Muzammal Siddiqui | Interview | عبداللہ نظامی اورتعمیر ادب

عبداللہ نظامی اورتعمیر ادب
حافظ مظفر محسن اور عبداللہ نظامی صاحب سے معذرت کے بغیر
محمد مزمل صدیقی
السلام علیکم !کون صاحب ۔۔۔۔
جی مزمل صدیقی ۔۔۔۔۔۔
کہاں سے ۔۔۔۔۔
چوک قریشی سے
چندلمحے جمود میں گزرے ہم نے دوبارہ عرض کی ،جی آپ نے ہمیں پہچان لیا ۔
جواب ملا نہیں تو۔۔۔ حیرت ہے میں وہی ہوں جس کا آپ نے ملتان میں اپریل میں ہونیوالے کرن کرن روشنی کنونشن میں بوسہ لیا تھا۔۔۔۔۔
جی یاد آگیا کیسے ہیں بیٹا آپ خیر تو ہے آج کیسے یاد کر لیا ۔
جی کبھی کبھی ایک نرم گفتگو بھی کھڑتل مزاج کے سے آدمی پر بھاری پڑ جاتی ہے ،اس لئے یاد آگئی آپ کی ۔۔۔میں نے دانستہ کہا ۔۔۔
اچھا ۔۔۔!!!بیٹا آپ تو میرے نزدیک رہتے ہو کبھی آجاؤ نا ہمارے پاس؟جی ضرور آؤں گا ،میں نے کہا اور فون بند کردیا ۔
یہ وہ ملاقات تھی جو کرن کرن روشنی کنونشن کے بعد میں ٹھیک ایک ماہ بعد ہوئی تھی ،اس میں دونوں لہجے متضاد تھے گفتگو کسی اجنبی کی سی تھی ،گوکہ ہم دونوں پہلے بھی ملتان میں ہونیوالے کرن کرن روشنی کنونشن میں مل چکے تھے مگر اس وقت ملاقات میں اس قدر جازبیت نہیں تھی جو اب ٹیلی فون پر محسوس کی گئی تھی ۔
یہاں پر ایک بات میں گوش گزار کرتا چلوں کہ ایک چیز ادیب نگاری کا اپنا مزہ ہے ۔اس کا ایک اپنا کردار ہوتا ہے اپنا مزہ ہوتا ہے اپنی شخصیت ہوتی ہے مگر جب یہی شخصیت دوسرے شخص کا آئینہ پیش کرتی ہو توبڑھتی ہوئی باتوں کا تبادلہ خیال بڑھ جاتا ہے ،ملنے کی حسرتیں بڑھ جاتی ہیں ،ملاقات کا چانس ہو تو کوئی کتاب رسالہ کا لالچ بھی اندر سے انسان کو کھوکھلا سا کر دیتا ہے اور ربط ضبط کی مزید حسرتیں بڑھا دیتا ہے ۔
ایک بات یہاں میں اپنے پیارے پڑھنے والوں کو گوش گزار کرتا چلوں مجھے کتاب یا رسالہ کا کوئی لالچ نہیں تھا ۔اپریل میں ہونیوالی ملاقات کے بعد ہمارا رابطہ اور بھی ان سے بڑھ گیا ۔
بعض دفعہ تو ہم ان کی کئی دعوتیں بھی کر ڈالیں ۔
یہاں ان کا کمال دیکھئے لاہور میں معروف ادیب جناب حافظ مظفر محسن تک تو ہو آتے ہیں مگر ہم تک نہیں ۔وجہ یہی ہے کہ ہم ان پر پڑنے والے جرمانے کی ادائیگی کا مطالبہ نہیں کرتے ۔مگر یہ ہیں کہ ہمارے ساتھ ہر بار دو ہاتھ کرجاتے ہیں ۔
عبداللہ نظامی کون ہیں ،کہاں سے آئے ،کہاں کے رہنے والے ہیں اور کیا کرتے ہیں ان کا آپ کو ایک مختصر سا رف کرواتا چلوں ۔
عبداللہ ں نظامی کا تعلق لیہ کی ایک چھوٹی سی تحصیل کوٹ سلطان سے ہے ،شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں ماضی میں بچوں کے لئے بھی لکھتے رہے اب بھی کبھی کبھی ان کا بچوں کا لئے لکھا گیا مود پڑھنے کو ملتا ہے ۔
اپنی مصروفیت میں آج کل اس قدر گم ہیں کہ کچھ پتا نہیں ۔بحرحال ہم نے ایک چیز دیکھی ہے جو ان کو تمام ادیبوں سے ممتاز کرتی ہے وہ تعمیر ادب کی بچتی ہوئی روح ہے جن کو نظامی صاحب نے بچایا ہوا ہے ۔اور یہی وہ پرچہ ہے جس نے ملک کے تمام ادیبوں کے درمیاں رابطہ روا رکھا ہوا ہے ۔
نظامی صاحب کی اس نفسا نفسی کے دور میں پرچے کو بچانے کی ساکھ بڑے اچنبھے کی بات ہے ۔اگر آج ادبی رسائل کو گنا جائے تو گنتی کی تعداد بھی باقی نہیں نہیں رہی عبداللہ نظامی کی اس دور میں یہی کوشش قابل تعریف اور کہیں تو لائق تحسین معلوم ہوتی ہے ۔
مئی،جون،جولائی،اگست ،سپتمبر کے عیسوی مہینے ایسے گزرے جیسے گدھے کے سر سے سینگ ۔۔جب بھی ان سے فون پر بات ہوتی پہل ان کی ہوتی تھی ۔
بیٹا آپ آجاؤ ۔۔۔؟
نہیں ۔۔انکل آپ آجائیے آج میری مان لیجئے آپ آجائیے ۔
اچھا بیٹا آج آؤں گا ۔
جب بھی ٹیلی فونک گفتگو ہوتی ہر بار یہی بات چلتی اور یہ صاحب کسی امید کی طرح آج آئیں گے ،چھ ماہ گزرنے کے باوجود ۔۔۔
میں مسلسل بل پر بل دے رہا تھا ،بات صرف اتنی سی تھی کہ اس رات یعنی 12اکتوبر کی رات میں اٹک سے خوشحا ل ایکسپریس پر آرہا تھا ،جس نے لیہ میں سٹاپ کرنا تھا میرا ارادہ تھا کہ کوٹ سلطان اسٹیشن پر انہیں بل دے کر بلالوں گا چلو غیر رسمی ہی نہیں پانچ منٹ کی رسمی ملاقات تو ہو ہی جائے گی ۔
ہمارے ہاں یہ المیہ ہے کہ صبح صادق کے وقت سوائے مرغوں کے اور کون اٹھتا ہے میں بل ،بل دے رہا تھا مگر وہ صاحب کسی تاجر کی طرح گھوڑے بیچ کر سوئے ہوئے تھے یا اس سردی میں گھر سے نکلنا چاہ ہی نہیں رہے تھے ۔۔ہم منزل پر تو پہنچ گئے مگر ان اسے ہاتھ ملتے ہی رہ گئے ۔۔۔۔
اگلے دن دل جانا ں نے تو ملنے کی پھر انتہا کر دی ،شدت بڑھا دی ۔۔کو جو بس نظامی صاحب سے ملنا ہی ہے ۔۔
* جی میں صبح آپ کے پاس پہنچ رہا ہوں میرا انتظار کیجئے ۔میں نے کہا اور اگلے دن جانے کی تیاری کرنے لگا ۔اگلا دن بھی شدت اور پلک جھپکنے میں آ پہنچا ۔میں نہا دھو کر کوٹ سلطان کے لئے روانہ ہوا راستے میں سفر کاٹنے کے لئے اٹک اور ٹیکسلا میں بیتے دنوں کو یاد کرنے لگا جہاں سے میں حال ہی میں گزشتہ رات لوٹا تھا ۔
ابھی میں محو خیال ہی تھا کہ موبائل کا سائرن ایک بار پھر بج اٹھا جی بیٹا کوٹ سلطان میں پیر جگہی چوک کے نزدیک اتر جانا ،،،۔۔۔وہاں میرا قاصد آپ کو لینے ک لئے موجود ہوگا ۔۔۔جی اچھا کال ختم ہونے کے بعد میں کہا اور پھر اسی ساعت کے ساتھ میرے منہ سے نکلا گویا آپ بھی حافظ مظفر محسن بن گئے یعنی اگر کوئی شخص ان سے ملنے جائے تو یہ پتا چلتا ہے کہ آپ وہیں رکیں کچھ ہی دیر میں ایک گاڑی آپ کے پاس پہنچ جائے گی آپ کو لینے کے لئے ۔
میں پیر جگہی چوک میں اتر چکا تھا ،ابھی پہنچے ایک منٹ نہیں ہوا تھا کہ ایک ہم لڑکا جو مجھ سے بھاری اور بڑا معلوم پڑتا تھا موٹر سائیکل لہراتا ہوا آٹپکا
جی مزمل صدیقی صاحب ۔۔۔جی جی میں نے جوابا کہا اور علیک سلیک کے بعد سائیکل پر دراز ہوگیا ۔پھر کچھ ہی دیر میں ہم نظامی صاحب کے آفس میں تھے ۔
نظامی صاحب کسی امید وار کی طرح اپنی کرسی پر قبضہ جمائے ہوئے تھے ،تاہم یہا ں یہ بات میں بتاتاچلو ں وہ مجھ سے ملنے کے لئے اپنی کرسی سے ضرور اٹھے تھے ۔جی تشریف رکھیں کیسا رہا سفر یہاں کا اور اٹک کا ۔جی بہت اچھا میں نے کہا ،جیسے میں کسی جہاز میں سفر کرتا رہا ۔
پھر اس کے بعد تو خوشگپیوں کا ایک دلچسپ سلسلہ چل نکلا باتوں ہی باتوں میں کولڈ ڈرنکس اور دیگر لوازمات کا ڈھیر لگ گیا خوب سیر ہو کر کھایا پیا۔نظامی صاحب جتنے ہی اچھے ہیں اتنا ہی اچھا اور نفیس بولتے ہیں ،بقول عرفات ظہور سرائیکی کے تو دلداداہ ہیں جب انہیں پتا چل جائے کے دوسرا شخص بھی سرائیکی ہے تو سرائیکی بولنا شروع کر دیتے ہیں ۔ادب کا اور ان کا چولی دامن کا ساتھ ہے مگر کچھ عرصے سے صحافت سے وابستہ ہوگئے ہیں شاید اس لئے قارئین انہیں بھلا بیٹھے ہیں ۔مگر میں ابھی تک انہیں ادبی مرشد کہنے سے باز نہیں آتا کیونکہ یہ اب بھی ادب کی خدمت اپنے ماہینہ وار ادبی پرچہ تعمیر ادب کی صورت میں نکال کر کرتے ہیں ۔لکھاریوں کے ساتھ ہونیوالے مسائل کو اپنے پرچے کی زینت بنا کر ان کے دکھ کا مداوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں رنگ برنگی تحریروں سے تعمیر ادب سجاتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں مقصد ان کا یہی ہوتا ہے کہ کسی کی حوصلہ شکنی نہ ہو ادب سے دلچسپی کیسی بھی کیوں نہ ہو وہ برقرار رہے ۔متضاد خبروں کو پرچے کی زینت بنا کر حکام بالا تک ان کے مسائل پہنچانے کی کوششیں کرتے ہیں ۔اس لئے تو بعض اشخاص انہیں اپنا ادبی محسن ماننے پر اکتفا سمجھتے ہیں شاید ان کا یہ کہنا کچھ غلط نہیں ہے ۔
جی یہ مزمل صدیقی ہیں چوک قریشی سے تعلق رکھتے ہیں نظامی صاحب نے چلتی کار میں رف الطاف پرویز سے کرواتے ہوئے کہا ،نظامی صاحب آگے جبکہ میں اور گوہر جو ان کے آفس کا قاصد تھا پیچھے بیٹھے ہوئے تھے 15اکتوبر کا دن کسی ٹھنڈک کا سماں لئے ہوئے تھے اور ہم جمن شاہ کی طرف چلتے جا رہے تھے جو کہ لیہ کا ہی ایک قصبہ تھا اور وہاں ایک شادی میں کوٹ سلطان پریس کلب کے عہدیداران مدعو تھے ہم سب اسی شادی میں تقریب میں شامل تھے ۔تقریب سے فراغت کے بعد ہم ایک مرتبہ پھر کوٹ سلطان پریس کلب میں واپس آگئے ۔
الطاف صاحب یہ مزمل صدیقی ہیں اور بچوں کے معروف ادیب ہیں لیکن ان دنوں غائیب ہیں لگتا ہے عشق کر بیٹھے نظامی صاحب نے کف افسوس سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا ۔
اوہ۔۔۔ گویا تم بھی عشق کر بیٹھے ہو
انا اللہ وانا الیہ راجعون
الطاف صاحب نے فوراپڑھا نظامی صاحب نے بھی میرے اندرکی کتاب خاموش کتاب پڑھ لی تھی،ان کا خاموش ہوتے ہی ہم نے کہا نظامی صاحب کے کہنے میں کچھ تامل نہیں ان کا کہنا درست ہے ،دراصل عشق اور دوسرا پچھلی رات بیتنے والے واقعے نے تو مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے ،دماغی ساکھ کو خاصا نقصان پہنچا ہے ۔ ہوا کچھ یوں کہ گزشتہ اٹک سے واپسی پر بھکر کے نزدیک دوران حاجت پھپھو کے ہاتھ سے موبائل پھسل گیا اور ڈائریکٹ واش روم کے سوراخ سے جہنم واصل ہوگیا ۔موبائل کی قیمت اتنی نہیں تھی جتنی اس کے اندر موجود قیمتی اور محفوظ پرانے نمبر زکی تھی ۔
ادب کے معاملے پر کچھ زیادہ باتیں جگہ نہ بنا سکیں سارا وقت مجھے گزشتہ ہفتے ہونیوالی محبت نے لے لیا تھا جسے میں نظامی صاحب کو دکھ بھرے لہجے میں بتا رہا تھا ۔ہماری ادبی دنیا سے غیر حاضر ی کا علم پکھیرو لہور اشرف سہیل صاحب کو ہوا تو بجا فرمانے لگے ’’اپنے کم نال عشق کرو جہڑا توانوں اگے لے جاوے گا ‘‘ ان کا کہنا بھی معقول تھا مگر جب طبعیت اس مزاج کی متحمل نہ ہو تو ان باتوں کو کون گوارا کر سکتا ہے ۔
مندرجہ بالا تمام احوال سے قطع نظر ہم تمام وقت نظامی صاحب کے ہمراہ رہے اس دوران جو محبت انھوں نے ہم سے بانٹی اس کا احوال بیان کرنے کے لئے الفاظ کی کمی ہے سچ تو یہی ہے کہ ان کے ہمارے ساتھ بیتے خلوص کو لفظوں کا جامع پہنانے کے لئے الفاظ کی کمی ہے جس کی کمی عرصہ دراز سے ہمارے پاس محسوس کی جارہی ہے ۔میں نے جو کچھ مفروضی خیالات میں سوچا تھا اس سے بھی بڑھ کر پایا تھا ۔
دوپہر 12بجے سے شام 5بجے تک موجود رہنے والی یہ نشست اختتام پذیر ہونے کو تھی وہ رات گزارنے پر بضدتھے مگر میں گھر جانے پر بضد تھا ،دیگر معاملات بھی نبٹانے ہوتے ہیں نا انسان نے ۔۔ایک بات جو مجھے حیران کر گئی ۔کوٹ سلطان جیسے پسیماندہ گاؤں سے تعمیر ادب نکال کر ادبی مرشد بننا اور ادیبوں کی خبریں پہنچانا چھاپنا اور رابطہ روا رکھنا کتنا کٹھن اور اکتا دینے والا کام ہے مگر نظامی صاحب نے اس میں زرا برابر بھی عار محسوس نہیں کی ۔عبداللہ نظامی نے خود کو عوامی خدمت کے لئے وقف کردیا ہے دیکھنے میں آیا ہے کہ ماہنامہ تعمیر ادب کے ساتھ ساتھ ہفت روزہ تھل گزٹ نکال کر عوامی مسائل ایوان بالا تک پہنچاکر ان کے دکھوں کا مداوا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔۔میری دعاہے کہ عبداللہ نظامی جہاں بھی ہوں جس فلاحی کام میں ہاتھ ڈالیں اللہ ان سے راضی ہو ۔کیونکہ یایسے انسان کی طلب تو محسوس کی جا رہی ہے ۔
جب رخصتی کا وقت قریب آیا تو اتنا پتا چلا کہ میں بت بنا کسی مجسمے کی طرح ایک طرف ٹھہرا ہوں نظامی صاحب کتابوں کے پیکٹ تھامے میری طرف بڑحا رہے ہیں جبکہ میری آنکھوں میں نظامی صاحب سے جدائی کی نمی تیر رہی ہے ۔
ختم شد
Viewers: 2003
Share