Daood Kakar | Khaka | محسن احسان صاحب

محسن احسان صاحب تحریر: داؤد کاکڑ میں نے محسن صاحب کو پہلی بار دیکھا تو ان کی خوبصورتی اور وجاہت پر مر مٹا، گفت و شنید ہوئی تو ان کے […]

محسن احسان صاحب

تحریر: داؤد کاکڑ

میں نے محسن صاحب کو پہلی بار دیکھا تو ان کی خوبصورتی اور وجاہت پر مر مٹا، گفت و شنید ہوئی تو ان کے اخلاق واطوار کا گردیدہ ہو گیا، مشاعروں میں سنا تو ان کی دلکش آواز میں ان کا دلنشیں انداز بیاں دیوانہ کر گیا۔ انکساری اور خوش اخلاقی کا ایسا مرقع کہ ابتدا میں لگا جیسے بڑے پن کا رعب جمانے کی کوشش کررہے ہوں اور ہم نئے آنے والے نوجوانوں کو متاثر کرنا چاہتے ہوں لیکن ان کاوہ مشفقانہ رویہ آخر دم تک ویسا ہی رہا۔ یہ میری بدقسمتی ہے کہ میں زیادہ عرصہ ان کی صحبت کا فیض حاصل نہ کرسکا اور ۱۹۸۰ میں امریکہ نقل مکانی کر گیالیکن پشاور یاتراکے دوران ان سے ادبی محفلوں اور مشاعروں میں ہمیشہ ملاقاتیں رہیں۔ گو کہ میرا ادب اور ادبی سرگرمیوں سے تعلق ٹوٹ چکا تھا محسن صاحب سے جب بھی ملاقات ہوئی اسی گرم جوشی اور خندہ پیشانی سے ملے جو ان کی شخصیت کا نمایاں ترین پہلو رہا ہے اور ان کی یہ شفقت اور مہر بانی صرف مجھ تک محدود نہیں تھی بلکہ ان کا یہ وطیرہ سب کے ساتھ یکساں تھا۔
محسن احسان صاحب کے ساتھ میری ملاقات ستر کی دھائی کے وسط میں ھوئی۔ وہ دور میری ادبی زندگی کا ابتدائی اوراس حوالے سے نہایت اہم دور تھا۔ ہر طرف ادبی محافل اور مشاعروں کا ایک بازار گرم تھا۔ اگر ایک طرف حلقہ ارباب ذوق اعجاز راہی اور حیات نظامی کی نظامت میں سر گرم عمل تھاتو دوسری طرف اباسین آرٹس کونسل کے اعزازی سیکر یٹری جناب خاطر غزنوی صاحب بڑی باقاعدگی کے ساتھ مختلف النوع ادبی تقریبات بپا کر رہے تھے۔ ادھر پاکستان نیشنل سنٹر فیروزہ بخاری کی سربراہی میں ادبی دنیا میں ہلچل مچائے ہوئے تھا تو ادھر مولانا فضل معبود کی سربراہی میں مرکزی اردو بورڈ زبان و ادب کے فروغ میں اپنا کردار ادا کررہا تھا۔اسی طرح ش۔شوکت اور زیڈ آئی اطہرہندکو آرٹس کونسل کے بینر تلے مشاعروں کا ایک تسلسل باندھے ہوئے تھے اور شام ہمدرد کے نیم ادبی ماہانہ فنکشنز بھی باقاعدگی کے ساتھ پرل کانٹیننٹل میں منعقد ہورہے تھے یہاں تک کہ خانہ فرہنگ ایران کے آقائے فرگام بھی کسی سے پیچھے نہیں تھے اور گاہے گاہے فارسی کے مشاعروں کا اہتمام کرتے رہتے تھے۔ ادبی اداروں اور تنظیموں کے علاوہ انفرادی طور پر منعقد ہونیوالی تقریبات کا الگ سے ایک سلسلہ جاری تھا مثلاً جناب پروفیسر شوکت واسطی کسی نہ کسی بہانے اور اکثر و بیشتر شعراء ادباء کو اکٹھا کر لیتے تھے۔ جناب یوسف رجا چشتی اپنے دولت خانے پر مشاعروں کا اہتمام کرلیتے تھے۔ اس نوع کی تقریبات کا انعقاد پشاور اور اس کے گرد و نواح میں ہوتا رہتا تھا۔ایسے میں مشتاق شباب کی تحریک پر ہم چند دوستوں نے، جن میں میرے اور مشتاق شباب کے علاوہ ناصر علی سید، رئیس بیگ اور آفندی وغیرہ شامل تھے، مل کر ایک ادبی تنظیم ’ ینگ تھنکرز فورم ‘ کی بنیاد رکھی اور میدان ادب میں کود پڑے۔ ہر ہفتے اور بلا ناغہ تنقیدی نشستوں کا اہتمام کیا۔ نئی اور پرانی کتابوں کی رونمایاں کیں اور خوب دھڑلے کے مشاعرے کروائے۔مختصر یہ کہ یہ دور نہ صرف میری ادبی نشوو نما کا دور تھا بلکہ اس لحاظ سے بھی انتہائی اہم تھا کہ اس دور میں مجھے ’ادبی بڑوں‘ سے شناسائی اور ان کے ساتھ گھل ملنے کے بھر پور مواقع میسر آئے جن میں سے چند ایک کا ذکر اوپر آچکا ہے باقی لوگوں میں چند نام یہ ہیں۔ فارغ بخاری، رضا ہمدانی.احمد فراز، جلیل حشمی، مسعود انور شفقی، فہمیدہ اختر علی کوزئی، شرر نعمانی، روشن نگینوی، تاج سعید، زیتون بانو، غلام محمد قاصر، یونس قیاسی اور قاسم حسرت وغیرہ کے علاوہ پشتو اور ہندکو زبانوں کے عظیم شعراء امیر حمزہ خان شنواری، سمندر خان سمندر اور آغا جوش شامل ہیں۔
شومئی قسمت کہ انہی دنوں میرا ناول حمیرا شائع ہوچکا تھااور اعجاز راہی نے حلقہ ارباب ذوق کی ایک تنقیدی نشست حمیرا کے لیئے وقف کر رکھی تھی ۔ اس نشست میں جلیل حشمی، احمد فراز اور سمندر خان سمندر جیسے قد آور شعراء بھی موجود تھے لیکن صدارت محسن احسان صاحب کے حصے میں آئی۔ یہ مئی ۱۹۷۶ کی بات ہے۔ اسی دن کا ذکر ہے کہ تنقیدی نشست کے اختمام پر چند افراد کا گروپ جس میں محسن صاحب کے علاوہ احمد فراز، اعجاز راہی، ناصر علی سید، حیات نظامی، مشتاق شباب ( شاید دو تین لوگ اور بھی تھے جن کے نام اب ذہن سے اتر گئے ہیں ) شامل تھے پیدل چل کر صدر روڈ کے ایک کیفے میں چائے وغیرہ کے لیئے چلا آیا۔ مجھے ٹیبل پر محسن صاحب کے بائیں جانب کی سیٹ ملی بلکہ میں جان بوجھ کران کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا۔ میرے بائیں طرف ناصر علی سید براجمان تھا۔چائے کے دوران محسن صاحب جو اس زمانے میں سگرٹ نوشی کرتے تھے، نے سگرٹ کا پیک نکالا اور احمد فراز کے علاوہ ٹیبل پر بیٹھے باقی سب افراد کو بھی پیش کی اور جب میری طرف بڑھائی تو میں نے جھٹ سے ایک سگرٹ لے لی کہ میں بھی سموکر تھا۔ اس نشست کے برخاست ہوتے ہی جب سب اپنی اپنی راہ ہولیئے تو ناصر جو اس موقع کی تلاش میں تھا مجھے آڑے ہاتھوں لیا کہ میں نے محسن صاحب سے سگرٹ لے کر غلط کیا اور مجھے احتراماً ایسا نہیں کرنا چاہیے تھاناصر کو میں نے اس وقت یہی تاویل دی تھی کہ محسن صاحب کی آفر کی ہوئی چیز ٹھکرا نہیں سکتا تھا۔
بہر حال یہ تو یونہی بر سبیل تذکرہ ایک بات آگئی۔ بات ہورہی تھی ادبی بڑوں سے جان پہچان کی توان سب حضرات کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ کئی شخصیات نے بیحد متاثر کیااور چند ایک سے ملکر مایوسی ہوئی۔ بعضوں نے ہمیں گھاس نہ ڈالی اور جان پہچان کے بعد بعض کو ہم خاطر میں نہ لائے۔ اس میل ملاقات میں جن دو شخصیات نے مجھے عمر بھر کے لیئے اپنا بنا لیا وہ تھے سمندر خان سمندر اور محسن احسان۔ محسن صاحب اس وقت غالباً چالیس کے پیٹے میں تھے۔ اسلامیہ کالج پشاور یونیورسٹی میں انگریزی ادب پڑھاتے تھے اور شہر بھر میں بپا ہونے والے مشاعروں اور ادبی محفلوں میں باقاعدگی کے ساتھ شریک ہوتے تھے۔ سفیدی مائل سیاہ، گھنے اور گردن تک لمبے بال جو سلیقے کے ساتھ پیچھے کی طرف سلجھے ہوتے تھے۔گورے رنگ پر کلین شیو اور اس پر انتہائی پرکشش چہرے پر پھیلا ہواایک سکون۔ مناسب قد کاٹھ پر سادہ لباس جو اکثر پینٹ شرٹ اور موسم کی مناسبت سے سوئیٹر یا سپورٹس کوٹ ہوتے تھے۔ نظر پڑتے ہی نظر ٹک جاتی تھی۔ان کی شخصیت میں ایسی مقناطیسیت تھی کہ ایک بار دیکھنے والا دوبارہ مڑ کر دیکھنے پر مجبور ہوجاتا تھا۔ اور ان کی شخصیت کا یہ جادو اس وقت سر چڑھ کر بولتاجب وہ محو گفتگو ہوتے تھے۔ان کی گہری اور گھمبیر آواز اور پھر اس پر ان کا بولنے کا دلکش انداز حاضرین کو مسحور کیئے رکھتا۔ مختصر یہ کہ محسن صاحب مردانہ وجاہت اور اعلیٰ اخلاق کا چلتا پھرتا اشتہار تھے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ محسن احسان جیسی شخصیات کسی بھی دور میں انگلیوں پر گنی جانے والی تعداد سے کم پائی جاتی ہیں۔
عمروں میں ربع صدی کا فاصلہ ہونے کے باوجود محسن صاحب کا رویہ میری جنریشن کے ساتھ ہمیشہ دوستانہ رہا۔ تصنع اور بناوٹ سے یکسر پاک بے تکلفانہ انداز میں گفتگو کرتے اور دل کھول کر قہقہہ لگاتے۔ میں نے کم لوگوں کو اس توجہ سے کسی کی بات سنتے دیکھاہے جس انہماک سے محسن صاحب سنتے تھے۔ احمد فراز کے ساتھ یک جان دو قالب ہونے کے باوجود محسن صاحب کی شہرت ان کے برعکس ہے۔ ان کی زندگی ہر قسم کے سکینڈلز اور متنازعات سے پاک تھی۔ میں نے ان سے متعلق کبھی کوئی گاسپ نہیں سنا۔
محسن صاحب یوں تو مشاعروں کے لیئے پوری دنیا میں گھومتے تھے لیکن امریکہ آنا جان قدرے زیادہ تھااس کی ایک وجہ شاید یہ بھی تھی کہ ان کی بہن امریکہ میں قیام پذیر تھیں۔ ایک مرتبہ ان کی لاس اینجلس آمد کا پتہ چلاتو اتہ پتہ معلوم کرکے انہیں فون کیا تو بیحد خوش ہوئے اور اسی ر ات منعقد ہونے والے مشاعرے میں آنے کی بہت تاکید کی لیکن میں نے ان سے معذرت کر لی تھی کہ ڈیوٹی کی وجہ سے یہ ممکن نہیں تھامیرے لیئے۔یہ نوے کی دھائی کے وسط کا ذکر ہے۔پھر سال ۲۰۰۰ میں نشترہال کی ایک تقریب میں ملاقات ہوئی تو میں نے پھر ان سے معذرت کی تھی۔
محسن صاحب سے میری آخری ملاقات ۲۰۰۵ میں نذیر تبسم کے شعری مجموعے ’ تم اداس مت ہونا ‘ کی رونمائی کے موقع پرپشاور یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ہوئی تھی۔ تب تک میں لاس اینجلس سے کلوراڈو نقل مکانی کرچکا تھا۔میں نے انہیں ڈینور میں اپنے گھر کا نمبر دیا تو کہنے لگے کہ وہ ایک مرتبہ مشاعرے کے لیئے ڈینور بھی جاچکے تھے۔ کافی سالوں بعد جب سراغ لگایا تو نہ صرف یہ کہ ڈینور میں ان کے میزبان کا پتہ چلا بلکہ یہ بھی معلوم ہواکہ ان کے ساتھ جناب حمایت علی شاعر بھی تھے چند تصاویر بھی ہاتھ آئیں جو کچھ عرصہ بعد نیویارک سے نکلنے والے سہ مائی اد بی رسالے ’ زاویہ ‘ کے ’ محسن احسان نمبر ‘ میں شائع ہوئیں۔
زاویہ کے محسن احسا ن نمبر سے یاد آیا کہ زاویہ کے مدیر جناب ارشاد احمد صدیقی صاحب اپنی بیگم کے ساتھ ڈینور تشریف لائے تو میرے غریب خانے کو بھی اعزاز بخشا اور اسی ملاقات کے دوران انھوں نے زاویہ کے محسن احسان نمبر کے اھتمام کا ذکر کیااور مجھے بھی کچھ لکھنے کی دعوت دی۔ کچھ عرصہ بعد ارشاد صاحب ہی سے معلوم ہواکہ محسن صاحب نیو یارک تشریف لا رہے تھے اور مزید یہ کہ محسن احسان نمبر کے سلسلے میں اکٹھا ہونے والا سارا مواد بھی ان کی موجودگی میں زیر بحث آئے گا۔ میں یہ موقع گنوانا نہیں چاہتا تھا اس لیئے جلدی میں ایک خاکہ لکھ کر انہیں ای میل کر دیا۔
یہ اگست ۲۰۱۰ کا ذکر ہے کہ دوستوں کا یہ ٹولہ جس میں ارشاد صاحب کے علاوہ ڈاکٹر سید امجد حسین صاحب اور جناب و بیگم محسن احسان صاحبہ شامل تھے۔ اپ سٹیٹ نیویارک میں عتیق احمد صدیقی صاحب کی میزبانی میں اکٹھے ہوئے اور وہی زاویہ کا یہ خاص نمبر زیر بحث آیااور رسالے کے لیئے جمع ہونے والے مواد پر بھی بات چیت کی گئی۔ بعد میں جناب ارشاد صاحب نے ای میل کے ذریعے خبر دی کہ محسن صاحب کو میرا خاکہ پسند بھی آیا اور زاویہ کی مجلس مشاورت نے اسے اشاعت کے لیئے بھی منظور کرلیا ہے لیکن افسوس کہ محسن صاحب زاویہ کی اشاعت سے پہلے ہی اپنے آخری سفر پر روانہ ہوگئے۔ ان کی لندن نقل مکانی کے بعدجب ان پر فالج کی افتاد پڑی تو میری ان سے فون پر بات ہوئی تھی اس کے بعد احمد فراز کی وفات پر انہیں تعزیتی فون کیا تو دل و جان سے قریب دوست کے بچھڑ جانے پر دل برداشتہ تھے کہنے لگے ’ میرے سارے دوست جاچکے ہیں کون جانے کب میرا بلاوا آجائے ‘۔ یہ میری ان سے آخری بات چیت تھی ا ور ان کی نیویارک آمد پر میں بوجوہ ان سے رابطہ نہ کر سکا۔
گو کہ اس بات کا ذکر میں اوپر کر چکا ہوں لیکن محسن صاحب کی شخصیت کا یہ پہلو جس قدر بھی اجاگر ہو کم ہے اور وہ ہے ان کی منکسرالمزاجی۔ ادب و سخن میں اس قد و قامت کا حامل ہوتے ہوئے اس درجہ ڈاؤن ٹو ارتھ ہونا محسن صاحب کو ان کے ہم عصروں میں قدآور کرتا ہے۔ یہ بات میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میرے ہم عصرمحسن صاحب کے ہم عصروں میں سب سے زیادہ انہی کے ساتھ بے تکلف تھے اور سب سے زیادہ احترام بھی انہی کا کرتے تھے۔ محسن صاحب اپنی جنریشن کی آخری نشانی تھے ان کی رخصتی کے ساتھ ہی خیبر پختوں خواہ میں اردوادب کا ایک اہم دور جس کے علمبردار یوسف رجا چشتی، پروفیسر شوکت واسطی، احمد فراز، فارغ بخاری اور خاطر غزنوی وغیرہ تھے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔
ایک اک کرکے ستاروں کی طرح ڈوب گئے
ہائے کیا لوگ مرے حلقہ احباب میں تھے

Viewers: 3329
Share