Haqqani Al Qasmi | Article | ناصرہ شرما کا تخلیقی اُفق

تحریر: حقانی القاسمی
ناصرہ شرما کا تخلیقی اُفق ’شامی کاغذ‘ کے حوالے سے
عورت بنام مرد
ناصرہ شرما کی کہانیوں میں وہ نسائی ذہن کارفرما ہے جو بیک وقت مختلف سطحوں پر متحرک رہتا ہے۔ جب کہ اس تحرک سے مردانہ ذہن محروم ہے۔ نسائی ذہن اس وقت بھی بیدار رہتا ہے جب مردوں کے ذہن کی برقیاتی رو ماند پڑجاتی ہے۔
E.S تھیوری کی روشنی میں دیکھا جائے تو ناصرہ شرما کی کہانی میں emphathysing عنصر حاوی ہے۔ ان کا نسائی ذہن کسی بھی احساس یا جذبے کو فوراً اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ چہرے کے تاثرات سے بھی پوری کیفیت اِس ذہن پر روشن ہوجاتی ہے۔ عورتوں کے پاس emphathysing مائنڈ ہوتا ہے اس لیے ان کے رویے میں ضبط و تمکین اور تحمل بھی ہوتا ہے۔ جب کہ systemising دماغ رکھنے والے مردوں میں تحمل اور برداشت کی کمی ہوتی ہے۔
ناصرہ شرما کا تعلق نسائی تخلیقیت کے اس قافلے سے ہے جس کا عورت کے وجود اور وقار پر اصرار ہے اور جس نے نسائی تشخص، عورت کی فردیت اور فعالیت کے لیے بھی آواز بلند کی ہے۔ عورت کے منفعل وجود کو مسترد بھی کیا ہے، جس نے اپنی تخلیقات میں عورت کو جنسی معروض، بھوگ ولاس کی گڑیا نہیں، بلکہ حساس انسانی وجود کے طور پر پیش کیا ہے۔ عورت کے وجود اور تشخص کے لیے برسرپیکار رہتے ہوئے ناصرہ شرما کی کہانیوں میں عورت کا وہی تصور ہے جو قدیم ہندوستانی روایت میں ہے۔ عورت ایک اردھانگنی کی حیثیت سے ان کی کہانی میں آتی ہے اور شکتی اور شِو کے بنیادی تصور کی تعبیر پیش کرتی ہے۔ شِو اور شکتی کے اتصال سے ہی کائنات میں تحرک اور توانائی ہے۔ اِس اعتبار سے دیکھا جائے تو ناصرہ شرما کی کہانیوں میں اردھ ناریشور کا تصور مرکزی اہمیت رکھتا ہے کہ آدھے مرد اور آدھی عورت سے ہی وجود کی تکمیل ہوتی ہے۔ ناصرہ شرما مرد عورتوں کے رشتے کی منطق اور نفسیات پر گہری نظر رکھتی ہیں اور اس نوع کی کہانیوں میں مرد اساس معاشرے کے اقداری، جبری نظام کی مخالفت تو کرتی ہیں، عورت کی محکومیت کے خلاف آواز بھی بلند کرتی ہیں مگر عورت مرد کے اُس فطری رشتے کی معنویت کو مرکزیت عطا کرتی ہیں کہ مرد عورت نقیض نہیں بلکہ نقیب ہیں۔ حریف نہیں بلکہ حلیف ہیں۔ اس تعلق سے ان کا ایک تصور یہ بھی ہے کہ عورت ہی ایک دوسرے کی حریف ہوتی ہے:
’’بار بار یہی کہتی جارہی تھیں، ہوش میں آ بیٹا، اصفہان کی عورتیں چہرے سے جتنی سفید چمڑی کی ہوتی ہیں اس سے زیادہ ان کا خون سفید ہوتا ہے۔ دیکھنے میں مصری کی ڈلی کی طرح میٹھی اور ٹھوس، کھانے والے کے منہ میں پانی بھر آئے مگر کردار ایسا ملائم ملائی جیسا کہ… پوچھو مت، جس نے چاہا اس کے ہاتھوں میں لپٹ گئی۔‘‘
خانم جان آپ بھی عورت ہیں، پھر عورت ذات کی مذمت کیسی؟ مشہد کے مرد کیا کم برے مشہور ہیں مگر آپ کے گھر میں ہیں…‘‘
ان کے ہاں عورت کے وجود کا اثبات تو ہے مگر مرد کے وجود کی نفی کی بنیاد پر نہیں اور یہی اُن کا نسائی شعور و ثقافت ہے جس نے ان کی کہانیوں کو اعتبار اور وقار عطا کیا ہے اور کسی ایک نظرئیے یا ناحیے سے اُن کی کہانی کی قرأت قاری کو گمراہ کرسکتی ہے۔ ناصرہ شرما نے اپنی کہانیوں میں اُس منطق کو ملحوظ رکھا ہے جو مرد اور عورت کے درمیان توازن کو برقرار رکھتی ہے۔ ناصرہ شرما کے نسائی شعور کی عکاسی اس اقتباس سے ہوتی ہے:
’’عورتیں کوئی لباس نہیں ہیں جو صبح و شام بدلی جائیں اور انہیں اترے کپڑوں کی طرح غسل خانہ کے کونے میں گندی چھینٹوں کے حوالے کردیا جائے۔ وہ بھی انسان ہیں انہیں دیوی کے آسن اور فاحشہ کے نابدان سے نکال کر انسان کی طرح اچھائی برائی کے ساتھ جینے کا حق دیا جائے۔‘‘
(خوشبو کا رنگ)
ناصرہ شرما عورتوں کے امپاورمنٹ کی بات کرتی ہیں۔ سماجی، سیاسی فعالیت اور تحرک کے تئیں بیداری بھی پیدا کرتی ہیں۔ ان کی کہانیوں میں عورت کے مکمل وجود کا اظہار ہے۔ ناصرہ شرما کے تانیثی بیانئے میں عورت معروض نہیں، موضوع کی حیثیت سے شامل ہے۔ شامی کاغذ کی کہانیوں میں انہوں نے عرب مسلم معاشرے میں فیمنزم کی مختلف تعبیرات اور اظہارات پیش کئے ہیں۔ ان کی کہانیوں کے ذریعے اسلامک فیمنزم کی تفہیم بآسانی کی جاسکتی ہے۔ ان کہانیوں میں جو سماجی مسائل یا انفرادی نفسیاتی مسائل ہیں وہ ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور فرد اور معاشرے کے رشتوں کی عکاسی بھی ہے۔
ناصرہ شرما کی کہانیوں میں حاشیائی، سماجی وجود کے خلاف جدوجہد بھی ہے مگر وہ یک رخی ادراک نہیں ہے جو اکثر فیمنزم کے شدت پسند علمبرداروں کے یہاں ملتا ہے۔ ان کے پاس ادراک کی امتیازی قوت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی وحدانی سوچ نہیں ہے اور نہ ہی ان کے یہاں اس طرح کی نسائی کلیت پسندی ہے اور نہ یک زاویاتی نگاہ۔ ان کے ذہن پر مرد کا وہ منفی امیج حاوی نہیں ہے۔ ان کی کہانیوں میں مرد جنسی جارحیت اور استحصال پسند غیرانسانی حیوانی صفات کے مالک امیج سے الگ ہی نظر آتے ہیں۔ ان کے یہاں مردانہ کردار کا demonization نہیں کیا گیا ہے۔ بلکہ مرد کرداروں کو ویسے ہی پیش کیا گیا ہے جیسے سماج میں ملتے ہیں۔ ان کی کہانیوں میں مرد عورت کی جدلیاتی کیفیت کا بہت ہی عمدہ بیان ملتا ہے۔ انہوں نے اجتماعی شعور کے بحران اور کلچرل شیز وفیرنیا کو بھی بہت عمدگی کے ساتھ پیش کیا ہے۔
ناصرہ شرما عورت مرد کے دائرہ کار کا تعین بھی کرتی ہیں اور مردوں کی نفسیات پر وار بھی۔ ’’آب توبہ‘‘ میں صیغے کا ذکر اسی تناظر میں ہے کہ مرد صیغے کے لیے آزاد ہے۔ جب کہ عورت کو اس کی اجازت نہیں ہے:
’’لو اور سنو! کسی کا میاں ہر تین ماہ بعد ’صیغہ‘ کرے151 اور تم اس سے کہو، کچھ ہوا ہی نہیں۔‘ صنوبر خانم سینہ پیٹ کر ہاتھ نچا نچا کر بولیں۔
’ٹھیک تو کہہ رہی ہے سوسن151 تم بھی صیغہ کرلو صنوبر خانم! تبھی وہ بوڑھا کھوسٹ سدھرے گا۔ قبر میں پیر لٹکائے اور میاں کو ہری ہری سوجھ رہی۔‘ زینب نے اکتا کر کہا۔
ایک اور اقتباس:
’’عورت کا اور کام ہی کیا ہے!‘ وہ ہنسی اور پھر سینے کی طرف اشارہ کرکے بولی ’یہ خدا نے کس لیے دئیے ہیں؟ خدا کے بعد پیدا کرنے کا حق عورت کو ملا ہے اور میں عورت ہوں۔ سینے نہیں دیکھتی ہو، کیسے بھاری ہورہے ہیں! ہر بچے کو دو سال تک اپنا دودھ پلایا ہے151 اور پھر بچے تو جوانی کی نشانی ہوتے ہیں۔ اس کے چہرے پر گیارہ بار کئے گئے اپنی محبت کا اعلان کا رنگ جھلک رہا تھا۔ اس میں فخر تھا، چنوتی تھی، اعتماد بھی تھا۔‘‘
’’مردوں کے ساتھ کام کرنے میں اسے ایک ہی شکایت تھی کہ وہ عورت کے کام، ذہانت سے زیادہ اس کے عورت ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں جیسے ان کا عورت ہونا ان کی زندگی کی کامیابی ہے۔ ہر رشتہ عورت مرد کی سطح پر جاکر لچک جاتا ہے۔ کیوں وہ صرف دماغ، صرف کام، صرف حصولیابی نہیں رہ پاتا؟ لچک ضروری ہے۔ قدرت کا یہ قانون ہے، وہ جانتی ہے، مانتی ہے، محبت کے بغیر کسی بھی تخلیق کا وجود میں آنا ناممکن ہے، لیکن قدرت کے اس فطری قانون کو ہر عورت مرد کے رشتے میں نافذ کیا جانا عجیب نہیں ہے کیا؟ اسے بڑا عجیب سا لگتا ہے جب لوگوں کا دائرہ کام سے ہٹ کر اس کی شخصیت کے چکر کاٹنے لگتا اور وہ جھنجھلا کر سوچتی آخر کب تک تو عورتوں کی یہ تصویریں مرد کے فریم میں گھٹتی چیختی رہیں گی؟‘‘ (آبِ توبہ)
سماجی، سیاسی سیاق و سباق
ناصرہ شرما نے معاصر سیاسی، سماجی، تہذیبی، نسلی، لسانی تصادم کو تخلیقی آنکھ سے پرکھا ہے اور ان تصادمات کے مرکزی نقطے کو تلاش بھی کیا ہے۔ انہیں مشرقِ وسطیٰ، سینٹرل ایشیا کے سماجی و سیاسی احوال سے آگہی بھی ہے۔ وہاں کے سیاسی مدو جزر اور نشیب و فراز سے واقف بھی ہیں۔ ان کی کہانیوں کی کتھابھومی مشرقِ وسطیٰ اور وسط ایشیا کی سماجی، سیاسی، تہذیبی حسیت ہے۔
ناصرہ شرما کی بیشتر کہانیو ں میں بے وطنی کا کرب نمایاں ہے۔ ان کے جتنے بھی کردار ہیں، زیادہ تر تن بہ تقدیر یا تقدیر کی جبریت کے شکار ہیں۔ ’’موم جامہ‘‘ کا ’بدیع لبنانی‘ اور ’زبیبہ شامی‘ بھی تقدیر کے بھنور میں پھنسے ہوئے کردار ہیں جن کے راستوں میں صرف اندھیرے ہی اندھیرے ہیں۔ ان کے نصیب میں مسرت، عافیت، سکون نہیں بلکہ اضطراب، بے چینی، بے کلی ہے۔ ان کی ذرا سی مسرت بھی ایک لمحے میں ملبے میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ بدیع اور زبیبہ بہت جدوجہد کے بعد لبنان تو پہنچ جاتے ہیں مگر گھر پہنچنے سے پہلے ہی ان کا گھر کھنڈر میں تبدیل ہوچکا ہوتا ہے۔ پورا کنبہ بمباری کی زد میں آکر لقمہ اجل بن چکا ہے۔ بدیع اور زبیبہ دونوں اندھی گلی میں راستہ ڈھونڈھنے والے کردار کی طرح بھٹکتے رہتے ہیں۔ اس امید میں کہ سرزمین کی تقدیر بدل جائے گی۔ زمین کی تقدیر بدل بھی جاتی ہے مگر ان کی تقدیر میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ یہ حالات کی ستم ظریفی ہی ہے اور تقدیر کی جبریت کہ ایک انجینئر کو میکینک اور ڈاکٹر کو خادمہ بنا دیا۔ یہ دونوں کردار سیاسی اور مذہبی جبریت کے شکار ہیں اور اسی جبریت نے ان سے ان کا وطن چھین لیا۔ ان کی ساری مسرتیں اور زندگی کی لطافتیں چھین لیں۔ حتی کہ ایک نئے بچے کی آمد سے خوش ہونے کے بجائے یہ پریشان ہوجاتے ہیں۔ متحارب اور متصادم سیاسی طاقتوں نے خوف کی ایسی سائیکی پیدا کردی ہے کہ انسان زندہ ہوتے ہوئے بھی مردہ محسوس ہوتا ہے۔ بدیع اور زبیبہ ایسے ہی خوف زدہ کردار ہیں جن سے ملک اور سیاست اور مذہب کی جبریت نے سارے خواب، سارے امنگ چھین لیے ہیں۔ ’’غنچہ دہن‘‘ کی ’مہرماہ‘ بھی ایک ایسا کردار ہے جو انقلاب اور اقتدار کی جبریت کی شکار ہوجاتی ہے۔ اقتدار کی اندھی آنکھیں معصوم اور مجرم کا امتیاز نہیں کرپاتیں۔ غنچہ دہن کی کردار مہرماہ ایک معصوم سی لڑکی ہے جسے پاسدارانِ ایران اور کمیٹی والے اٹھا لے جاتے ہیں اور پھر صورتِ حال یہ ہوتی ہے کہ وہ قید ہی میں مرجاتی ہے۔ اس کے ساتھ انقلاب کے پاسدار جو سلوک کرتے ہیں، اس کی عکاسی ناصرہ شرما نے یوں کی ہے:
’’غنچہ دہن تو تھی ہی زور زبردستی میں دہن کے دونوں پٹ چِر گئے۔‘‘
اِس کہانی میں اس سفاکی کی تصویر ہے جو مذہبی انقلاب کے نام پر ملکوں میں جاری و ساری ہے جہاں اقتدار کا کوئی اصول نہیں، بغاوت کو یا احتجاج کو کچلنے کے لیے کوئی بھی حربہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جہاں عورت کی عصمت لوٹنا شاید اقتدار کے فیشن یا اخلاقیات میں شامل ہے اور اس میں کسی کم عمر اور پختہ عمر کی تمیز نہیں کی جاتی۔ کہانی کا ایک جملہ انقلابی لوگوں کی ذہنیت کو آشکار کرنے کے لیے کافی ہے:
’’پختہ لڑکیاں بھیجو، تو جواب آتا ہے، کہ چوزوں کا گوشت زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔‘‘
اس طرح کے کردار ناصرہ شرما کی کہانیوں میں بہت ہیں جو جبریت، سفاکی کے شکار ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے تعلق سے جو کہانیاں یا کردار ہیں ان میں بھی حالات کی جبریت اور اقتدار کی سفاکی کے شکار کردار کی ہی کثرت ہے۔
ناصرہ شرما کی کہانیاں اُداس، افسردہ اور اذیت آشنا لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ اپنی زمین سے کٹے ہوئے یا اپنی زمین پر ہی بے زمینی کا کرب سہنے والے سیاسی، سماجی اذیتوں کے شکار جنگ زدہ جن کے سہانے خواب بھی چھین لیے گئے۔ آرزوئیں امنگیں چھین لی گئیں اور تقدیر میں اذیت ہی اذیت لکھ دی گئی۔ تقدیر کے مارے ہوئے ایسے ہی مجبور لوگوں کی کہانیاں ’’شامی کاغذ‘‘ میں ہیں۔
’یہودی سرگرداں‘ کا کردار بھی جبریت کا شکار ہے۔ اِسی طرح ’’زیتون کے سائے‘‘ میں بھی وہی جبریت کی فضا ہے۔ ’’موم جامہ‘‘ میں بھی بدیع لبنانی، زبیبہ شامی کے ساتھ وہی جبری فضا ہے۔ ’جہاں نما‘ میں بھی کمال اور نبیلہ جبر کی زندگی برداشت کرتے ہیں۔ ’خوشبو کا رنگ بھی‘ اِسی نوع کی کہانی ہے۔ اُڑان کی شرط، میں بھی ایسی ہی سفاکیت ہے۔
ناصرہ شرما کی کہانی کا بنیادی موضوع بے وطنی کا کرب ہے اور اِسی کرب کو انہوں نے اپنی کہانیوں میں بیان کیا ہے اور سب سے زیادہ بے وطن چونکہ عورت ہوتی ہے اِس لیے عورت کی بے وطنی کا کردار ان کہانیوں میں زیادہ روشن ہے کہ عورت وطن میں رہتے ہوئے بھی بے وطن ہوتی ہے۔ بے وطنی عورت کے وجود سے لپٹی ہوئی ہے۔ ’’خوشبو کا رنگ‘‘ اور ’’گونگا آسمان‘‘ میں عورت بے وطن نظر آتی ہے۔ ’’پل صراط‘‘ کی لیلا‘‘ کہتی ہے:
’’بس یہ لگتا ہے کہ تیس سال کی لڑکی کا کوئی گھر نہیں رہ جاتا ہے۔ یہی گھر بچپن سے میرا کہلایا مگر آج مجھے کسی بات کی آزادی نہیں۔‘‘
ناصرہ شرما کی کہانیوں کے زیادہ تر کردار کافکا کے کردار کی طرح لگتے ہیں۔ بیشتر کرداروں کی تقدیر ایک جیسی نظر آتی ہے۔
کرداری تنوع
ناصرہ شرما نے اسٹیریو ٹائپ کردار سے گریز اور اجتناب برتا ہے۔ ان کے ہاں متھ شکن کردار ملتے ہیں۔ مفروضوں اور واہموں پر مبنی کردار کے لیے ان کی کہانی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ مرد کردار ہوں یا عورت دونوں حقیقی شکل میں ان کی کہانیوں میں جگہ پاتے ہیں۔
(الف ) نسائی کردار
ناصرہ شرما کی کہانیوں میں عورت اپنے مختلف کردار میں ابھرتی ہے۔ ان کے یہاں نسائی کردار صرف ایثار و عطوفت کا نمونہ نہیں ہیں بلکہ انقلاب اور بغاوت کا بھی پیکر ہیں۔ ان کے یہاں توانا نسائی کردار بھی ہیں اور کمزور بھی۔ اور کہیں کہیں تو عورت میں مردانہ کردار کی تقلیب بھی نظر آتی ہے۔ ’جہاں نما‘ میں نبیلہ ایک انتہائی توانا کردار ہے۔ اِس کردار کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ عزم و استقامت کی پیکر ہے اور زندگی کے کسی مرحلے پر وہ شکست نہیں کھاتی بلکہ ایک نئے حوصلے کے ساتھ میدانِ عمل میں سرگرم رہتی ہے۔ جب کہ اس کے برعکس کمال جیسا کردار وقت اور حالات کی زَد میں آکر شکست اور ریخت سے دوچار ہوتا ہے اور ایک مضبوط کردار دیکھتے دیکھتے ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے۔ نبیلہ ایک توانا، مستحکم، مضبوط نسائی کردار کے طور پر ابھرتی ہے۔ جب کہ نبیلہ ایک نرم رومان والی لڑکی ہے مگر اس کے کردار کی استقامت اور صلابت یوں ظاہر ہوتی ہے کہ جب کمال اپنی زندگی سے اوب جاتا ہے اور آرا م دہ زندگی کی خواہش کرتا ہے اور جدوجہد سے راہِ فرار اختیار کرتا ہے تو وہ کہتی ہے:
’’کچھ بدلا کیوں نہیں ہم نے؟ سسٹم نہ سہی مگر دماغوں کو روشن تو کیا ہے۔ کل وہ دن بھی آجائے گا جب ہمارے نظام میں بدلاؤ آئے گا۔‘‘
اِسی طرح ’’شامی کاغذ‘‘ کی ’پاشا‘ ایثار اور محبت کی ایک مثالی کردار ہے جو اپنی محبت اور یادوں کے سہارے زندہ رہنا چاہتی ہے۔ مگر کسی اور کا احسان نہیں لینا چاہتی۔ بیماری کی حالت میں محسن کے کمبل کا لمس انتہائے محبت کی نشانی ہے۔ زندگی کے ان لمحوں میں بھی جب اسے کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے تو محسن کے ماضی کے لمس کے ساتھ زندہ رہنے کو بہتر سمجھتی ہے اور صاف صاف کہتی ہے:
’’محمود آج کے بعد کبھی میرا غم بانٹنے کی کوشش مت کرنا۔ یہ غم ایسا نہیں ہے جو خوشی میں بدلا جاسکے۔ ہمارے تمہارے مہران کا مطلب ہے کہ میں اپنے جسم سے محسن کا ہر لمس مٹا دوں۔ ہر لمس جو مجھے جینا سکھا رہا ہے اسے پونچھ ڈالوں۔ جب میں دل اور دماغ سے اسے نہیں مٹا سکی تو میں جسم سے اسے کیوں مٹاؤں؟ کیا مجبوری ہے؟
اپنی زندگی میرے ساتھ خراب نہ کرو محمود۔ مجھ سے بہتر جگہ اس کا استعمال کرو جہاں اس کی ضرورت ہو۔ جہاں اس کی قدر ہوسکے151 اور پھر محمود میں بھی کوئی شامی کاغذ تھوڑے ہی ہوں کہ جب ضرورت پڑی اسے دھو کر دوسرا فرمان لکھ دیا۔ میں انسان ہوں اور انسان کے دل پر لکھے حروف بار بار دھوئے نہیں جاسکتے ہیں۔‘‘
پاشا جہاں اپنے مرحوم شوہر کی یادوں کے لمس کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرتی ہے اور ’خوشبو کا رنگ‘ کی کردار جہاں یہ کہتی ہے کہ ’’تم نے میرے ماتھے کا بوسہ لیا تھا جس کی سوزش آج بھی مجھے محسوس ہوتی ہے۔ اس لمحہ بھر کی تمہاری مردانہ خوشبو نے مجھے زندگی بھر کے لیے تشنگی میں مبتلا رکھا۔‘‘ اور اِس خواہش کا اظہار کرتی ہے ’’کاش میں تمہارے قریب دفن ہوسکتی، کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ کیوں نہیں؟ زندگی میں نہ سہی مر کر تو تمہاری قربت حاصل کرسکتی ہوں۔‘‘ وہیں ’’سنگسار‘‘ کی ’آسیہ‘ زوجیت کی زنجیر کو توڑ کر ’وصالِ غیر‘ کی گرمی سے اپنے بدن میں شبنمی انبساط اور امتداد کیف محسوس کرتی ہے۔ ایک نئے سکھ کی تلاش میں دوسرے مرد کے ساتھ اپنی خواہشات کی تکمیل کرتی ہے۔ آسیہ کی سوچ اور اس کا تصور حیات وہی ہے جو آج کی ایک نئی مضطرب عورت کا ہوسکتا ہے۔ ناصرہ شرما نے اس نسائی کردار کے جنسی شعور اور حساسیت کا نقشہ یوں کھینچا ہے:
’’سب کچھ بدل گیا151 اندر اور باہر۔‘ اس نے جھانک کر باہر دیکھا۔ آنکھوں میں نظر آتا نیلا آسمان اور پیڑو ں کے ہرے پتے کبھی اتنے چمکدار اور سورج کبھی اتنا جاندار نظر نہیں آیا تھا۔ وہ کپڑے اٹھانے جھکی تبھی بالوں سے ڈھکی پیٹھ کے نیچے اس کو گرم انگلیوں سے چھوا۔ ’وہ جاگ گیا شاید۔‘ شرمائی آسیہ بغیر مڑے سیدھی کھڑی ہوگئی۔ انگلیاں اب ہتھیلی بن کر اس کے پیروں کو سہلا رہی تھیں۔ ساری زندگی کی تھکان ٹوٹی زنجیر کی طرح اس کے پیروں سے اترنے لگی۔ وہ سب کچھ بھول گئی۔ اتنا یاد رہا کہ دو گرم بانہیں پہلی جیسی گرمی اور تشنگی کے ساتھ اس کی کمر کے گرد بندھ گئیں اور وہ کسی بھنور کی طرح اس بدن سے لپٹ گئی۔ ماتھے کے قریب گرم سانسوں کے لمس سے آسیہ نے چہرہ اوپر اٹھایا، بھاری پلکیں کھولیں، آنکھیں ملیں اور اندر کی کھولتی، ابلتی خوشی باندھ توڑ گئی۔ زندگی سے بھرپور دونوں کی ہنسی ایک ساتھ ایک آواز میں کمرے میں گونج اٹھی۔
’سچ ہے، انسان کو اپنے سکھ کی تلاش خود پوری کرنی پڑتی ہے۔‘ آسیہ نے گرم ہونٹوں کو اس کے سینے پر رکھ دیا۔ شہد کے منوں مٹکے ایک ساتھ لڑھکے، ایک دوسرے کے جسم کی بو سونگھتے، ایک دوسرے کو پوری طرح پانے کے لالچ سے بے چین، دونوں کھلتے کملوں کے بیچ مدہوش تھے۔‘‘
آسیہ ایک باغی کردار ہے۔ وہ اپنے سیدھے کمانے والے شریف شوہر سے مطمئن نہیں۔ وہ ’کچھ اور‘ کی تلاش میں نکلتی ہے۔ اس کا جنسی رویہ اور نظریہ شادی کے بعد تبدیل ہوتا ہے۔ وہ سماجی قانون اور اقدار کو تسلیم نہیں کرتی۔ وہ صاف کہتی ہے:
’’ آپ کا پرانا قانون نئی پریشانیوں کا حل نہیں جانتا۔ مرتے گھٹتے انسان کی مدد کو نہیں پہنچتا ۔ اس لیے آپ زندگی کو خوف کی دیواروں میں چن دینا چاہتی ہیں تاکہ انسان ایک بار ملی زندگی بھی کھل کر نہ جی سکے۔ ‘‘
’’سماج، کون سا سماج؟ عورت مرد کا آپسی رشتہ، کسی سماج، کسی قانون کا محتاج نہیں ہوتا ہے۔ اِس لیے میں بھی نہیں ہوں۔‘‘
’’اگر شوہر دار عورت کو مرد پوری طرح حاصل نہ ہو اس کی اپنی خواہشوں اور تمناؤں کے مطابق تو پھر تمہارا سماج اور قانون کوئی حل بتاتا ہے۔‘‘
’’وہ بستر پر میری تکمیل نہیں ہے، یہ میں جانتی ہوں۔ اس کا جوڑا بھی کہیں ہوگا۔‘‘
یہاں آسیہ ایک ایسے کردار کے طور پر سامنے آتی ہے جو ’تھوڑا اور‘ کی تلاش میں اتنی دور تک نکل آتی ہے کہ وہ سماج کی نظر میں سنگسار کی سزا وار ہوتی ہے، آسیہ کے لیے جسم ہی سب کچھ ہے۔ وہی زندگی کی حقیقت اور جینے کا مقصد ہے۔ آسیہ ایک ایسی عورت ہے جو سماجی مذہبی بندھنو ں کو توڑ کر ’جسمانی جنت‘ میں جینا چاہتی ہے۔ جب اسے سنگسار کرنے کے لیے لایا جاتا ہے تو وہ اپنی آخری خواہش کا اظہار یوں کرتی ہے:
’’میری جنت، ایک لمحے کے لیے ہی مجھے واپس دے دو۔‘‘
اس سے پہلے بھی وہ یہ کہتی رہی ہے:
’’کہ، میری جنت مت چھینو، سب کی نگاہ میں یہ گناہ سہی، مگر کرلینے دو مجھے یہ گناہ۔ یہ میرے تجربے کی حصولیابی ہے۔ اِس پر کسی کا حق نہیں ہے۔‘‘
آسیہ کی کردار نگاری میں بھی ناصرہ نے عمومی تصور سے ایک الگ اور اسٹیریو ٹائپ سے منحرف ایک کردار وضع کیا ہے۔ آسیہ کی infedility اور ازدواج سے ماورا جنسی رشتہ (Extra marital affairs) سے تصور یہ ہوتا ہے کہ اس کا تعلق کسی بڑے خاندان یا کارپوریٹ سیکٹر اور Ladette کلچر سے ہوگا یا معاشی طور پر خودمختار آزاد ہوگی۔ مگر یہاں آسیہ کا تعلق نہ کارپوریٹ سیکٹر سے ہے اور نہ ہی وہ معاشی طور پر خودمختار ہے۔ آسیہ ایک adulterous عورت ہے اور متوسط طبقے سے تعلق ہے۔ پھر بھی اپنی جسمانی اور جذباتی ضروریات کی تکمیل کے لیے outsourcing کا سہارا لیتی ہے جب کہ یہ وبا اعلیٰ طبقے میں ہے۔ مگر ناصرہ شرما نے آسیہ کی کردار نگاری کے ذریعہ یہ واضح کردیا ہے کہ اس طرح کا رویہ اور رجحان کسی ایک کلاس یا طبقہ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اِس طرح کی ذہنیت کسی بھی سطح کی عورت میں جنم لے سکتی ہے۔
’’آبِ توبہ‘‘ کی کردار ’سوسن‘ ایک ماہر نفسیات ہے۔ زندگی میں پاکیزگی، شفافیت اور سچائی کی قائل ہے۔ مثبت نسائی سوچ کی حامل جس کی عکاسی ناصرہ شرما نے یوں کی ہے:
’’اسے ان عورتوں اور لڑکیوں سے کتنی سخت نفرت تھی جو ترقی کے نام پر آوارگی کرتی ہیں۔ نئی راہ عورتوں کو نہیں دیتی ہیں بلکہ کھلی راہ بند کرتی ہیں۔
اسے ان عورتوں سے نفرت تھی جو شادی شدہ مردوں سے رشتہ قائم کرتی ہیں اور دوسری عورت کا حق چھینتی ہیں، ان کے گھر کو مسمار کرتی ہیں۔ اسے ان لوگوں سے نفرت تھی، جو اپنے نظریات کی قربانی ذرا سی عیش و عشرت پاکر کردیتے ہیں۔ اسے ان عورتوں سے چڑھ تھی، جو مردوں کے آگے جھک کر غلط طریقے سے وہ سب حاصل کرتی ہے جو ان کا حق ہے، مگر جانے کیوں، وہ سب حاصل کرنے کے لیے جسم سے ہوکر گزرتی ہے۔
اپنے کو آگ میں تپاتی نہیں ہیں، سونے میں نہیں ڈھال پاتیں، بس آسانی سے سب کچھ پانا چاہتی ہیں۔ یہ تجارت ہے، یہ کھلی تجارت۔ آج بھی، رنگ و روپ کو بدل کر بھی، اسی ناو میں جانوروں کے لیے چارہ سانتی ہیں۔ یہ ترقی نہیں ہے، یہ بھٹکن ہے۔‘‘
مگر ایک ذرا سی غلطی سے وہ عمر بھر پشیماں رہتی ہے۔ اس پشیمانی کے باوجود بھی خودکشی نہیں کرنا چاہتی بلکہ زندہ رہ کر اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ سوسن ایک معصوم کردار ہے مگر ایک مرد جب اس کی معصومیت کو منہدم کرتا ہے اور گناہ و ثواب کے نئے تصور سے اس کے ذہن کو آلودہ کرتا ہے اور جبراً اس سے ایک گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو وہ پشیمانی اور ندامت کے عالم میں زندگی گزارتی ہے اور پوری زندگی اِسی پشیمانی کے احساس میں کاٹ دیتی ہے۔ناصرہ شرما نے اس کی پشیمانی کے احساس کو یوں اظہار عطا کیا ہے:
’’راتوں کی نیند کب کی اس سے روٹھ چکی تھی۔ اب تو یہ عالم ہے کہ جب بھی وہ بستر پر لیٹتی، اسے اپنی خودسپردگی یاد آجاتی۔ وہ سارے لمس، پھر اس لمس میں ڈوبا اس کی بیوی کا اور مختلف عورتوں کے لمس گڈمڈ ہوجاتے۔ اسے اپنے عضو سے نفرت ہونے لگتی، اپنی ساری شخصیت سے نفرت! دل میں پچھتاوا، گہرا پچھتاوا ہوتا، وہ کہاں گری؟ گندگی سے بھرپور نابدان میں! اس کا دل مچلنے سا لگتا۔ اس کی غلطی کہاں پر تھی، جو یوں انجانے ہی کسی کی ہوس کا نشانہ بن گئی۔ اسے بہت کچھ ملا، مگر اس کو کچھ نہ ملا، سوائے روح کو کچوٹتی آہ و بکا کے، جو گھن کی طرح اسے مسلسل کھوکھلا کررہی ہے اور اسی بے چینی میں وہ ٹیریس پر ٹہلتی رات گزار دیتی۔
161
شمشاد نے اپنے کو کیسا صاف ستھرا، سلجھا ہوا دکھایا تھا۔ عام مرد کے چھچھورے پن سے اوپر اٹھ کر۔ نکلا وہ عام ہی مرد151 چھچھورا، گھنونا، شہوت پرست اور چونکہ وہ سائیکلوجسٹ ہے، اس لیے پہلے اس نے سوسن کے دماغ کو پڑھا۔ پھر اس کے ہر اہم پہلو پر سیاہ لائن کھینچی، مہرے بٹھائے اور پھر آسانی سے اپنی منزل پالی۔ ورنہ جہاں کسی دستک پر دروازہ نہ کھلا ہو، وہاں یوں پورے گھر کے لٹ جانے کا کیا مطلب؟‘‘
’’اُڑان کی شرط‘‘ کی کردار ’مہشی‘ عافیت پسند اور قدرے خودغرض نظر آتی ہے۔ وہ طبعاً آزاد مزاج ہے۔ جیسا کہ اس کے سگریٹ کے لمبے لمبے کش لینے سے پتہ چلتا ہے۔ اور اس کی طرف کہانی میں بھی یوں اشارہ موجود ہے:
’’مہشی کو دیکھ کر ایک نئی نظم اس کے خالی ذہن میں کلبلانے لگی تھی، جس کا ردیف قافیہ بالکل آزاد تھا، پرانی بندش سے جداگانہ!‘‘
مگر ذہنی طور پر اس کا سروکار سامراج واد سے ہے اور وہ اپنے ایک مخصوص قبیلہ جاتی نسلی اور لسانی رسوم و قیود کی اسیر نظر آتی ہے۔ اس کے کردار میں عدم برداشت کی کیفیت ہے۔ ناصرہ شرما نے اِس کردار کو اِس طور پہ پیش کیا ہے کہ مہشی اپنے متوفی شوہر کی جائیداد سے محروم بھی نہیں رہنا چاہتی اور دوسری شادی کا سکھ بھی اٹھانا چاہتی ہے۔ اسے یہ بھی احساس ہے کہ ایک اور عورت اِس گھر میں مسلسل اس کے ساتھ سانس لے رہی ہے۔ اس کو تحقیر آمیز نظروں سے گھور رہی ہے:
’’فوزیہ کی ماں کی کوئی تصویر اس گھر میں نہیں تھی۔ مگر مہشی کو لگتا کہ ایک اور عورت اس گھر میں مسلسل اس کے ساتھ سانس لے رہی ہے۔ اسے تحقیر آمیز نظرو ں سے گھور رہی ہے۔‘‘
وہ پارسی ذہن کی ہے اور پورا خاندان عرب اور اشتراکیت مخالف ہے۔ اِسی لیے طالب کو برداشت کرنا ان کے لیے مشکل ہورہا ہے۔ مہشی ایک خودغرض کردار کے طور پر سامنے آتی ہے۔ طالب کے ساتھ ذہنی اور جذباتی ہم آہنگی پیدا نہیں کرپاتی بلکہ تناؤ اور تصادم کی کیفیت میں رہتی ہے۔ عرب عجم کی تفریقی سیاست کا زہر اس کے جسم اور اس کے ذہن میں بھی ہے۔ اسی لیے وہ طالب کے ملک میں طالب کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتی۔
’’پل صراط‘‘ کی ’لیلیٰ‘ ایک توانا اور مثبت کردار ہے جو اپنے وطن سے بے پناہ محبت کرتی ہے۔ وطن کی مٹی سے اسے پیار ہے اور وطن کی مٹی سے نفرت کرنے والوں سے نفرت۔ وہ اپنے شوہر حسن سے اِس لیے نفرت کرتی ہے کہ اس نے وطن کے بجائے اپنے مسلکی رشتے کو ترجیح دی اور عراق کی زمین کو چھوڑ کر ایرانی فوج میں شامل ہوگیا اور اپنے ہی وطن کے خلاف لڑنے لگا۔ لیلیٰ کا کردار یہاں ایک وطن پرست کردار کے طور پر سامنے آتا ہے۔ ایک طرف حسن ہے جو نظرئیے اور سرحد کے تنگ دائرے میں قید ہے تو دوسری طرف ان تمام دائروں سے آزاد لیلیٰ ہے۔ اس کی سوچ اس جملے میں ظاہر ہوتی ہے:
’’عراق پر گرا ہر ایرانی بم سیدھے میرے دل پر وار کرتا تھا۔ اور تباہ بستیاں جانے کیوں مجھے گناہ کا احساس دلاتی تھیں کہ میں تھی جس نے تمہیں پسند کیا تھا اور یہ تم ہو جو اپنی خاک سے رشتہ توڑ کر اس کی تباہی کا سامان پیدا کررہے ہو۔ انسان تو کسی بھی خیال، کسی بھی عقیدہ، کسی بھی مذہب، کسی بھی نظرئیے سے پہلے پیدا ہوا تھا۔ پھر اتنے پرانے اس آپسی انسانی محبت کے رشتے کو توڑ کر تم نظرئیے اور سرحدوں کے تنگ دائرے میں کیسے قید ہوگئے؟ تم اتنے تنگ نظر کیسے بن گئے حسن؟‘‘
’’میں کچے رنگ کی پڑیا نہیں تھی اور نہ حسن موسلا دھار گرتا آبشار جو اپنی مردانگی کی دیوانگی میں مجھے بہا لے جاتا۔ میں انسان تھی۔ کوئی سیاسی نعرہ نہیں۔ کوئی سیاسی بٹوارہ نہیں۔‘‘
’’عورت کا وطن مرد ہوتا ہے۔ یہ سوچ صرف حسن کی تھی۔ میں بیس سال کا پرانا رشتہ اپنی زمین سے توڑ کر اس کے ساتھ کیسے جاسکتی تھی۔ سیاست نے یکایک سب کچھ بدل کر رکھ دیا تھا مگر اس کے باوجود میرا بھی تو کچھ تھا، میرا وطن، میرا احساس، میرا خاندان، میری زندگی، جسے بابا نے سنوارتے ہوئے مجھ سے بہت سی ایسی باتیں کہی تھیں جو میرے خون میں بہنے لگی تھیں۔‘‘
(ب) مرد کردار
ناصرہ شرما کی کہانیوں میں مرد کردار بھی مختلف سطح اور مختلف طبیعتوں کے حامل ہیں۔ انہوں نے مرد کرداروں کے ساتھ کسی طرح کی نسائی عصبیت کا ثبوت نہیں دیا اور نہ ہی مرد کرداروں کے ساتھ ناانصافی کی ہے بلکہ سماج میں مرد کا جو کردار ہے اسے بعینہٖ پیش کردیا ہے۔ جہاں ’’سنگسار‘‘ کا ’افضل‘ ایک شریف سیدھے سادھے محبت کرنے والے کردار کے طور پر سامنے آتا ہے وہیں مرد کا ایک دوسرا روپ ’’آبِ توبہ‘‘ میں نظر آتا ہے جہاں شمشاد شاطر اور چالاک مرد کی طرح ایک عورت کی معصومیت اور ایک عفیفہ کی عصمت سے کھیلتا ہے اور ایک بوالہوس شہوت پرست کردار کے طور پر سامنے آتا ہے:
’’اس دن شمشاد کے آفس میں میٹنگ تھی۔ سوسن کو بھی بلایا تھا اور میٹنگ کے بعد بھیڑ چھٹنے لگی، اسکول پہلے ہی خالی ہوچکا تھا، صرف وہی دو رہ گئے تھے۔ شمشاد کی لچھے دار باتوں کی کہیں انتہا ہی نہیں تھی۔ سوسن نے گھڑی دیکھی۔ گھبراہٹ چھپائے بیٹھی رہی۔ اتنے عرصے سے وہ شمشاد کو جان رہی ہے، مگر اسے کبھی بھی وقت کا خیال کرتے نہیں دیکھا۔ یورپ میں رہ کر جانے کیسے وقت کی قیمت سمجھ نہ سکا؟ اس نے پرس اٹھایا، تھوڑا پہلو بدل کر اٹھنے کی کوشش کی اور تبھی بغیر کچھ کہے شمشاد نے ایک دم سے سوسن کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا… سوسن کچھ کہے… اسے روکے، اس نے سوسن کو اپنے قریب کر اس کی گردن کا بوسہ لے لیا۔ سوسن حیران سی ٹھگی رہ گئی… دوسرا مرد… جنت کا احساس… نئی دنیا کی تلاش اور اس کی حصولیابی… ساری باتیں ٹکڑوں میں ناچنے لگیں۔ جب تک وہ حیرت کے دائرے سے نکلتی، اپنے کو بچاتی، شمشاد کا ہاتھ اس کے بدن کے نازک ملائم حصوں پر پہنچ گیا۔ ایک چبھن، ایک مسلن… پرس اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ شمشاد نے اپنی انگلیاں باہر نکالیں۔ اسے سونگھا، گہری لمبی سانس151 ’کتنی پیاری مہک ہے۔ لو، خود سونگھو اپنے جسم کی خوشبو کو‘ پھر وہ سب کچھ ہوتا چلا گیا، جس کا سوسن کو وہم و گمان نہ تھا۔ بس، اس نے تڑپ کر شمشاد کے بڑھتے ہاتھ کو روکتے ہوئے اتنا کہا اور اپنے کو چھڑایا تھا151 ’اس کھنڈر میں تمہیں کیا ملے گا؟ نہیں، نہیں۔ مجھے چھوڑ دو۔ میں کوئی لڑکی نہیں ہوں، پلیز، شمشاد، مجھے سمجھو…‘
’کھنڈر ہی میں تو خزانہ ہوتا ہے اور مجھے اسی کھنڈر کی تلاش ہے۔‘ شمشاد نے اس کے گالوں کو، بغل کو، سینے کو تیزی سے سونگھتے ہوئے کہا، ’عجیب خوشبو ہے تمہارے بدن کی۔‘ جب تک وہ اپنے کو چڑھاتی، احتجاج کرتی، سب کچھ اتنا آگے بڑھ گیا تھا، جہاں کوئی بھی روک تھام اب اپنا معنی کھوبیٹھی تھی۔ نازک لتر کی مانند اس کا جسم اور اونچا چوڑا قد آور درخت!‘‘
شمشاد کے شہوانی کردار کو ناصرہ شرما نے یوں پیش کیا ہے:
’’اس دن شمشاد کی زندگی میں وہ پچاسویں عورت تھی۔ اٹھارہ برس سے آج تک اس نے عورتوں سے لذت یابی کا تجربہ ہی حاصل نہیں کیا تھا بلکہ اتنا کچھ ان میں پڑھا تھا، دیکھا تھا کہ وہ بڑی آسانی سے ان پر ریسرچ کرسکتا ہے، مگر اس کے ریسرچ کا موضوع تو یہ نہ تھا! وہ کیوں دوسروں کے بتائے راستے پر چل پڑی؟ ہفتوں عورتوں کے ساتھ ہوٹلوں میں بند رہا ہے، غیرملکوں کی سیر کی ہے۔ وہ عورت کو خوب پہنچانتا ہے۔ اس کی باتوں میں عورت کے لیے احترام کا ذرہ برابر بھی جذبہ نہ تھا، ایک دم بازارو انداز سے سستی باتیں کررہا تھا۔‘‘
’’اڑان کی شرط‘‘ کا کردار ’طالب‘ ایک مثبت کردار ہے جو ’مہشی‘ سے شادی کرنے کے بعد اپنے روئیے اور نظرےئے میں کوئی تبدیلی نہیں لاتا۔ دونوں کے مابین نظریاتی تصادم ہے۔ مگر طالب تناؤ اور تصادم کے بجائے مفاہمت کی راہ اختیار کرتا ہے۔ مہشی ایک خودغرض اور خودپسند کردار کے طور پر ابھرتی ہے۔ جب کہ طالب ایک ایثار پسند اور باوفا کردار کے طور پر سامنے آتا ہے۔
اس کہانی میں طالب کا کردار مہشی کے مقابلے میں زیادہ مثبت اور توانا نظر آتا ہے۔ طالب صاف صاف کہتا ہے:
’’میں دنیا میں امن لانے والے انسانوں کو دکھ درد سے نجات دلانے والے نظریات سے جڑا ہوں۔ ہماری پارٹی انسانوں کو غلام بنانے میں دلچسپی نہیں رکھتی ہے، بلکہ انہیں نجات دلانا اس کا مقصد ہے۔ اس لیے میری دوست، چیزوں کو گڑبڑانے کی عادت مت ڈالو۔ مانا کہ ہم میاں بیوی کی طرح نہیں رہ سکتے، مگر دو قلم کار، دو تخلیق کار، دو انسانوں کی طرح تو آپس میں سلوک کرسکتے ہیں۔‘‘
اِسی طرح طالب کہتا ہے:
’’میں تمہیں آزاد کرتا ہوں تاکہ تم اونچی اڑان بھرسکو، دنیا دیکھ سکو، مگر ایک بات یاد رکھنا۔۔ ماضی کے نام پر حال کو سیاہ کرنا اُڑان کی شرط نہیں ہے۔‘‘
یہی اِس کہانی کا کلیدی جملہ ہے اور اسی کلیدی جملے سے طالب کا کردار بہت نمایاں اور بہت مثبت قرار پاتا ہے۔
’’جہاں نما‘‘ کا مرد کردار ’کمال‘ جو کبھی انقلابی محاذ کا سربراہ ’’شب نامہ‘‘ کا ایڈیٹر، بغاوت اور انقلاب کی باتیں کرنے والا تھا، مگر اچانک وہ حالات سے سمجھوتہ کرلیتا ہے اور اپنی زندگی تبدیل کرلیتا ہے اور بالآخر اسی سسٹم کا حصہ بن جاتا ہے جس پر وہ تنقید کیا کرتا تھا۔ کمال کے کردار کی عکاسی ناصرہ شرما نے یوں کی ہے:
’’میں اب آرام دہ زندگی چاہتا ہوں۔ اتنی دولت کمانا چاہتا ہوں کہ تمہاری خواہشیں پوری ہوں اور ہم بڑھاپا سکھ سے کاٹ سکیں۔ مجھے بھی گھر چاہئیں، بچے چاہئیں، پوتے اور نواسے چاہئیں۔ اس ریگستان جیسی زندگی میں مجھے پیاس شدت سے لگ رہی ہے۔ مجھے ٹھنڈا سایہ چاہئے اور میٹھی نیند…کب سے نہ چین سے سویا ہوں نہ آرام سے بیٹھا ہوں۔‘‘
’’نبیلا کو کمال سے مل کر ایک احساس متتھا رہا کہ آخر وہ کمال کی زندگی میں کیا تھی اور کمال حقیقت میں اس کی زندگی میں کیا تھا؟ کیا ان کا عشق محض ایک پھول کا پراگ تھا جسے کمال من چاہے انداز سے جیتا رہا اور جب اس نے تبدیلی چاہی تو اپنا نظریہ بدل ڈالا۔ عظمہ کے صنعت کار باپ کی مخالفت میں کمال نے کتنے ورق سیاہ کئے تھے اور آج انہی کے دسترخوان پر بیٹھا ان کا نمک چکھ رہا ہے اور میں پچھلے پانچ برس میں اس کو لمحہ بھر کے لیے جدا نہ کر پائی۔ اس کو سارے جہاں میں پھیلا کر اپنے کو اس میں پانے لگی تھی۔ اس انتظار میں کہ ایک دن کمال لوٹ آئے گا اور میں پتوار پکڑے کھڑی رہی مگر اب انتظار بے معنی تھا۔‘‘
نثری اسلوب اور آہنگ
ناصرہ شرما کی نثر کا آہنگ اتنا سبک اور سریلا ہے کہ وہ اپنے لسانی نشانات کے ذریعے بہت سے حقائق بیان کرجاتی ہیں۔ وہ لفظوں کی حرکیات سے بہت سے اشارات کو سمیٹنے کا ہنر جانتی ہیں۔ ان کی ریطوریقا بالکل مختلف ہے۔ اور ان کی کہانی کی اصل قوت مافیہ کے بجائے اُسلوب میں مضمر ہے۔ ان کی نثر کا منطقہ محدود نہیں ہے۔ ان کے یہاں نثر کے مختلف تجربے ملتے ہیں۔ Foregrounding کی چند مثالیں:
(۱لف) ’’دھیرے دھیرے رات اپنے سیاہ کپڑے اُتار رہی تھی۔‘‘ (کاغذی بادام، ص:۳۶)
(ب) ’’شہر کی سڑکیں ایک ایک کرکے سیاہی کی آغوش میں نیند میں ڈوبی آنکھیں بند کررہی تھیں۔‘‘
(ج) ’’ننگی سڑکیں سروں پر روشنی کی قندیلیں اٹھائے اداس کھڑی تھیں‘‘
(د) ’’سورج کا ملائم پیلا آنچل کمرے کی دیوار سے سرک رہا تھا۔‘‘
ناصرہ شرما کے ان جملوں میں تحرک بھی ہے اور تنوع بھی اور لسانی تجربوں کی وسعت بھی۔ گوکہ وہ بنیادی طور پر کہانی کار ہیں اور اپنے بیشتر جملوں میں کتھا بھاشا ہی استعمال کرتی ہیں مگر ان کی کہانیوں میں کہیں کہیں کاویہ بھاشا کا بھی گماں گزرتا ہے۔ دراصل ان کی سوچ میں جو موسیقیت اور آہنگ ہے اور ان کی شخصیت میں جو رِدم ہے وہ اُن کی تحریر میں بھی نظر آتی ہے۔ اِسی لیے ان کی نثری تحریر میں بھی شعری آہنگ کا وفور نظر آتا ہے۔
ناصرہ شرما کے اظہاری اسلوب میں جملہ جمالیاتی عناصر موجود اور متحرک ہیں۔ ان کا لسانی مزاج عام ہندی والوں سے مختلف ہے۔ ان کے یہاں لسانی ساخت میں اردو فارسی مرکبات، اضافات کے ساتھ وہی آراستگی اور رنگینی ہے جو اردو زبان سے مخصوص ہے۔ ناصرہ شرما کے لسانی مزاج کی تشکیل میں ان کے گھریلو ماحول، الہ آباد کی مخصوص گنگا جمنی تہذیب اور ماحول کا عمل دخل ہے۔ اردو اور ہندی کے علاوہ دیگر زبانوں سے رابطے نے ان کے لسانی اظہار اور تجربے کو تنوع اور تلون عطا کیا ہے۔ ناصرہ شرما کے اسلوب میں محض عبارت آرائی یا مرصع کاری نہیں ملتی بلکہ ان کے جملوں میں داخلی جذبے اور باطنی احساس کی شدت و حدت بھی ہے۔ ان میں فکر اور شعور کی شعلگی بھی ہے۔ ناصرہ شرما کے یہاں زبان کے جملہ جمالیاتی وسائل و عوامل ملتے ہیں۔ مرزا خلیل احمد بیگ نے زبان کے اسلوبیاتی استعمال کی جن مختلف صوتی، نحوی، معنیاتی سطحوں کا ذکر کیا ہے ان کی روشنی میں دیکھا جائے تو ناصرہ شرما کے نثری اسلوب میں لسانی نارم سے انحراف کی شکلیں بھی ہویدا ہیں۔ ان کی نثر میں صوتی رمزیت، تجنیسِ صوتی، تقلیب اور متوازی ساختے کے عمدہ نمونے ملتے ہیں۔ مثلاً:
’’سوسن کو کہیں سے سانپ کی سرسراہٹ اپنے بدن کے چاروں طرف محسوس ہونے لگی، جیسے سانپ اس کا جسم اپنے لچیلے، ٹھنڈے چکنے بدن میں دھیرے دھیرے کس رہا ہو۔ (آب توبہ)
’’آتش فشاں کی یہ گرمی غصہ کی ہے۔ یہ تپش ندامت کی ہے۔ یہ لپٹیں نفرت اور جھنجھلاہٹ کی ہیں اور یہ آگ حقیقت میں پشیمانی اور بے لطفی کی ہے۔ (آب توبہ)
ناصرہ شرما کے یہاں اچھوتی تشبیہات کا استعمال ملتا ہے:
’’آئینے پر نگاہ ڈالی، واقعی میرے سینے بہت حسین ہیں۔ قندھاری، سرخ گدرائے خونی انار۔(آبِ توبہ)
ناصرہ شرماکی لسانی ساخت اردو جیسی ہے۔ باوجودیکہ وہ ہندی کی کہانی کار ہیں مگر اردو اور ہندی میں نحویاتی اور صرفیاتی مماثلت کی وجہ سے ان کے جملوں کی ساخت ہندی سے زیادہ اردو سے زیادہ قریب نظر آتی ہے۔ ناصرہ کی نثر میں صفائی، Clarity اورشفافیت Lucidity ہے۔ بعض جملے تو فکر و احساس اور جذبے کی طغیانی سے اس قدر لبریز ہیں کہ ان جملوں میں معانی کی کئی سطحیں مخفی اور کئی سیاق و سباق روشن ہوجاتے ہیں۔
w میں انسان تھی، کوئی سیاسی نعرہ نہیں، کوئی سیاسی بٹوارہ نہیں۔ (پل صراط)
w احساس کی تاریخ نے آج نئی کروٹ لی ہے اور نیچے دل کا شہر خاموش ہے۔
w وہ امرت کا پیالہ ضرور ہے مگر ہاتھوں کی پہنچ سے بہت دور۔
ناصرہ شرما کردار کے جذبے اور احساس کے اعماق میں اُترنا جانتی ہیں۔ اس لیے ان کے الفاظ، کردار کی ذہنی کیفیات اور سائیکی کی مکمل تصویر پیش کرتے ہیں۔ کردار کے جذبے کی شدت لفظوں کی حدت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ کردار کی سوچ کو اُس سے جڑی ہوئی تمام کیفیت کو بالکل ویسے ہی لفظوں کا پیرہن عطا کرنا کہ کردار اپنے تمام تر وجودی کلیے کے ساتھ سامنے آجائے، بہت بڑی بات ہے۔ ’’زیتون کے سائے میں‘‘ انہوں نے اسرائیلی فوجوں کی پوری سائیکی اور نفسیات ظاہر کردی ہے۔ اسرائیلی فوجیوں کی سنگ دلی اور سفاکی اور ان کی تحقیر اور تمسخر کے پہلو کو بھی اپنے لفظوں سے واضح کردیا ہے۔ یہاں دو متحارب اور متصادم کرداروں کی نفسیات پورے طور پر اجاگر ہوگئی ہے:
’’آجا میرے شیر… یہ رہا تیرا کٹہرہ… چھوٹا ہے تو کیا… یہاں غرانے کی پوری آزادی ہوگی۔ پہلے سے اندر پہنچے سپاہی کی ہنسی گونجی۔
یہ تو جنت ہے جنت، میرے یار! تھوڑی دیر بعد ہی حوریں شراب اور شباب کا جام لے کر آتی ہوں گی۔ غصہ تھوک دینا اور ان کی انڈیلی آب حیات کو دبا کر پی جانا۔ پھر دیکھنا جلوہ۔ یہ کوٹھری محل بن جائے گی اور دیواریں حکم کی غلام… پھر تمہارا کوئی بال بھی بانکا نہیں کرپائے گا پیارے!‘ لمبے قد کے سپاہی نے سلاخ دار دروازے میں تالا لگاتے ہوئے کہا۔
’گھبرانا نہیں میرے لال… ابھی تمہارا باپ بھی آتا ہوگا۔ مذاقیہ انداز میں کہا گیا۔
’وہ کیا آئے گا؟… ارے مانگ رہا ہوگا رحم اور پیسے کی بھیک دنیا سے… بڑا مرد مجاہد بنا پھرتا ہے۔‘
قہقہوں میں گندی گالیاں بوٹو ں کی دور ہوتی آواز کے ساتھ الجھ کر رہ گئیں۔ توفیق کے چاروں طرف ایک سناٹا سا چھا گیا۔‘‘
اسرائیلی کردار کے متوازی فلسطینی کردار کا یہ مکالمہ یہودی سائیکی کو اس طرح اجاگر کرتا ہے:
’’ولایتی خیالوں کے سمندر پر کشتی چلانے والے ولایتی یہودیو! تم ہم سب کو موت کے گھاٹ اتار کر بھی کنارے نہیں پہنچ پاؤ گے، بلکہ جس غلط دھارا پر تم سوار ہو تمہیں ہمارے بہتے خون میں ڈبودے گی… فلسطین تو ایک ایسا چوراہا تھا جس کی اہمیت سوئزنہر کے کھلنے سے پہلے بھی ولایتی سمجھتا تھا، کیونکہ اسے ہندوستان کو قبضہ میں کرنا تھا۔ تیل تو آج نکلا ہے۔ جب تیل نہیں نکلا تھا اس وقت سے بیرونی طاقتیں ہمیں غلام بنانے کے لیے بے چین تھیں۔ کیا تاریخ بھی نہیں جانتے تم؟ کیا یہ بھی نہیں سمجھتے کہ ہمارے دنوں اور سالوں کو کس طرح تباہ کیا جارہا ہے، تاکہ ہمارا درخشاں ماضی خون آلود حال میں ڈوب جائے؟ ہمیں تو تم ہی پھوٹ ڈلوا کر بکھیر رہے ہو! صدی اور سرحدوں پر چھا جانے والے دماغوں کو نسل کے دائرے میں مت باندھو— اس سے تمہارے گناہ ثواب میں نہیں بدل جائیں گے… سنو یہودی کنجوس! اپنا گھر دوسروں کی زمین پر بناؤ گے تو وہ اپنا حق مانگیں گے اور تم ناحق بے گھر ہونے کا غم جھیلو گے۔ طاقت کے زور پر کہی گئی بات ضروری نہیں معقول بھی ہو اور سچی بھی!‘ توفیق کے خاموش چہرے پر اس کی بولتی آنکھیں بجلی کی طرح تڑپنے لگیں۔
ناصرہ شرما نے اس کہانی میں اسرائیلی فوج کو تانبے کی مورتی کہہ کر اس کی شخصیت کے غیرانسانی سفاک پہلو کو روشن کردیا ہے۔ ناصرہ شرما نے اس کہانی میں دونوں قوموں کی نفسیات، جبلی خصوصیات، ثقافتی اور سیاسی خلقیے کے حوالے سے بہت صحیح عکاسی کی ہے اور فلسطین اور اسرائیل کی تاریخ، کلچر، سیاست اور سماج کا ہر ایک پہلو روشن کردیا ہے۔
’’زیتون کے سائے میں‘‘ ایک فلسطینی کردار کی استقامت، صلابت اور شہامت کے لیے جو الفاظ انہوں نے استعمال کیے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے الفاظ، ان کے کردار سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ کسی طرح کی اجنبیت اور نامانوسیت کا اظہار نہیں ہوتا:
’اپنی زمین کو چھوڑ کر جگہ جگہ بسنے والے، طرح طرح کا نمک چکھنے والے ملعون تاجر! تم کس سرزمین کے حق دار بننے کا خواب دیکھ رہے ہو؟ بھول گئے کہ اسپین میں ہم نے تمہیں ظلم کے چنگل سے آزاد کرایا تھا؟‘ توفیق کے اندر اٹھتا دلیل کا طوفان اس کے حلق میں پھنسنے لگا۔
’آج تمہیں ہزاروں سال بعد اپنے آبا و اجداد کا گھر یاد آرہا ہے، نمک حرامو! تم کیسے ثابت کرو گے کہ تم خالص عرب یہودی ہو؟ کیا بھول گئے کہ تم موسیٰ کے ساتھ ان کے مرید بن کر ہماری سرز مین پر آئے تھے! خیر پرانی بحث چھوڑو۔ آج تک جس زمین کا نمک برسوں سے کھاتے آئے ہو وہ کیوں نہیں تمہارا وطن بن پایا؟ مانا تمہارا غم بہت بڑا ہے مگر ہمارے غم سے بڑا نہیں ہے۔ اگر صدیاں گزر جانے کے بعد نسلیں اپنے اجداد کے گھر آج تمہاری طرح ڈھونڈھنے اور ان مقامات پر جاکر بسنے کی ضد کر بیٹھیں تو جانتے ہو، کیا ہوگا؟ اس وقت یہ زمین صرف اداس نسلوں کا قبرستان بنے گی۔‘ توفیق کے خونی کٹورے چھلک پڑنے کو بے چین ہو اٹھے۔
اجنبی فضا، مانوس احساس
ناصرہ شرما نے جس ملک کی کہانی لکھی ہے اُس ملک کی تاریخ، کلچر، سیاست، سماج اور روایت سے ان کی گہری آگہی کا پتہ چلتا ہے۔ اپنی کہانیوں میں ان تمام ممالک کی subjectivities کو متشکل کرنے والے مناظر کا ذکر کیا ہے مثلاً فلسطین سے متعلق کہانی میں ’’زیتون کا درخت‘‘ پس منظر میں موجود ہے اور عربی گھوڑے کا بھی جو قوت و شہامت کی علامت ہے۔ ایسا محسوس ہی نہیں ہوتا کہ انہوں نے ان ممالک کے بارے میں صرف کتابوں میں پڑھا ہے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ ان ممالک سے ان کی آنکھ اور ذہن کا گہرا رشتہ ہے اور اسی رشتے کی وجہ سے وہ تمام کہانیاں جو کہ غیرممالک سے متعلق ہیں، آنکھوں دیکھی لگتی ہیں۔ ان کہانیوں میں، کردار کے جذبے اور احساس میں وہ مکمل طور پر شریک نظر آتی ہیں۔ ایک ہندوستانی ذہن اور قلم سے لکھی گئی کہانی نہیں لگتی بلکہ وہیں کے کسی باشندے یا مکیں کی کہانی لگتی ہے جس کا اس ملک کے شب و روز سے گہرا رشتہ ہے اور قاری بھی اس کہانی، قصہ، افسانے سے اس طرح جڑ جاتا ہے جیسے خود اس کے وجود یا اس کے اطراف کی کہانی ہو اور یہی کہانی کا کمال ہے کہ کہانی سینے میں دفن ہوکر نہ رہ جائے بلکہ سینے کو آگہی اور عذاب سے آشنا کردے۔ اور آگہی اور اضطراب سے گزار دے۔ ایران، افغانستان، فلسطین، عراق، لبنان اور شام کے ساتھ ناصرہ شرما کا تفکیری نہیں بلکہ تخلیقی رشتہ قائم ہے اور ان منطقوں کے آلام، درد، آزمائش کو انہوں نے اپنی کہانی کا محور بنایا ہے۔
ناصرہ شرما کی کہانی میں انسانی احساس اور جذبے کے متنوع رنگ ہیں۔ یہ اجڑے، بکھرے، بے گھر، بے وطن، سرگرداں، حالات کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ ان کے بکھراؤ، اجاڑپن نے جن جذبات، احساسات اور خیالات کو جنم دیا ہے ہے، وہ ساری کیفیتیں ان کہانیوں میں موجود ہیں۔
ناصرہ شرما کی کہانی میں حقیقت سے انحراف نہیں ملتا بلکہ ہم عصر عہد کی حقیقت کو انہوں نے بعینہٖ پیش کردیا ہے۔ سماجی، سیاسی، مذہبی جبریت کی تصویریں ان کی کہانیو ں میں نظر آتی ہیں۔ انسانی اقدار کی شکستگی، پناہ گزینوں کے مسائل اور دیگر تمام احوال جو انسانوں پر گزرے ہیں، وہ سب ان کہانیوں میں نظر آتی ہیں۔ ناصرہ شرما کی کہانیوں میں حقیقت اور رومان کا بہت ہی خوبصورت امتزاج ہوتا ہے۔ ان کے یہاں سیاسی رومانیت بھی ملتی ہے اور رومانوی سیاست بھی۔
***
Viewers: 2374
Share