پتھرکھائے ،کانٹوں سے لہولہان ہوئی مگرشعری سفرجاری رکھا۔نوشی گیلانی

ملتان(سخن ور رپورٹ)معروف شاعرہ نوشی گیلانی نے کہا ہے کہ میں نے 80ء کی دہائی میں جب ادبی سفر کا آغاز کیا تو مجھے قدم قدم پر رکاوٹوں کا سامنا کر نا پڑا۔ بہاولپور جیسے قدامت پسند شہر سے کسی لڑکی کا بطور شاعر سامنے آنا کسی کو قبول نہیں تھا لیکن میں نے ثابت قدمی کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا پتھر بھی کھائے ، کانٹوں سے لہو لہان بھی ہوئی لیکن کوئی میرے قدم نہ روک سکا ۔ وہ سخن ور فورم کے زیر اہتمام ملتان آرٹس کونسل کی ادبی بیٹھک میں منعقدہ شام میں اظہار خیال کر رہی تھیں ۔ نوشی گیلانی اور سعید خان کے ساتھ شام کی صدارت پروفیسر انور جمال نے کی اور اس میں ادیبوں شاعروں ، صحافیوں اور دانشوروں سمیت لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ 1983ء میں ملتان سے ادبی سفر کا آغاز کر نے والی بہاولپور کی یہ شاعرہ آج کل آسٹریلیا میں مقیم ہیں اور انہوں نے 16سال بعد ملتان کی کسی ادبی تقریب میں شرکت کی ۔ نوشی گیلانی نے کہا کہ مجھے ادبی سفر میں بہت مزاحمت کا سامنا کر نا پڑاجب میں بہت دکھی ہو جاتی تو میری والدہ میرا حوصلہ بڑھاتی تھیں اگر مجھے گھر سے حوصلہ نہ ملتاتو شاید آج میں اس مقام پر نہ ہو تی ۔ پہلے دس سال تو میں یہی سوچتی رہی کہ کیا میں شاعری جاری رکھ بھی سکوں گی ؟انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں اختلاف دشمنی کا روپ اختیار نہیں کرتی تھی۔ اختلاف ایک رشتے کا نام تھا ایک محبت بھر ا تعلق تھا جو آج بھی برقرار ہے ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہو ئے معروف شاعر اور نوشی گیلانی کے شریک حیات سعید خان نے کہا کہ میں ملتان پہلی بار آیاہوں لیکن یہ شہر مجھے اجنبی محسوس نہیں ہوا ۔ ملتان صوفیاء کی دھرتی ہے یہ محبت کر نے والوں کا شہر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میرا نوشی اور نوشی گیلانی کا پہلا رابطہ بھی سخن ور فورم کی معرفت ہوا اور ہم پہلی بار انٹرنیٹ پر اسی فورم میں ایک دوسرے سے متعارف ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ ثقافت اور صوفیا کے ساتھ وابستگی ہی مجھے ملتان لائی ہے اور ہزاروں سال پرانے اس شہرمیں آنا میرے لئے خوشگوار تجربہ ہے۔پروفیسر انور جمال نے کہا کہ نوشی گیلانی شاعری کے جس مقام پر ہیں وہ مقام انہوں نے بہت ریاضت کے بعد حاصل کیا۔نوشی نے شاعر ی میں نئی لفظیات دی ۔انہوں نے محبت اور عشق کے معنی تبدیل کر دئے ۔ان کی شاعری میں یہ دونوں لفظ انسانیت کے معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔قمر رضا شہزاد نے کہا کہ نوشی گیلانی اس خطے کی پہچان ہیں اور ہمیں ان پر فخر ہے ۔ان کی شاعر ی خوشبو کی طرح ہر خاص و عام میں مقبول ہوئی ۔ رضی الدین رضی نے کہا کہ نوشی گیلانی کو ایک باغی لڑکی قرار دیا گیا ، ایک ایسی لڑکی جو اپنے خوابوں کی بات کرتی تھی اور ایسے معاشرے میں بات کرتی تھی جہاں لڑکیوں کا خواب دیکھنا اب بھی جرم ہے۔شاکر حسین شاکر نے کہا کہ نوشی گیلانی نے اپنے ہی نہیں اس خطے کے دکھوں کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔اس موقع پر مسعود کاظمی، وسیم ممتاز، نوازش علی ندیم اور پروفیسر شگفتہ خاکسار نے بھی خطاب کیا ۔ تقریب میں عباس ملک، افتخار رندھاوا، عمران شہزاد، راؤوحید اسد نے نوشی گیلانی اور سعید خان کو اپنی کتب اور تحائف پیش کئے۔
Viewers: 2129
Share