Afroz Saleemi | Article | تا ریخِ عید قرباں

افروز سلیمیؔ
کارکن امارت شرعیہ، آزادنگر، جمشیدپور جھاڑ کھنڈ ، انڈ یا

تاریخِ عید قرباں
کسی حلال جا نورکو اللہ تعا لیٰ کاتقرب حا صل کر نے کی نیت سے ذ بح کرنا اس وقت سے شروع ہوا ہے جب سے حضرت آ دم علیہ السلام اس دنیا میں مبعو ث ہوئے اور دنیا آباد ہوئی تو سب سے پہلے قر با نی حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹو ں ہا بیل اور قا بیل نے دی ۔قرآن کریم کے سورہ مائدہ پارہ نمبر۶ ۔میں اللہ تعا لیٰ نے فرمایا اذ قر با قرْ باناََ ۔یعنی جب کہ دونوں نے ایک ایک قر بانی پیش کی ۔ علامہ ابن کثیر علیہ الر حمہ نے بروایت ابن عباس رضی اللہ عنہ آیت مذکورہ اذ قر با قرْ باناََ کی تفسیر میں نقل فرمایا کہ ہا بیل نے ایک مینڈھے کی قر بانی پیش کی اور قا بیل نے اپنے کھیت کی پیداوارسے غلہ وغیرہ صد قہ کر کے قربانی پیش کی ۔حسب دستور آسمان سے آگ نازل ہوئی اور مینڈھے کے گوشت کو کھالیا(جلاکر راکھ کر دیا)اور قا بیل کی قربانی کو اپنی حا لت پر چھوڑ دیا ۔قربانی کے قبول ہو نے یا نہ ہونے کی پہچان پہلے انبیاء کرام کے زما نے میں یہ تھی کہ جس قر بانی کو اللہ تعا لیٰ قبول فر ماتے تو ایک آگ آ سمان سے آتی اور اس کو جلادیتی تھی۔اور اسی کو اللہ تعا لیٰ نے قرآن کریم کے سورہء آل عمران پارہ نمبر ۴ ۔آ یت نمبر۱۸۳۔ میں صر حتاََذکر فر مایا ہے بقربانِِِ تا کلہ النار کہ وہ قربا نی جس کو آ گ کھا جائے۔اس زمانہ میں کفارسے جہاد کے ذر یعہ جو ما ل غنیمت ہاتھ آتا تو اس کو بھی آسمان سے آگ نازل ہو کر کھا جاتی تھی اور یہ جہاد کے مقبول ہونے کی علامت سمجھی جا تی تھی۔ یہ ہم (امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم )پر اللہ تعالیٰ کا خصو صی انعام ہوا کہ قر بانی کا گوشت اور مال غنیمت ہمارے لئے حلال کر دیئے گئے۔حدیث شر یف میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خصو صی فضا ئل اور انعامات الیٰہیہ کا ذکر کرتے ہوے فر مایا احلت لی الغنائم۔ (شامی تاریخ قربانی صٖفحہ نمبر۲۱ )یعنی میرے لئے مال غنیمت حلال کر دیاگیا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زما نہ نبوت میں بعض غیر مسلموں نے ا پنے اسلام قبول نہ کر نے کا ایک عذر یہ بھی پیش کیا کہ پہلے انبیاء علیہم السلام کی قربا نیوں کو آگ کھا جایا کرتی تھی اور آپ ﷺ کے زمانہ میں ایسا نہیں ہو تا،اسلئے ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک یہ صورت ظاہر نہ ہو جائے۔قر بانی ایک اہم عبادت اور شعا ئراسلام میں سے ہے ،زمانہء جاہلیت میں بھی اسکو عبادت سمجھا جاتا تھامگر وہ بتوں کے نام پر قر بانی کر تے تھے۔ اسی طرح آج تک دوسرے مذ اہب میں قربانی مذہبی رسم کے طور پر اداکی جاتی ہے ،بتوں کے نام پر ،یا مسیح کے نام پر قربانی کر تے ہیں ۔پارہ عم کے سورہ کوثرمیں اللہ تعا لیٰ نے حکم دیا کہ جس طرح نماز اللہ تعا لیٰ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہو سکتی اسی طرح قر بانی بھی اللہ کے علاوہ کسی کے نام پر درست نہیں ۔(مسائل عید وقر باں ص۳۴) ()()

Viewers: 1077
Share