Syed Fazal Ullah Mukarram | Book Review | تزئین ادب

کتاب کا نام : تزئین ادب
مصنف : ڈاکٹر حامد اشرف
صفحات :۱۵۶ قیمت : ۱۵۰ روپیے
ملنے کا پتہ : مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ۔دہلی ‘ سٹی بک ڈپو۔گلبرگہ شریف
مبصر : ڈاکٹر سید فضل اللہ مکرم
Chairman,Board of Studies,Urdu-Oriental
Osmania University,Hyderabad-AP
Phone:09849377948
Mial: dramsf@yahoo.com

ڈاکٹر حامد اشرف ‘ مہاراشٹراودگیری کالج۔اودگیر کے صدر شعبہء اردو ہیں۔گو کہ ان کا تعلق شہر گلبرگہ سے ہے۔گزشتہ دنوں ان کی ایک تصنیف ’’تزئین ادب‘‘ منظر عام پر آئ ہے جو تنقیدی و تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے۔جس میں کل سترہ مضامین ہیں جن میں سلطنت خدادادکا ایک باکمال شاعر:محمد علی مہکری خانزاد ‘ شراب حقیقت کا طلب گار: عمر خیام ‘ اردو شعر و ادب میں اصلاح معاشرہ اور قومی یکجہتی ‘ سرسید احمد خان اور سائنٹفک سوسائیٹی ‘ حالی: یاد گار حالی کی روشنی میں ‘ علامہ اقبال کی ایک پر اثر دعا ‘ چارہ گر: ایک آزاد رومانی نظم ‘ قرۃ العین حیدرکا افسانہ’ نظارہ درمیاں ہے‘ فنی تناظر میں۔‘ علاقہء حیدرآباد۔کرناٹک میں اردو لوک گیت ‘ پیکریت کا امام : ڈاکٹر وزیر آغا ‘ شاعر گلشن افکار:ڈاکٹر راہی قریشی ‘ نذیر فتح پوری کی ماہیا نگاری‘ ڈاکٹر راہی قریشی کی مزاحیہ شاعری ‘ شبدیز فن کا سوار:حیدر قریشی ‘ چاہتوں کے امین:امین بابر کے ماہیے‘ کہ تجھ سا شخص کہاں۔۔۔فہیم صدیقی اور علاقہء حیدرآباد۔کرناٹک میں غزل گوئ کا اجمالی جائزہ لائق ذکر ہیں۔اس ضمن میں یہ کہنا چاہوں گا کہ مضامین کے مجموعے ایک اکائ کے تحت شائع کیے جائیں یعنی اگر شاعری یا کسی شعری صنف‘ نثری موضوعات پر مضامین ہوں تو انہیں یکجا کرکے ایک کتاب کی صورت دی جاے تاکہ موضوع سے متعلق مواد ایک ہی کتاب میں مل سکے۔
زیر نظر تصنیف کا پیش لفظ پروفیسر خالد سعید نے لکھا ہے جبکہ مصنف کی تنقید نگاری پر جناب حید ر قریشی(جرمنی) کا مختصر مضمون بھی شامل ہے جبکہ پیش گفتنی کے تحت ڈاکٹر حامد اشرف نے وجہء تصنیف و تالیف بتاتے ہوے لکھتے ہیں ’’تزئین ادب میری پہلی تخلیقی کاوش ہے اور تخلیق کا درد وہی جانتے ہیں جو اس مرحلے سے گزرے ہیں۔ایک فنکار ہی یہ اندازہ کرسکتا ہے کہ تخلیق کے جھرنے کب اور کیسے پھوٹتے ہیں‘کتنی راتوں کو جاگ کر صبح کرنے پرصبح کی روشنی قلم کی روشنائ کا سبب بنتی ہے۔کچھ کرنے کی دھن‘کچھ پانے کی تمنا کس طرح آٹھوں پہر بے چین کیے دیتی ہے۔الفاظ کے رشتے کس طرح بنتے بگڑتے ہیں اور کار تحقیق و تنقید کس طرح جگر سوزی اور جگر کاوی کا سبب بنتا ہے۔‘‘(ص ۱۴)
علاقہء حیدرآباد۔کرناٹک میں غزل گوئ کا اجمالی جائزہ لیتے ہوے انھوں نے بیسوں شعراء کا جائزہ لیا ہے خصوصاّ شہر گلبرگہ کے شعراء کی غزل گوئ پر نہایت واضح تنقیدی نوٹ لکھا ہے جس سے گلبرگہ کی غزل کائینات پوری طرح روشن دکھائ دیتی ہے۔ان کا ایک اور اہم مضمون علاقہ ء حیدرآباد۔کرناٹک میں اردو لوک گیت ہے۔اس موضوع پروہ یو جی سی کے میجر پراجکٹ کے تحت کام کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ لوک گیت ہماری تہذیبی وثقافتی اثاثہ ہے اس کا تحفظ ضروری ہے۔
ڈاکٹر حامد اشرف ایک سلجھے ہوے ذہن کے مالک ہیں۔ان کے پیش نظر مثبت نقطہ نظر ہی رہتا ہے تبھی تو وہ کسی فن پارہ کو بہتر طور پر تجزیہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔لفظوں کے برتنے کا سلیقہ بھی وہ خوب جانتے ہیں۔رعایت لفظی اور تکرار لفظی سے وہ اپنی تخلیق کو حسین بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ڈاکٹر راہی قریشی پر وہ یوں اظہار خیال کرتے ہیں۔’’ راہی صاحب کی شاعری کسی تحریک کی مبلغ یا کسی نظریے کی معلّن نہیں ہیاور نہ ہی ان کے کلام میں نئے اور نادر تجربات ہیں۔لہجہ کی بلند آہنگی اور الفاظ کی بازیگری بھی ان کے ہاں نہیں ملتی۔البتہ زندگی اور زمانے کے مسائل کا اظہار ان کی غزلوں کا ہنر ہے اور ماحول کی ترجمانی‘ارباب سیاست کی ریشہ دوانی‘احباب کی بے مہری‘رشتوں کی بے ثباتی‘اہل دنیا کی بے التفاتی‘غم دوراں کی ستم گری کا نہایت حیرت انگیز اظہار اور حسرت و یاس کی فضا ان کی غزلوں کا اہم وصف ہے۔‘‘ (ص ۸۰)
غرض یہ تمام مضامین علم کی روشنی بکھیرتے ہیں۔فن کی خوبیوں کو اجالتے ہیں اور غور و فکر کے لیے مہمیز کا کام کرتے ہیں۔گو کہ یہ ان کی پہلی تصنیف ہے لیکن توقع ہے کہ بہت جلد اپنی دیگر تصانیف کے ساتھ اس ادبی کائینات میں جلوہ گر ہوں گے۔ کتاب کے حصول کے لیے براہ راست مصنف (09423351351) سے ربط پیدا کیا جاسکتا ہے۔
***

Viewers: 1286
Share