Dr. Syed Yahya Saba | Article | ایک تبسم آفریں قلمکار خالد محمود

ڈاکٹر سید محمد یحیٰ صبا شعبۂ اردو، کروڑی مل کالج، دہلی یونیورسٹی، دہلی۔110007 Mobile:09968244001- ایک تبسم آفریں قلم کار خالد محمود ہر کس و ناکس پہ کر لیتا ہے فوراً […]
ڈاکٹر سید محمد یحیٰ صبا
شعبۂ اردو، کروڑی مل کالج،
دہلی یونیورسٹی، دہلی۔110007
Mobile:09968244001-
ایک تبسم آفریں قلم کار خالد محمود
ہر کس و ناکس پہ کر لیتا ہے فوراً اعتبار
باخبرکتنا ہے خالد بے خبر ہوتے ہوئے
ایک زمانہ تھا اردو شعر و ادب کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اردو شاعری میں گل و بلبل اور لب و رخسار کی باتیں ہی قلمبند کی جاتی ہیں ۔ اسی طرح اردو ادب عشقیہ داستانوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ لیکن حالیہ برسوں میں اس سلسلے میں غیر معمولی تبدیلیاں آئی ہیں اور اب اردو شعر و ادب میں زندگی کے سلگتے مسائل سے بھی بحث کی جارہی ہے ۔ اس کے باوجود ہو سکتا ہے کہ اردو ادب میں زندگی کے سنجیدہ مسائل پر بحث کی مزید گنجائش نکل سکتی ہے ۔ اس سباق میں تفصیلی گفتگو کے لیے ایک الگ با ب اوراجلاس درکار ہے لہٰذا اس موضوع کو محفوظ کرتے ہوئے میں خود کو اصل گفتگو کی طرف رجوع کرنا چاہوں گا جو میرے گفتگو کا محور و مرکزہے ۔اردو اس وقت دنیا کی چند بڑی زبانوں میں سے ایک ہے یونیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق عام طور پر سمجھی اور بولی جانے والی زبانوں میں چینی اور انگریزی کے بعد دنیا کی یہ تیسری بڑی زبان ہے۔اردو اپنی شکلیں زبان کے فطری ارتقاء اور فطری تغیر کے تحت بدلتی رہتی ہے ۔ مختلف ادوار نے اسے مختلف ناموں سے پکارا ہے۔اردو کی سب سے قدیم شکل زبان دہلوہے جو زبان دہلوی کہلائی۔ اس طرح اپ بھرانشاؤں کے دور میں ریختی، کھڑی ، لشکری ، ہندی، ہندوستانی وغیرہ سے ہوتے ہوئے اردو کی شکل میں مشہور ہو گئی۔ اردو کی فیلو لوجی یا اس لفظ کا سائنٹفک مطالعہ حتمی طور پر نہیں ہو سکا ہے، لیکن اب تک جو معلومات فراہم ہوئی ہیں اس کے تحت علامہ آئی آئی قاضی کے مطابق ’’ لفظ اردو اڑدو کو اپنی روزانہ بوک چال میں ڈھیر یا بہت سی چیزوں کے جمع کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ ‘‘پنڈت دتاتریا کیفی کے مطابق اردو کا لفظ اصلاً سنسکرت کا بھی ہو سکتا ہے ۔ یہ لفظ ارداؤ سے نکلا ہے ار کے معنی ہیں دل اور داؤ کے معنی دو ۔ چونکہ یہ زبان ہندو مسلم تہذیب کے ملاپ سے وجود میں آئی اس لیے اس کا نام ارداؤ یعنی دو دلوں کو ملانے والا پڑ گیا۔ مغل بھی اس زبان کو اردو کہہ کر پکارتے تھے جس کے معنی لشکر کے ہیں۔ہندوستان کی تمام زندہ زبانوں میں اردو وہ زبان ہے جس کا لسانی سر مایہ تقریباً سبھی زبانوں میں ملتا ہے۔میر امنشاء اردو کی پید ائش کے مختلف نظریات پر رائے زنی کرنا نہیں ہے البتہ اردو کی نئی بستیوں پر بات کرتے وقت اب یہ کہنا پڑتا ہے کہ اردو کا کوئی خاص علاقہ نہیں ہے مسعود حسن خان کے نظریات سے مجھے قطعی اختلاف نہیں لیکن کسی خاص خطے کو اردو کی جگہ قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔
جیسا کہ مندرجہ بالا عرض کیا جاچکا ہے کہ ملک وقوم کی ترقی کے لیے کتابوں کا مطالعہ نہایت ہی ضروری ہے ۔علم سے ذہنی ترقی ہوتی ہے۔دل ودماغ کے دروازے شگفتہ اور وا ہوتے ہیں۔ذہن میں جدیدنئے گو شے کھلتے ہیں جو عصری تقاضے کوسمجھے کے مواقع فراہم کرتے ہیں ۔دماغ میں وسعت پیدا ہوتی ہے ۔اور ذہنی معیار بلند ہوتا ہے۔جس سے بالآخر پوری قوم کا ذہن روشن اور بالبیدہ ہوتا ہے اور ہم ایک اچھے انسان اور مثالی شہری بن جاتے ہیں ۔ہمارے معاشرے میں کتابوں کے مطالعہ کی عادت بڑے بڑے مفکروں کے تحریک اور خاص طور سے بابائے تعلیم سر سید کی تحریک کے بعد بھی ابھی تک عام نہیں ہوا ۔اس کی بہت سی وجہیں ہیں ۔جن میں سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم دانشوروں اور پڑھے لکھے طبقوں کو کتاب خریدنے کی عادت نہیں ہے۔شاید اس لیے کہ ہمارے معاشرے میں تعلیم کا اوسط بہت کم ہے ۔ جس کا ازالہ کے لیے فی زمانہ حکومت ہند کے ساتھ ساتھ چھوٹے بڑے معاشرتی تنظیم مثلاً راشٹریہ سیوک سنگھ اور دوسرے سرکاری اورغیرسرکاری ادارے حکمت عملی کے ساتھ دل دام سخن تعلیم کو عام کرنے کے لیے شب وروز سرگرم اورسر گرداں ہیں ۔ جو تعلیم کی جانب رجوع کرنے کے حوالے سے ایک امید افزاں علامت ہے ۔جہاں کتابیں لکھنے ،خریدنے اور پڑھنے کا ماحول پیدا ہوتا ہوا نظرآرہا ہے ۔اچھی کتابیں لکھنے اور پڑھنے خریدنے سے انسانی زندگی میں اشتراک کاماحول پیدا ہوتا ہے۔جوعالمی اتحاد اور انسان دوستی کی سند اور ضمانت ہے اور بین الاقوامی لحاظ سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے علمی خزانے کا احساس اوراندازہوتا ہے ۔جو عالمی سطح پر امن وآشتی اور قومی یکجہتی کو بحال کرنے میں کلیدی رول اداکر تا ہے۔اس کی ضمانت دنیا کا سب سے بڑا انقلاب صنعتی انقلاب کے بطن سے پیدا شدہ مثبت اقدار پر محیط ہژدہ ہزار مختلف تحریکات ہیں ۔پروفیسر خالد محمود کی کتاب اس قبیل کی ایک شاہکار کڑی ہے۔
عہد حاضر میں شعر و ادب کا منظر نامہ چند ادبی چہروں کی روشنی سے منور اور تاباں نظر آتا ہے ولی سے لیکر میر تقی میر اور غالب سے اقبال ، جگر اور فانی تک چندنام ادب میں ستاروں کی مانند نظر آتے ہیں ایسے ہی ناموں میں خالد محمود کا نام شامل ہی نہیں ہے بلکہ سنگ میل کا حکم رکھتا ہے ان کا میدان تحقیق ،تنقید اورشاعری ہے ۔ اس موضوع پر موصوف کی تقریباً دو درجن سے زیادہ کتابیں شائع ہوکر قبول عام حاصل کر چکی ہیں ۔ مزید یہ کہ موصوف شعبہ اردو ، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں صدر شعبہ ہیں اور پچھلے دو دہائیوں سے تعلیم و تدریس کی خدمت انجام دے رہے ہیں ساتھ ہی باقائدہ فکشن کے مو ضوع پر تحقیق بھی کر رہے ہیں ان کی بے شمار تخلیقات اسی تجربے اور تحقیق کا نتیجہ ہیں موصوف کی شخصیت اردو ادب میں اپنا ایک منفرد مقام بنا چکی ہے وہ نقاد ہی نہیں بلکہ ادبی صحافی ، مترجم اور محقق کی حیثیت سے بھی مشہور و معروف ہیں ڈاکٹر موصوف اس عہد کی وہ عظیم شخصیت ہیں جنھوں نے مردہ ادبی شریعت کی جسم میں نئی روح پھونکی ہے ۔ وہ ہماری معاشرتی ،تہذیبی اور ادبی زندگی میں نشاۃ ثانیہ کا عظیم سبب ہیں ان کی نظر ہما رے عہد کے ادبی اسا لیب وہ فکریات پر اعتبار کا درجہ رکھتی ہے انہوں نے تعلیم و تدریس تک ہی خود کو محدود نہیں و تدریس تک ہی خود کو محدود نہیں رکھاہے بلکہ اس کی عہد کی تمام علمی اور ادبی سر گرمیوں کے لیے ایک تر قی پسند متحرک اور فعال حلقہ پیدا کیا ہے یہ حلقہ کہکشاں ہائے ادبا و شعرا ء کے ارفع و اعلیٰ انجمن ہیں او راس کے گر د اردو دنیاکے بہترین دماغ جمع ہیں جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ مو صوف کی ادبی زندگی دو دہائیوں پر محیط ہے ان کا عظیم اور دیر پا کارنامہ وافر تعداد میں ہمارے سامنے ہیں اور فی زمانہ کئی کتابیں زیر طبع ہیں شعبہ اردو ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا جہاں بھی رہیں گے مو صوف کے لیے احترام و شکر کے جذبات ہمیشہ سر شار رہیں گے ۔
میرے لئے یہ بہت بہتر موقع ہے کہ اردوزبان کے اندر قومی شعور کے اجزا تلاش کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ جڑوں سے کٹے ہوئے اس پورے معاشرے میں جس طرح کی بے ضابطگی اور انتشار کا پھیلاؤ ہوا ہے اس کو نظر میں رکھتے ہوئے اب یہ نا گزیر ہو گیا ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں موجود تمام تہذیبی سلسلوں کو از سرِ نو دریافت کریں اور ان کے اندر قوم کی فلاح سے متعلق نکتوں کو وضاحت کے ساتھ ادبی میراث کا حصہ بنائیں تاکہ اردوادب ہندوستانیوں کو ایک مشترکہ کلچر اور تہذیب کاخاکہ پیش کر سکے۔اس کوشش میں راقم کس حد تک کامیاب ہو سکا ہے اس کا فیصلہ قارئین کے سپرد کرتے ہوئے شمع خراشی اور قلم فرسائی کرنے کی جسارت کروں گا۔
انشائیہ کے تقریباً وہی مفہوم و معنی سمجھے جاتے ہیں جو انگریزی کے لفط ’’ESSAY‘‘ سے مراد ہے ۔ نا ول اور افسانہ کی طرح ’’ انشائیہ‘‘ بھی مغربی ادب کے اثر سے وجود میں آیا۔ ’’ انشائیہ ‘‘ کی بندھی ٹکی کوئی ایک مخصوص تعریف نہیں ہے انشائیہ ذہنی پرواز کی اپج خیالات کی بلندی اور ذاتی تاثرات کو فنی انداز میں پیش کر نے کا نام ہے انشائیہ کا لکھنے والا اس کا خیال رکھتا ہے کہ اس میں علمیت یا افکار و مسائل کا بیان نہ صرف تخلیقی طور پر ہو بلکہ اس کی عبارت ادبی چاشنی شگفتگی ، تاثر اور مزاح سے بھر پور ہوتاکہ قاری اس کو پڑھ کر ذہنی آسودگی کے ساتھ ساتھ قلبی مسرت بھی محسوس کرے۔ انشائیہ کے پرواز کا کمال یہ ہے کہ وہ آزاد خیالی کے ساتھ بات میں بات پیدا کرتا ہوا اپنے مضمون کو نئے نقط نظراور نئی روشنی کے ساتھ دلچسپ انداز میں پیش کرے۔ اردو ادب میں ’’ انشائیہ‘‘ کا آغاز سرسید کے ان مضامین سے ہوتا ہے جو انھوں نے اپنے رسالہ تہذیب ا لاخلاق میں لکھے۔انشائیہ میں مذہبی ، سماجی، اخلاقی، علمی اور سیاسی غرض سب طرح کے مضامین لکھے جا سکتے ہیں۔ اردو انشائیہ کا مستقبل روشن ہے ۔
اردو ادب میں فرحت اللہ بیگ حسن نظامی اور رشید احمد صدیقی کا نام خاکہ نگاری کے لیے بہت مشہور ہے ۔خاکہ انگریزی لفظ اسکیچ کاہم معنی لفظ ہے ۔خاکہ ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں کسی شخصیت کی تصویر کشی لفظوں میں کی جاتی ہے جس شخص کا خاکہ لکھا جاتا ہے اس کی جیتی جا گتی تصویر سامنے آ جاتی ہے ۔خاکہ نگاری کا مقصد کسی شخص کی سیرت کے نمایاں پہلوؤں کو اس طرح بیان کرنا ہے کہ قاری اس سے اچھی طرح واقف ہو جائے ۔ اور اس مخصوص شخصیت اور قاری کے درمیان ایک تعلق پیدا ہو جائے۔خاکہ نگار کے لیے ضروری ہے کہ اسے اس شخصیت کا قرب حاصل ہو جس پر خاکہ لکھا جارہا ہے تا کہ اس کی زندگی کا ہر پہلو لکھنے والے کے سامنے ہو ایک اچھا خاکہ نگار کسی شخصیت کے اوصاف اس طرح بیان کرتا ہے کہ خوبیوں کا بیان کرتے ہوئے اس سے مر عوب نہیں ہوتا اور خامیاں بیان کرتے ہوئے ہر طرح کے تعصب سے آزاد رہتا ہے ۔اردو میں مرزا فر حت اللہ بیگ کا لکھا ہوا مولوی نذیر احمد کی کہانی ۔ ’’ کچھ میری کچھ ان کی زبانی‘‘ اور عصمت چغتائی کا خاکہ ’’ دوزخی‘‘ اردو کے کامیاب ترین خاکوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔ ’’گنجہائے گراں مایہ‘‘ میں رشید احمد صدیقی نے بعض اہم شخصیتوں کے نہایت دل کش خاکے لکھے ہیں اردو کے معروف خاکہ نگاروں میں مولوی عبد الحق شاہد احمد دہلوی، سعادت حسن منٹو کے نام بہت اہم ہیں ۔
افسانہ ، اورر پورتاژ کی طرح خاکہ و انشائیہ نگاری بھی اردو میں دور جدید کی پیدا وار ہے ۔ مولانا محمد حسین آزادؔ کی تصنیف آب حیات میں اسکی عمدہ مثالیں مل جائیں گی ہر چند کے آب حیات میں اردو شعراء کا تذکرہ ہے ، لیکن شعراء کرام کے فن پر روشنی ڈالتے ہوئے محمد حسین آزادؔ نے ان کی شخصیتوں کے جو خاکے کھینچے ہیں وہ بے حد دلکش اور توجہ طلب ہیں ۔خاکہ اور انشائیہ نگاری کا کمال بھی یہی ہے کہ جس شخص کا خاکہ کھینچا جائے یا جس چیز پر انشائیہ لکھا جائے اس کی چلتی پھر تی تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جائے ، لیکن عمدہ اور معیاری خاکہ اور انشائیہ کی پہچان یہ ہے کہ اس میں شخصی خو بیاں اور خامیاں دونو ں بیان کی جائیں۔
رشید احمد صدیقی کے بعدجدید دور میں بے شمار خاکے لکھے گئے مثلاً عصمت چغتائی، کرشن چندر، فکر تونسوی، مہندرناتھ ، سعادت حسن منٹو، سردار جعفری، باقرمہدی، پرکاش فکری، خالد محمود وغیرہ نے بے شمار خاکے و انشائیے لکھے ان خاکوں اور انشائیوں کے مطالعہ سے یہ اندازہ ہو تاہے کہ اردو میں خاکہ اور انشائیہ نگاری کی روایت بے حد شاندار معیاری اور مستحکم ہے ۔
’’شگفتگی دل کی‘‘ خالد محمود کے انشائیوں اور خاکوں کا مجموعہ ہے ۔مصنف کے ان انشائیوں اور خاکوں میں طنز ومزاح غالب ہے ۔ اس کتاب کے بیشتر مضامین ہند اور بیرون ہند کے مؤقر رسائل میں شائع ہو چکے ہیں ۔ انہیں زبان و بیان پر پوری قدرت حاصل ہے ان کی نظر گہری اور وسیع ہے وہ محاوروں کا صحیح استعمال جانتے ہیں اور ان سے لطف پیدا کرتے ہیں ۔ اپنی تحریر کو بامعنی بنانے کے لیے الفاظ بھی معیاری استعمال کرتے ہیں ۔ اس کتاب میں چونکہ زیادہ تر خاکے ایسی شخصیتوں پر ہیں جن سے وہ متاثر ہوئے یا رہے ہیں اس لئے انہوں نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ صاحب خاکہ کو اپنی ظرافت کی گل افشانیاں دکھا نے کے لیے تختہ مشق نہ بنائیں۔ اس لئے عام طور پر یہ خاکے بہت مودبا نہ انداز میں لکھے گئے ہیں تاہم کہیں کہیں ظرافت کے ہلکے چھینٹے ضرور نظر آجاتے ہیں ۔ہر خاکے میں کچھ ایسا التزام کیا گیا ہے کہ ممدوح کی شخصیت پوری طرح ابھر کر سامنے آجائے ۔ ان میں سے بعض خاکے میں تو ممدوح کی آنکھوں کے سامنے چلتا پھر تا نظر آتا ہے ہم کہہ سکتے ہیں کہ خالد محمود ایک کامیاب خاکہ نگار ہیں ۔ اردو کے کلا سیکی ادب سے ان کی واقفیت بھی اعلیٰ درجہ کی ہے وہ ایک ہی ساتھ محقق نقاد شاعر و ادیب ہیں ۔
اردو کے نامور عالمی ادیب ودانشور پروفیسر مناظر عاشق ہر گانوی اپنے ایک مضمون میں پروفیسر خالد محمود کی شخصیت پربات کرتے ہوئے منددرجہ ذیل آرا قائم کرتے ہیں ۔شخصیت اورجذبات سے بھرپور شاعرخالد محمودبھی ہیں وہ بی ایڈ ہیں اردومیں ایم اے ہیں پی ایچ ڈی ہیں ادیب کامل،منشی فاضل،فاضل دینیات ہیں اور تعلیمی ،تربیتی اور تجرباتی کورسیز سے متصف ہیں وہ شاعر ہیں، مقالہ نگار ہیں ،تبصرے،خاکے اور انشائیے بھی انہوں نے لکھے ہیں اس سے ان کے دماغ کے لاتعداد احساسات کا انداز ہ ہوتا ہے ۔بحیثیت غزل گو ان کی فنکاری میں تخلیقی قوت ہے اور قدروں کی صحت مندی کو برتنے میں ذکاوت کی سطح بلند ہے ساتھ ہی ایما واشارہ میں عصری حسّسیت کے نقوش ابھارنے کا ہنروہ اچھی طرح جانتے ہیں ۔
خالد محمود کی شگفتہ تحریروں کا قائل ہروہ شخص ہے جس نے انھیں پڑھا ہے یاسنا ہے ۔وجیہہ خدوخال کے مالک خالد محمود علمی وادبی حلقوں میں مقبول بھی اسی لیئے ہیں کہ وہ خود بھی نستعلیق ہیں اور ان کی تحریریں بھی ۔میرے سامنے ان کی تحریروں کا یہ مجموعہ ’’شگفتگی دل کی ‘‘ ہے جس پر کچھ لکھنے سے پہلے میں یہ صاف کر دینا مناسب سمجھتاہوں کہ زندہ تحریریں وہی ہوتی ہیں جو آنکھوں سے پڑھی جائیں لیکن ہر لفظ دل میں اتر جائے ۔ خالد محمود اس کتاب کے حوالے سے ایک خوش اطوا ر، خوش اسلوب ، خوش فکراور خوشخصال قلم کار کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم کرتے نظر آتے ہیں لیکن دوران خوش طبعی جب ان کا قلم سنجیدگی کی طرف مائل ہوتا ہے تو اسے بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔آپ کو یہ جان کر یقیناًحیرت نہیں ہونی چاہئے کہ پچھلے 30-20سالوں میں ادب کا مفہوم ہی بدل گیا ہے اب کسی سنجیدہ ادب کا مطلب ہوتا ہے کسی مخصوص فکرکو مشتہر کرنا جو ادبی کم سیاسی زیادہ ہو لیکن خالد محمود کی سنجیدگی ذرا دوسرے قسم کی ہے
’’یو ں دیکھا جائے تو صغریٰ آپا ساٹھ سال کی تو اسی دن ہوگئی تھیں جب ان کے مربیّ اور مشفق ماموں جان (عابد صاحب ) اور ممانی جان(صالحہ آپا ) انہیں چھوڑ کر چل دیئے تھے ۔ ناز برداریاں کرنے والے نہ ہوں تو انسان فوراً ساٹھ کا ہو جاتاہے ‘‘
(’’صغریٰ آپا وظیفہ یا ب ہوگئیں‘‘ ،صفحہ33،’’شگفتگی دل کی‘‘ ،خالد محمود)
صغریٰ مہدی کی ملازمت سے سبکدوشی کے موقع پر پڑھا گیا یہ مقالہ خالد محمود کی ان حسین تحریروں میں سے ایک ہے جس میں انہوں نے شگفتہ تحریروں کو و قار عطا کر دیا ہے لیکن پورے مضمون میں اندرونِ متن ایک کرب بھی موجودہے کہ اب شعبوں سے صغریٰ مہدی جیسے کردار رفتہ رفتہ غائب ہوتے جارہے ہیں جنھیں وہ اپنا کلیگ نہیں بلکہ بڑی بہن کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں لیکن خالد محمود مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اپنے اس مضمون میں کہیں بھی اس ناسٹلجیا کو جملوں کے اندرون سے کسی معمولی روزن کے ذریعہ بھی جھانکنے کا موقع نہیں دیا ہے ۔
چونکہ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں استاد ہیں اور شعبۂ اردو سے وابستہ ہیں اس لیئے وہاں موجود لوگوں پر انکی نظر گہری ہے لیکن ان کی یہ گہری نظر کس قدر دوراندیش ہے اس کے لیئے ان کا مضمون ’’ ذکراس پری وش کا ‘‘ پڑھنا ہی نہیں چاہئے حفظ کر لینا چاہیئے تا کہ
اگرکبھی بھی جامعہ ملیہ میں کسی انٹرویوسے سامنا ہو تو خالد محمود دعاؤں کے مستحق قرار پائیں ۔
’’ جامعہ ملیہ کو ادارہ بنانے میں گاندھی جی کے علاوہ مولانا محمد علی جوہر، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، حکیم اجمل خاں اور مولانا ابوالکلام آزاد وغیرہ کے نام لیئے جاتے ہیں اور جامعہ ملیہ کو ا دارہ بنائے رکھنے میں ڈاکٹر ذاکر حسین، پروفیسرمحمد مجیب ، ڈاکٹر عابد حسین او ر شفیق الرحمن قدوائی جیسی ہستیوں کا ذکر کیا جاتا ہے ۔یعنی یہ تمام حضرات جامعہ میں رہے تو جامعہ ادارہ بنا۔ میری دلیل یہ ہے کہ یہ تمام ہستیاں مولانا محمد علی سے لیکرپر وفیسر محمد مجیب تک جامعہ میں تو اب موجود نہیں لیکن ’’ لطیف صاحب‘‘ کے اندر وں میں بہر حال موجود ہیں۔سب کی روحیں عالم ارواح کو چلی جاتی ہیں لیکن مذکورہ بالا حضرات کا عالم ارواح لطیف صاحب ہیں ‘‘
ممکن ہے بہت سے قاری عبدالطیف اعظمی کونہ جانتے ہیں لیکن یہ خاکہ اس انداز سسے انہیں متعارف کراتاہے کہ قاری عبدالطیف اعظمی کی شخصیت اور ان کے اورصاف ظاہر ہوجاتے ہیں ان کی شخصیت کی نگاری کرکے خالد محمود نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ شخصی مضامین اور خاکے جسے بظاہر تفنن طبع کے علاوہ اور کچھ نہیں سمجھا جاتا ۔اس کا دائرہ جتناچاہیں وسیع کریں شرط صرف یہ ہے کہ آپ کی
ذہانت یاذکاوت کس درجہ کی ہے ۔آپ سمجھ رہے ہونگے کہ خالد محمود صرف کڑوی گولی کوشہد میں لپیٹ کر پیش کرتے ہیں اور یہی ان کی خوش قلمی ہے ایسا بھی نہیں ہے انھوں نے اپنی بلیغ نظری اور وسیع مطالعے سے لفظ گری کا ہنر بھی سیکھا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ شگفتہ تحریر لکھتے وقت سب سے بڑی ضرورت جس شئے کی پڑتی ہے وہ ہے ایسے الفاظ و تراکیب جو نئے بھی ہوں اور معنی کی ترسیل میں آسانی بھی پیدا کریں تقریباًچاروں خاکے اور پانچوں انشایئے میںیہ صفت موجود ہے۔ انتساب سے شروع ہو کر قلم برداشتہ تک ان کی تحریر کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے ۔ اور آج کے نوجوان ادیبوں کو مطالعے کی دعوت دیتاہے کہ ’’ دیکھئے میاں ادب کی خدمت یو ں کی جاتی ہے ۔
***
Viewers: 4973
Share