پروفیسر احتشام حسین اور ان کا عہد، سہ روزہ سیمینار منعقد ایک رپورٹ

احتشام حسین ایک ایسی ہی شخصیت کا نام ہے جو اپنی جگہ پر ہماری ادبی تنقید کی تاریخ ہے
پروفیسر شبنم حمید

الٰہ آباد ۶؍نومبر ۲۰۱۲ ،شعبۂ اردو الٰہ آباد یونیورسٹی کے زیر اہتمام اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کے تعاون سے ’’پروفیسر احتشام حسین اور ان کا عہد‘‘ موضوع کے تحت سہ روزہ سیمینار کا انعقاد عمل میں آیا۔ جس کا افتتاح الٰہ آباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اے۔ کے۔ سنگھ نے شمع روشن کرکے کیا۔ اس اجلاس کی صدارت پروفیسر محمود الحسن، سابق صدر شعبۂ اردو لکھنؤ یونیورسٹی نے کی۔ جب کہ پروفیسر سید محمد عقیل رضوی اور نے مہمان خصوصی، اور پروفیسر مجاور حسین ،پروفیسر قاضی جمال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، علی گڑھ امہمان اعزازی کی حیثیت سے شرکت کی۔ صدر شعبہ اردو اس سیمینار کی کنوینر پروفیسر شبنم حمید نے خیر مقدمی اور استقبالیہ کلمات میں سیمینار کے موضوع ،مقصد اور اس کی اہمیت پر سیر حاصل گفتگو کی ساتھ بعض ایسے نکات بھی پیش کئے جس کی گونج سیمینار میں پیش کئے گئے مقالوں میں سنائی دی ۔
سیمینار کا افتتاح کرنے کے بعد الٰہ آباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اے۔ کے۔ سنگھ نے کہا کہ اگر کسی کو ۱۰۰سال کے بعد بھی یاد رکھا جائے یہ اس شخصیت کی ادبی اہمیت کی ضمانت ہے۔مجھے فخر ہے کہ میں ان کے سیمینار کا حصہ بن رہا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں لگتا ہے کہ اگر ہم اپنے بزرگوں کے بارے پڑھیں تو ہم ان سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ احتشام صاحب نہ صرف اردو بلکہ انگریزی اور تاریخ کے بہت بڑے عالم تھے۔ انھوں نے اس پروگرام کی بہت تحسین کی کہ اس کے ذریعہ اردو کے اور الٰہ آباد یونیورسٹی کے اتنے بڑے عالم، ناقد کو یاد کرنے کا موقع فراہم ہوا۔
انھوں نے اردو کے فروغ کے تعلق سے بہت سی باتیں کیں اور مشترکہ تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعہ اردو کے نئے نئے نکات اور پوشیدہ باتیں روشنی میں آئیں گے ۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ آج ہندوستان کے میسور سے لے کر کشمیر تک کے علماء شعبۂ اردو الٰہ آباد میں احتشام صاحب کی محبت میں اکٹھا ہوئے ہیں۔
سیمینار کا کلیدی خطبہ نقاد، دانشور اور جدید تنقید کے علم بردار ’’پدم شری‘‘ پروفیسر شمس الرحمن فاروقی نے پیش کیا۔ انھوں نے مدلل انداز میں گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرے نزدیک احتشام حسین وہ لعل شب چراغ ہیں جس میں گنے چنے لوگوں کا نام لیا جاتا ہے۔ احتشام صاحب ایک عبقری شخصیت کے مالک تھے۔ وہ اردو کے بہت بڑے عالم تو تھے ہی لیکن وہ جس بھی مدعے پر اپنی بات کہتے تھے معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس شعبۂ علم کے عالم ہیں اور انھوں اس کا بھر پور مطالعہ کیا ہے۔احتشام صاحب نے ہمیشہ ترقی پسند تنقید کی لیکن وہ نئی بات اور نئی فکرکا ہمیشہ خیر مقدم کرتے تھے۔
پروفیسر شبنم حمید نے بتایا کہ پروفیسر احتشام حسین کی علمی شخصیت کا اعتراف ہر شخص کرتا ہے ۔ ان کے ادب پاروں میں علم کا ایک بحر ذخار موجزن ہے۔ انھوں نے تنقید کو یہ تصور دیا کہ کوئی بھی تنقید دوسرے علوم سے وابستگی بالخصوص سماجیات کی بنیاد پر وابستگی نہیں ہے تو وہ تنقید مکمل ہے۔ ادب اور سماج کے رشتے پر ان کے خیال انگیز مضامین اور ان کے نظریات آج بھی طالب علموں کو ادبی مسائل پر غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ میں نے احتشام صاحب کو نہیں دیکھا لیکن گذشتہ ۳۲ برس میں انھیں پڑھتی رہی ہوں یا پڑھانے کا موقع ملا ہے یا ان کے بارے میں مذاکروں میں حصہ لینے کی وجہ سے فکر انگیز اور عالمانہ خیالات سننے کا جو موقع ملا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں نے انھیں دیکھا ہے ان سے پڑھا ہے۔ ان سے سیکھا ہے۔ آج بھی سیکھنے کی ضرورت معلوم ہوتی ہے۔
افتتاحی اجلاس کے مہمان اعزازی پروفیسر قاضی جمال حسین علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے کہا کہ احتشام حسین کی اہمیت وقتی نہیں بلکہ ان کی قدر و قیمت ہر جگہ ہر وقت میں یکساں رہے گی ۔ احتشام صاحب اپنے وقت کی ہر مکتب فکر اور ہر علمی شعبے کے لوگو ں سے مستفید ہوتے تھے۔انھوں پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ احتشام صاحب ایسے پروگرام کے یقینامستحق ہیں۔
پروفیسر مجاور حسین رضوی سابق صدر شعبۂ اردو ، حیدر آباد یونیورسٹی، حیدرآباد نے کہااحتشام صاحب بے شفیق استاد تھے۔جن کے ہونہار شاگردوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔
افتتاحی اجلاس کے مہمان خصوصی پروفیسر سید محمد عقیل رضوی سابق صدر شعبہ اردو نے کہا کہ میں آج جو کچھ بھی ہوں وہ احتشام صاحب کے بدولت ہوں۔ احتشام صاحب کے علمی نور سے شعب�ۂ اردو ۱۰ برس تک بقۂ نور بنا رہا ۔ وہ کم و بیش ہر شعبۂ علم پر یکساں دسترس رکھتے تھے۔
صدر جلسہ پروفیسر محمود الحسن نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ احتشام صاحب ادبی اختلافات کو شخصیت پر حاوی نہیں ہونے دیتے تھے۔ احتشام صاحب نے ترقی پسند تحریک کو ختم کرنے کی تجویز کی شدت سے مخالفت کی۔احتشام صاحب نے جو نظریہ دیا اس کے بعد ایک بڑی تعداد اس نظریہ اور ان کی فکری کو اپنانے والوں کی ہے۔ وہ ایک تنقید نگار ہونے کے ساتھ ہر دل عزیز استاد تھے۔ان کا ماننا تھا کہ پڑھانے کے لئے پڑھنا لازمی ہے۔
صدر جلسہ کی صدارتی تقریر کے بعد سیمینار کی کنوینر پروفیسر شبنم حمید نے رسم تشکر ادا کرتے ہوئے حاضرین محفل کی دل جمعی اور سنجیدگی کو سہ روزہ سیمینار کے لئے نیک فال قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ سیمینارکے بقیہ اجلاس میں موضوع سے متعلق تشنہ گوشوں پر خاطر خواہ گفتگو ہوگی۔
لنچ کے بعد دوپہر ڈیڑھ بجے سیمینار کا پہلا اجلاس پروفیسر سید عقیل رضوی اور پروفیسر زماں آزردہ کی صدارت میں منعقد ہوا اس اجلاس میں متعدد مقالے پڑھے گئے۔ پہلے جلسے کی نظامت پروفیسر شبنم حمید نے کی ۔ اس اجلاس کا پہلا مقالہ پروفیسر مجاور حسین نے ’’آخری چراغ‘‘ کے عنوان سے پڑھا۔ پروفیسر احتشام حسین کی استادانہ خوبیوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ احتشام صاحب شاگرد کی بار بار کی غلطی سے غصہ ہوجانے کے بجائے سمجھاتے تھے اور مشکل باتوں کو اس طرح مزاحیہ انداز میں سمجھاتے تھے کہ بات سمجھ میں آجاتی تھی۔اس اجلاس کا دوسرا مقالہ پروفیسر فضل امام رضوی نے ’’احتشام حسین کی تنقیدی بصیرت‘‘کے عنوان سے پڑھا۔انھوں نے کہاکہ نقاد کبھی بھی غیر جانب دار نہیں ہوسکتا۔احتشام حسین ادب اور زندگی کے رشتے کو لازم و ملزوم ٹھہراتے ہیں۔ ان کی تنقیدی بصیرت کی کئی جہتیں ہیں۔تیسرامقالہ ڈاکٹر زیبا محمود نے ’’احتشام حسین کا تنقیدی شعور‘‘ کے عنوان سے پڑھا۔ انھوں نے اپنے مقالے میں کہااحتشام حسین کی تنقید ہمہ جہتی ہے لیکن وہ بنیادی طور پر فلسفی نقاد ہیں۔ احتشام حسین فلسفیانہ ذہن رکھتے تھے۔ اس اجلاس کا چوتھا اور آخری مقالہ جاوید حیات نے پڑھتے ہوئے کہااحتشام حسین کے نزدیک وہی اصول ، اصول کہے جا سکتے ہیں جو اصول چلانے والے تک محدود نہ رہیں۔ ہر ادیب اور تصنیف ایک نئی بحث لاتی ہے۔ انھوں مواد کے ساتھ ہیئت اور جمالیات کی شمولیت کو ضروری سمجھا۔ انھوں نے ادب میں نئی باتوں اور نئی تجربوں کا ہونا ادب کے لئے نیک فال بتایا اور تمام چھوٹے چھوٹے سے اختلافات سے اوپر اٹھ کر ادب کے کی فلاح کو اولیت دی۔
افتتاحی اجلاس اور پہلے اجلاس میں پیش کئے مقالات پرشرکائے محفل نے کھل کر اظہار خیال کیا ۔ شرکا میں ڈاکٹراسلم جمشید پوری، ڈاکٹر صالحہ رشید، ڈاکٹر یوگیشور تیواری، ڈاکٹر زیب النساء،ڈاکٹر ضمیر احسن، چودھری ابن النصیر،ڈاکٹرنشاط فاطمہ،ڈاکٹر کاشف ،ڈاکٹر فاضل ہاشمی، ڈاکٹر شہناز ارم وغیرہ موجود رہے۔
پروفیسر احتشام حسین دیگر زبانوں اور علوم پر بھی دسترس رکھتے تھے:
پروفیسر جعفر رضا
۷؍نومبر۲۰۱۲ ؁ء، الٰہ آباد، شعبۂ اردو ، الٰہ آباد یونیورسٹی الٰہ آبادمیں ’’پروفیسر سید احتشام حسین اور ان کا عہد‘‘ سہ روزہ سیمینار کا دوسرے دن کا پہلا اجلاس صبح ۱۱بجے شروع ہوا۔ اجلاس میں مقالہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر اصغر عباس نے واضح کیا کہ احتشام حسین ایسے پہلے نقاد تھے جنھوں نے سر سید احمد خان اور ان کے کارناموں پر مفصل مضمون تحریر کیا۔ پروفیسر توقیر عالم (مظفر پور) نے اپنے مقالہ ’’احتشام حسین کی تنقید نگاری‘‘ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کلاسیکی ادب کو ایک مخصوص زاویہ نظر سے پیش کیا۔ سید احتشام حسین کے صاحبزادے ڈاکٹر جعفر عسکری نے احتشام حسین کی ذاتی زندگی پر ’’تصویر پدرآئینۂ دل پر‘‘ کے عنوان سے ایک بہت دلچسپ مقالہ پیش کیا۔ انھوں نے احتشام صاحب کی ذاتی زندگی کے کئی اہم واقعات کو عمدگی سے پیش کیا۔ پروفیسر مہ جبیں نجم نے اپنے مقالہ میں اس طرف خصوصی توجہ دلائی کہ ’’تنقید میں ان کا رجحان اعتدال پسندی کا تھا وہ نہ کسی کو آسمان پر بٹھاتے تھے اور نہ ہی زمین پر لا کھڑا کرتے تھے۔ پروفیسر علی احمد فاطمی نے احتشام صاحب سے اپنے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے احتشام حسین تعلیم و تدریس میں اپنے شاگردوں کے سچے دلدادہ تھے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تشریف لائے پروفیسر قاضی جمال نے ’’پروفیسر احتشام حسین کے تنقیدی تصورات‘‘ کے موضوع پر مقالہ پیش فرماتے ہوئے کہا کہ احتشام صاحب نے ترقی پسند تحریک پر کوئی مبسوط کتاب نہیں لکھی لیکن اس کے باوجود آپ کے مضامین کی حیثیت کتاب سے کم نہیں۔ وہ تنقید میں اصول پسندی کے قائل تھے۔ بغیر اصول و ضوابط کے لکھے گئے تنقیدی مضامین کو وہ تنقید نہیں مانتے تھے۔ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے ’’سید احتشام حسین کے افسانوی تنقید اور ان کی افسانہ نگاری‘‘ کے عنوان پر تفصیلی اور جامع مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے افسانوں میں زندگی کا وہ رنگ بھرتے ہیں جو انھوں نے اپنے آس پاس دیکھا۔ مزید انھوں نے اپنے افسانوں میں حقیقت نگاری پر زور دیا۔
پروفیسر جعفر رضا، پروفیسر مجاور حسین اور پروفیسر زماں آزردہ مجلس صدارت میں شامل تھے۔ اراکین صدارت کے رکن پروفیسر جعفر رضا صاحب نے صدارتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے ماہر علم تھے کہ ان کی ہر مضمون پر پکڑ تھی اور بغیر کسی تیار کے وہ گھنٹوں تک علمی موضوعات پر گفتگو کرسکتے تھے۔ پروفیسر زماں آزردہ نے کہا کہ احتشام صاحب کی شخصیت ایک سایہ دار درخت کی تھی جو اپنے شاگردوں کو ہمیشہ اپنی چھاؤں میں گھیرے رکھتا ہے۔ ایک اچھے استاد میں جو اوصاف ہونے چاہئے وہ سب احتشام صاحب میں پائے جاتے تھے۔ احتشام صاحب کے ریسرچ اسکالر اور معروف ناقد پروفیسر مجاور حسین نے احتشام حسین کی شخصیت اور عہد پر سیمینار منعقد کرنے پر شعبۂ اردو خصوصا صدر شعبہ پروفیسر شبنم حمید کو مبارک باد دی اور کہا کہ میں نے ایسا جلسہ پہلی بار دیکھا ہے جس میں ہر رنگ کا پھول کھلا ہوا ہے۔ اس جلسے کی نظامت کرتے ہوئے صدر شعبہ پروفیسر شبنم حمید نے احتشام حسین کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ احتشام صاحب علوم و فنون کے ایسے ستون کی حیثیت رکھتے ہیں جو ہمیں ہمیشہ روشنی دکھاتا رہے گا۔ شعبۂ اردو ان کا مرہون منت ہے کہ انھوں نے ایک مضبوط و مستحکم اور پائیدار شعبہ ہمیں عطا کیا۔اس دن کے دوسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر فضل امام رضوی اور قاضی جمال نے مشترکہ طور پر کی اور ڈاکٹر آفتاب احمد آفاقی، ڈاکٹر زیب النساء ، ڈاکٹر ریحانہ سلطان، ڈاکٹر حنا افشاں، ڈاکٹر نغمہ پروین اور ڈاکٹر نصرت جہاں نے احتشام حسین سے متعلق مقالات پیش کئے ۔ اس موقع پر پروفیسر نوشابہ سردار اور پروفیسر علی احمد فاطمی ، اسرار گاندھی، چودھری ابن النصیر ، جاوید نظر وغیرہ نے اس میں شرکت کی۔
احتشام حسین ایک ایسی ہی شخصیت کا نام ہے جو اپنی جگہ پر ہماری ادبی تنقید کی تاریخ ہے
پروفیسر شبنم حمید
۷؍نومبر ۲۰۱۲ ؁ء، الٰہ آباد، احتشام حسین صدی تقریبات کے سلسلے میں منعقد سہ روزہ قومی سیمینار کے تحت دوسرے دن دو اجلاس ہوئے۔ شام کو ’’یاد احتشام حسین‘‘ کے عنوان سے ایک مشاعرے کا انعقاد الٰہ آؓاد یونیورسٹی کے سینیٹ ہال میں کیا گیا۔ جس کی صدارت بزرگ شاعر ڈاکٹر ضمیر احسن نے کی اور مشاعرے کے مہمان خصوصی پروفیسر ایم۔ پی۔ دوبے۔ ڈین فیکلٹی آف آرٹس اور مہمان اعزازی پروفیسر آر۔ کے۔ سنگھ ڈین اسٹوڈنٹ ویلفیئر اور جناب قمر الحسن صدیقی ’’چیف اسٹینڈنگ الٰہ آباد ہائی کورٹ تھے۔ مشاعرے کا آغاز پروفیسر ایم۔ پی۔ دوبے نے شمع روشن کرکے کیا۔ اس کے بعد صدر شعبہ اردو پروفیسر شبنم حمید نے شعبہ کے جانب سے مہمانوں کا استقبال کیا۔ کلام پیش کرنے والوں میں جناب ایم۔ اے۔ قدیر، اسلم الہ آبادی، تاجور سلطانہ، پرتپا باجپئی، خواجہ جاوید اختر، اختر عزیز، تشنہ کانپوری، شریف الٰہ آبادی، نجیب الٰہ آبادی، زرینہ بیگم، پروفیسر مہ جبیں نجم (میسور) ، رولی مرڑ النی، مخدوم پھولپوری،فرمود الٰہ آبادی، ظفر سعید جیلانی، دانش الٰہ آبادی، وغیرہ شعراء نے اپنے کلام میں پیش کئے آخر میں رولی مرڑالنی نے ندا فاضلی کی غزل کو اپنی خوبصورت آواز میں پیش کیا۔ شرکا میں ڈاکٹر اسلم جمشید پوری (میرٹھ)، ڈاکٹر ریحانہ سلطانہ (نوئیڈا) ڈاکٹر ناصحہ عثمانی، ڈاکٹر رضوانہ ہاشم، ڈاکٹر محمد کاشف، جناب محمد خالد، عبدالحمید، ڈاکٹر لئیق ایڈوکیٹ، شاداب، غضنفر، محمد شاہد وغیرہ نے شرکت کی۔
۸؍نومبر ۲۰۱۲ ؁ء، الٰہ آباد، آج بروز جمعرات شعبۂ اردو الٰہ آباد یونیورسٹی الٰہ آباد میں سہ روزہ قومی سیمینار ’’سید احتشام حسین اور ان کا عہد‘‘ کے اختتامی اجلاس کا انعقاد ہوا۔ جس میں پروفیسر احتشام حسین کے متعلق چار مقالے پڑھے گئے۔ مقالہ نگاروں میں ڈاکٹر طاہرہ پروین، ڈاکٹر فاضل ہاشمی، ڈاکٹر اشفاق حسین، پروفیسر نوشابہ سردار نے پیش کیا۔ اس جلسے میں اراکین مجلس صدارت پروفیسرنوشابہ سردار ، پروفیسر شبنم حمید ، پروفیسر علی احمد فاطمی مشترکہ طور پر رہے۔
صدر شعبہ اردو اوراس سیمینار کی کنوینر پروفیسر شبنم حمید نے خیر مقدمی اور استقبالیہ کلمات کہے سیمینارکے اختتامی اجلاس کی صدارت پروفیسر سید محمد عقیل رضوی اور مہمان خصوصی پروفیسر آر۔ کے۔ سنگھ ڈین اسٹوڈنٹ ویلفیئر رہے۔ مہمان اعزازی پروفیسر زماں آزردہ صاحب کشمیر یونیورسٹی رہے۔اسی اجلاس میں شعبۂ اردو میں منعقد اردو وراثت میلا کے تحت ڈرامہ اور قوالی شرکت کرنے والے طلبا کو سرٹیفکٹ پروفیسر زماں آزردہ کے ہاتھوں تقسیم کیا گیا۔ اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر سید محمد عقیل رضوی صاحب نے کہا کہ پروفیسر احتشام حسین صرف ایک شخصیت ہی نہیں ایک عہد ہے۔
اس موقع پر اسرار گاندھی ، چودھری ابن النصیر، ڈاکٹر زیب النسا، ڈاکٹر اسلم جمشید پوری(میرٹھ)، ڈاکٹرمہ جبیں نجمم (میسور)، ڈاکٹر کاشف، ڈاکٹر ریحانہ سلطان (نویڈا)، پروفیسر توقیر عالم(پٹنہ)، وغیرہ موجود رہے۔

Viewers: 1123
Share