Ibn e Sultan | Article | ممتاز شیریں:اردو کی پہلی خاتون نقاد

ابن سلطان ۔ مصطفی آباد۔ جھنگ ممتاز شیریں:اردو کی پہلی خاتون نقاد احبا ب ہی نہیں تو کیا زندگی حفیظ دنیا چلی گئی مری دنیا لیے ہوئے ممتا ز شیریں […]

ابن سلطان ۔ مصطفی آباد۔ جھنگ

ممتاز شیریں:اردو کی پہلی خاتون نقاد

احبا ب ہی نہیں تو کیا زندگی حفیظ
دنیا چلی گئی مری دنیا لیے ہوئے
ممتا ز شیریں نے فن افسانہ نگاری ،ترجمہ نگاری اور تنقید کے شعبوں میں جو گراں قدر خدمات انجام دیں ان کا ایک عالم معترف ہے ۔ان کی تخلیقی اور تنقیدی کامرانیوں سے اردو ادب کی ثروت میں بے پناہ اضافہ ہوا ۔سچ تو یہ ہے کہ ندرت تخیل ،اسلوب کی انفرادیت ،فکر پرور اور بصیرت افروز تجزیاتی مطالعہ کو جس فن کارانہ مہارت سے انھوں نے اپنی تحریروں کو مزین کیا وہ انھیں ایک ممتاز مقام عطا کرتا ہے ۔ایک بلند پایہ نقاد کی حیثیت سے انھوں نے مقدور بھر کوشش کی کہ افکار تازہ کی اساس پر جہان تازہ کا قصر عالی شان تعمیر کیا جائے ۔وہ ایک وسیع القلب اور فراخ دل تخلیق کار اور زیرک نقاد تھیں ۔ادبی تخلیقات کے محاسن اور معائب پر ان کی گہری نظر رہتی تھی ۔گلشن ادب کو خون دل سے نکھارنے کے سلسلے میں ان کی مساعی کا عدم اعتراف احسان فراموشی کے مترادف ہے ۔انھوں نے اپنے اسلوب میں عصری آگہی کو پروان چڑھانے کے لیے سخت محنت کی ۔معاشرتی اور سماجی زندگی میں انھوں نے اس امر پر زور دیا کہ ایک تخلیق کار کو ایسی طرز فغاں اپنانی چاہیے جو علم و عمل کو مقاصد کی رفعت کے اعتبار سے ہمدوش ثریا کردے ۔ان کی تحریریں اس عالم آب و گل کے جملہ مظاہر اور معاملات کے بارے میں زندگی کی حقیقی معنویت کو سامنے لاتی ہیں ۔معاشرتی زندگی ہو یا کائنات کے غیر مختتم مسائل سب کے بارے میں ممتاز شیریں کا انداز فکر ہمہ گیر نوعیت کا رہا ۔اپنے محاکمے سے وہ اچھائی اور برائی میں موجود حد فاصل کے بارے میں قاری کو مثبت شعور و آگہی سے متمتع کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں ۔زندگی کی آفاقی اور حیات آفریں اقدار کے تحفظ ،ارتقا اور بقا کو وہ دل و جاں سے عزیز رکھتی تھیں ۔اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ان کی خدمات تاریخ ادب کا ایک اہم واقعہ ہیں ۔
ممتاز شیریں کے والد کا نام قاضی عبدالغفور تھا ۔وہ اپنے عہد کے ممتاز عالم تھے ۔عربی اور فارسی زبان پر انھیں دسترس حاصل تھی ۔ممتاز شیریں 12۔ستمبر 1924کو اپنے آبائی وطن بنگلور میں پیدا ہوئیں۔ان کے نانا ٹیپو قاسم خان نے اپنی اس نواسی کو تعلیم و تربیت کی خاطر اپنے پاس میسور بلا لیا ۔اس طرح وہ بچپن ہی میں اپنے ننھیال میں رہنے لگیں ۔ممتاز شیریں کے نانا اور نانی نے اپنی اس ہو نہار نواسی کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی ۔وہ خود بھی تعلیم یافتہ تھے اور گھر میں علمی و ادبی ماحول بھی میسر تھا ۔ممتاز شیریں ایک فطین طالبہ تھیں انھوں نے تیرہ(13)برس کی عمر میں میٹرک کا امتحان درجہ اول میں امتیازی حیثیت سے پاس کیا ۔ان کے اساتذہ ان کی قابلیت اور خداداد صلاحیتوں کے معترف تھے ۔1941میں ممتاز شیریں نے مہارانی کالج بنگلور سے بی۔اے کا امتحان پاس کیا ۔1942 میں ممتاز شیریں کی شادی صمد شاہین سے ہو گئی۔ ممتاز شیریں نے 1944میں اپنے شوہر صمد شاہین سے مل کر بنگلور سے ایک ادبی مجلے ’’نیا دور ‘‘ کی اشاعت کا آغاز کیا۔اس رجحان ساز ادبی مجلے نے جمود کا خاتمہ کیا اور مسائل ادب اور تخلیقی محرکات کے بارے میں چشم کشا صداقتیں سامنے لانے کی سعی کی گئی ۔صمد شاہین پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے ۔انھوں نے وکالت کے بعد ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد وہ حکومت پاکستان میں سرکاری ملازم ہو گئے ۔وہ ترقی کے مدارج طے کرتے ہوئے حکومت پاکستان کے بیورو آف ریفرنس اینڈ ریسرچ میں جوا ئنٹ ڈائریکٹر کے منصب پر فائز ہوئے ۔ ممتاز شیریں نے زمانہ طالب علمی ہی سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ۔ان کی سنجیدگی ،فہم و فراست ،تدبر و بصیرت اور وسیع مطالعہ نے انھیں سب کی منظور نظر بنا دیا ۔ہر جماعت میں وہ اول آتیں اور ہر مضمون میں امتحان میں وہ سر فہرست رہتیں ۔قیام پاکستان کے بعد ممتاز شیریں کا خاندان ہجرت کر کے کراچی پہنچا ۔کراچی آنے کے بعد ممتاز شیریں نے اپنے ادبی مجلے ’’نیا دور ‘‘ کی اشاعت پر توجہ دی اور کراچی سے اس کی باقاعدہ اشاعت کاآغاز ہو گیا لیکن 1952 میں ممتاز شیریں اپنے شوہر کے ہمراہ بیرون ملک چلی گئیں اور یوں یہ مجلہ اس طرح بند ہو ا کہ پھر کبھی اس کی اشاعت کی نوبت نہ آئی ۔ادبی مجلہ ’’ نیادور ‘‘ممتاز شیریں کی تنقیدی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔ پاکستان آنے کے بعد ممتاز شیریں نے جامعہ کراچی میں داخلہ لیا اور انگریزی ادبیات میں ایم ۔اے کی ڈگری حاصل کی ۔جامعہ کراچی سے ایم۔اے انگلش کرنے کے بعد ممتاز شیریں برطانیہ چلی گئیں اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں جدید انگریزی تنقید میں اختصاصی مہارت فراہم کرنے والی تدریسی کلاسز میں داخلہ لیا اور انگریزی ادب کے نابغہ روزگار نقادوں اور ادیبوں سے اکتساب فیض کیااور انگریزی ادب کا وسیع مطالعہ کیا ۔ممتاز شیریں کی دلی تمنا تھی کہ آکسفورڈ یو نیورسٹی میں ان کی تعلیم جاری رہے اور وہ اس عظیم جامعہ سے ڈاکٹریٹ (ڈی ۔فل )کریں لیکن بعض ناگزیر حالات اور خاندانی مسائل کے باعث وہ اپنا نصب العین حاصل نہ کر سکیں اور انھیں اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع کر کے پاکستان وا پس آنا پڑا ۔اس کا انھیں عمر بھر قلق رہا۔
ممتاز شیریں نے 1942میں تخلیق ادب میں اپنے سفر کا آغاز کیا۔ان کا پہلا افسانہ ’’انگڑائی ‘‘ادبی مجلہ ساقی دہلی میں 1944میں شائع ہو ا تو ادبی حلقوں میں اسے زبردست پذیرائی ملی ۔اس افسانے میں ممتاز شیریں نے فرائڈکے نظریہ تحلیل نفسی کو جس مو ثر انداز میں پیش نظر رکھا ہے وہ قاری کو مسحور کر دیتا ہے۔افسانہ کیا ہے عبرت کا ایک تازیانہ ہے ۔ایک لڑکی بچپن میں اپنی ہی جنس کی ایک دوسری عورت سے پیمان وفا باندھ لیتی ہے ۔ جب وہ بھر پور شباب کی منزل کو پہنچتی ہے تو اس کے مزاج اور جذبات میں جو مد و جزر پیدا ہوتا ہے وہ اسے مخالف جنس کی جانب کشش پر مجبور کر دیتا ہے۔جذبات کی یہ کروٹ اور محبت کی یہ انگڑائی نفسیاتی اعتبار سے گہری معنویت کی حامل ہے ۔بچپن کی نا پختہ باتیں جوانی میں جس طرح بدل جاتی ہیں، ان کا حقیقت پسندانہ تجزیہ اس ا فسانے کا اہم موضوع ہے ۔ مشہور افسانہ ’’انگڑائی ‘‘ ممتاز شیریں کے پہلے افسانوی مجموعے ’’اپنی نگریا ‘‘ میں شامل ہے ۔وقت کے ساتھ خیالات میں جو تغیر و تبدل ہوتا ہے وہ قاری کے لیے ایک انوکھا تجربہ بن جاتا ہے ۔یہ تجربہ جہاں جذباتی اور نفسیاتی اضطراب کا مظہر ہے وہاں اس کی تہہ میں روحانی مسرت کے منابع کا سراغ بھی ملتاہے ۔ وہ ایک مستعد اور فعال تخلیق کار تھیں ۔ان کے اسلوب کوعلمی و ادبی حلقوں نے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا۔1954میں ہالینڈ کے دار الحکومت ہیگ میں ایک بین الاقوامی ادبی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ا س عالمی ادبی کانفرنس میں عالمی ادب اور انسانیت کو درپیش مسائل کے بارے میں وقیع مقالات پیش کیے گئے ۔ممتاز شیریں کو اس عالمی ادبی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوا۔اس عالمی ادبی کانفرنس میں ممتاز شیریں نے دنیا کے نامور ادیبوں سے ملاقات کی اور عالمی ادب کے تناظر میں عصری آگہی کے موضوع پر ان کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش کی ۔ادب کو وہ زندگی کی تنقید اور درپیش صورت حال کی اصلاح کے لیے بہت اہم سمجھتی تھیں ۔ممتاز شیریں اپنی زندگی کے آخری دنوں میں حکومت پاکستان کی وفاقی وزارت تعلیم میں بہ حیثیت مشیر خدمات پر مامور تھیں ۔ممتاز شیریں کو 1972میں پیٹ کے سرطان کا عارضہ لاحق ہو گیا ۔مرض میں اس قدر شدت آگئی کہ 11مارچ 1973کو پولی کلینک اسلام آباد میں وہ انتقال کر گئیں ۔اردو افسانے اور اردو تنقید کے اس آسمان کو اسلام آباد کی زمین نے اپنے دامن میں چھپا لیا ۔ممتاز شیریں کی وفات سے اردو تنقید کا ایک درخشاں باب کا خا تم ہو گیا ۔اردو کی پہلی خاتون نقاد سے ہم محروم ہو گئے ۔تانیثیت (Feminism) کی علم بردار حرف صداقت لکھنے والی اس با کمال ،پر عزم ،فطین اور جری تخلیق کار کی الم ناک موت نے اردو ادب کو نا قابل اندمال صدمات سے دوچار کر دیا
اپنی تخلیقی کامرانیوں سے ممتاز شیریں نے اردو دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ۔رنگ، خوشبو اور حسن و خوبی کے تمام استعارے ان کے توانا اور ابد آشنا اسلوب میں سمٹ آئے تھے.ان کی تمام تحریریں قلب اورروح کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر جانے والی اثرآفرینی سے لبریز تھیں ۔ممتاز شیریں کی درج ذیل تصانیف انھیں شہرت عام اور بقائے دوام کے دربار میں بلند مقام پر فائز کریں گی ۔
(1)اپنی نگریا (افسانوں کا مجموعہ ): اسے مکتبہ جدید لاہور نے پہلی مرتبہ ستمبر 1947میں شائع کیا ۔اس کے متعدد ایڈیش شائع ہوئے ۔
(2)میگھ ملہار (طویل افسانوں پر مشتمل مجموعہ ): یہ لارک پبلشرز کراچی کے زیر اہتمام پہلی مرتبہ 1962میں شائع ہوا۔
(3)معیار :یہ کتاب ممتاز شیریں کے تنقیدی مقالات پر مشتمل ہے ۔اردو میں فرائڈ کے نظریہ تحلیل نفسی کو اس تنقید میں بالعموم پیش نظر رکھا گیا ہے ۔
(4)در شہوار :یہ ممتاز شیریں کے ترجمہ کی بلند پایہ کتا ب ہے ۔اس میں انھوں نے جان آسٹن کے مشہور ناول ’’دی پیرل ‘‘ کو اردو زبان کے قالب میں ڈھالا ہے ۔ممتاز شیریں کا عالمانہ تحقیقی مقالہ بھی اس ترجمے میں شامل ہے جس میں انھوں نے امریکی ناول کے ارتقا پر تحقیقی نگاہ ڈالی ہے ۔ارد ومیں فکشن پر تنقید اور تحقیق کا یہ اعلیٰ معیار پیش کرتی ہے ۔یہ ترجمہ مصنف کی اصل کتاب سے قریب ترین ہے ۔
(5)امریکی کہانیاں : یہ بھی تراجم پر مشتمل کتاب ہے ۔ممتاز شیریں نے اس کتاب میں امریکی مختصر افسانوں کے اردو تراجم پیش کیے ہیں ۔ان تراجم میں انھوں نے تخلیق کی چاشنی کو اس طرح سمو دیا ہے کہ قاری ان کے اسلوب کی کشش کا گرویدہ ہو جاتا ہے ۔ان تراجم کے ساتھ ساتھ ممتاز شیریں نے امریکی افسانہ نگاروں کے اسلوب اور تخلیقات کے فنی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی ہے ۔ممتا زشیریں کے یہ تنقیدی مضا مین اور تجزیے جو نہایت جامع اور بر محل ہیں ان کے مطالعہ سے قاری پر فن افسانہ نگاری کے متعدد پہلو واضح ہو جاتے ہیں ۔افسانوں پر ممتاز شیریں کی تنقید اپنی جگہ ایک مستقل افادی نوعیت رکھتی ہے ۔
اردو ادب میں حریت فکر کی روایت کوپروان چڑھانے میں ممتاز شیریں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔وہ عجز و انکسار اور خلوص کا پیکر تھیں ۔ظلمت نیم روز ہو یا منٹو نوری نہ ناری ہر جگہ اسلوبیاتی تنوع کا جادو سر چڑھ کر بو لتا ہے ۔قدرت اللہ شہاب اور محمود ہاشمی کے اسلوب کو وہ قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھیں ۔قدرت اللہ شہاب کی تصنیف ’’یا خدا ‘‘ اور محمو د ہاشمی کی تصنیف ’’کشمیر اداس ہے ‘‘کا پیرایہ ء آغاز جس خلوص کے ساتھ ممتاز شیریں نے لکھا ہے وہ ان کی تنقیدی بصیرت کے ارفع معیار کی دلیل ہے ۔وطن اور اہل وطن کے ساتھ قلبی لگاؤ اور والہانہ محبت ان کے قلب ،جسم اور روح سے عبارت تھی ابتدا میں اگرچہ وہ کرشن چندر کے فن افسانہ نگاری کی مداح رہیں مگر جب کرشن چندر نے پاکستان کی آزادی اور تقسیم ہند کے موضوع پر افسانوں میں کانگریسی سوچ کی ترجمانی کی تو ممتاز شیریں نے اس انداز فکر پر نہ صرف گرفت کی بلکہ اسے سخت نا پسند کرتے ہوئے کرشن چندر کے بارے میں اپنے خیالات سے رجوع کر لیااور تقسیم ہند کے واقعات اور ان کے اثرات کے بارے میں کرشن چندر کی رائے سے اختلاف کیا۔ممتاز شیریں نے اردو ادب میں منٹو اور عصمت چغتائی پر جنس کے حوالے سے کی جانے والی تنقید کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے ان کے اسلوب کو بہ نظر تحسین دیکھا۔ممتاز شیریں کا تنقیدی مسلک کئی اعتبار سے محمد حسن عسکری کے قریب تر دکھائی دیتا ہے ۔سب کے ساتھ اخلاق اور اخلاص سے لبریز ان کا سلوک ان کی شخصیت کاامتیاز ی وصف تھا ۔ان کے اسلوب کی بے ساختگی اور بے تکلفی اپنی مثال آپ ہے ۔زبان و بیان پر ان کی خلاقانہ دسترس اور اسلوب کی ندرت کے اعجاز سے انھوں نے ادب ،فن اور زندگی کو نئے آفاق سے آشنا کیا ۔ان کے ہاں فن کار کی انا ،سلیقہ اور علم و ادب کے ساتھ قلبی لگاؤ ، وطن اور اہل وطن کے ساتھ والہانہ وابستگی کی جو کیفیت ہے وہ انھیں ایک اہم مقام عطا کرتی ہے ۔ادب کو انسانیت کے وقاراور سر بلندی کے لیے استعمال کرنے کی وہ زبردست حامی تھیں ۔انھوں نے داخلی اور خارجی احساسات کو جس مہارت سے پیرایہ ء اظہار عطا کیا ہے وہ قابل غور ہے ۔اپنے ایک مضمون میں ممتازشیریں نے اپنے اسلوب اور تخلیقی محرکات کی صراحت کرتے ہوئے لکھا ہے :
’’مجھ میں فن کار کی انا سہی لیکن اتنا انکسار تو ضرور ہے کہ یہ محسوس کر سکوں کہ بڑے ادیبوں کے سامنے ہم کتنے چھوٹے ہیں اور فن کار کے ارتقا اور تکمیل تک پہنچنے میں ہمیں ابھی کتنے اور مرحلے
طے کرنے ہیں ۔میں اپنے بارے میں صرف یہ کہہ سکتی ہوں کہ پہلے درجے سے گزر کر میں نے دوسرے میں قدم رکھا ہے اور اپنی ذات میں نارسیسی انہماک پر بڑی حد تک قابو پا لیا ہے ۔‘‘(1)
ممتاز شیریں کو انگریزی ،اردو ،عربی، فارسی اور پاکستان کی متعدد علاقائی زبانوں کے ادب پر دسترس حاصل تھی ۔عالمی کلاسیک کا انھوں نے عمیق مطالعہ کیا تھا ۔زندگی کے نت نئے مطالب اور مفاہیم کی جستجو ہمیشہ ان کا مطمح نظر رہا ۔اپنی تخلیقی تحریروں اور تنقیدی مقالات کے معجز نما اثر سے وہ قاری کو زندگی کے مثبت شعور سے متمتع کرنے کی آرزو مند تھیں ۔ان کی تخلیقی اور تنقیدی تحریریں ید بیضا کا معجزہ دکھاتی ہیں ا ور حیات و کائنات کے ایسے متعدد تجربات جن سے عام قاری بالعموم نا آشنا رہتا ہے ممتاز شیریں کی پر تاثیر تحریروں کے مطالعے کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب کچھ تو گویا پہلے ہی سے اس کے نہاں خانہ ء دل میں جا گزیں تھا ۔اس طرح فکر و خیال کی دنیا میں ایک انقلاب رونما ہو تا ہے جس کی وجہ سے قاری کے دل میں اک ولولہ ء تازہ پیدا ہوتا ہے ۔
ترجمے کے ذریعے وہ دو تہذیبوں کو قریب تر لانا چاہتی تھیں ۔تراجم کے ذریعے انھوں نے اردو زبان کو نئے جذبوں ،نئے امکانات ،نئے مزاج اور نئے تخلیقی محرکات سے روشناس کرانے کی مقدور بھر کوشش کی ۔ان کے تراجم کی ایک اہم اور نمایاں خوبی یہ ہے کہ ان کے مطالعہ کے بعد قاری ان کے تخلیق کار کی روح سے ہم کلام ہو جاتا ہے مترجم کی حیثیت سے وہ پس منظر میں رہتے ہوئے قاری کو ترجمے کی حقیقی روح سے متعارف کرنے میں کبھی تامل نہیں کرتیں ۔ان کے تراجم سے اردو کے افسانوی ادب کی ثروت میں اضافہ ہوا اور فکر و خیال کو حسن و دلکشی اور لطافت کے اعلیٰ معیار تک پہنچانے میں کامیابی ہوئی۔افسانوی ادب کی تنقید میں ممتاز شیریں کا دبنگ لہجہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔گزشتہ آٹھ عشروں میں لکھی جانے والی اردو تنقید پر نظر ڈالیں تو کوئی بھی خاتون نقاد دکھائی نہیں دیتی ۔ممتاز شیریں نے اردو تنقید کے دامن میں اپنی عالمانہ تنقید کے گوہر نایاب ڈال کر اسے عالمی ادب میں معزز و مفتخر کردیا ۔ زندگی کی صداقتوں کو اپنے اسلوب کی حسن کاریوں سے مزین کرنے والی اس عظیم ادیبہ کے تخلیقی کارنامے تاریخ ادب میں آب زر سے لکھے جائیں گے اور تاریخ ہر دور میں ان کے فقیدالمثال اسلوب لا ئق صد رشک و تحسین کا م اور عظیم نام کی تعظیم کرے گی۔
مآخذ
(1)آغا بابر :’’حرف سو گوار ‘‘ ،مضمون مشمولہ مجلہ سیپ ،کراچی، شمارہ 55،جنوری 1990،،صفحہ 304۔
Ibn-e-Sultan,(Naveed House,Mustafa Abad (Naqad Oura ) Jhang, Pakistan

Viewers: 2793
Share