M. Qaisar Ali | Story | میں ہوں ناں

میں ہوں نا تحریر: ایم۔قیصر علی بات ۱۹۴۶ کی ہے۔رئیس الدین خان موضع سکندر پور کے زمیندار تھے۔بہت بڑی حویلی تھی اُن کی جسے سکندر پیلیس کے نام سے جانا […]
میں ہوں نا
تحریر: ایم۔قیصر علی
بات ۱۹۴۶ کی ہے۔رئیس الدین خان موضع سکندر پور کے زمیندار تھے۔بہت بڑی حویلی تھی اُن کی جسے سکندر پیلیس کے نام سے جانا جاتا تھا اور جہاں نوکر چاکروں کی بھر مار رہا کرتی تھی۔سُندری دیوی بھی وہاں کی نوکرانیوں میں شامل تھی۔وہ بلا کی خوبصورت تھی ۔زمیندار صاحب کی حویلی غیر مُسلم آبادیوں سے گھری ہوئی تھی۔اُن کے ماتحت رعیت اُن سے کافی عزّت و احترام سے پیش آتے تھے کیوں کہ سبھی زمیندار صاحب کے رحم و کرم پر اپنی زندگی بسر کرتے تھے۔اُن کی رعیتوں کو یہ یاد بھی نہیں کہ زمیندار صاحب نے اُن لوگوں سے لگان کی وصولی کے لئے کبھی زور زبردستی بھی کی ہے۔لگ بھگ دس سال قبل زمیندار صاحب کی اہلیہ کا ایک لمبی بیماری میں انتقال ہو چُکا تھا۔اُس وقت اُن کا صاحبزادہ فرحت اﷲ خان شہر کے ایک انگریزی میڈیم اسکول کے ہاسٹل میں رہ کر تعلیم حاصل کر رہے تھے۔بیوی کے انتقال کے بعد سونی سونی حویلی اُنہیں کاٹنے کو دوڑتی تھی۔بیٹیوں کی شادی وہ پہلے ہی کر چُکے تھے اور سبھی اپنے اپنے سسرال میں ہنسی خوشی زندگی گُذار رہی تھیں۔کبھی کوئی بیٹی گھر آ جاتی تو چند روز کے لئے حویلی میں رونق لوٹ آتی تھی۔پھر وہی سنّاٹا۔۔۔!!!
مسلسل تنہائی سے تنگ آکر زمیندار صاحب نے فرحت کو ہاسٹل سے نکلوا کر اپنے پاس بُلوا لیا اور حویلی سے تین میل دورایک مدرسے میں نام لکھوا دیا۔ویسے بھی کون اُنہیں تعلیم حاصل کر کے کسی کے ماتحت نوکری کرنی تھی۔اُن کے لئے ایک بگّھی متعیّن تھی جو اُنہیں صبح ۹ بجے لے جاتی تھی اور دو پہر دو بجے واپس لے آتی تھی۔ جب فرحت خان کُرتہ پاجامہ میں ملبوس سر پہ دو پلّے کی ٹوپی لگائے بگھی پر سوار ہو کر نکلتے تھے تو لوگوں کی زبان پراُن کے لئے بے ساختہ ’’مولوی ‘‘ کا لقب نکل پڑتا تھا۔دو تین سالوں کے بعد وہ علاقے میں مولوی صاحب کے نام سے پکارے جانے لگے۔کھانے پینے کی آزادی،حویلی کے ارد گرد بسے اُن کے دور دراز کے رشتہ دار وں کے لاڈ و پیار اور
زمین دار صاحب کی شفقت نے اُنہیں کڑیل جوان بنا دیا تھا۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ زندگی کے شب و روزکبھی یکساں نہیں رہتے ہیں۔۱۰ اکتوبر ۱۹۴۶ کو صوبہ بنگال کے ایک ضلع نواکھالی میں ہندو مسلم فساد پھوٹ پڑا۔چونکہ وہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی اس لئے ہندوؤں کو چُن چُن کر قتل کر دیا گیا۔اُن بہن بیٹیوں کی عزّت سرے عام لُوٹ لی گئی۔اُن کے گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا۔یہ خبر جب سکندر پور پہنچی تو وہاں کے ہندوؤں میں غم و غصّہ کی لہر دوڑگئی۔حد تو تب ہو گئی جب نواکھالی سے لُٹے پُٹے کچھ لوگ سکندرپور میں پناہ لینے آ گئے۔اُن کی دُکھ بھری بپتا سُنکر سکندرپور کے ہندو جوانوں نے مسلمانوں سے بدلہ لینے کی ٹھانی اور حویلی کی طرف بڑھنے لگے۔لیکن علاقے کے بڑے بوڑھے اُن کے سامنے آ گئے اور گڑ ا گڑا کر اُنہیں دیوتا سمان زمیندار کو نہ مارنے کی شپتھ دے دی۔لیکن بھلا وہ غیض و غضب سے بھرے نوجوان اُن بوڑھوں کی باتوں کو کیوں ماننے لگے۔اُنہیں دھکّے مار کر راستے سے ہٹا دیا اور حویلی پر حملہ کر دیا۔نتیجتاً زمیندار ریئس الدین خان کے ساتھ ساتھ اُن کے ارد گرد رہنے والے تمام رشتہ داروں کو بھی تہہ تیغ کر دیا۔
جیسا کہ کہا گیا ہے کہ اﷲ جس کو رکھے اُس کو کون چکھے۔مولوی فرحت خان اس قہر سے اس لئے بچ گئے کہ وہ اپنے ایک دوست کی بہن کی شادی میں شریک ہونے کے لئے جلال پو گئے ہوئے تھے۔خبر ملتے ہی وہ پولس والوں کو ساتھ لے کر اپنی حویلی آئے۔تب تک دنگائیوں کا جنون ٹھنڈا ہو چُکا تھا۔حویلی میں داخل ہوتے ہی مولوی فرحت خان بچّوں کی طرح پھُوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ابھی وہ رو ہی رہے تھے کہ ایک نسوانی ہاتھ کا لمس اسکے گالوں پر محسوس ہوا جو رفتہ رفتہ رینگ کر اُسکی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کی کوشش کرنے لگا۔اُس نے سر اُٹھا کر دیکھا تو سامنے سُندری دیوی اُداس کھڑی تھی۔ماحول کو شانت پا کر پولس واپس لوٹ گئی۔
سُندری دیوی نے بے چین ہو کر اپنی ساڑی کے پلّو سے اُن کے آنسو پوچھے ۔بے ساختہ اُس کی زبان سے نکل پڑا ’’ُ آپ دل چھوٹا نا کریں مولوی صاحب! ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔میں یہیں اس حویلی میں آپ کے ساتھ رہوں گی۔دیکھتی ہوں کہ اب کون مائی کا لال آپ کا بال بھی بانکا کرتا ہے۔ بالکل چنتا نا کریں اور اب آپ نئے سرے سے زندگی شروع کریں۔ میں ہوں نا ‘‘مصیبت کی گھڑی میں ہمدردی کے دو بول سُنکر مولوی فرحت سُندری دیوی سے لپٹ گئے اور زار و قطار رونے لگے۔سُندری دیوی کافی دیر تک مولوی صاحب کی پیٹھ سہلاتی رہی ۔اس سے اُنہیں کافی سکون ملا اور زندگی جینے کی للک جو لگ بھگ ختم ہو چُکی تھی پھر سے انگڑایئاں لینے لگیں۔
ہندوستان کی آزادی سے جہاں ملک کے سارے لوگ خوش تھے وہاں مولوی فرحت نے بھی خوب پٹاخے چھوڑے۔لیکن اُن کی یہ خوشی زیادہ دنوں تک قائم نہیں
رہ سکی ۔کچھ ہی سالوں کے بعد سرکار نے۱۹۵۰ میں زمینداری سسٹم کو ختم کر دی۔مولوی صاحب کی انگریزی کی پڑھائی تو بچپن میں ہی چھوٹ گئی تھی۔مدرسے کی تعلیم بھی ادھوری ہونے کی وجہکر وہ کہیں ملازمت کے قابل بھی نہیں رہ گئے تھے۔اُن کی غیرت یہ گوارہ نہیں کر پا رہی تھی کہ وہ ایک عورت کی کمائی بیٹھے بیٹھے کھائے۔ایک دن اُنہوں نے دبی زبان سے سُندری دیوی سے ٹھاکر ہری سنگھ کے کھیت میں کام کرنے کی خواہش ظاہر کی۔بس پھر کیا تھا ۔سُندری دیوی آپے سے باہر ہو گئی۔’’ مولوی صاحب! آپ یہ مت بھولئے کہ آپ کے باپ دادا نے اس ایلاکے(علاقے) میں راج کیا ہے۔آپ آج بھی میری نجروں (نظروں )میں یہاں کے راجہ ہیں۔میرے پُروجوں
(آباواجداد) نے آپ کا نمک کھایا ہے۔میرے جیتے جی تو آپ اس کھیال(خیال) کو اپنے دماگ (دماغ) سے نکال دیجئے‘‘
سُندری دیوی نے کبھی اُنہیں اس بات کا احساس نہیں ہونے دیا کہ اُن کا سب کچھ لُٹ گیا ہے۔محنت مزدوری کر کے وہ جو کچھ بھی لاتی تھی دونوں ہنسی خوشی کھا پی کر زندگی کے دن کاٹ رہے تھے۔سُندری دیوی کے برتاؤ سے مولوی صاحب کے دل سے مایوسی کے بادل چھٹنے لگے تھے اور اُن کا زخم بھرنے لگا تھا۔
سُندری دیوی اُن کے مذہب کا خاص خیال رکھتی تھی۔بستر کا سرہانا پچھم کی طرف رکھنا،جاڑے کے دنوں میں وضو کے لئے گرم پانی دینا،سحری اور افطار کا اہتمام کرنا،مسلم علاقے سے حلال گوشت منگوانا،کمرے میں مکّہ مدینہ کی تصویریں ٹانگنا وغیرہ
۱۹۵۵ میں کالج میں دُرگا پوجا کی چھٹّی پا کر میں اپنی خالہ جان سے ملاقات کی غرض سے بھاگلپور گیا ہوا تھا۔پورے شہر میں دھوم دھام سے دُرگا پوجا منایا جا رہا تھا۔میں اپنے ایک بچپن کے دوست سے ملاقات کرنے کی غرض سے مرجان ہاٹ کے علاقے سے گذر رہا تھا
جہاں کے وشال مندر میں پوجا کی بھیڑ لگی ہوئی تھی۔اچانک میری نظر وہاں کھڑی سُندری دیوی پر پڑ گئی۔مجھے دیکھ کر وہ مُسکرائی ۔میرے مُنھ سے بے ساختہ نکل پڑا’’ مولوی صاحب کہاں ہیں؟‘‘ اُس نے ایک شخص کی جانب اشارہ کر دیا۔نزدیک جا کر دیکھا تو میرا سارا جسم لرز کر رہ گیا۔ سفید کرتہ،پیلی دھوتی میں ملبوس ،ماتھے پر لال تلک لگائے مولوی صاحب دُرگا ماتا کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے تھے۔
Viewers: 3108
Share