Usama Khamis Minhas | Column | قانون سب کیلئے یکساں

اسامہ خامس منہاس
قانون سب کیلئے یکساں
کمزور کی دُکھتی رگ کو دبانا اور اُس کے درد میں اضافہ کرنا بہت غلط فعل ہے۔عجب بات ہے اُن لوگوں کی جو خود کی شخصیت کو مکمل قرار دیتے ہیں ۔اُن لوگوں کی جو خود کو امیرالمومینین کہلوانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔جواِس امر کو تسلیم نہیں کرتے کہ وُہ بھی غلطی کر سکتے ہیں ۔وُہ افراد جو خود قانون بناتے اور بنواتے ہیں اور اِس کے رکھوالے ہیں اور قانون شکنی کے مرتکب افراد کو سزا دیتے ہیں۔اِسی بنا پر عوام میں کسی ایسے ایک آدھ اقدام سے مقبول بھی پائے جاتے ہیں ۔مگر جب بات ایسے افراد کے اپنوں یا خود کی ذات پر ہو تو کیوں قانون لاقانون بن جاتا ہے۔ایسے لوگوں کے لیے کیوں خصوصی کوٹہ اڑھے آتا تھا اِس کامطلب یہ ہوا کہ اِنسانوں میں فرق ہے یعنی ادنا و عرفہ کی گروہ بندی ہے۔دُنیا میں ہمیں ایسے ممالک ملیں گے جہاں کمزور کی پکڑ ہو تی ہے اور طاقتور اور بااثر کی چھوٹ ہوتی ہے جنہیں بد تہذیب ممالک کہا جا سکتا ہے۔اور ایسے بھی ممالک ملین گے جہاں قانون سب کے لیے یکساں ہوتا ہے۔مسلمانیت کی بات کی جائے تو سردارِ کائنات سے بڑی مثل اِس کائنات میں کہیں نہیں ہو سکتی کہ آپؐ نے فرمایا’کہ خدا کی قسم اگر محمدؐ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو اُس کے بھی ہاتھ کاٹ دئیے جاتے‘۔مطلب یہ کہ محمد مصطفیؐ نے یہ بات صاف صاف آشکارہ کر دی کہ سب انسان برابر ہیں۔اگر قبیلہ مخدوم کی عورت کے ہاتھ کاٹے جا سکتے ہیں تو فاطمہ کے بھی کاٹ سکتے ہیں ۔جو اقوام ہر فیصلہ میرٹ پر کریں وُہ کبھی مات نہیں کھاتی ۔7اکتوبر کو ایک دل دہلا دینے والا پیش آیا جس میں طاقتور نے اپنی طاقت کا ڈھنکاخوب بجایا اور کمزور کو روند کے ایامِ جہالیت کی یاد تازہ کر دی۔واقعہ کچھ اِس طرح پیش آیا کہ صوبہ پنجاب کے خادم اعلی میاں محمد شہباز شریف کی بیٹی رابعہ بیکری کا سامان لینے آئیں تو بیکری بند تھی ۔صاحبہ نے پہلے بیکری کا گیٹ کھلوایا پھر اندر چلی گئی جہاں موجود سویپر کو سامان دینے کا کہا ۔سویپر نے بتایا کہ بیکری 3بجے کھولے گی مجھے اشیاء بیچنے کی اجازت نہیں ۔مگر میڈیم رابعہ نے اُس سے کافی بے توقی اور ہاتھوں کی انگلیاں دیکھا دیکھا کر بحث کی ۔وُہ مجبور انسان میڈیم کو کافی سمجھاتا رہا لیکن ظاہر یہ ہو رہا تھا کہ میڈیم نے اُس کی ایک نہ سُنی اور اپنی با اثری کے وسیع و عریض اوربلند وبالا وسائل کے سایہ میں شدید غصے سے آگ بگولا ہو گی جو کہ ہر خاص و عام اُس سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھ سکتا ہے جو اُس بیکری میں لگے کیمرے نے ریکاڈ کی۔میڈیم تو اپنا سرد غصہ دیکھا کر چلی گی مگراُسی روز شام کو چھے بجے میڈیم کے تین بندے اُسی بیکری میں آئے جنہوں نے اندر جا کر اُس سویپر کا پوچھا جب انہوں نے سویپر کو دیکھ لیا تو باہر آ گے ۔جب وُہ لڑکا باہر نکلاتو انھیں بندوں نے جو گھات لگائے بیٹھے تھے اُس لڑکے کی طرف لپکے ۔اگر آپ غور کریں تو اُس فوٹیج میں آپ کو ایک بندہ شام کو بھی نظر آئے گا جو صبح بھی میڈیم رابعہ کے ساتھ آیا تھا۔جب یہ تین بندے اُس لڑکے کی طرف آئے تو ساتھ ہی ایلیٹ فورس و دجال فور س پنجاب کے اہلکار بھی اُس لڑکے کے پاس آگے اُن بندوں نے کچھ دیر بات کی اور اُس لڑکے کو مارنا شروع کر دیا۔جس میں ایلیٹ اور دجال فورس کے اہلکاروں نے بھی بے پایاں حصہ ڈالا۔وُہ ایسے درد ناک لمحات ہیں کہ کوئی سخت گیر گردے کا حامل فرد بھی ہو اِس کی شدتِ درد محسوس کیے بغیر نہ رہ سکے گا۔غور طلب بات یہ ہے کہ جب امن قائم کر نے والے ادارے اور اُن کے اہلکاران وزاراء کے کاموں میں مامور ہوں گئے تو امن کیسے بھی ہو گا۔اِس فوٹیج کو سوشل میڈیا کے ذریعے نشر کیا گیا جس پر عوام نے کافی غم و غصے کا اظہار کیا۔معاملہ اِس قدر طول پکڑا کہ اِس واقع کے مجرمان کے خلاف FIRدرج ہو گی اور گرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں۔۔یہ تو قدم نیک ہے اور اچھی بات ہے کہ معاشرے میں ایسی برُایؤں کی روک تھام کیلئے ایسے کام کیے جائیں ۔مگر اگلہ مرحلہ کیا ہو گا کیس لٹکا رہے گا یا اُن میں صلہ ہو جائے گی جیسا کہ رییت ہے یہ جلد پتہ چل جائے گا۔مگر یہ بات یاد رہے کہ بااثر کو آج بھی اس ملک میں باگ کوئی نہیں ڈال سکتا ۔ہاں البتہ یہ بھی ہو سکتا ہے جو ریمنڈ ڈیوس کے ڈسے ہوئے اُن مرحومین کے اہل خانہ کے ساتھ ہوا۔جو آج تک ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا۔یہ مت سوچا جائے کہ مجرمان کو عبرتِ کبیری بنایا جائے گا ۔یہ بہت مشکل ہے۔اب اِس کیس میں تفتیشی سے لیکر جج تک کیس کا میرٹ پہ فیصلہ دینا ہو گااُنھیں بغیرکسی دباوٗقبول کیے حقائق کی روشنی میں انصاف کرنا ہو گا۔پھر یہ سوچ رکھنا ہو گی کے آج نا صرف ملک پاکستان کے ایک مظلوم لڑکے بلکہ اُس کی غربت ،احساس محرومی اور اِس طرح کے کرڑوں پاکستانیوں کے ساتھ انصاف کرنا ہے ۔اور اگر آج یہ کیس دب گیا اور مظلوم کی داد رسی نہ ہوئی توہم تاریخ سے بہت پیچھے رہ جائیں گے اور اِس کے ذمہ آپ لوگ ہوں گے تو پھر آج اپنا ادراک کر لیا جائے۔ یہ واقع بھی اُن دوسرے لاکھوں واقعوں کے ساتھ دفن ہونا تھاجو روزانہ اپنے مظالم کی تاریخ رقم کرتے اور دفن ہو جاتے ہیں ۔مگر اِس کے ٹھوس شواہد ہونے کی وجہ سے اور اِس کو عوام تک پہنچانے کی وجہ سے یہ واقع عوام کی نگاہ میں آیا اور ایکشن لیا گا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مظلوم کو کس قدر انصاف ملتا ہے اور ظالم کی کس قدرحوصلہ شکنی اور اُس کے مذمومقاصد اور شدت پسندی کو کتنی پستی ملتی ہے۔***
Viewers: 1027
Share