Mahtab Alam Parvez | Afsana | کارواں

مہتاب عالم پرویزؔ مکان نمبر ۱۱ کروس روڈ نمبر ۶۔ بی آزاد نگر ، مانگو ، جمشید پور۔ ۸۳۲۱۱۰ انڈیا E – Mail mahtabalampervez@gmail.com کارواں اُونٹوں کا کارواں یمن کے […]

مہتاب عالم پرویزؔ
مکان نمبر ۱۱ کروس روڈ نمبر ۶۔ بی
آزاد نگر ، مانگو ، جمشید پور۔ ۸۳۲۱۱۰
انڈیا
E – Mail mahtabalampervez@gmail.com

کارواں

اُونٹوں کا کارواں یمن کے صحرا ؤں سے ہوتا ہُوا ابوظہبی کی طرف رواں دواں تھا……..
کمپنی کے اعلی افسر ا ن کا کہنا تھا کہ ان تمام اُونٹوں کو جلد سے جلد کسی دوسرے محفوظ خطے میں منتقل کر دیا جائے ورنہ سب کے سب راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو جائیں گے۔
ہر طرف زہریلی گیس نے اُونٹوں کے دل کی دھڑکنوں میں اپنے اثرات پیوست کر دےئے تھے۔ جبکہ SAFETY کا پورا خیال رکھا گیا تھا۔ خون کی اُلٹیاں اپنا اثر دکھا رہی تھیں ۔اُونٹوں کے بلبلانے کی آوازیں ما حول کی نحوست میں اور بھی اضافہ کر رہی تھیں…… اُونٹوں کو اس طرح بلبلانے اور خون کی اُلٹیاں کرتے دیکھ کر میں بھی پریشان تھا۔ ایسے حا لا ت میں ، میں کر بھی کیا سکتا تھا، سوائے اس کے کہ ان حالات میں انہیں چھوڑ کر فرار کی راہیں اختیار کر لیتا اور فرار کی کوئی صورت بھی کہاں تھی۔
ہر طرف اُونٹوں کے بلبلانے کی آوازیں تھیں، آہیں تھیں ، اورسسکیاں ہی سسکیاں تھیں۔
آگ سی لپٹوں میں گھری ہوئی صحراکی پاگل ہوائیں اور بھی پاگل ہواُٹھی تھیں……ماحول کے درجہ حرا رت میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا تھا……. زہریلی گیس سے ہواؤں میں جلن کی آمیزش تھی ۔آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں تھا ۔جس میں نہ جانے کتنے ہی ارماں بہہ رہے تھے۔میں بھی سسک پڑا ۔مجھے روتا دیکھ کر میرا نوجوان ساتھی بھی ر ونے لگا۔
’’ارے یہ تمہیں کیا ہوگیا….؟ ‘‘میں نے یوں ہی پوچھ لیا تھا۔
’’خود رو رہے ہو اور ہم سے پوچھ رہے ہو۔؟‘‘اُس نے روتے ہوئے جواب دیا۔
’’اس طرح نہیں رویا کرتے، وہ دیکھو دور بہت دور سمندر کی لہریں رواں دواں ہیں ، کیا تمہیں ایسا نہیں لگتا کہ زندگی بڑی انمول شئے ہے، اور یہی تو بتایا گیا ہے ہمیں، اور ویسے بھی زندگی ان ہی حقیقتوں کا نام ہے کہ بقا ء کی جدو جہد کو جاری رکھا جائے…….
دفعتاََ……SAFETY کے اعلی حکام کا فرمان جاری ہوا…….
کارواں کا رُخ جنوب کی طرف موڑ دو ورنہ سب کے سب مار ے جاؤ گے ۔ ہواؤں نے رُخ پھیر لیا ہے۔ ہواؤں کے مخالف سمت ہو جاؤ …….تم سبھوں نے دیکھا نہیں AIR BLOW کے سائن کو……؟ ایک لال رنگ کے ڈریس والے SAFETY MAN کے ہاتھوں میں AIR BLOW کا سائن تھا۔ سبھی اُس کی طرف ہوگئے………
اُونٹوں کا بلبلاتا ہوا کارواں اب جنوب کی طرف رواں دواں تھا……. دھوپ کی تمازت اپنے شباب پر تھی۔ صحراؤں
کی اُڑتی ہوئی دھول سے ماحول میں عجیب طرح کی پریشانی شامل تھی۔ پاؤں سے لپٹی ،تپتی ریگذاروں کی دھول ، آنکھوں میں پھیلتی ہوئی بے چینیاں ……..
میرا ایک ہم عمر ساتھی بین کر رہا تھا……’’میری چھٹیاں منظور ہو گئی تھیں۔ لیکن گذشتہ شب حالات سنگین ہو گئے……‘‘
میں نے اُس کی بات کو کاٹتے ہوئے کہا………
’’حا لات کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہو جائیں انسان کو ہمیشہ خوش آئند مستقبل کی جستجو میں لگے رہنا چاہئے ، گلہ اور شکوہ
کرنے سے حالات سلجھنے کی بجائے اور بھی اُلجھتے جاتے ہیں ،اگر خوشیوں کے دن نہیں رہے تو غم کے کالے بادل بھی چھٹ جائیں گے۔‘‘
میری باتیں سُن کر اُس کا رونا اور بین کرنا اب سسکیوں میں تبدیل ہو گیا تھا۔
میرا ایک تیسرا ساتھی جو عمر میں مجھ سے بڑا تھا ۔ اور کافی سمجھدار بھی تھا ۔ جو میری تمام باتیں بہت غور سے سُن رہا تھا۔ اچانک ہی بول اُٹھا …..
’’تم باتیں تو بہت اچھی کر لیتے ہو۔ تم انسان ہوتے ہوئے بھی اُونٹوں کے اس بھیڑ میں کیوں گُم ہو……..؟‘‘
اُس کی فلسفیانہ باتیں سُن کر مجھے ایسا لگا کہ اُس نے مجھے ایک گندی گالی دی ہو۔ میرا خون کھول اُٹھا ۔ لیکن میں ایک دم خاموش ہوگیا حالات کو بگڑ تے دیر نہیں لگتی ۔میں نے خاموشی اختیار کر کے اپنی ذات کا بھرم رکھ لیا تھا ۔ میری جگہ کوئی اور ہوتا تو شاید حالات بگڑ سکتے تھے ۔اور نہیں بھی ،کیوں کہ میری سوچ کی دشاؤں کا رُخ کچھ اور ہی تھا…….
باتیں ہوئیں اور ختم ہو گئیں…….لیکن میرے اندر ایک طوفان اُٹھا ہواتھا جس کے اثرات میں اپنے اندر دیر تک محسوس کرتا رہا ……
شام کے سائے اب طویل ہوچُکے تھے ۔دھوپ کی تمازت میں کچھ کمی آ گئی تھی۔سارا دن یوں ہی بھوکے پیاسے چلتے چلتے میں اپنے اندرایک خلاء سا محسوس کر رہا تھا کہ دفعتاََ میرے موبائیل کی گھنٹی بجنے لگی…..
ٹرن……ٹرن……ٹرن………
میں یہ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ یہ وقت ،میری معصوم چار سالہ بیٹی کے فون کا وقت تھا میں نے فون اُٹھانے میں تاخیر نہیں کی……..
میں نے فون اُٹھا لیا تھا…..
’’السلامُ علیکم……….‘‘میری چار سالہ بیٹی مجھ سے مخاطب تھی…….
’’وعلیکُم ا لسلام ………..میرے بیٹے ۔‘‘میں اپنی بیٹی کو پیار بیٹے ہی کہا کرتا تھا………. ’’آپ کیسی ہیں ……..؟‘‘
’’میں…….میں بہت اچھی ہوں……آپ نے مجھے دیکھا ہی کہاں ہے…. آپ کب آئیں گے………؟‘‘
امی کی طبیعت ہمیشہ خراب ہی رہتی ہے ۔آپ وہاں سے جب بھی آئیں میرے لئے ایک اُونٹ لے کر آئیں ۔یہاں شہر کے کسی بھی چڑیا گھرمیں اُونٹ نہیں ہے۔ یہاں بقرعید کا زمانہ ہے اُونٹ والا اُونٹ لے کر آتا ہے امی نے پیسے دےئے تھے میں اور شہریارؔ اُونٹ کی پیٹھ پر بیٹھ کر خوب گھومے بڑا مزہ آتا ہے۔ اب امی سے بات کیجئے…… ‘‘
’’السلامُ علیکم ………‘‘
’’وعلیکُم السلام…….. کیسی ہو مہرو..ؔ ……؟‘‘
’’آپ کے بن اور کیسی رہو ں گی…… ؟‘‘ ’’ تسکین ؔ بیٹا اب کتنی باتیں کر نے لگی ہے ۔اُس نے تو مجھے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا۔اُونٹ لے کر آنے کو کہہ رہی ہے ۔‘
’’ہاں میں بھی سُن رہی تھی آپ کے بیٹا کی ساری باتیں….. نہ جانے کیوں اُسے اُونٹ سے اتنی محبت کیوں ہے۔ جب بھی اُونٹ والا کوئی آیا ہے بغیر اُونٹ پر گھومے اُسے سکون کہاں ملتا ہے۔ آپ جب بھی آئیں، اُونٹ ضرور لے کر آئیں ،ایسا میں نہیں آپ کی بیٹا تسکین ؔ کہہ رہی ہے…….ان دنوں میری طبیعت ٹھیک نہیں رہتی ہے۔شہریار ؔ کی پیدائش کے بعد سے میرے مرض میں نئے نئے باب کا اضافہ ہو رہا ہے۔نہ جانے کیوں بلڈ پریشر کافی لو ہو جاتا ہے ۔آپ جلد آ جائیں میں یقیناً ٹھیک ہو جاؤں گی…….‘‘
’’انشااللہ میں بہت جلد آنے کی کوشش کروں گا۔ اب یہاں کے حالات بھی خراب ہوتے جارہے ہیں یہاں کی فضا بھی بدلی بدلی سی ہے میں بھی تم سے دور رہ کر کافی تھک گیا ہوں ۔کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ تم سے جیتے جی ملاقات بھی نہ ہوسکے…..‘‘
’’آپ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں…..آپ کی کہی ہوئی باتیں مجھے آج بھی یاد ہیں ۔کہ حالات کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہو جائیں لیکن انسان کو ہمیشہ خوش آئند مستقبل کی تلاش اور جستجو میں لگے رہنا چاہیے گلہ اور شکوہ کرنے سے حالات سلجھنے کی بجائے اور بھی اُلجھتے جاتے ہیں۔ خوشیوں کے دن اگر نہیں رہے تو غم کے کا لے بادل بھی چھٹ جائیں گے۔‘‘
’’اور میں نے یہ بھی تو کہا تھا کہ زندگی ان ہی حقیقتوں کانام ہے کہ بقاء کی جدوجہد کو جاری رکھا جائے……‘‘
’’زندگی بڑی انمول شئے ہے یہی تو بتایا تھا آپ نے….. میں آپ کی یادوں کے سہا رے ہی توزندہ ہوں۔‘‘
’’لیکن حالات کو کروٹ بدلتے دیر نہیں لگتی…….‘‘
’’آپ کوئی غیر نہیں کہ بے وفا نکلیں مجھے آپ کے وعدوں کا پورا عتبار ہے…….‘‘
’’یہی نہ کہ میں تمہاری بیٹی کے لئے اُونٹ لے کر آؤں گا…..‘‘
’’کاش کہ آپ میری باتوں کو سمجھ پاتے……. آپ میرے جذبات واحساسات کو سمجھ پاتے۔ آپ ،بس آجائیں،اور رہی بات اُونٹ کی وہ آپ جانیں اور آپ کی بیٹی جانے ۔ یہ الگ سی باتیں ہیں کہ آ پ اُسے بیٹا کہہ کر پُکارتے ہیں……آپ کے آنے کا کیا ہوا……؟‘‘
’’ تم کیوں اتنی بے چین ہو۔ جب میں تمہارے پاس آ جاؤں گا ۔اپنا پیارا سا گھر ہوگا۔ ڈھیر ساری کہانیاں ہوں گی۔ ڈھیر سارے بچے ہوں گے سارا دن تم پریشان رہو گی ۔پھر یہ نہ کہنا کہ آپ وہیں رہتے تو اچھا تھا…..‘‘
دفعتاََصحراؤں کی ہوائیں پاگل ہو اُٹھیں…..
’’ہیلو……‘‘
’’ہیلو………..کیا ہوا یہ کیسی آوازیں آ رہی ہیں…….‘‘
’’ مہر و ……..میں ……پھر ……کبھی فون کروں گا…..میں نے کہا تھا نہ حالات کو بدلتے دیر نہیں لگتی…… ‘‘
’’آخر ہوا کیا کچھُ بولیں گے یا اور بھی اُلجھنیں پیدا کریں گے……‘‘
’’کھا……نسی…….نے …..پریشان کر رکھا ہے ۔زندگی عذاب سی لگنے لگی ہے ۔میری سانسیں پُھول رہی ہیں…..‘‘
اور اُسکے ساتھ ہی موبائیل کا سلسلہ منقطع ہو گیا……
کمپنی کے اعلی افسران لوگوں سے مخاطب تھے ۔ فرمان جاری تھا……
’’آخر وہی ہوا جس بات کا ہمیں خوف تھا ۔ زہریلی گیس پر اب قابو پانا محال ہوتا جا رہا ہے…. GAS MASK
تقسیم کیے جار ہے تھے ۔تم سبھی اسے اپنے اپنے FACE پہ باندھ لو جب تک دوسرا اعلان نہیں کیا جائے گا کوئی بھی اسے اپنے FACE سے نہیں اُتارے گا۔ورنہ تمہاری موت کے ذمہ دار ہم نہیں ہوں گے……‘‘
SAFETY والے خود اپنے منھ پہ GAS MASK لگائے اُونٹوں کو بھی جلد سے جلدGAS MASK لگا دینے کا اشارہ کر رہے تھے۔
اندھیرا ہر طرف پھیلا ہُوا تھا۔اُونٹوں کے بلبلانے کی آوازیں ماحول کی نحوست میں مزید اضافہ کر رہی تھیں۔ سبھی اُونٹ ادھر سے اُدھر بھاگ رہے تھے۔ خون کی اُلٹیاں رُکنے کانام ہی نہیں لے رہی تھیں……
میں نے GAS MASK باندھ رکھا تھا ۔ جن اُونٹوں نے GAS MASK نہیں لگائے تھے وہ خون کی اُلٹیاں کر رہے تھے۔ SAFETY والوں کا سارا نظام گیس سے متاثر ہو نے والے اُونٹوں میں لگاہوا تھا ۔بہت سارے اُونٹ اپنی جانیں گنوا چکے تھے اور کُچھ زندگی اور موت سے لڑ رہے تھے۔
اُونٹوں کی اس بھیڑ میں ، میں بھی اپنی موت کا منتظر تھا زندگی میں پہلی بار میں نے موت کو اتنے قریب سے دیکھا تھا۔حالات بد سے بدتر ہو تے جارہے تھے۔اور میرا دل بیٹھا جا رہا تھا میرا ذہن یہ سوچنے پہ مجبور تھا کہ میں کروں تو کیا کروں۔؟
اچانک فون کی گھنٹی بجنے لگی اور مسلسل بجتی رہی…….
ٹرن…….ٹرن…….ٹرن………
میں جواب دینے کے لائق کہاں تھا میرے FACEپہ تو گیس ماسک لگاہُوا تھا۔
فون کی گھنٹی بجتی رہی……
ٹرن……ٹرن……ٹرن………..
میں نے خاموشی کا لبادہ اُوڑھ لیا تھا۔ اور زندگی بے لباس ہُوئی جارہی تھی……
میں نے دل ہی دل میں سوچا FACEپہ گیس ماسک لگے ہونے کی وجہ سے فون پر باتیں نہیں کی جاسکتیں کیوں نہ موبائیل پہ گھر والوں کے لئے MESSAGE بھیج دیا جائے اور پھر میں نے ایسا ہی کیا …….
بیٹا…….تسکینؔ …….بے پناہ محبتیں…….
خدا کرے تمہارے شب وروز اچھے ہوں……..
میں ان دنوں بے حد مصروف ہوں ۔اور اسی مصروفیت نے مجھے تم سے چھین رکھا تھا۔
یہاں زندگی کی کوئی قیمت نہیں اور موت بہت سستی ہے۔میں تمہارے لئے اُونٹ
لے لیتا ، لیکن یہاں کے حالات بڑے ہی سنگین ہوگئے ہیں۔ویسے اگر حالات
میں تبدیلیاں نہیں آئیں تو بھی میں تمہارے لئے اُونٹ ضرور لے کر آؤں گا۔
اپنی امی سے میرا پیا ر کہنا نہ بھولنا ورنہ وہ گلہ شکوہ کریں گی۔
اور شہریارؔ سے میری محبتیں……….
آپ کے
بابا جانی
میں نے MESSAGE ارسال کر دیا تھا……MESSAGE ارسال کر نے کے بعدمجھے بڑا سکون مل رہا تھا۔ ادھرافراتفری کا عالم تھا پورے صحرا میں موت ناچ رہی تھی۔ میری آنکھوں میں عجیب طرح کی جلن محسوس ہو رہی تھی،اورپھر خون کی اُلٹیاں ہونے لگیں…..
میں نے وہاں موجود ڈاکٹروں سے رابطہ قائم کیا۔ ڈاکٹروں کاساراعملہ گیس سے متاثر ہونے والوں میں لگا ہوا تھا اور میں یہ سوچنے پر مجبور تھا کہ زندگی اور موت کے اس کھیل میں،میں اپنی زندگی سے بہت دور ہو جاؤں گا اور موت کا کفن اُوڑھ لوں گا کیوں کہ موت ایک حقیقت ہے ۔ ایک ایسی حقیقت جس سے انحراف نہیں کیا جا سکتا اور موت ، موت کا دوسرا نام ہی تو کفن ہے۔ جہاں سارے ارماں ساری خواہشیں ، سارے خواب بھی حسرتوں کا کفن اُوڑھ لیتے ہیں ۔ لیکن خواب کبھی حقیقت کا کفن نہیں اُوڑھتے اور زندگی بے لباس ہو جاتی ہے…….
ڈاکٹروں کی کافی جدوجہد اور کوششوں کے باوجودخون کی اُلٹیوں میں کوئی بھی تبدیلی نہیں آئی اور میرا سارا خون ان ہی ریگزاروں میں، ان ہی صحراؤں میں پیوست ہوتا گیا یا پھر یہ کہا جائے کہ تپتے ہوئے ان صحراؤں نے اور ریگزاروں نے میرے وجود کا سارا لہو نچوڑ لیا تھا۔ اور رہ گئی تھیں کچھ یادیں کچھ خواہشیں ،ان یادوں کو ان خواہشوں کو حسرتوں کا طوفان اپنے ساتھ اُڑا لے گیاتھا ، دور بہت دور اورسب کچھ….خاک نشیں ہوگیا تھا۔ اُن تمام خوابوں کی تعبیریں وقت کی اُڑتی ہوئی ریت میں دھند لا گئی تھیں ،جو خواب میں نے اپنی ان جواں آنکھوں سے دیکھے تھے…..
موت ایک حقیقت ہے ایک ایسی حقیقت جس سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔ اور موت،موت کا دوسرا نام ہی توکفن ہے۔ جہاں سارے ارماں ساری خواہشیں ، سارے خواب بھی حسرتوں کا کفن اُوڑھ لیتے ہیں۔لیکن خواب کبھی حقیقت کا کفن نہیں اُوڑھتے اور زندگی بے لباس ہوجاتی ہے……..
اور ویسے بھی یہاں زندگی کی کوئی قیمت نہیں تھی ۔ اور موت بڑی سستی تھی……
یہ حالات کی ستم ظریفی تھی یا وقت کا تقاضہ کہ زندگی اور موت کے اس کھیل میں، میں ہار گیا تھا ۔ہاں میں ہار گیا تھا۔ اور موت کی جیت ہوگئی تھی…….
لیکن ……..
مرنے سے قبل میں نے ڈاکٹردں کے اعلی افسران سے ڈھیر ساری باتیں کی تھیں ۔خون کی اُلٹیاں کرتے وقت میں نے ڈاکٹروں کے اعلی افسران سے کہا تھا ،آپ دیکھ رہے ہیں یہ خون کی اُلٹیاں جو ان صحراؤں کو سیراب کر رہی ہیں۔ ان تپتی ریگزاروں کی پیاس بُجھا رہی ہیں۔ جب میرے وجود کا سارا خون ان صحراؤں کے ذرے ذرے میں پیوست ہو جائے ، خدا کے واسطے میرے وجود کو ان صحراؤں میں نہ چھوڑ دینا بلکہ محفوظ کر لینا میرے وجود کو اور عنایت کر دینا اُن رشتوں کو جن کی یادیں آج بھی میرے وجود سے وابسطہ ہیں اور میری سانسوں سے جڑی ہُوئی ہیں ڈاکٹر بس اتنا احسان کردینا…….. ابھی باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ میرے موبائیل کی گھنٹی بجنے لگی۔
ٹرن………ٹرن………ٹرن……..
ٹرن……..ٹرن…….ٹرن………..
’’ہیلو………‘‘میں نے کال ریسیو کر لیا تھا……
’’ السلامُ علیکم………. بابا جانی آپ کہاں اور کس حال میں ہیں……‘‘
’’وعلیکُم السلام……میرے بیٹے…..بیٹے،میں بخیر ہوں ۔ ‘‘
’’بابا جانی …….‘‘
’’بولو…….بیٹے……….‘‘
’’آپ نے کہا تھا کہ اُونٹ بھیج دیں گے ،لیکن ابھی تک میرے لئے اُونٹ نہیں آیا ہے۔ انتظار کرتے کرتے میری آنکھیں تھک گئی ہیں۔‘‘
’’بیٹے ،میری باتوں کا تمہیں یقین نہیں؟ میں تمہا رے لئے ایک خوبصورت سا اُونٹ ضرور بھیج دوں گا۔ اس بار تو میری باتوں کایقین کر لو……… اپنی امی سے میرا سلام کہنا…….اللہ حافظ……میرے بیٹے…….اللہ حافظ……‘‘
’’اللہ حافظ……..‘‘
****
میری لاش کمپنی کے بنائے ہوئے خوبصورت اسپتال کے سرد تہہ خانے میں پڑی تھی ۔اور میں اتنا حساس تھا کہ خود اپنی ہی کہانیاں بیان کر رہا تھا ۔میں ایسا صرف اس لئے کر رہا تھا کہ میری کہانیاں وقت کی گہرائیوں میں دفن نہ ہوجائیں……
آج میری لاش کو اس سردتہہ خانے میں پڑے ہُوئے تقریباََ ڈیڑھ ماہ پورے ہوگئے تھے…….لاش کو یہاں سے منتقل کرنے کے لئے سارے کاغذات بھی مکمل ہوگئے تھے میں نے دیکھاوہ ڈاکٹر اُس وقت کافی پیش پیش تھا ۔شاید میری باتوں نے اُسے کافی متاثر کیا ہو گا…….

میرے گھر کے سامنے بنے ہُوئے وسیع لان میں لوگوں کی کافی بھیڑ اکٹھا تھی عین اُسی وقت AMBULANCE کا دروازہ کُھلا۔ میری چار سالہ بیٹی بھی اس بھیڑ میں شامل تھی۔ اور کافی خوش تھی۔ لان میں مکمل سکُوت چھایاہوا تھا ۔تابوت جیسے ہی لان کے فرش پہ رکھاگیا۔ میری چار سالہ بیٹی اُس تابوت پہ سوار ہُو گئی اور کہنے لگی ……
’’میرے بابا جانی نے میرے لئے اس BOX میں اُونٹ بھیجا ہے کوئی اسے کھولو ……کھو لو نہ انکل…… اسے کھوولونہ…… ‘‘وہ ضد کر ر ہی تھی اورمسلسل روئے جا رہی تھی….. اسے اس طرح مسلسل روتا دیکھ کر سبھوں کی آنکھیں پُر نم ہُو گئیں…….
کارواں اب لحد کی جانب رواں دواں تھا………..
*****

Viewers: 9925
Share