشش سے ڈاکٹر اسے ہوش میں لانے میں کامیاب ہو گیا تھا مگر ساتھ ہی اس نے ا سے نیند کا انجکشن بھی لگا دیا تھا تاکہ وہ دو تین گھنٹے سکون سے سوئی رہے۔
انجکشن لگنے کے تھوڑی ہی دیر بعد نیند مہوش پر غالب آگئی تھی، اس کے سونے سے پہلے تک عمران پاس بیٹھا اسے بغور دیکھتا رہا تھا، جب اسے تسلی ہو گئی کہ وہ گہری نیند سو چکی ہے تووہ ماں سے بات کرنے کے لیے موبائل سے نمبر ملانے لگا ، ماں سے بات ہوئی تو فون پر رونے پیٹنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، عمران نے مہوش کے ہوش میں آنے کی اطلاع ماں کو دے دی تھی تاکہ وہ جس کرب سے گزر رہی تھی اس میں کچھ کمی آسکے اور کم از کم اسے بیٹی کی طرف سے تو تسلی ہو جائے،ماں سے بات کرنے کے بعد وہ اپنے عزیزوں، رشتہ داروں اور دوست احباب کو ظفر کی موت کی اطلاع دینے کے لیے فون ملانے لگا۔
مہوش پچھلے دو گھنٹے سے سو رہی تھی، پھر اچانک وہ ایک جھٹکے کے ساتھ اٹھ بیٹھی۔
’’ تم بیٹھ کیوں گئی۔۔۔لیٹی رہو ‘‘ عمران نے اسے بیٹھتے دیکھ کر کہا۔
’’ نہیں ۔۔۔ مجھے گھر جانا ہے ‘‘
’’ تم ٹھیک ہو جاؤ۔۔۔ پھر گھر بھی چلیں گے ‘‘
’’ میں نے کہا ناں ۔۔۔ مجھے ابھی جانا ہے۔۔۔ ورنہ دیر ہو گئی تو وہ ظفر کو لے جائیں گے اور پھر میں زندگی بھر کبھی اس کی صورت دیکھ نہیں پاؤں گی ‘‘
’’ اچھا میں ڈاکٹر سے بات کر کے دیکھتا ہوں ‘‘
’’ ڈاکٹر مانے یا نہ مانے ۔۔۔بس مجھے جانا ہے ‘‘ مہوش نے سخت لہجے میں بات کی۔
مہوش کی بات سن کر عمران اٹھ کھڑا ہو ا اور ڈاکٹر کو تمام تر صورت حال سے آگاہ کر دیا،مہوش کی جو حالت تھی ،عام حالات میں ڈاکٹر کسی بھی طرح اسے جانے کی اجازت نہ د یتامگرخاوند کا جنازہ گھر میں پڑا ہونے اور اس کا آخری دیدار کرنے کے لیے اسے مجبوراً اجازت دینا پڑی ، کیونکہ وہ وقت کی نزاکت سے پوری طرح آگاہ تھا اور جانتا تھا کہ اگر اس نے مہوش کو جانے کی اجازت نہ دی تو اس کی حالت مزید بگڑ سکتی تھی۔
عمران ، مہوش کو لیے گھر میں داخل ہو ا توسامنے ہی ظفر کی میت چارپائی پر پڑی تھی اور ارد گرد بہت سی خواتین بیٹھی تھیں، مہوش پر نظر پڑتے ہی وہاں ایک طوفان اٹھ کھڑا ہو ا تھا، عورتیں باری باری اسے سینے سے لگا کر روتے ہوئے بین کر نے لگیں، ماں نے بیٹی کو کٹے ہوئے ہاتھ کے ساتھ دیکھاتو صبر کے سبھی دامن چھوٹ گئے اور وہ اسے گلے لگا کر خوب روئی ، زاہدہ بیٹے کی لاش کے پاس بیٹھی آنسو بہا رہی تھی، مہوش کو دیکھ کراس نے اسے سینے سے چمٹا لیا اور اس قدر روئی کہ روتے ہوئے اس کی ہچکی بندھ گئی اور وہ بے ہوش ہو کر گر پڑی، تھوڑی ہی دیر بعد چہرے پر پانی کے چھینٹے مارنے اور چہرہ تھپتھپانے سے زاہدہ نے آنکھیں کھول دی تھیں اور وہ پھر سے آنسو بہانے لگی تھی۔
سبھی خواتین مہوش کے گلے لگ کر رو رہی تھیں مگر مہوش کی آنکھوں میں ایک بھی آنسو نہیں تھا، وہ جب سے آئی تھی مسلسل ظفر کا چہرہ دیکھے جا رہی تھی، اسے دیکھ کر ایسا محسوس ہورہا تھاجیسے وہ انسان نہیں کوئی پتھر ہوجو احساسات سے عاری ہو، کچھ دیر بعد جنازہ اٹھا تو ایک بار پھر خواتین رونے لگیں اور مرد کلمہ شہادت کی صدا بلند کرتے ہوئے جنازہ لے کر نکل گئے۔
*****
عمران کئی روز تک مہوش کے پاس سے ایک پل کے لیے بھی نہیں ہلا تھا، مہوش سب کے کہنے کے باوجود دوبارہ ہسپتال نہیں گئی تھی، ڈاکٹر گھر میں ہی آکر پٹی تبدیل کر جاتا تھا، زاہدہ اور فرحت بھی ہر پل سائے کی طرح اس کے ساتھ ساتھ رہتی تھیں،جب آہستہ آہستہ زندگی معمول پر آنے لگی تو ماں اور آ نٹی زاہدہ کے کہنے پر عمران دکان پر جانے لگا، وہ دن بھر دکان پر رہتا، واپسی پر گھر جانے کی بجائے سیدھا بہن کے پاس آجاتااور پھر دیر تک اس کے پاس بیٹھا اس کا دل بہلانے کی کوشش میں لگارہتا۔ جب سے ظفر فوت ہوا تھا تب سے فرحت مہوش کے پاس ہی تھی جبکہ عمران رات گئے اپنے گھر جاکر سو جاتا تھا۔
دکان پر زیادہ تر مال افضال کے ہاں سے آتا تھا، مہوش کی شادی میں ہونے والے اخراجات کی وجہ سے عمران کی طرف افضال کی رقم چار لاکھ روپے ہو گئی تھی،مہوش کے بیوہ ہونے کے بعد جب اس نے پہلی بار دکان کھولی تھی تو افضال آیا تھا مگر اس نے رقم کی بابت کوئی بات نہیں چھیڑی تھی اور اس کے بہنوئی کے قتل ہونے کا افسوس کر کے خاموشی سے چلا گیا تھا، عمران جانتا تھا کہ وہ اگلی بار آئے گا تو رقم کی ادائیگی کے لیے ضرور کہے گا۔
’’ افضال کچھ مال تو بھجواؤ یار ‘‘ اس سے پہلے کہ افضال کوئی بات کرتا،اس کے آتے ہی عمران نے بات کردی۔
’’ مال بھی آجائے گا، پہلے پچھلے پیسے تو دو ‘‘ افضال نے وہی بات کی تھی جس کا عمران کو ڈر تھا۔
’’ وہ بھی مل جائیں گے ، کچھ مال بھی تو دو۔۔۔‘‘
’’ میرے پاس اتنا سرمایہ نہیں کہ میں تمہیں ادھار پہ ادھار دیتا جاؤں ‘‘
’’ یار میں دکان چھوڑ کر کہیں بھاگا جا رہا ہوں۔۔۔؟ دیکھو تو سہی دکان خالی پڑی ہے۔۔۔ اس میں کچھ مال ڈالوں گا تو پھر ہی تمہیں بھی کچھ دے پاؤں گا ‘‘
’’ خیر۔۔۔مال تو میں اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک پچھلے پیسے نہیں مل جاتے ‘‘
’’ پھر فی ا لحال صبر کرو ۔۔۔‘‘
’’ ٹھیک ہے اس بار تو میں چلا جاتا ہوں ۔۔۔ لیکن اگلے ہفتے آؤں تو رقم کا بندوبست کر کے رکھنا ‘‘ افضال نے تلخ لہجے میں بات کی اور عمران کا جواب سنے بغیر ہی وہاں سے نکل گیا۔
افضال کی باتوں نے عمران کو پریشان کر ڈالا تھا، وہ ہر وقت سوچنے لگا تھا، اٹھتے بیٹھتے اس کے ذہن سے ایک ہی سوال اٹھتا کہ وہ افضال کو دینے کے لیے رقم کہاں سے لائے، وہ اس بارے میں اپنی ماں سے بات کر کے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ نہیں کرنا چا ہتا تھا، انہی سوچوں میں ہفتہ اس قدر جلدی گزر گیا کہ پتہ بھی نہ چلا اور افضال پھر سے رقم کا تقاضہ کرنے دکان میں آبیٹھا۔
’’ کچھ مال بھجوا دیتے تو کیا حرج تھا۔۔۔ کم از کم دکانداری چلتی رہتی اور آج تمہیں بھی کچھ نہ کچھ رقم دے دیتا ‘‘ افضال کو دیکھتے ہی عمران نے بات کا آغاز کیا۔
’’ میں پیسے لینے آیا ہوں ۔۔۔ مال کی بات کرنے نہیں آیا ‘‘
’’ مگرمال کے بغیر دکان کیسے چلے گی ۔۔۔؟‘‘
’’ یہ سوچنا تمہارا کام ہے۔۔۔ میرا نہیں ۔۔۔میرے ساتھ صرف میرے پیسوں کی بات کرو۔۔۔ مجھے بھی مال تیار کرنے کے لیے بازار سے سامان لانا ہوتا ہے ‘‘
’’ تم تو ایک ہی بات کے پیچھے پڑ گئے ہو۔۔۔کہا تو ہے مال بھجواؤ ۔۔۔ میں تھوڑے تھوڑے کر کے پچھلی رقم بھی ادا کرتا رہوں گا‘‘
’’ میں تمہیں ایک ہفتے کا اور وقت دیتا ہوں ۔۔۔ اگلے ہفتے رقم کا بندوبست کر کے رکھنا ‘‘ افضال نے بات کی اور عمران کو گھورتا ہوا دکان سے نکل گیا۔
یہ بات اب معمول بن گئی تھی ،افضال ہر ہفتے آتا اور رقم نہ ملنے کی وجہ سے تلخ کلامی کر کے جاتا، عمران چاہتے ہوئے بھی افضال کو دینے کے لیے رقم کا انتظام نہیں کر پا رہا تھا اسی لیے وہ اس کی تمام باتیں سن کر خاموشی سے برداشت کر لیتاتھا۔
*****
ظفر کو اس دنیا سے رخصت ہوئے چار ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا تھا، اس دوران زاہدہ نے ایک ماں کی طرح مہوش کو بھرپور پیار دیا تھا، چہلم تک فرحت بھی مہوش کے پاس ہی رہی تھی مگر پھر اپنے گھر چلی گئی تھی، فرحت دوسرے تیسرے روز مہوش کے پاس چکر لگا جاتی تھی مگر عمران ہر روز دکان سے واپسی پر مہوش کے پاس کچھ دیر ضرور بیٹھ کر جاتا تھا، اس روز مہوش کی عدت کے دن پورے ہوئے تھے ، فرحت اور عمران کے علاوہ بھی گھر میں کچھ لوگ آئے ہوئے تھے ،زاہدہ نے مہوش کوگلے لگا کر خوب پیار کیا، اس کا ماتھا چوما ، آنکھوں پہ پیار کیا اور پھر جی بھر کر روئی۔
’’ دل تو نہیں چاہتا کہ تمہیں خود سے جدا کروں ۔۔۔مگر اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ‘‘ زاہدہ نے روتے ہوئے مہوش سے کہا۔
’’اب میں آپ سے جدا ہونے کا کبھی سوچ بھی نہیں سکتی ۔۔۔آنٹی اب تو ہمارا جینا مرنا ساتھ ہی ہوگا ‘‘ مہوش نے افسردہ لہجے میں بات کی ۔
’’ نہیں بیٹی ۔۔۔ میرا تمہارا ساتھ اتنا ہی تھا ۔۔۔ اب تمہیں اپنی ماں کے پاس لوٹ جانا ہوگا ‘‘
’’ میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی آنٹی ‘‘
’’ میں تمہارے جذبات کو سمجھتی ہوں ۔۔۔ لیکن تمہیں جانا ہی ہوگا۔۔۔ ابھی تمہاری ساری عمر پڑی ہے۔۔۔ میرا کیا ہے آج ہوں شائد کل نہ ہوں، پھر بھی جب تک ہوں جیسے تیسے گزار لوں گی ۔۔۔ ‘‘
’’ بہن آپ کیوں دل چھوٹا کر رہی ہیں ۔۔۔ مہوش آپ کے پاس ہو گی تو آپ کا بھی دل لگا رہے گا ‘‘ فرحت نے زاہدہ کوسمجھایا۔
’’ آپ لوگ میری بات کو کیوں نہیں سمجھ رہے۔۔۔ذرا سوچیں تو سہی، میں جس بیٹے کے لیے مہوش کو بیاہ کر لائی تھی جب وہی نہیں رہا تو اسے اپنے پاس رکھ کر کیا کروں گی ‘‘
’’ اس کے چلے جانے سے رشتہ ختم تو نہیں ہوگیا ‘‘
’’ میں اتنی بڑی ذمہ داری سنبھالنے کے قابل نہیں۔۔۔اس لیے آپ کو اسے اپنے ساتھ لے جانا ہی ہوگا ‘‘ زاہدہ نے دو ٹوک بات کی اور پھر بولی ’’ اور ہاں ۔۔۔ یہ اپنے ساتھ جہیز میں جو سامان لائی تھی وہ بھی لے جائیں ‘‘
’’ آنٹی پلیز ایسا نہ کریں۔۔۔ میں ظفر کی یادوں کے سہارے زندگی گزار دوں گی۔۔۔ اس گھر میں آپ کی نوکرانی بن کر رہ لوں گی ۔۔۔ مگر مجھے اس گھر سے جانے کا نہ کہیں ‘‘ مہوش نے روتے ہوئے کہا۔
’’ میں تمہیں کیسے سمجھاؤں میری بچی۔۔۔میری تو جو تھوڑی بہت زندگی ہے وہ جیسے تیسے کٹ ہی جائیگی لیکن تم پہاڑ جیسی زندگی کیسے گزار پاؤ گی۔۔۔اسی لیے میں نے بہت سوچ سمجھ کر ہی یہ فیصلہ کیا ہے ‘‘
سب نے مل کر زاہدہ کو سمجھانے کی کوشش کی تھی مگروہ کسی بھی طرح بات سننے کے لیے تیار نہ تھی اور اس بات پر بضد تھی کہ اس نے جو فیصلہ کیا ہے اسی میں دونوں خاندانوں کی بہتری ہے، اس لیے سب کو خاموشی اختیار کرنا پڑی اور یوں مہوش آنسو بہاتے ہوئے اس گھر میں گزارے ہوئے چند ماہ کی یادوں کو سینے سے لگائے ماں اور بھائی کے ساتھ اجڑ کر اسی گھر میں واپس آگئی جس گھر سے دلہن بن کر رخصت ہوئی تھی۔
*****
وقت نے عمران کو عجیب آزمائش میں ڈال دیا تھا، ایک طرف بہن بیوہ ہو کر گھر آ بیٹھی تھی اور دوسری طرف کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے وہ افضال کی رقم لوٹا نہیں پا رہا تھا ، وہ ہفتے میں ایک بار مارکیٹ میں آتا تھا ، وہی دن عمران پر بھاری گزرتا تھا کیونکہ افضال کے منہ میں جو آتا وہ کہہ کے چلا جاتا اور عمران گردن جھکائے خاموشی سے سب کچھ سن لیتاتھا، افضال کے مارکیٹ میں آنے کا دن تھا اس لیے وہ صبح سے ہی پریشان تھا، ایک دو بار اس کا دل چاہا کہ وہ دکا ن بند کر کے چلا جائے تاکہ اسے افضال کا سامنا ہی نہ کرنا پڑے لیکن پھر اس نے خود ہی اپنے اس خیال کی نفی کر دی کہ اگر آج وہ دکان بند کر کے چلا گیا تو افضال کو مزید باتیں بنانے کا موقعہ مل جائے گا۔
’’ لاؤ بھئی پیسے دو ‘‘ افضال نے آتے ہی سلام دعا کیے بغیر ڈائری کھول کر کھڑا ہوتے ہوئے کہا۔
افضال کی بات سنتے ہی عمران نے اسے دینے کے لیے بمشکل بچائے ہوئے دو ہزار روپے جیب سے نکال کرخاموشی سے اس کے سامنے رکھ دیے۔
’’ یہ کیا مزاق ہے۔۔۔؟ ‘‘افضال نے پیسوں کو ہاتھ لگائے بغیر ہی سوال کیا۔
’’ فی الحال یہ رکھو۔۔۔میں تھوڑے تھوڑے کر کے تمہارے سارے پیسے دے دوں گا ‘‘
’’ میں نے تم سے چار لاکھ روپے لینے ہیں عمران بابو۔۔۔ اس طرح ہزار دو ہزار دینے سے کام نہیں چلے گا ۔۔۔اگر تم یہ سمجھے بیٹھو ہو کہ میرے پیسے مار لو گے تو یہ تمہاری بھول ہے ‘‘
’’ میں نے تو ایسا کچھ بھی نہیں کہا۔۔۔ اور دکان کی حالت تمہارے سامنے ہے‘‘
’’ تو ٹھیک ہے پھر ۔۔۔ آج کے بعد میں تم سے رقم لینے نہیں آؤں گا بلکہ تم خود مجھے میری رقم دینے آؤ گے ‘‘ افضال نے بات کی اور نکل گیا۔
*****
وہ پروفیسرندیم کا اکلوتا بیٹا تھا، کالج میں اس کی دوستی کچھ ناپسندیدہ افراد سے ہوگئی تھی، پروفیسر ندیم نے بار باراسے ان لوگوں سے دور رہنے کے لیے کہا تھا مگر اس نے ہمیشہ سنی ان سنی کر دی تھی، اس نے موبائل چھیننے اور پستول دکھا کر لوگوں سے پیسے نکلوانے جیسی چھوٹی موٹی وا رداتوں سے برائی کی راہ پر قدم رکھا تھا، رفتہ رفتہ اس کا حوصلہ اس قدر بڑھ گیا تھا کہ وہ اپنے علاقے کے غریب دکانداروں اور ریڑھی لگانے والوں سے بھتہ بھی وصول کرنے لگا تھا ، جو اسے بھتہ نہ دیتا وہ سرِبازار اس کی پٹائی کر ڈالتاتھا، اس لیے خوف کے مارے لوگ خاموشی سے اسے بھتہ دے دیتے مگر دل ہی دل میں اسے بد دعائیں دیتے، عمران کے ہاں سے نکل کر افضال سیدھا اسی کے پاس گیا تھا ،افضال نے اسے تمام تفصیل سے آگاہ کر دیا تھا اور اس نے کل رقم کا پچیس فیصد لینے کے عوض افضال کی رقم واپس دلا نے کی یقین دہانی کرادی تھی ۔
شام کا وقت تھا ، عمران ابھی دکان سے واپس نہیں آیا تھا، دروازے کی گھنٹی بجی تھی ، آنے والے کے لیے دروازہ کھولنے مہوش گئی تھی۔
’’ کون۔۔۔؟‘‘ مہوش نے دروازہ کھولنے سے پہلے تصدیق کے لیے پوچھا۔
’’ عمران سے ملنا تھا ‘‘ آنے والے نے بات کی۔
’’ بھائی تو ابھی دکان سے واپس نہیں آیا ‘‘
’’ وہ آئے تو اسے کہنا افضال کی رقم وصول کرنے شہباز آیا تھا ‘‘
’’ جی میں بتا دوں گی ‘‘
’’ ٹھیک ہو گیا ‘‘ یہ کہتے ہی شہباز نے وہاں سے جانے کے لیے موٹر سائیکل سٹارٹ کر لی۔
شہباز کے منہ سے نکلنے والے تین لفظ’’ ٹھیک ہو گیا‘‘ کسی ہتھوڑے کی طرح اس کے دل و دماغ پر لگے تھے، اس نے یہ الفاظ ادا کرنے والے شخص کو دیکھنے کے لیے بجلی کی سی تیزی سے دروازے کی کنڈی کھولی تھی، مگر تب تک وہ وہاں سے جا چکا تھا۔
’’ بھائی تم سے ملنے کوئی لڑکا آیا تھا ‘‘ عمران کے گھر آنے پر مہوش نے بتایا۔
’’ کون تھا ۔۔۔ ؟‘‘
’’ کہہ رہا تھا وہ افضال کی رقم وصول کرنے آیا ہے‘‘
’’ افضال کی رقم سے اس کا کیا تعلق۔۔۔ ؟‘‘ عمران نے حیران ہو کر دریافت کیا۔
’’ یہ تو مجھے معلوم نہیں۔۔۔بس اس نے جو کہا وہ میں نے تمہیں بتا دیا‘‘
’’ چلو اچھا میں دیکھ لوں گا۔۔۔ لیکن اگر وہ پھر آئے تو اسے میری طرف سے کہہ دینا کہ افضال کی رقم کے لیے تم کون ہوتے ہو پوچھنے والے ‘‘
’’ اچھا تم پریشان نہ ہو۔۔۔ منہ ہاتھ دھو لو ، میں تمہارے لیے کھانا رکھتی ہوں ‘‘ مہوش نے بات کی اور اس کے لیے کھانا لانے کچن میں چلی گئی۔
جب سے مہوش بیوہ ہو کر گھر واپس آئی تھی، فرحت نے خود کو اپنے کمرے میں ہی قید کر لیا تھا، اسے باہر کی دنیا سے کوئی غرض نہیں رہی تھی ، وہ سار ا دن کمرے میں ہی پڑی چھت کو گھورتی رہتی تھی ، وہ اذان کی آواز سنتی تو اٹھ کر نماز پڑھ لیتی اور پھر سے اپنے بستر پر جا لیٹتی تھی۔
مہوش پریشانی کے عالم میں رات بھر جاگتی رہی تھی اور دن بھی بے چینی کے عالم میں گزرا تھا، دروازے کی گھنٹی بجی تو مہوش یوں دوڑ کر دروازے پر گئی تھی جیسے اسے گھنٹی بجنے کا ہی انتطار تھا۔
’’ کون۔۔۔ ؟‘‘ مہوش نے اپنی تسلی کے لیے پوچھا۔
’’ عمران ہے تو اسے باہر بھیجو‘‘ دروازے پر کھڑے شخص نے کہا۔
اس کی آواز پہچاننے میں مہوش کو ذرا سی بھی دیر نہیں لگی تھی، آواز سنتے ہی وہ اس شخص کی شکل دیکھنے کی کوشش کرنے لگی تھی، وہ دروازے میں کوئی ایسی جگہ تلاش کر رہی تھی جہاں سے وہ اس کا چہرہ دیکھ سکے، وہ اسی کوشش میں تھی کہ وہی آواز پھر سے اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
’’ تم میر ی بات سن رہی ہو۔۔۔؟‘‘ باہر کھڑے شخص نے رعب دار آواز میں سوال کیا۔
’’ ج۔۔۔ج۔۔۔جی۔۔۔ میں سن رہی ہوں ‘‘ مہوش نے پریشانی کے عالم میں رک رک کر بات کی۔
’’ تو جواب کیوں نہیں دیتی ‘‘
’’ بھائی اس وقت گھر پہ نہیں ہوتا۔۔۔وہ رات کو دس بجے کے قریب دکان سے واپس آتا ہے ‘‘ مہوش نے ڈرتے ہوئے بات کی اور ساتھ ہی دروازے کی درز میں سے باہر کھڑے شخص کو دیکھنے لگی، وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہو گئی تھی، مگر اس کا سارا بدن بری طرح کانپنے لگا تھا، وہ جس چہرے کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہی تھی ، یہ وہ چہرہ تھا جو اس کے دل پر اس طرح نقش ہو چکا تھا کہ بھلائے بھی نہیں بھول سکتا تھا۔
’’ میں بار بار نہیں آسکتا۔۔۔ اسے کہہ دینا سیدھی طرح رقم واپس کر دے ورنہ میں سارے محلے کے سامنے ماں بہن ایک کر دوں گا ۔۔۔ وہ شائد ابھی مجھے جانتا نہیں ،شہباز نام ہے میرا ‘‘
’’ میں کہہ دوں گی ‘‘
’’ ٹھیک ہو گیا ‘‘ شہباز نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
وہ چلا گیا تھا مگر مہوش ابھی تک وہیں کھڑی سوچ رہی تھی، آج وہی شخص اس کے سامنے آکھڑا ہو اتھا ، جس نے اپنے تھوڑے سے فائدے کے لیے اس کی ہنستی بستی زندگی اجاڑ کر رکھ دی تھی۔عمران کے گھر پہنچنے پر مہوش نے اسے تمام تفصیل سے آگاہ کر دیا تھا، مہوش کی بات سن کر عمران نے اس سے کہا تھا ’’ اگراب وہ دوبارہ آئے تو اسے کہنا کہ اپنا موبائل نمبر دے دو بھائی خود ہی بات کر لے گا‘‘ ۔ مہوش نے یوں تو پوری بات عمران کو بتا دی تھی مگر اس نے جان بوجھ کر شہباز کو دیکھنے اور اسے پہچاننے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی، وہ اس معاملے میں تمام پہلوؤں پر سکون سے غور کرنا چاہتی تھی، اس لیے وہ عمران کو کھانا دے کر اپنے کمرے میں جا لیٹی تھی۔
اگلے روز وہ پھر آدھمکا تھا ، اور آتے ہی ننگی گالیاں دینے لگا تھا، وہ اس قدر اونچی آواز میں گالیاں دے رہا تھا کہ سن کر آس پاس کے گھروں کے لوگ بھی اپنے اپنے دروازوں میں آ کھڑ ے ہوئے تھے،مہوش نے عمران کے کہنے کے مطابق اسے اپنا موبائل نمبر دینے کو کہا تو اس نے نمبر لکھوا دیا اور پھر آنے کا کہہ کر دھمکیاں دیتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔
شہباز کے جاتے ہی مہوش نے عمران کو فون پر گالیاں دینے اور دھمکیاں دے کر جانے کی بابت بتا دیا تھا، اور ساتھ ہی اسے شہباز کا موبائل نمبر بھی نوٹ کر وا دیا تھا،مہوش نے شہبازکے متعلق اب تک جو بات چھپائی ہوئی تھی وہ بھی بتا دی تھی کہ شہباز نے ہی اپنے دوست کے ساتھ مل کر انہیں لوٹا تھا اور ظفر پر گولی چلائی تھی،مہوش کی بات نے عمران کو ہلا کر رکھ دیا تھا، فون سننے کے بعد وہ کچھ دیر تک دونوں ہاتھوں میں سر لیے سوچتا رہا پھر شہباز کا نمبر ملانے لگا۔
’’ ہیلو۔۔۔ ‘‘ فون اٹھاتے ہی دوسری طرف سے آواز آئی۔
’’ تم شہباز بول رہے ہو ؟‘‘
’’ ہاں۔۔۔ میں شہباز ہوں۔۔۔ تم کون ہو۔۔۔ ؟‘‘
’’ میں عمران بول رہا ہوں ۔۔۔جس کے گھر تم ابھی گالیاں نکال کر آئے ہو ‘‘
’’ شکر کر و تم گھر پر نہیں تھے اور میں صرف گالیاں دے کر واپس آگیا ہوں۔۔۔‘‘
’’ لیکن تمہارا افضال کی رقم سے کیا واسطہ۔۔۔ ؟‘‘
’’ جو بھی ہو، بس مجھے وہ رقم چاہئے ، ورنہ میں کیا کچھ کر سکتا ہوں یہ تم ابھی نہیں جانتے ‘‘
’’ نہیں نہیں۔۔۔ اس کی ضرورت نہیں ۔۔۔فی ا لحال میں آج تمہیں ایک لاکھ روپیہ دے دیتا ہوں۔۔۔کچھ دنوں میں باقی کی رقم بھی دے دوں گا ‘‘
’’ یہ کی ناں عقل مندی والی بات ‘‘
’’ میں ٹھیک ایک گھنٹے بعد گھر پہنچ جاؤں گا ، تم بھی ایک گھنٹے بعد وہیں آجاؤ اور ایک لاکھ روپیہ لے جاؤ ‘‘
’’ ٹھیک ہو گیا ‘‘
فون بند ہو چکا تھا ، عمران نے دکان کے باہر پڑا ہوا سامان سمیٹا اور دکان بند کر کے گھر کی جانب چل پڑا، وقت نے اسے ایک نئے امتحان میں ڈال دیا تھا، وہ اس معاملے کے تمام پہلوؤں پر غور کرتا ہوا گھر پہنچ گیا تھا۔
’’ کیا تمہیں پورا یقین ہے کہ شہباز وہی شخص ہے جس نے ظفر بھائی کا خون کیا تھا ‘‘ عمران نے اپنی تسلی کے لیے مہوش سے سوال کیا۔
’’ جو چہرہ ہر پل میری آنکھوں کے سامنے رہتا ہو،جس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ میرے دل پر نقش ہو چکے ہوں، میں اسے کیسے بھول سکتی ہوں بھلا، اور پھر اس روز اس کے ساتھی نے دو بار اسے شہباز کے نام سے ہی پکارا تھا ‘‘ مہوش نے رندھی ہوئی آواز میں بات کی۔
بہن کی بات سن کر بھائی کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی اور اس کا دماغ گھومنے لگا تھا،وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہاتھا ، پھر اچانک وہ اٹھا اور الماری میں پڑی اپنے باپ کی پستول اٹھا لایا۔
’’ نہیں عمران تم ایسا کچھ نہیں کرو گے ‘‘ عمران کے ہاتھ میں پستول دیکھ کر دھڑکتے دل کے ساتھ مہوش نے کہا۔
’’ جو ہو گا دیکھا جائے گا ۔۔۔ مگر آج وہ میرے ہاتھوں سے نہیں بچے گا ‘‘
’’ پاگل مت بنو۔۔۔ اور یہ پستول مجھے دو ‘‘ مہوش نے بات کی اور عمران کے ہاتھوں سے پستول لے لی ۔
دروازے پر گھنٹی بجی تھی،عمران دروازہ کھولنے گیا تھا، مہوش بھی اس کے ساتھ ساتھ ہو لی تھی، عمران نے دروازہ کھولا توایک اجنبی نوجوان اس کے سامنے کھڑا تھا ۔
’’جی۔۔۔؟‘‘ عمران دروازے پر کھڑے شخص کو جان گیا تھا مگر پھر بھی اس نے تصدیق کے لیے کہا۔
’’ مجھے شہباز کہتے ہیں ‘‘ دروازے پر کھڑے نوجوان نے اپنا تعارف کروایا، تعارف کرواتے ہوئے اس کے چہرے پر ہلکی ہلکی سی فاتحانہ مسکراہٹ صاف دکھائی دے رہی تھی ۔
’’ تمہاری اتنی جرات کہ میرے ہی گھر آکر میرے گھر والوں کو گالیاں دے کر جاؤ ‘‘ عمران نے تلخ لہجے میں بات کی ۔
شہباز یہ سوچ کر وہاں آیا تھا کہ فون پر ہونے والی بات چیت کے مطابق اسے جاتے ہی رقم مل جائے گی مگر عمران کے لہجے کی تلخی نے ایک لمحے کے لیے اسے پریشان کر ڈالا تھا۔
’’ اب بھی عزت سے رقم میرے ہاتھ پر رکھ دو ۔۔۔ورنہ میں تمہارا وہ حشر کروں گا کہ سب توبہ توبہ کر اٹھیں گے ‘‘ شہباز نے اپنی پریشانی پر قابو پاتے ہوئے غصے سے کہا۔
’’ ابھی دیتا ہوں تمہاری رقم۔۔۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے عمران نے ادھر ادھر نظر دوڑائی اور پھر وہاں پڑی ہوئی ایک اینٹ اٹھا لی۔
عمران نے شہباز کے سر پر مارنے کے لیے اینٹ اٹھائی ہی تھی کہ اسی لمحے پستول سے ایک گولی نکل کر شہباز کے سینے میں اتر گئی، گولی لگتے ہی شہباز زمین پر گر پڑا تھا، عمران نے پیچھے مڑ کر دیکھاتو مہوش اپنے ہاتھ میں پستول لیے غصے سے کانپ رہی تھی اور اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا، اسے دیکھتے ہی اینٹ عمران کے ہاتھوں سے چھوٹ کر نیچے گر گئی تھی، اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر مہوش کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی پستول اپنے ہاتھ میں لے لی ۔
ایک ایک کرکے لوگ وہاں جمع ہونا شروع ہو گئے تھے، عمران نے پولیس کو فون کر دیا تھا اور انہیں قتل کی اطلاع بھی دے دی تھی، تھوڑی ہی دیر بعد پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھی اور شہباز کے قتل کے الزام میں عمران کو گرفتار کر کے لے گئی تھی۔ کچھ ہی دیر میں یہ خبر پورے علاقے میں پھیل گئی تھی، لوگ شہباز کے قتل کی خبر سنتے ہی خوش ہو کر ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہوئے بھنگڑے ڈالنے لگے تھے۔
*****
Viewers: 3753
Share