Naghma Naz Maktoomi | Story | گھائو

نغمہ ناز مکتومی آزاد نگر ، مانگو ،جمشید پور ۔ ۸۳۲۱۱۰ جھاڑ کھنڈ ۔انڈیا naghmanaazmaktoomi@gmail.com گھاؤ مرزا و جاہت بیگ کا اکلوتا بیٹا اسد اللہ بیگ انگلینڈسے اپنی پڑھائی مکمل […]

نغمہ ناز مکتومی
آزاد نگر ، مانگو ،جمشید پور ۔ ۸۳۲۱۱۰
جھاڑ کھنڈ ۔انڈیا
naghmanaazmaktoomi@gmail.com

گھاؤ

مرزا و جاہت بیگ کا اکلوتا بیٹا اسد اللہ بیگ انگلینڈسے اپنی پڑھائی مکمل کر کے لوٹا تو اس نے شہر کے بجائے گاؤں میں اپنا اسپتال بنانا پسند کیا تاکہ وہ گاؤں کے لوگوں کی مدد بہتر ڈھنگ سے کر سکے۔ بہت کم دنوں میں ہی وہ لوگوں کے دلوں پر راج کرنے لگاتھا اس میں دخل ان کے ماں باپ کی تربیت اور اپنی نرم مزاجی خوش اخلاقی اور جوش ولگن سے کچھ کر گذرنے کی چاہ تھی وہ ایک کامیاب سرجن تھا۔ کبھی گاؤں والوں کو باہر جانے کی نوبت ہی نہیں آتی تھی تمام عمر کے لوگ اس کے گرویدہ تھے یہی وجہ تھی کہ بلاجھجک اس کے کلینک پر لوگ کسی وقت بھی آتے جاتے رہتے تھے ۔ آج بھی وہ اس سلسلے میں ایک میٹنگ میں مصروف تھے کہ گاؤں والے کے لئے اور کیا کیا جا سکتا ہے۔
اچانک باہر سے کسی کی منت سماجت بھری آواز یں اُن تمام ڈاکٹر کے کانوں تک لگاتار پہنچ رہی تھیں………بچالیں سرکا ر میرے بچے کو بچالیں ………بھگوان آپ کا بھلا کرے گا ۔
چیمبر میں بیٹھے ملک کے نامور سرجن اسداللہ کے کانوں میں بھی یہ آوازیں بخوبی پہنچ رہی تھیں جسے زیادہ دیر وہ نظر اندازنہ کر سکے ۔
’’کیا ہوا ……………. ‘‘ ا نہوں نے باہر آکر اپنے ساتھی ڈاکٹر فراز سے پوچھا جس کے قدموں کو دوبوڑھے وجود نے جکڑ رکھاتھا بیزاری اور جھنجھلاہٹ ڈا کٹر فرازکے چہرے سے عیاں تھی ………
’’ پلیز اسد انہیں تم سنبھال لو یہ میرے بس کا نہیں ہے ۔ ‘‘یہ کہہ کر وہ نخوت سے ناک پر روما ل رکھ کر چل پڑا ۔ یکایک ان کی نظر ان کے بوڑھے وجود پر پڑی اور چونک گئے۔
’’کا کاتم ………‘‘ ’’بابو …..بابو وہ جوگیا …اسے بچالو مالک ۔ ‘‘ بوڑھے باپ کا وجو د کا نپ رہا تھا اوراتنا کانپ رہا تھا کہ منھ سے آوازنکل ہی نہیں پارہی تھی ۔ ماں کا جھریوں بھرا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔ بکھرے بال اُجڑے حال غریبی کی تصویریں عیاں کر رہی تھیں ۔ ماں نے جھریوں بھرے ہاتھوں سے بہ مشکل ایک جانب اشارہ کیا جہاں ٹھیلا پر خون میں لت پت پڑے وجود کو دیکھکر اسداللہ کا سر چکراگیا ۔
’’یہ کیسے ہوا۔؟ ‘‘
’’ کیا بتاؤں بابو آج کل گھر کہاں بنتا ہے۔ٹرین کی طرح بڑے بڑے مکان بننے لگے ہیں۔یہ دُنیا والے دُنیا میں رہ کر آسمان کو چُھونا چاہ رہے ہیں۔ اور نہ جانے کام کے دوران کیسے جوگیا کا پاؤں پھسلا اور وہ ایک دم سے نیچے آ گرا۔
ڈاکٹر اسد اُللہ کے منھ سے ایک آہ نکل گئی۔
اورآناََ فاناََ اسے آپریشن کے لئے لے جایا گیا جہاں اس کا آپریشن ہونا تھا حالت کافی نازک تھی بچنے کے امکان بہت کم تھے مگر وہ اللہ کی ذات پر یقین کر کے اس کو بچانا چاہ رہے تھے کیو نکہ جو گیا کے ماں باپ کو وہ اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ دونوں جگہ جگہ مزدوری کیا کر تے تھے اسی بیچ ایک دن بالو کی بوری اٹھاتے وقت بوری کا منہ کھلااور سارابالو جوگیا کے باپ کے چہرے پر جا گرا ۔ علاج کے دوران پتہ چلاکہ آنکھیں ہمیشہ کے لئے بیکار ہو گئی ہیں ماں ہی جیسے تیسے کچھ کماکر لاتی اور سب کا پیٹ بھرتی جوگیا کم عمری میں ہی راج مستری کا کا م کر نے لگاتھا۔ اسداللہ پہلے جہاں پر رہا کر تے تھے وہیں پر ان کی جھونپڑی تھی جسے کھراور مٹی سے لیپ کر بنایا گیاتھا یہ ہمیشہ ان کی مددکیا کرتے تھے۔ نہایت ہی ملنساراور خداترس انسان تھے اور انہیں سب کا دکھ اپنا ہی لگتا ۔
آج وہ جی جان سے کو شش کر رہے تھے کہ ماں باپ کا سہارا بچ جائے وہ ان ہی سوچوں میں غلطاںآپریشن روم کے اندر آچکے تھے ڈریس چینج کرکے بسم اللہ پڑھ کر جو نہی سیزر ہاتھ میں لیا کہ اچانک آپر یشن روم کا دروازہ دھڑادھڑ ہونے لگا وہ سب چونک گئے اس میں سے کسی نے بڑھکر دروازہ بھی کھول دیا اور ایک ہی لمحے میں سب بندوق اپنے کاندھے پر دیکھ رہے تھے ۔
’’ڈاکٹرتم سب چلو پہلے بھیا جی کا آپریشن کردوآپریشن بہت ضروری ہے نہ جانے کتنی ہی گولیاں مخالف پارٹی والوں نے اُن کے سینے میں اتاردی ہیں ۔‘‘ وہ پارٹی کے لوگ کم اور کرمنل زیادہ لگ رہے تھے ۔
کسی ڈاکٹرمیں جنبش کی ہمت تک نہیں تھی ۔ ’’میں نہیں جاسکتا یہ ناممکن ہے۔‘‘ ’’ارے تیرے منھ میں زبان بھی ہے ۔باقی تو سب خاموشی سے نکل گئے تو اپنی موت کو دعوت دے رہاہے یہ مت بھول کچھ لوگوں کو تمہارے گھر پر بھی بھیج دیاہے۔ مگرگھر والوں کو پتہ نہیں ہے جیسے ہی تو نہ کہے گا وہاں گولیاں چل جائیں گی تیرے بوڑھے ماں باپ بیوی اور ایک بیٹا بھی توہے ۔‘‘
اسدکے دل کو کسی نے دبوچا مگر وہ ہمت سے بول ا’ٹھے۔ ’’میں اِسے چھوڑ کر نہیں جاسکتا ۔‘‘ جوگیا کی حالت بگڑ تی ہی جارہی تھی ……….. ’’ٹھیک ہے اِسے دوسرے ڈاکٹردیکھ لینگے ۔‘‘
’’دیکھو میرا وقت ضائع مت کرو …..مجھے اس کا آپریشن کرنے دو ۔ ‘‘ ’’تو،تو ایسے نہیں مانے گا ۔اِسے ہی دو گولی اور مار دیتے ہیں تب تو ، توجائے گا ۔ کسی نے ریوالور بھی جوگیا پر تان دیا۔ ’’ نہیں۔ ‘‘ وہ کانپ گئے ۔ بندوق کی زدپر وہ لوگ جوگیا کو دوسرے روم میں لے گئے اور بھیا جی کو آپریشن روم میں لے آئے ۔
’’تم سب اوراسد تم بھی دھیا ن سے سنو بھیا جی کو کچھ بھی نہ ہونے پائے نہیں تو تیرا پر یوار ماراجائے گا……… ‘‘وہ خونخوار نظروں سے انہیں دیکھتے ہوئے بولا۔ اسداللہ آج بے بسی کے انتہا پر تھے۔ ان کا دل ماتم کدہ بناہواتھا۔ اپنے ماں باپ ، بیٹے ،بیوی ،جو گیا اور اس کے ماں باپ سب کا چہرہ ، نگاہوں میں متواتر گھوم رہاتھا ۔ نہ جانے کیسے انہوں نے آپریشن مکمل کیا اور کامیاب بھی رہے ۔دوسرے ساتھیوں نے مسکراکر ہاتھ ملایا مگر وہ مسکرابھی نہ سکے۔ اسد ، بھیا جی کے ساتھیوں کو بھیا جی کے بچنے کی نوید اور دو گھنٹے بعد ملاقات کی خبر دے کر کوریڈور میں آئے تو چاروں اطراف میں صبح کی سفیدی پھیلی ہوئی تھی، وہ تقریباِِِِِِ دوڑتے ہوئے جا رہے تھے کہ سامنے سے آتی ہوئی نرس، اسٹاف بوائے اور ایک دو ڈاکٹر جو راؤنڈ پر موجود تھے سب سے جوگیا اور اُس کے ماں باپ کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ اور چونکہ شفٹ بھی چینج ہو چُکا تھا شاید اسی لئے سارے لوگ لا علمی کا اظہار کر رہے تھے۔
اسد اُللہ تمام ڈاکٹر کے مخفی جواب سے دل برداشتہ ہوکر تھکے تھکے قدموں سے اپنی گاڑی کی جانب چل پڑے نہایت ٹینشن میں گاڑی چلاکر جب گھر پہونچے تو سب سے پہلے اپنے وا لدین پر نظر پڑ ی تو ساری تھکن کا احساس ہی ختم ہوگیا بیٹا بھی آکر لپٹ گیا تھا وہ وہیں ماں کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئے ماں دھیرے دھیرے سر سہلانے لگی ،اس درمیان نازنین چائے اور اخباربھی ساتھ لے آئی۔ ایک نظر اُس نے اپنی بیوی کو دیکھا جس کی آنکھوں میں انتظارکی سُرخیاں تیر رہی تھیں اور وہ عادی ہوگئی تھی ایسی ہی تنہا راتوں کی ۔ وہ چائے ٹی ٹیبل پر رکھ کر دھیرے سے مسکرا تی ہوئی کچن میں چلی گئی ۔اسد اللہ اخبارلے کر بالکونی میں آگئے۔ اخبار پر سرسری نظر ڈال کروہ ورق اُلٹ پلٹ کر رہے تھے کیوں کہ ذ ہن کے کسی گوشے میں جوگیا کے ماں باپ کی درد بھری آوازیں ابھی بھی گونج رہی تھیں۔اچانک اُن کی نظر ایک کونے میں شائع تصویر کے ساتھ مختصر سی تحریر پرپڑی ………..
پیسے نہ رہنے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے آپریشن کر نے سے کیا انکار……..جس سے لڑکے کی موت ہو گئی۔ اوربیٹے کی موت کے صدمے کو مجبور ماں باپ برداشت نہ کر سکے اور انہوں نے بھی خود کشی کر لی۔
سسکنے کی آواز سُن کر ماں نے اُس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہا اوریہ احساس دلایا کہ دُنیا کے سارے ڈاکٹر تمہاری طرح ایماندار اورخُدا ترس نہیں ہوتے ………….
مگراسد اللہ کی آنکھوں سے آنسوؤں کارنگ لہو بن کر اخبار پر پھیلتا ہی جا رہا تھا…….
***

Viewers: 11500
Share