Badar Saeed, Farrakh Shahbaz | معروف شاعر عباس تابش سے خصوصی گفتگو

انٹر ویو پینل:فرخ شہباز وڑائچ،سید بدر سعید
عکاسی: وسیم عباس

معروف شاعر عباس تابش سے خصوصی گفتگو
عباس تابش 15 جون 1961 ء میں میلسی (ضلع وہاڑی ) میں پیدا ہوئے اردو میں ماسٹر کر رکھا ہے اب تک پانچ شعری تصانیف آچکی ہیں اور ایک شعری انتخاب آ چکا ہے۔ تصانیف میں ۔تمہید ۔آسمان ۔مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا۔پروں میں شام ڈھلتی ہے ۔عشق آباد (کلیات) ۔جب تیرا ذکر غزل میں آئے (انتخاب) شامل ہیں۔اب تک مختلف ملکی و غیر ملکی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ عباس تابش صاحب سے کی گئی خصوصی گفتگو قارئین کی نذر ہے۔
س:آپ نے کچھ عرصہ قبل کالم نگاری کا آغاز کیا،کیا آپ نہیں سمجھتے کہ اب خالصتاً ادب پر،ادیبوں پر اور ادبی مسائل پر نہیں لکھا جا رہا؟
عباس تابش: خالصتاً ادب پر لکھا تو جا رہا ہے اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ادبی مسائل پر گفتگو نہیں ہوتی یا ادب کی مختلف جہتوں کو موضوع بحث نہیں بنایا جاتاالبتہ آپ کا اشارہ اگر کمرشلزم کی طرف ہے تو ادب کبھی بھی کمرشل نہیں رہا۔لیکن ہمارے کچھ لوگ اخبارات میں علمی و ادبی موضوعات پر باقاعدہ کالم لکھتے ہیں البتہ وہ پہلے جیسا ادبی ماحول اخبار کی دنیا میں نظر نہیں آتا۔
س:اخبارات کے ادبی صفحات اور ادبی ایڈیشن ادب کی کس حد تک خدمت کر رہے ہیں؟
عباس تابش:ادبی ایڈیشن ادب کی تو نہیں !البتہ ادیبوں کی خدمت کرتے ضرور نظر آتے ہیں اور کئی ادیب ،شاعر انہی ادبی ایڈیشنوں کی وجہ سے چڑھے ہیں ۔
س:آپ کا ایک شعر
’’اک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش
میں اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
کیا آپ کو اندازہ تھا اس شعر کی وجہ سے اس قدر شہرت ملے گی؟
عباس تابش:مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا۔یہ شعرمیں نے گورنمنٹ کالج میں بیٹھ کر لکھا تھا جب میں وہا ں کا طالبعلم تھا،پھر میں یہ شعر سنایا نہیں کرتا تھا۔ایک دفعہ میں نے کراچی میں ایک مشاعرے میں یہ غزل پڑھی اور جب یہ شعر سنایا تو ایک عجیب سا سماں تھا شرکاء نے کھڑے ہو کربے پناہ داد دی،پروگرام کے بعد حیدر عباس رضوی میرے پاس آئے اور کہا یہ شعر واقعی آپ کا ہے؟ میں نے کہا جی بالکل میرا ہے اور میری کتاب میں بھی شامل ہے تب معلوم ہوا میرے ایک ہم نام شاعر (مرحوم)یہ شعراپنے نام سے سناتے رہے ہیں تب میں نے سوچا کہ کتاب میں تو ہے لیکن مشاعروں میں سنا کر عوامی سند بھی لینی چاہئے اس وقت سے یہ شعر مشاعروں میں سنانے شروع کر دیا اللہ کا بڑا کرم ہے اللہ نے ہمیشہ عزت بخشی ہے۔
س: بہت عرصہ تک ادب بالخصوص شاعری میں عمومی تاثر تھاکہ ایک ہی محبوب بنائے رکھنا اور وفا پر قائم رہنالیکن آپ کہتے ہیں ’’چلتا رہنے دو میاں سلسلہ دلداری کا۔۔۔۔۔۔عاشقی دین نہیں جو مکمل ہو جائے ۔
عباس تابش: دیکھیں دین مکمل ہو چکا ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں لیکن راہنمائی کا سلسلہ تو جاری و ساری ہے،جہاں تک عاشقی کا معاملہ ہے یہ ایک دلچسپ سلسلہ ہے انسان کسی سے عشق کرتا ہے پھر اسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ عشق نہیں تھااس کے بعد وہ کوئی اور محبوب بناتا ہے یہ سلسلہ پوری عمر چلتا رہتا ہے محبوب در محبوب یہ سلسلہ اصل محبوب یعنی خالق کائنات تک لے جاتا ہے وہیں پہنچ کر عشق کا سفر مکمل ہوتا ہے ۔عشق کا محور تو وہی ذات ہے بے شک دلداری کا سلسلہ بھی اسی ذات کی طرف لے کر جاتا ہے۔
س: آپ کو نہیں لگتا آج کا شاعر کمرشل ہو چکا ہے اور آپ اس دوڑ میں کیوں شامل نہیں؟
عباس تابش:ہمارے ہاں ایک عجیب سی رسم چل پڑی ہے کہ ہر شخص ہر فیلڈ کی طرف بھاگ رہا ہے کوئی شاعر ہے تو وہ تھورا سا اینکر بھی بن گیا ہے،تھوڑا سا صحافی بھی بن گیا ہے تھوڑا سا کالم نگار بھی بن گیا اور دل کیا تو گلوگار بھی بن گیااس طرح وہ کچھ بھی نہیں بن پاتا میرا مسئلہ کچھ اور ہے میں شاعر ہوں اور صرف شاعری ہی کرتا ہوں آپ جیسے کچھ دوستوں کے اصرار پر کالم لکھنے کا سلسلہ شروع کیا لیکن بنیادی طور پر شاعر ہوں اور شاعری ہی کروں گا۔
س:آپ کو شاگرد تو یہی سب کر رہے ہیں جس کے آپ خلاف ہیں ؟
عباس تابش:میرے کونسے شاگرد؟
س: وصی شاہ بھی تو آپ کے شاگرد ہیں
عباس تابش: شاگرد وہ ہوتا جو خود کہے کہ میں شاگرد ہوں،وصی شاہ میرا شاگرد نہیں ہے اور نہ میں اسے اپنا شاگرد کہتا ہوں۔یہ درست ہے کہ وہ میرے پاس آتا تھا اور میں اس کی شاعری بھی ٹھیک کر دیتا تھا لیکن چند چیزیں ٹھیک کروانے میں اور شاگرد ہونے میں بہت فرق ہے۔الحمدللہ میرے بہت اچھے اور نامور شاگرد ہیں جن پر مجھے فخر ہے۔
س: سوشل میڈیا کے حوالے سے بعض سینئر شاعر وں کا کہنا ہے کہ یہاں جو شاعری لگائی جاتی ہے وہ اردو ادب کے لیے نقصان دہ ہے عموماً ان کے اوزان ٹھیک نہیں ہوتے جبکہ لوگ ان پر واہ واہ کر کے انھیں شاعر بنا دیتے ہیں۔
عباس تابش: اصل میں نوجوانوں میں جلد بازی کا عنصر زیادہ ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ جو لکھا اسے جلداز جلد شائع کر دیا جائے جبکہ شاعری دھیمی آنچ پر پکتی ہے اس لیے بعض اوقات ایسا ہو جاتا ہے کہ غلطیاں رہ جاتی ہیں۔میں خود بھی ایک مصرعے کو کئی کئی دن دیکھنے اور پرکھنے کے بعد شائع کرواتا ہوں ہمارے سینئر مزاح نگار مشتاق یوسفی صاحب تو سالوں اپنی تحریر کو بار بار پڑھتے ہیں پھر جب ہر طرح کی کانٹ چھانٹ کے بعد مطمئن ہو جاتے ہیں تو پھر ان کی جو تحریر منظر عام پر آتی ہے اس پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا،ادب اسی مسلسل عمل کا نام ہے۔
س:فیس بک کے حوالے سے آپ کیا سمجھتے ہیں اس کا ادب کے فروغ میں کتنا عمل دخل ہے؟
عباس تابش: میں ابھی تک اس دنیا میں شامل نہیں ہوا اس لیے میں حوالے سے نہیں جانتا البتہ جو لطف کتاب کھول کر پڑھنے میں ہے وہ کمپیوٹر پر نہیں ۔
س:لیکن آپ کے نام سے تو فیس بک پر اکاؤنٹ موجود ہے جس پہ آپ کے ہزاروں پرستار بھی ہیں؟
عباس تابش: مجھے پتا چلا کہ میرے نام سے اس وقت فیس بک پر چھ سے زائد اکاؤنٹ چل رہے ہیں لیکن ایک بھی میرا اپنا نہیں میں نے کبھی فیس بک استعمال نہیں کی ۔ایک مرتبہ میں ایک مشاعرے میں شرکت کے لیے بھارت گیا تو وہاں مجھے ایک خاتون نے کہا’’اگر آپ میرے شہر میں نہ آئے ہوتے تو میں آپ کو گریبا ن سے پکڑ کر تھپڑ مارتی‘‘ مجھے بڑی حیرت ہوئی میں نے ان سے کہامحترمہ میں تو آپ کو جانتا بھی نہیں کہ آپ کون ہیں اور مجھ سے کیا خطا ہوئی ہے؟تب انھوں نے کہا تم نے فیس بک پر میرے بارے میں اتنی گھٹیا باتیں لکھیں ہیں تمہیں شرم نہیں آتی؟میں نے موقع پر موجود شاعروں کو بلا کران سب کے سامنے بتایاکہ میرا فیس بک پر کوئی اکاؤ نٹ نہیں ہے۔بعد میں معلوم ہوایہ لندن کے ایک شاعر صاحب نے میرے نام سے فیس بک اکاؤنٹ بنا کر مجھے بدنام کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔میں یہ واضح کر دوں کہ میں ابھی بھی فیس بک پر نہیں ہوں اور میرے نام سے جعلی اکاؤنٹ چل رہے ہیں۔
س:آپ نے کہا کہ نوجوان شاعر ی شائع کروانے سے قبل اصلاح لے لیا کریں لیکن المیہ یہ ہے کہ جنہیں اوزان کا علم ہے وہ دستیاب ہی نہیں وقت کی اس تیز رفتاری نے ہماری روایات ختم کر د ی ہیں نوجوان شاعر جائیں تو کس کے پاس جائیں؟
عباس تابش: پیاسے کو کنوئیں کے پاس تو جانا پڑتا ہے یہ تاثر غلط ہے کہ اساتذہ نے سکھانا ختم کر دیا ہے۔آپ ادبی بیٹھک چلے جائیں وہاں خالد صاحب جیسا استاد شاعر موجود ہے ان سے راہنمائی لیں۔مجھ سے نوجوان اصلاح لیتے ہیں۔اصلاح کا عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے خود مجھے جب کوئی مصرعہ یا شعر تنگ کرے یا کوئی الجھن پیش آئے تو میں اپنے استاد خالد صاحب سے راہنمائی لیتا ہوں ایسا نہیں کہ استاد میسر نہیں جہاں تک میری رائے ہے دیکھنے میں آیا سیکھنے کا جذبہ کم ختم ہوتادکھائی دیتاہے۔
س:ادبی بیٹھک کا ذکر آیا تو یہ بھی بتا دیجیئے کہ کیا آپ ادبی بیٹھک کے کردار سے مطمئن ہیں؟
عباس تابش:ادبی بیٹھک ان توقعات پر پورا نہیں اتری اصل میں ایسے حلقوں میں جب سرکاری عمل دخل زیادہ ہوجائے تو پھر وہاں شاعر ،ادیب کم ہی آتے ہیں۔ کارڈ دیکھنا اور بغیر کارڈ کے اندر نہ جانے دینا اس طرح کی پابندیاں ادبی ماحول کو کھا جاتی ہیں۔شاعر عوامی ہوتا ہے اور پابندیاں برداشت نہیں کر پاتا۔
س:اخبارات میں ایک سروے شائع ہوا تھا جس کے مطابق ادبیوں میں ا مجد اسلام امجد کو نمبر ون قرار دیا گیااس کے بعد اس فہرست میں احمد ندیم قاسمی ،اشفاق احمد،مستنصر حسین تارڑ کو شامل کیا گیا اس حولے سے آپ کیا کہتے ہیں؟
عباس تابش:یہ ایسے سروے ہیں جو ذاتی تعلقات کی بناء پر تیار کیے جاتے ہیں اچھا ہوتا ہے کہ امجد اسلام امجد اس فہرست میں ہمیں شامل کرتے اور نمبرون کہلاتے چلو’’اندھوں میں کانا راجا چل جاتا‘‘ لیکن اشفاق احمد اور احمد ندیم قاسمی تو ادب کے جن ہیں ان کو مقابلے پر رکھ کر خود کو نمبرون کہلانا اور اتنے بڑے ادیبوں کو اپنے سے چھوٹا ظاہر کرناصرف کمپنی کی مشہوری کے لیے ہے۔میں ایک اوربات بتاؤں مجھے ایک پبلشر نے بتایا کہ اس سال پروین شاکر کی کتاب’’خوشبو‘‘ کا ایک ایڈیشن بھی مکمل فروخت نہیں ہو سکاتو کیا ہم اس کا مطلب یہ نکالیں کہ کتاب فروخت نہ ہونے سے پروین شاکر کے قد کاٹھ میں کمی واقع ہوگئی،دوسری طرف مستنصر حسین تارڑ کو اس لسٹ میں سیکنڈ لاسٹ پر رکھا گیا ہے حالانکہ وہ پچھلے بیس سالوں سے بیسٹ سیلر ہیں مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس سروے کا دائرہ کار کیا تھا؟
س:عوامی سطح پر ایک خیال یہ بھی ہے کہ شاعری کے لیے شراب یا سگریٹ بہت ضروری ہے آپ کیا سمجھتے ہیں ان چیزوں کے بغیر اچھا ادب نہیں تخلیق ہو سکتا؟
عباس تابش: چند لوگوں نے اپنی عیاشی کے لیے یہ باتیں پھیلائی ہوئی ہیں تا کہ انھیں روکا نہ جا سکے ورنہ اصل بات تو یہ ہے شاعری ایک دعا ہے کیا شراب پی کر دعا مانگی جا سکتی ہے؟میرے خیال میں شاعری ہمیشہ مثبت کرنی چاہئے منفی شاعری نہیں کرنی چاہئے اسی طرح ایک بار میں نے یہ شعرپڑھنا شروع کر دیا کہ ’’یاد ماضی عذاب ہے یا رب۔۔۔۔چھیں لے مجھ سے حافظہ میرا‘‘ تو کچھ دن بعد مجھے محسوس ہوا کہ میری یاداشت کمزور ہوتی جارہی ہے میں نے فوراًیہ شعر پڑھنا چھوڑ دیااور تحقیق کی تو مکمل تصدیق تو نہیں ہو سکی لیکن مجھے معلوم ہوا کہ اس شعر کے خالق کی آخری عمر میں یاداشت مکمل طور پر ختم ہوگئی اسی لئے میں پھر یہی کہوں گا شاعری دعا ہوتی ہے اور دعا مثبت مانگنی چاہئے۔
س:نوجون شاعروں کے لیے کوئی پیغام جو آپ دینا چاہتے ہوں؟
عباس تابش:محنت کریں،خلوص سے کام کریں اور ہر شعبے میں ٹانگ اڑانے کی بجائے وہی کام کریں جو آپ اچھا کر سکتے ہیں،اپنی سوچ مثبت رکھیں اللہ آپ کو کامیابیا ں عطاء کرے گا۔
***
Viewers: 1777
Share