Iqbal Hassan Azad | Story | حصار

تحریر: اقبال حسن آزاد شاہ کالونی۔ شاہ زبیر روڈ۔ مونگیر۰۸۱۱۲۰۱ا(انڈیا) حصار جب وہ پہلے پہل اس کالونی میں بسنے کے لئے آیا تھا تب یہ کالونی بڑی کھلی کھلی اور […]

تحریر: اقبال حسن آزاد
شاہ کالونی۔ شاہ زبیر روڈ۔ مونگیر۰۸۱۱۲۰۱ا(انڈیا)

حصار

جب وہ پہلے پہل اس کالونی میں بسنے کے لئے آیا تھا تب یہ کالونی بڑی کھلی کھلی اور صاف ستھری تھی۔صبح اپنے گھر کا دروازہ کھول کر وہ جب زور زور سے سانسیں کھینچتا تو اس کی رگ رگ میں تازگی دوڑ جاتی۔ لیکن پھر دھیرے یہاں نئے نئے مکانات بننے لگے اور آس پاس کی فضا آلودہ ہونے لگی۔کبھی کسی پڑوسی کے سیپٹک ٹینک سے بدبو آنے لگتی۔کبھی گھر کے سامنے بہنے والا نالا جام ہو جاتا اور کبھی کوئی اور بات ہو جاتی۔نالا تو تقریباً روز ہی جام رہتا۔ طرح طرح کے رنگ برنگے پولیتھین بیگ نالے میں بھرے رہتے۔زیادہ دن ہونے پر نالے میں سے بدبو اُٹھنے لگتی۔میونسپلٹی میں اکثر و بیشتر ہڑتال ہی رہتی ۔جب کبھی ہڑتال ٹوٹتی تو دو ایک بار اس کی صفائی ہو جاتی ۔مگر پھر جلد ہی ویسی ہی صورت حال پیدا ہو جاتی۔لیکن محلے والوں کو اس کی زیادہ فکر نہیں تھی ۔دراصل جب ہم ایک ہی منظر کو بار بار دیکھتے ہیں تو ہماری آنکھیں اس کی عادی ہو جاتی ہیں اور ہمیں بری چیزوں میں بھی کوئی برائی نظر نہیں آ تی ۔البتہ جب وہ چیز ہمارے لئے تکلیف دہ ہو جاتی ہے تب ہمارا دھیان اس کی جانب جاتا ہے ۔
اس کے گھر کے سامنے ایک خالی پلاٹ تھا جسے کسی صاحب زر نے اس خیال سے خرید کر رکھ چھوڑا تھا کہ مستقبل میں جب کبھی اسے یا اس کے بچوں کو یا بچوں کے بچوں کو اس کی ضرورت پڑے گی تو اسے فروخت کیا جائے گا۔یہ پلاٹ کالونی میں ایسا ہی تھا جیسے چاند میں داغ۔مگر پھر بھی یہ بڑے کام کی چیز تھا اور اس کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا تھا۔آس پاس کے گھروں کے مرد اس میں کوڑا ڈالتے تھے اورعورتیں اپنے نیپکین پھینکتی تھیں۔پھر میونسپلٹی کی ڈومنیں آتی تھیں اور وہ ان کوڑوں کو یکجا کر کے انہیں آگ دکھاتی تھیں۔اور چونکہ اس کا گھر پورب رخ تھا اس لئے سارا دھواں اس کے گھر میں بھر جاتا تھا اور اس وقت گھر میں رکنا مشکل ہو جاتا تھا۔اسے چند چیزوں سے بڑی وحشت ہوتی تھی…..دھواں،دھول،بھیڑ،شور اور بدبو۔لیکن مصیبت یہ تھی کہ اس پلاٹ سے نہ صرف دھواں اُٹھتا تھا بلکہ کتے بھی یہیں پر جمع ہو کر شور مچاتے تھے۔صرف اتنا ہی نہیں بلکہ یہی وہ مقام تھا جہاں کتے جفت کرتے تھے،کتیاں بچے دیتی تھیں اور پلّے اسی میں پل کر جوان ہوتے تھے۔ا سے یاد آیا کہ ایک دفعہ کوئی کتا اس کے گھر کے سامنے خالی پڑے پلاٹ پر مر گیا تھا۔دو دنوں تک تو کچھ خاص احساس نہیں ہوا مگر تیسرے روز اس میں سے بدبو کے سوتے پھوٹ پڑے تھے۔ اس کے گھر کا کونہ کونہ بدبو سے بھر گیا تھا اور کھانا پینا تک دو بھر ہو گیا تھا۔تب وہ پاس والی ڈوم کی بستی میں گیا تھا اور ایک ڈوم کو بہت منت سماجت اور اچھی خاصی رقم دینے کے بعداس سڑے ہوئے جانور کو پھینکنے پر راضی کر پایا تھا۔کتے کی لاش ہٹ جانے کے بعد اس نے اطمینان کی سانس لی تھی۔لیکن اسی شام ایک دوسری گلی سے گذرتے ہوئے اس نے دیکھا کہ وہی مرا ہوا کتا ایک دوسرے آدمی کے مکان کے سامنے پڑا تھااور وہی ڈوم مالک مکان سے کتے کو پھینکنے کے لئے ایک موٹی رقم کا مطالبہ کر رہا تھا۔سالا کتا!اس کو تو پکڑ کر مارنا چاہئے۔مرے ہوئے کتے کا کاروبار کرتا ہے۔کمینہ کہیں کا۔اس نے سوچا اور ناک پر رومال رکھ کر تیزی سے قدم آ گے بڑھا دئے تھے۔
اس خالی پلاٹ کو دیکھ دیکھ کر اس کی بیوی کے دل میں پتہ نہیں کیسے کیسے خیالات آ تے تھے۔ایک دن وہ نیک بخت کہنے لگی۔
’’ابھی بھی کالونی میں کئی پلاٹ خالی پڑے ہیں۔کیوں نہ ہم بھی ایک پلاٹ خرید لیں۔ کل بچے بڑے ہونگے تو کام آئے گا۔‘‘ بیوی کی بات سن کر اسے ہنسی آ گئی۔کہنے لگا۔
’’ تم بھی کیسی باتیں کرتی ہو۔قرض لے کر تو یہ مکان بنوایا ہے۔ابھی تک اس کی قسطیں ہی جمع کر رہا ہوں۔نیا پلاٹ خریدنے کے لئے پیسے کہاں سے آئیں گے؟‘‘
وہ کہنے لگی۔
’’پیسوں کا آ نا کون سی بڑی بات ہے۔لیکن آپ پیسے کمانا نہیں جانتے۔‘‘اس کی بیوی نے سچ ہی کہا تھا۔وہ جس دفتر میں کام کرتا
تھا وہاں یہاں سے وہاں تک پیسوں کا کھیل تھا۔لیکن پتہ نہیں یہ اس کے شریف خون کا اثر تھا یا اس کے پرہیزگار والد کی تعلیمات کا نتیجہ کہ اسے اس قسم کے پیسوں سے وحشت ہوتی تھی۔ایک دفعہ ایک شخص نے بغیر طلب کئے ہوئے اسے نوٹوں کی گڈی بڑھا دی تھی جسے اس نے ایک نرم مسکراہٹ کے ساتھ لینے سے انکار کر دیا تھا۔یہ بات جب اس نے اپنی بیوی کو بتائی تو وہ بہت خفا ہوئی تھی ۔کہنے لگی۔
’’ جب کوئی خود اپنی مرضی سے کچھ دے رہا ہے تو اس میں برائی کیا ہے ۔آپ اس سے مانگنے تو نہیں گئے تھے۔آئندہ ایسی بیوقوفی مت کیجئے گا۔‘‘
بیوی کی بات سن کر اسے غصہ آ گیا تھا۔وہ اسے بے وقوف کہہ رہی تھی۔اس نے بیوی کوچند سخت اور سست باتیں سنا ڈالیں۔حوّا بار بار آدم کو شجر ممنوعہ کی جانب کیوں متوجہ کرتی ہے۔آخر کتنی بار اسے جنت سے نکلنا پڑے گا؟پھر اس نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے اسے ٹھنڈے لہجے میں سمجھانے کی کوشش کی تھی مگر بیوی کے دل میں ایک گانٹھ سی پڑ گئی تھی۔عورت کا دل ایک بڑے گڈھے کی مانند ہوتا ہے۔ایک بار کوئی بات اس کے دل میں جم جاتی ہے تو پھروہاں سے نکلتی نہیں۔بیوی کے دل میں بھی ایک نئے پلاٹ کو خریدنے کی بات جم گئی تھی۔ہر دوسرے روز وہ اس کا تذکرہ چھیڑ دیتی۔وہ جھنجھلانے لگا تھا ۔اور پھر یہ جھنجھلاہٹ غصے میں تبدیل ہوتی گئی تھی۔ گرچہ وہ بہت ٹھنڈے دماغ کا شخص تھا مگر ایک ہی بات کو بار بار سن کر اس کے ضبط کا دامن چھوٹتا جا رہا تھا۔حالانکہ دونوں کے درمیان شروع دنوں ہی سے بڑی اتفاق باہمی رہا تھا ۔ابھی وہ جس مکان میں رہایش پذیر تھے وہ بھی دونوں کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ تھا۔پلاننگ بیوی کی تھی۔شہر سے دورسستی قیمتوں پر پلاٹ مل رہے تھے۔بیوی نے اپنے زیور بیچ ڈالے۔اس نے پی ۔ایف سے قرض لیا اور پھر دھیرے دھیرے مکان بننا شروع ہوا۔اس دوران بچے بھی پیدا ہوتے رہے اور جب تک مکان بن کر تیار ہوا ان کے یہاں تین نفوس کا اضافہ ہو چکا تھا۔ اس عرصے میں اس کالونی میں چند اور مکانات تعمیر ہو چکے تھے اور آبادی سی ہو گئی تھی۔لیکن ابھی بھی کئی پلاٹ خالی پڑے تھے۔اس نئے مکان میں منتقل ہونے کے بعداس کی بیوی کی آنکھوں میں ایک فاخرانہ چمک آ گئی تھی۔مالکانہ حقوق کا نشہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ان کی زندگی مزے سے گذرنے لگی۔دونوں ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے۔صبح آنکھ کھلتے ہی روٹین کے مطابق وہ اپنا کام کرنا شروع کر دیتا ۔میاں بیوی دونوں مل کر بچوں کو اسکول کے لئے تیار کرتے۔وہ بچوں کے لئے ٹفن بناتی اور یہ انہیں کپڑے پہناتا اور جب اسکول کی بس بچوں کو لے کر چلی جاتی تب دونوں اطمینان کی سانس لیتے۔بیوی پھر کچن میں گھس جاتی اور وہ نہا دھوکر تیار ہوتا،ناشتہ کرتا اور آفس کے لئے نکل جاتا۔آفس میں کچھ کام، کچھ گپ شپ،تھوڑٰ ی کینٹین بازی یا اخبار بینی ۔اس طرح شام کے پانچ بج جاتے۔آفس اور گھر کے راستے میں بازار تھا ۔وہ ضروری اشیاء کی خریداری کرتے ہوئے گھر پہنچتا تو رات سنولا چکی ہوتی۔فریش ہو چکنے کے بعد تھوڑی دیر بچوں کو پڑھاتا۔پھر سب مل کر رات کا کھانا کھاتے اور پھر آنے والے کل کے استقبال کے لئے بستر پر چلے جاتے۔چھٹی کا دن کچھ الگ سا ہوتا ۔مگر اس روز بھی کوئی نہ کوئی مصروفیت سامنے آ جاتی۔کبھی بیوی بچوں کو لے کر بازار جانا پڑتا یا گھر پر ہی رکے ہوئے چھوٹے موٹے کاموں کا نپٹارا کرتا۔کبھی کبھی گھر کے سامنے بہتے ہوئے نالے کو بھی صاف کرنا پڑتا۔۔
جب سے اس کی بیوی کا دھیان ایک نئے پلاٹ کے خریدنے کی طرف گیا تھا تب سے دونوں کے درمیان تلخی کسی دوسری عورت کی طرح در آئی تھی۔وہ اسے سمجھانے منانے کی کوشش کرتا مگر ٹیڑھی پسلی کی مخلوق کسی طور پر سیدھی ہی نہیں ہو پارہی تھی۔پھر ایک روز دونوں میں زبردست جھگڑا ہوا اور بیوی بچوں سمیت میکے چلی گئی تھی۔بیوی بچوں کے چلے جانے کے بعد اول اول تو اسے سکون محسوس ہوا مگر جلد ہی بھائیں بھائیں کرتا گھر اسے کاٹ کھانے کو دوڑنے لگا۔کھانے پینے کی تکلیف الگ ہونے لگی۔اس نے سوچا کے بیوی کو منا کر لے آئے لیکن پھر خیال آیا کہ ابھی وہ بہت غصے میں ہے ۔جب دماغ ذرا ٹھنڈا ہوگا تو اسے جا لے آئے گا۔
اسی طرح کئی روز گذر گئے۔اس نے ایک دو دفعہ بیوی کو فون لگایا مگر اس نے ریسیو ہی نہیں کیا۔شاید اس نے آر پار کی لڑائی لڑنے کی ٹھان لی تھی۔اس نے کافی دن صبر اور شکر کے ساتھ گذار دئے لیکن رفتہ وہ ٹوٹنے لگا۔بیوی ٹھیک ہی کہتی تھی۔پیسے کمانا کون سا مشکل ہے۔صرف حرام حلال کا خیال دل سے نکال دینا ہوگا۔آخر پوری دنیا یہی کر رہی ہے اور جو اس سے الگ ہیں وہ اسی کی طرح ایک کونے میں سکڑے سمٹے پڑے ہیں۔اسے لگا جیسے وہ واقعی بے وقوف ہے۔گھر آئی لکشمی کو ٹھکرا رہا ہے۔اور شاید اسی لئے اس کے گھر کی لکشمی اس سے روٹھ کر میکے چلی گئی ہے۔اس نے چاہا کہ قدم آگے بڑھائے مگر ہر بار اس کے ضمیر نے اس کے قدم روک لئے۔اسے لگا جیسے وہ ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ایک جانب اس کی بیوی بچے ہیں، خوشحالی ہے اور ایک روشن اور تابناک مستقبل ہے اور دوسری جانب ایک سیدھی سادی سنسان سڑک ہے جس پر وہ اپنے ضمیر کے ساتھ بس چلتے ہی چلا جا رہا ہے۔آخر ایک روز اس نے اپنے ضمیر سے آنکھیں چرا کر ایک سنہرے موقع کو اپنی مٹھیوں میں جکڑ کر اپنی جیب میں رکھ لیا۔ایسا کرتے وقت اسے ایک عجیب سی بے چینی کا احساس ہوا۔مگر پھر اسے یہ سوچ کر راحت محسوس ہوئی کہ اب اس کی بیوی بچے واپس آ جائیں گے ۔اسے خوشی سی محسوس ہوئی۔آفس سے چھٹی کے بعد وہ کافی دیر تک بازار کی رونقیں دیکھتا رہا تھا۔آج اسے پہلی باربہت ساری ایسی چیزیں دکھائی دیں جو اب تک اس کی نظروں سے اوجھل تھیں۔شو کیس میں سجے ہوئے ایک سے ایک خوبصورت اور دیدہ زیب کپڑے،نئے نئے سامان،گھر کو سجانے والی اشیاء اور بھی بہت کچھ۔اسے لگا جیسے وہ اس بازار میں آج پہلی بار آیا ہے۔جیب میں کڑکڑاتے نوٹوں کے آنے کے ساتھ ہی اس کی پیشانی پر شیو کی تیسری آنکھ اُگ آئی تھی جس سے دنیا زیادہ خوبصورت ،زیاددہ دلکش اور زیادہ جاذب نظر آ نے لگی تھی۔اس رات ہوٹل میں کھانے کے بعد جب وہ ہلکے ہلکے قدموں سے ٹہلتا ہوا گھر کی جانب بڑھ رہا تھا تو ٹھنڈی ہوا کے ہلکوروں میں اسے اپنا آپ بڑا ہلکا ہلکا سا لگا۔اسے اپنی طالبعلمی کا زمانہ یاد آ گیا جب وہ لاج میں رہا کرتا تھا اور اسی طرح ہوٹلوں میں کھانا کھاتا اور مٹر گشتی کیا کرتا۔ کیا آزادی کے دن تھے۔پرانے دنوں کی یاد نے اس کی روح میں تازگی سی بھر دی اور وہ ہلکے ہلکے سروں میں گنگنانے لگا۔ اس کی آواز قدرے بھدی اور بھونڈی تھی مگر فلمی گانے اس کی کمزوری تھے اور وہ تنہائی میں اکثر اپنے پسندیدہ نغموں کو گایا کرتا یا پھر ہونٹوں ہی ہونٹوں میں دھیمے سروں میں اپنے آپ کو کو سنایا کرتا ۔ان دنوں اس کا کئی لڑکیوں سے ایک ساتھ رومانس چل رہا تھا ۔ وہ جس لاج میں رہتا تھا اس کے آس پاس کے گھروں میں کئی ایسی لڑکیاں تھیں جو اسے میٹھی نظروں سے دیکھا کرتیں اور پھر کالج میں بھی بہت ساری حسینائیں اسے دیکھ کر شاید ٹھنڈی آہیں بھرا کرتی تھیں۔ایسا اس کا خیال تھا ۔براہ راست کسی لڑکی سے نہ تو اس کی کوئی بات چیت تھی نہ ہی خط و کتابت۔موبائل تو بس خال خال لوگوں کے پاس تھا ۔وہ اکثر اپنی نام نہاد معشوقاؤں کی گنتی کیا کرتا اور ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوا کرتا۔شاید یہ اس کی خوش فہمی تھی لیکن اگر کسی خوش فہمی سے خوشی حاصل ہو تو اس میں برائی بھی کیا ہے۔یہ خوش فہمیاں خوشبو ؤں کی طرح اسے اپنے گھیرے میں لئے رہتیں۔گذری ہوئی یادوں کی خوشبو میں میں رچا بسا جب وہ اپنے گھر پہنچا تو ایک عجیب سی بدبو نے اس کا استقبال کیا۔اس نے اس پر زیادہ دھیان نہیں دیا۔اسے لگا جیسے پڑوسی کے سیپٹک ٹینک سے وقتاً فوقتاً اُ بھرنے والی بدبو اس کی کھڑکی سے اندر گھس آ ئی ہے مگر اسے یہ سوچ کر اطمینان ہوا کہ تھوڑی ہی دیر میں بہتی ہوئی ہوائیں اس بدبو کو اپنے ساتھ اُڑا کر کہیں اور لے جائیں گی ۔ ا س نے اس جانب کی کھڑکی بند کر دی ۔اندر بیڈ روم میں جا کر پہلے اس نے جیب میں رکھی رقم کو الماری میں بند کیا اور پھر اس کے بعد ٹی وی آن کر کے بستر پر تکئے سے ٹیک لگا کر نیم دراز ہو گیا۔پرانی فلموں کے گانے دکھائے جا رہے تھے ۔وہ ان پرانے گیتوں میں محو ہوتا گیا۔اسے طویل ڈرامے اور ریالیٹی شوز جیسے پروگراموں سے بڑی وحشت ہوتی تھی۔اس کے خیال میں اصل ڈرٹی پکچرزیہ پروگرامس ہیں،ڈرٹی اور بدبودار۔وہ یا تو گانے سنتا یا یا نیوز اور کبھی کبھار کرکٹ میچ دیکھ لیا کرتا مگر اب نیوز اور کھیل کودمیں بھی اچھی خاصی گندگی در آئی ہے اس لئے وہ ٹی وی دیکھنے سے زیادہ تر اجتناب کیا کرتا اور ویسے بھی زندگی اب اس قدر مصروف ہو گئی ہے کہ گھر پر آرام سے بیٹھ کر اپنے مشغلوں اور شوق کو پورا کر پانا اب دشوار سا ہوتا جا رہا ہے۔
پروگرام کے دوران جب اینکر آیا تو اس نے ٹی وی آف کر دیا ۔اسے اینکرز کبھی پسند نہ آتے تھے…..خواہ مرد ہوں یا عورتیں۔کیا ضرورت ہے ان کی ۔صرف گانے دکھاتے رہو بھائی ۔وہ اینکرس کی باتیں سن سن کر بور ہو جاتا ۔اور جب انسان بور ہونے لگتا ہے تو اسے نیند آ نے لگتی ہے۔اس کی آنکھوں میں بھی نیند سمانے لگی لیکن کسی گاڑی کی آواز سے اس کی بند ہوتی ہوئی آنکھیں کھل گئیں۔اس نے کھڑکی ذرا سی کھولی اور باہر جھانک کر دیکھا ۔سڑک پر ایک پک اپ وین کھڑی تھی ۔باہر نیم تاریکی تھی اور اس میں چند ہیولے حرکت کر رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ دبی زبان میں کچھ باتیں بھی کرتے جاتے تھے ۔اس کا تجسس جاگ اُٹھا۔اس نے آ وازوں کی جانب کان لگا دئے ۔اس نے دیکھا کہ پک اپ وین کا پچھلا دروازہ کھولا گیا اور پھر چند مزدور بوریاں اُتار اُ تار کرآگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں ۔تھوڑی ہی دور پر ایک بنئے کا گودام تھا جلد ہی صورت حال اس پر واضح ہو گئی۔یہ دراصل غریبوں کا نوالہ تھا جو چور دروازے سے بنئے کے گودام میں جا رہا تھا۔
’’ہر جگہ ایسا ہی ہو رہا ہے۔‘‘ اس نے اپنے آپ کو مطمئین کرنے کی کوشش کی۔پھراس نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور کھڑکی بند کر دی۔اس کے بعد وہ سونے کے لئے لیٹ رہا مگر اب اس کی نیند اُڑ چکی تھی اور ساتھ ہی ساتھ بدبو کا دائرہ بھی بڑھتا جا رہا تھا۔اسے یاد آ یا کہ گھر میں اگر بتیاں ہیں اورایر فریشنربھی۔اس نے اگر بتیاں جلائیں،ایر فریشنر کا چھڑکاؤ کیا اور ایک بار پھر سونے کی کوشش کرنے لگا۔تھوڑی ہی دیر بعد وہ نیند کی آغوش میں سما چکا تھا۔
صبح آ نکھ کھلی تواس کے نیم خوابیدہ ذہن کو بدبو کے ایک بڑے ریلے نے فوراً بیدار کر دیا ۔وہ گھبرا کر اُٹھ بیٹھا۔بیڈ روم سے نکل کر ڈرائنگ روم میں آ یا تو بدبو کچھ زیادہ ہی شدید ہو گئی۔کھڑکی تو بند تھی پھر یہ بدبو کہاں سے آ رہی ہے۔شاید روشن دان کے ذریعہ۔مگر رات میں تو زیادہ بدبو نہیں تھی ۔اور یہ بدبو تو سیپٹک ٹینک والی بدبو سے بھی کچھ مختلف تھی۔پھر آ خر یہ بدبو آ کہاں سے رہی ہے؟اس نے گھڑی دیکھی۔آٹھ بج رہے تھے۔آج وہ زیادہ دیر تک سوتا رہا تھا،شاید بے فکری کی وجہ سے۔اب اس کے پاس زیادہ وقت نہیں تھا۔گھر میں گھر والی تو تھی نہیں جو اسے چائے بنا کر پلاتی ۔اسے تو چولہا جلانا تک نہیں آتا تھا۔ماچس وہ صرف سگریٹ سلگانے کے لئے جلاتا تھا۔وہ جلدی جلدی ضروریات سے فارغ ہوا ،گھر کو تالا لگایا اور بڑی سڑک پر نکل آیا۔سڑک کے کنارے والی چائے دکان سے چائے کے ساتھ دو بسکٹ کھا کر اور سگریٹ سلگا کر وہ گھر لوٹ آیا۔نالے کے قریب رک کر اس نے کتوں کی طرح نتھنے پھلائے اور ہوا میں کچھ سونگھنے کی کوشش کی۔مگر اسے وہاں کسی بدبو کا سراغ نہیں ملا ۔ سامنے والے پلاٹ پر نظریں دوڑائیں مگر وہاں پر بھی کسی مرے ہوئے جانور کی لاش نظر نہیں آئی۔لیکن جیسے گھر کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا بدبو اس کے استقبال کو پر پھیلائے بیٹھی تھی اس نے سوچا کہ اس کا پتہ لگایا جائے مگر ابھی بہت سارے کام باقی تھے۔ نہانا دھونا تھا ۔تیار ہو کر بازار جانا تھا اور وہاں کچھ کھا پی کر آفس جانا تھا ۔اور آج وحید بھی اس سے ملنے والا تھا۔اس کے بچپن کا ساتھی اور جگری یار۔وحید کے والد ہائی اسکول میں ٹیچر تھے۔ابھی حال ہی میں ان کا انتقال ہوا تھا اور وحید ان کے وظیفہ اور دیگر بقایہ جات حاصل کرنے کے لئے دوڑ دھوپ کر رہا تھا۔اس نے وحید سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس سلسلے میں اس کی مدد کرے گا۔گیارہ بجے کے قریب وہ آفس پہنچا تووحید اس کا منتظر تھا۔اس نے چائے منگوائی ۔اس دوران وحید نے اپنے والد کی سروس بُک اور دیگر کاغذات اسے دکھائے جو اس نے سکول کے ہیڈ کلرک کو خوش کرنے کے بعد حاصل کئے تھے۔وہ وحید کو لے کر محکمہ تعلیم کے آفس پہنچا۔وہاں کا بڑا بابو اس کا شناسا تھا ۔وحید اس سے پہلے بھی مل چکا تھا اور اس نے وحید کو کمیشن کا فی صدبھی بتا رکھا تھا۔اس کے ساتھ وحید کو دیکھ کر بڑا بابو کہنے لگا۔
’’میں نے ان کو ساری بات بتا دی ہے ۔پھر یہ آپ کو لے کر کیوں چلے آئے؟‘‘
اس نے کہا۔
’’ بڑا بابو! سمجھئے کہ یہ ان کا نہیں میرا کام ہے۔‘‘
بڑا بابو بولا۔
’’آپ سے میرے ویکتی گت سمبندھ ہیں۔ٹھیک ہے۔مگر میرا بھی ایک اصول ہے۔میں بنا نوٹ لئے کبھی کوئی کام کرتا ہی نہیں ہوں۔اور پھر یہ سکول میں تو پیسہ دے ہی چکے ہیں۔‘‘
’’ہر جگہ ایک ہی حال ہے۔‘‘ اس نے خود کو تسلی دی اور پھر وحیدسے بولا۔
’’بھائی ! کہاں کہاں بچو گے؟ابھی کئی چکر باقی ہیں اور پھر سکول میں بھی ابھی کئی بار جانا پڑے گا۔جیسا یہ کہتے ہیں ویسا ہی کرو۔نہیں تو اگر ایک بار کام پھنس گیا تو سمجھو پھر کبھی نہیں ہوگا۔‘‘
وحید کا چہرہ اُتر گیا۔وہ کچھ بولا نہیں۔صرف سر ہلا کر رہ گیا۔اس نے وحید سے کہا۔
’’اچھا اب میں چلتا ہوں۔آفس میں میرا انتظار ہو رہا ہوگا۔تم بڑا بابو سے معاملات طے کر لو۔انشاء اللہ جلد ہی تمہارا کام ہو جائے گا۔‘‘
آفس کے بعد جب وہ بازار ہوتے ہوئے گھر لوٹا تو ایک بار پھر بدبو اس کے سامنے کھڑی تھی۔وہ پریشان ہو اُٹھا۔آخر یہ بدبو آ کہاں سے رہی ہے۔اس کا موڈ بگڑنے لگا۔اس کی بیوی بڑی عقل مند ہے۔اگر وہ ہوتی تو اب تک اس بدبو سے چھٹکارا مل چکا ہوتا۔کیا وہ اسے فون کرکے اس کے بارے میں اسے بتائے۔نہیں، وہ تو بات بھی نہیں کر رہی۔بدبو کا کیا ہے ۔ایک دو دن میں خود بخود ختم ہو جائے گی۔اس نے اگر بتیاں جلائیں۔ ایر فریشنرکا چھڑکاؤ کیا اور بیڈ روم میں جا کر سو رہا۔
اگلے روز بھی بدبو بدستور قائم تھی۔اس نے جلدی جلدی منھ ہاتھ دھویا اور چائے پینے کے لئے سڑک پر نکل آ یا۔چائے کی دکان آج معمول سے کچھ زیادہ ہی بھیڑ تھی۔کچھ لوگوں کے ہاتھ میں آج کا تازہ اخبار تھا اور وہ خبروں پر بآواز بلند تبصرہ فرما رہے تھے۔اس نے سنا کہ کل کسی شخص کا سر عام قتل ہو گیا ہے۔اخبار میں مقتول کی خون میں سنی ہوئی لاش کی تصویر تھی اور ایک دوسری تصویر میں اس کے گھر والوں کو ولاپ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔اخبار میں مقتول کی تصویر دیکھ کر اسے خیال آیا کہ اگر کسی مردے کی آخری رسوم ادا نہ کی جائیں تو دو تین دنوں میں اس لاش سڑ جائے گی اور اس میں سے بدبوآنے لگے گی۔ویسی ہی بدبو جیسی کسی جانور کی لاش سڑ جانے کے بعد نکلتی ہے۔
چائے پی چکنے کے بعد اس نے گھر کی جانب قدم بڑھائے ہی تھی کہ خیال آیا کہ اب گھر جا کر کرنا ہی کیا ہے۔نو بجنے جا رہے ہیں۔سیدھے بازار نکل چلتے ہیں۔راستے میں ناشتہ کرتے ہوئے آفس پہنچا جائے۔وہ آ گے بڑھتا گیا لیکن ہر قدم پر اسے احساس ہوتا کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں پھر بھی وہ چلتا ہی رہا ۔بازار میں ہوٹل کھلے تھے۔وہ اپنے پسندیدہ ہوٹل میں داخل ہوا اور آرڈر دینے کے بعد لوگوں کی باتیں سننے لگا۔ہر شخص بگڑتے ہوئے حالات کے خلاف کچھ نہ کچھ بول رہا تھا۔وہ خاموشی کے ساتھ ناشتہ کرتا رہا اور پھر فارغ ہونے کے بعد ہوٹل سے باہر نکل آیا۔اب اس کے قدم آفس کی جانب بڑھ رہے تھے۔اس نے گھڑی دیکھی۔ابھی تو دس بھی نہیں بجے ہیں۔خیر کوئی بات نہیں۔تب تک وہ آفس کے باہر گھنے پیپل کے نیچے بنے سمنٹ کے بنچ پر بیٹھ رہے گا۔وہ آگے بڑھتا گیا۔ہر موڑ پر اسے لوگوں کی بھیڑ ملی۔زیادہ تر دکانیں بند تھیں۔ اورچند ایک جو کھلی تھیں ،ان کے شٹر بھی آدھے گرے ہوئے تھے۔ ابھی وہ کچھ ہی دور آگے بڑھا تھا کہ سامنے ایک جلوس آتا دکھائی دیا۔جو سرکار کے خلاف زور زور سے نعرے لگا رہا تھا۔ کھادی کے کرتے پائجامے میں ملبوس ایک شخص جلوس کی قیادت کر رہا تھا۔اس نے جب اسے غور سے دیکھا تو پایا کہ یہ وہی آدمی ہے جس نے کل اسے پیسے دئے تھے۔ ایک لمحے کو اسے یہ سوچ کر کراہیت محسوس ہوئی کہ ایک سڑک چھاپ نیتا سے اس نے اپناسودا کیا لیکن اگلے ہی لمحے ہرے ہرے نوٹوں کا تصوراس کی آنکھوں میں ٹھنڈک پہنچانے لگا ۔اس نے دل ہی دل میں شرافت کی ایسی تیسی کی اوراور تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا آفس پہنچ گیا۔ابھی دفاتر نہیں کھلے تھے ۔وہ ایک گھنے پیڑ کے نیچے بنے سمنٹ کے بنچ پر بیٹھ رہا۔بنچ پر آرام سے بینچ پر آرام سے بیٹھ چکنے کے بعد اس نے سوچنا شروع کیا۔پہلے وارداتیں کم ہوتی تھیں لیکن اب تو یہ روز کا معمول ہو گیا ہے ۔ ایک ہی دن میں کئی کئی قتل ہوتے ہیں ۔ڈکیتیاں ہوتی ہیں۔خوب خوب ہنگامے ہوتے ہیں۔اخباروں میں سرخیاں لگائی جاتی ہیں۔ٹی وی چینل والوں کو بھی مسالہ مل جاتا ہے ۔سڑک جام کیا جاتا ہے۔بازار بند کئے جاتے ہیں۔ لیکن بند کسی مسئلے کا حل نہیں۔یہ تو گلی کوچوں میں پیدا ہونے والے نیتاؤں کا ہتھکنڈا ہے جو معاوضہ کے نام پر دی جانے والی رقم سے اپنا کمیشن وصولتے ہیں۔
یہ سب سوچتے سوچتے شاید وہ اونگھ گیا تھا۔اچانک کسی گاڑی کی آواز سنائی دی تو وہ چونک پڑا۔گیارہ بجنے جا رہے تھے ۔آس پاس کافی چہل پہل تھی ۔دفاتر کھل چکے تھے اور سڑک پر پولس کے جوان طعینات تھے۔وہ آفس کے اندر داخل ہوا اور اپنی میز پر جا کر بیٹھ رہا۔لیکن آج اس کا دل کسی بھی کام میں نہیں لگ رہا تھا ۔بقیہ لوگ بھی کام سے زیادہ باتوں میں مشغول تھے اور موضوع سخن تازہ حالات تھے۔اس نے جیسے تیسے دن کاٹا اور چھٹی ہوتے ہی باہر نکل پڑا۔اسے معلوم تھا کہ آج بازار بند ہے ۔بینک اور اسکول بھی بند کرا دئے گئے تھے مگر سرکاری دفتروں میں کام ہوا تھا۔اسے یہ فکر لا حق ہو گئی کہ اگر ہوٹل بھی بند ملے تو وہ کھانا کہاں کھائے گا۔مگر خدا کا شکر تھا کہ ہوٹل کھلے تھے۔پہلے اس نے ایک ہوٹل میں ہلکا پھلکا ناشتہ کیا ،چائے پی اور پھر دوسرے ہوٹل سے رات کا کھانا پیک کروا کے گھر کے لئے روانہ ہوا۔گلی سنسان پڑی تھی اور کہیں پر بدبو کے بھی آثار نہیں تھے۔ مگر گھر کا دروازہ کھول کر وہ جیوں ہی اندر داخل ہوا بدبو اس کے نتھنوں کے راستے حلق سے ہوتی ہوئی معدہ تک پہنچ گئی۔اسے زور کی اُبکائی آئی۔اس نے جھٹ جیب سے رومال نکال کر ناک پر رکھااور گھر کی ساری کھڑکیوں کو کھول دیا۔اب اس کی سمجھ میں آیا کہ یہ بدبو کہیں باہر سے نہیں آ رہی ہے بلکہ گھر ہی کے کسی کونے سے پھوٹ رہی ہے ۔اس نے رک کر ،ٹھہر کر یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ یہ بدبو کہاں سے آ رہی ہے۔پھر اسے اپنے ہاتھ میں پکڑے پیکٹ کا خیال آیا۔وہ کچن کی جانب بڑھ گیا۔کھانے کے پیکٹ کو نعمت خانہ میں رکھنے کے بعدوہ بیڈ روم میں داخل ہوااور کپڑے تبدیل کرنے کے بعد باتھ روم چلا گیا۔خوشبودار صابن سے سے ہاتھ منھ دھونے کے بعد اسے بڑی راحت محسوس ہوئی۔اس نے پھر اگر بتیاں جلائیں اور پورے گھر میں ایر فریشنر کا اسپرے کیا۔بدبو کم ضرور ہوئی مگر ختم نہیں ہوئی۔اب یہ بات طے ہو چکی تھی کہ یہ بدبو کہیں باہر سے نہیں آ رہی ہے بلکہ گھر کے اندر ہی سے پھوٹ رہی تھی۔اب سوال یہ تھا کہ اس کا منبع کہاں تھا؟اس نے جگہ جگہ ناک لگا کر سونگھنا شروع کیا۔باتھ روم سے لے کر کچن تک اور راہداری سے ہوتے ہوئے بیڈ روم تک اور پھر وہاں سے ڈرائنگ روم تک ۔اور تب اسے معلوم ہوا کہ یہ بدبو ڈرائنگ روم ہی سے نکل رہی ہے ۔اسے کچھ حیرانی ہوئی۔بھلا ڈرائنگ روم میں بدبو پیدا کرنے والی چیز کہاں سے آ گئی؟پھر اس نے رک رک کر،ٹھہر ٹھہر کر ایک ایک چیز کو سونگھنا شروع کیا اور آخر کار اس مقام کا پتہ لگا ہی لیا جہاں سے یہ بدبو اُٹھ رہی تھی۔یہ بدبو بڑے صوفے کی پشت سے آرہی تھی ۔اس نے صوفہ کھسکایا تو اس کے پیچھے کچھ بھی نہ تھا۔صرف بدبو تھی اور وہ بھی زبردست۔اس نے سانس روک لی اور ناک پر رومال باندھ کر غور سے دیکھا تو پایا کہ صوفے کے پچھلے حصے کا ریکسن ایک جگہ سے پھٹا ہوا تھا اور یہ بدبو اسی پھٹے ہوئے حصے سے آ رہی تھی۔اور جب اسے اپنی کھوج پر پختہ یقین ہو گیاتو وہ کچن سے ایک بڑا چاقو اُٹھا لایا اور آناً فاناً پورے ریکسن کو کاٹ ڈالا۔اندر صوفے کی باڈی سے ایک بہت موٹے تازے چوہے کی لاش چپکی تھی جو جگہ جگہ سے مسخ ہو چکی تھی اور تب اسے یاد آیا کہ چوہوں کے آتنک سے تنگ آ کر اس نے چند روز قبل ہی گھر میں چوہے مار دوا ڈالی تھی اور یہ موٹا چوہا جو شاید صوفے کے اندرونی حصے میں قیام پذیر تھا،وہ تلاش رزق میں باہر نکلا ہو اور انسان کی عیاری،مکاری اور اس کی خونی فطرت کا شکار ہو گیا ہو۔اس معصوم بھولے بھالے بے زبان چوہے کو کیا معلوم کہ جس آٹے کی گولی کو وہ ذوق و شوق سے کھا رہا ہے اس میں اس کمینے انسان نے زہر ملا دیا ہے تاکہ وہ چوہا اسے کھا کر اس جہاں فانی سے کوچ کرجائے اور اس کی کتابیں اور کپڑے اور کے تیز اور نوکیلے دانتوں سے محفوظ رہیں۔بہر کیف!یہ مظلوم چوہا تو مر گیامگر انتقاماً اپنی بدبودار لاش کو اس کے دل و دماغ میں ہیجان برپا کرنے کے لئے چھوڑ گیاتھا۔اور اب مسئلہ یہ تھا کہ اس کی لاش کو ٹھکانے کیسے لگایا جائے۔اس نے صوفے کو فرش پر اُلٹ دیااور باقی بچے ہوئے ریکسن کو بھی کاٹ کر الگ کر دیا ۔اب چوہے کی لاش صاف نظر آ رہی تھی۔اس نے بدقت تمام چھری اور لوہے کی راڈ کی مدد سے اسے باہر نکالا اور دروازہ کھول کر باہر پھینک دیا۔مگر لاش کے چند ٹکرے ابھی بھی صوفے کے اندر چپکے ہوئے تھے۔وہ بالٹی بھر بھر کر پانی لانے لگا اور صوفے کو دھونے لگا ۔آخر کڑی مشقت کے بعد وہ صوفے کو پورے طور پر صاف کرنے میں کامیاب ہو گیا۔اس ساری کسرت سے وہ پسینے پسینے ہو گیا تھا۔مگر اب وہ اطمینان اور سکون کی سانس لے سکتا تھا ۔اس نے صوفے کو سیدھا کیا اور ایک بار پھر پورے ڈرائنگ روم کو دھو ڈالا۔اس کے بعد اس نے غسل کیا،کھانا کھایا اور آرام کی نیند سو گیا۔
صبح آنکھ کھلی تو اسے اپنے سارے جسم میں درد کی ہلکی سی لہر دوڑتی سی محسوس ہوئی۔شاید یہ رات کی مشقت کا اثر تھا۔ پھر اسے ساری بات یادآتی گئی اور مرے ہوئے چوہے کی شبیہ اس کی آنکھوں کے آگے پھر گئی۔اسے یہ سوچ کراطمینان ہوا کہ اب کوئی بدبو اسے پریشان نہیں کرے گی۔ اس نے ایک زور کی سانس لی مگر یہ کیا۔۔۔۔۔بدبو کا زبردست ریلا اس کے نتھنوں میں گھس پڑا۔ اوریہ ایک نئے قسم کی بدبو تھی جس نے اسے پور ے کا پورا اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔
***

Viewers: 3501
Share