Dr. Akhtar Azad | Story | سونامی کو آنے دو

ڈاکٹر اختر آزاد مکان نمبر۔۳۸، روڈ نمبر ۔۱ آزاد نگر ، جمشید پور ۔ ۸۳۲۱۱۰موبائل۔09572683122 dr.akhtarazad@gmail.com سونامی کو آنے دو میں نے جب تک سمندری قبر گاہ میں اپنے اس […]
ڈاکٹر اختر آزاد
مکان نمبر۔۳۸، روڈ نمبر ۔۱
آزاد نگر ، جمشید پور ۔ ۸۳۲۱۱۰موبائل۔09572683122
dr.akhtarazad@gmail.com
سونامی کو آنے دو
میں نے جب تک سمندری قبر گاہ میں اپنے اس خدا کو اُتار کر لہروں سے ڈھک نہیں دیا ، اس وقت تک سمندر نے مجھے قبول نہیں کیا ۔
وہ یقیناًمیرا خدا تھا ۔ اس نے مفلسی کی غلاظت سے نکال کر میرے سر پر امیری کا تاج رکھا تھا ۔ جس کی تمنّا میں نے نہیں کی تھی ۔ لیکن اس روز جب اچانک سمندری لہریں پاگل ہو اُٹھی تھیں اور میں اپنے خدا کو بچا سکتا تھا، نہ جانے کیا ہو گیا کہ میں لہروں کی اونچائیوں کو کیمرے میں قید کرنے اور اس کے استقبال میں اتنا محو ہو گیا کہ میرا خدا مجھ سے جُدا ہو گیا ۔
نام اُس کا کیا تھا کسی کو نہیں معلوم ۔ لیکن سب اسے مسٹرکلین کے نام سے جانتے تھے ۔ چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد ، گوری رنگت ، سفید سلجھے ہوئے بال ، پُرکشش آنکھیں اور باتوں میں اس کی بلا کا جادو تھا ۔ دُھلے دُھلائے سفید لباس اس کی شخصیّت میں چاند ستارے ٹانکنے کے لئے کافی تھے ۔ کوئی بھی ایک نظر دیکھتا تو دیکھتا رہ جاتا ۔ غریبوں کا مسیحا اور امیروں کا دوست سمجھا جاتاتھا ۔ ہر کسی کو خوش رکھنے کا ہُنر وہ جانتا تھا ۔ ضرورت کے وقت وہ ہر کسی کے کام آتا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی اس پر بُر ا وقت آیا ، ہر کسی نے اُسے کلین چِٹ دے دی ۔ اس طرح روز بہ روز اس کی ترقّی کا گراف اوپر اُٹھتا رہا اور وہ مسٹر سے مسٹر کلین بن گیا ۔
پیدا تو وہ جھونپڑ پٹّی میں ہوا تھا ۔ لیکن آہستہ آہستہ ساری جھونپڑ پٹّی اس کی ہو گئی ۔ پہلے ایم ایل اے بنا اور پھر ایک ہی جھٹکے میں منسٹر ہو گیا ۔ جھونپڑ پٹّی سے ایم ایل اے کے سفر کے دوران اپنا مٹ میلا لباس تبدیل کر کے دودھ میں ایسا دھلا کہ سفید لباس اس کے وجود کا حصّہ بن گیا ۔ پھر کیا تھا ؟کرسیوں پر بیٹھے سفید پوشوں نے اس کی اس قابلیت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے عزّت کے سارے ستارے اس کے کاندھے پرایک ایک کر کے ٹانک دئیے۔
مجھے وہ خود جھونپڑ پٹّی سے اُٹھا کر لایا تھا ۔ دوستی کا فرض نبھانا اسے خوب آتا تھا ۔ میرا گھر گھر گھومنا ، مانگنا ، اور بچا کچا کھانا کھانا اس کو پسند نہ تھا ۔ اس لئے ایک دن اس نے مجھے اپنے پاس بلا لیا ۔ کچھ ہی دنوں میں یہ مانگنے کھانے والا ایک خوبصورت کار کا ڈرائیور بن گیا ۔ یہ ایم ایل اے بننے سے پہلے کی بات ہے ۔ ایم ایل اے کے بعد جیسے جیسے اس کا قد اونچا ہوتا گیا ، میں بھی ترقّی پر ترقّی کرتا گیا ۔ منسٹر بنتے ہی اس کے ذاتی ہیلی کاپٹر کا پائلٹ بن گیا ۔
وہ تھا تو انگوٹھا چھاپ ۔ لیکن ایم ایل اے بننے کی چاہت میں اس نے کئی رِم کاغذ برباد کئے ۔ دستخط کرنا کیا سیکھا کہ شہر کے تمام کالجوں کی سربراہی اس کے ہاتھوں میں چلی آئی ۔ پھر کالج کے تمام فیصلے اس کے دفتر میں ہونے لگے ۔ اسٹوڈنٹ کے داخلے سے لے کر لکچرر، ریڈر اور پروفیسر کے سلیکشن میں بھی اس کا اہم رول ہوا کرتا ۔ جس کی سفارش وہ کر دیتا اس کی نیّا پار ہو جاتی ، اور جس کی نیّا وہ پار کرتا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کی گُڈ بُک میں آجاتا ۔اور اس سے جب چاہتا من مانی کرواتا ۔ انتظامیہ اور یونین کے لیڈروں کو کبھی اپنی طاقت ، کبھی اپنے اثررسوخ ، اور کبھی تحفے وغیرہ دے کر اپنی جیب میں رکھتا ۔ ایک بار کالج کے ایک پرنسپل نے اس کے خلاف آواز اٹھانے کی غلطی کی تھی اورمسٹر کلین نے ہمیشہ کے لئے اسے ہی اٹھا دیا ۔شواہد کی موجودگی میں وہ پولس کی گرفت سے آزاد رہا ۔ اس کی اس نمایاں کارکردگی کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر نے اسے وزیرِتعلیم بنا دیا۔
پھر تعلیمی اسناد اس طرح بانٹی جانے لگیں جیسے سڑکوں پر گُپت روگ کے ’ ڈاکٹر سے ملئے ‘ کا پمپلیٹ بانٹا جاتا ہے ۔ اس سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ اس کے سارے عزیزواقارب ڈگریاں حاصل کر کے نوکری کی دوڑ میں شامل ہو گئے ۔ یہ انگوٹھا چھاپ بھی خوش تھا کہ اسے بھی میٹرک سے بی اے تک کے سارے سر ٹیفکیٹ بغیر امتحان میں بیٹھے ہی مل گئے ۔
ایک بار جعلی ڈگریوں کے عوض بھاری رقم گھوس لیتے ہوئے وہ ایک خاتون صحافی کے ہاتھوں رنگے ہاتھ پکڑا گیا ۔ اس گدھ کی نظر کا کیا کہنا ۔؟ کیمرے پر پڑ ہی گئی ۔ اس نے اسی وقت خاتون صحافی کو ننگا کر کے اس کے ہی کیمرے سے اس کی تصویر اُتار لی او ر انٹرنیٹ پر ڈال کراسی رات اسے خود کشی کرنے پر مجبور کر دیا ۔ اس پر کافی ہنگامہ ہوا ۔ لیکن معاملہ خودکشی کا ٹھہرا۔ اس لئے کوئی اس کا بال بھی بانکا نہیں کرسکا ۔ مخالف پاٹیوں کے دباؤ میں آ کر چیف منسٹر نے بس اتنا کیا کہ اسے وزیرِتعلیم سے برطرف کر کے وزیرِصحت بنا دیا۔
وزیرِصحت بنتے ہی نقلی دواؤں کی چاندی ہو گئی ۔ تھوک کے بھاؤ میں جعلی لائسینس بننے لگے ۔ نقلی ڈاکٹر تو اس نے پہلے ہی پیدا کر دئیے تھے ۔ لیکن نقلی مریض کہاں سے پیدا کرتے ۔ مریض تو اصلی تھے ۔ اس لئے بے موقع ومحل چھوٹی چھوٹی بیماریوں سے مرتے رہے ۔ موت کا یہ سلسلہ سالہا سال جاری رہا ۔ جب خود بیمار پڑتے تو موت کا خوف اسے بھی ستانے لگتا ۔ اس وقت مجھے تاکید کرتے کہ اس ڈاکٹر کو بُلا کر مت لانا اور اس کمپنی کی دوائیاں مت خریدنا جسے سند اس نے دی ہے ۔
ایم ایل اے سے منسٹربننے تک جو بھی شعبہ اسے ملا ، اس شعبے میں چار چاند لگانے کے لئے اس نے اس سے ملحق ایک اور شعبہ ’عشق‘ کا اپنے دفتر میں کھول رکھا تھا ۔ ہر رات پلنگ کی چادر کی طرح اسے لڑکی بدلنے کی عادت تھی ۔ گھر اور دفتر کی تو بات چھوڑئے ، کار کی پچھلی سیٹ کو بھی نہیں بخشا تھا ۔ یقین نہ آئے تو کار کے بلیک شیشے جو چشم دید گواہ ہیں ان سے پوچھ لیجئے۔
لیکن ایک روز غضب ہو گیا ۔ جب اسٹیٹ لیول بیوٹی کانٹیسٹ میں خطاب جیتنے والی کو تاج پہنانے کے لئے انتظامیہ نے مسٹر کلین کو مدعو کیا ۔ پروگرام کے بعد کھانے کا دور چلا ۔پارٹی ختم ہوتے ہی مسٹر کلین ،بیوٹی نمبر ون کا خطاب جیتنے والی دوشیزہ کے بیڈ روم میں مبارکباد دینے پہنچا ۔ عین اسی وقت لوڈشیڈنگ ہو گیا اور بجلی چلی گئی ۔ اس لوڈ شیڈنگ کے نتیجے میں جب وہ ماں بن گئی تب بغیر پوچھے اس کی شادی بڑی دھوم دھام سے مسٹر کلین نے مجھ سے کروا دی ۔ رات گواہ ہے کہ اس نے کبھی اسے میرے کمرے میں رہنے نہیں دیا ۔ضرورت رہی تو استعمال کیا ۔ نہیں تو اپنے بیڈ کے برابر میرا بستر بچھوا دیا ۔ اکیلے نہیں چھوڑا کہ جوٹھن ہو جائے گی۔
بیوٹی نمبر ایک نے ایک بیٹی کو جنم دیا اور میں باپ بن گیا ۔ بچّی بڑی ہونے لگی ۔ وہ مجھے اپنا باپ سمجھنے لگی ۔ اب میرے پاس ایک بنگلہ بھی تھا ۔ جو مسٹر کلین کا ہی دیا ہوا تھا ۔ یہ بنگلہ ٹھیک اس کے بنگلے کے سامنے تھا ۔ وہ اکثر آتے جاتے چائے کی چسکیاں لیا کرتا ، مِس بیوٹی بھی بغیر کسی روک ٹوک کے مسٹر کلین کے پاس جایا کرتی ۔ کبھی کبھی اپنی بیٹی کو بھی ساتھ لے جاتی ۔ مسٹر کلین اکثر اس کا گال چھوتا ۔پیار کرتا اپنی گود میں بٹھاتا ۔ پپّی لیتا اور ڈھیر ساری مٹھائیاں دیا کرتا ۔باپ ،بیٹی کے اس پیار کو دیکھ کر ماں عش عش کر اُٹھتی ۔ لیکن بیٹی یہ نہیں جانتی تھی کہ مسٹر کلین اس کا باپ ہے ۔ وہ تو باپ اسے جانتی تھی جو مسٹر کلین کے ذاتی ہیلی کاپٹر کا پائلٹ تھا ۔ وہ اکثر سوچا کرتی تھی کہ اس کا باپ اسے گھمانے نہیں لے جاتا ۔ لیکن مسٹر کلین انکل ہوتے ہوئے بھی فرصت کے اوقات میں اسے سیروتفریح کے لئے لے جایا کرتے ہیں ۔ ایک دن اس نے ماں سے کہا ۔
’’ممّی جانتی ہیں کلین انکل مجھے بہت پیار کرتے ہیں ۔ میں کبھی سوچتی ہوں کہ اتنے بڑے آدمی کے احسانوں کا بدلہ کیسے چکاؤں ۔؟‘‘
وہ مِس بیوٹی کی بیوٹی تھی ۔ اس کی بیوٹی تب نکھر کر سامنے آئی جب جوانی کی دہلیز میں قدم رکھتے ہی اس کی جسمانی ساخت میں ظاہری تبدیلیاں رونُما ہونے لگیں ۔ مِس بیوٹی اپنی بیٹی کی خوبصورتی کو دیکھ کر اسے ہیروئن بنانے کے سپنے دیکھنے لگی ۔لیکن مسٹر کلین اس کے حق میں نہیں تھا ۔ اسکول کی دہلیز پھلانگ کر وہ کالج کیا گئی کہ کالج کے لڑکے اس پر مرمٹے ۔ مسٹر کلین نے غنڈ ے بھیجوا کر لڑکوں کی دھلائی کروا دی ۔ پھر اس کے بعد وہ اسے کالج چھوڑنے اور لانے خود جانے لگا۔ اس وقت وہ ڈرائیور کا استعمال نہیں کرتا ۔ اس کی ضرورت کی تمام خریداری وہ خود کرتا ۔ بیوٹی پارلر بھی ساتھ لے جاتا ۔ یہاں تک کہ دور ے میں بھی اب وہ اسے اپنے ساتھ رکھنے لگا تھا ۔
ایک باربغیر سرکاری دورے کے ایک ہفتہ کے لئے جب وہ باہر گیا تو اسے بھی ساتھ لے لیا ۔ اس دورے میں پہلی بار ایسا ہوا کہ ہیلی کاپٹر سے اُترنے کے بعد وہ سیدھے اپنی بیٹی کو لے کر ہوٹل چلا گیا اورپھر یہ پہلی بار ہوا کہ میرے ٹھہرنے کا انتظام دوسرے ہوٹل میں کیا گیا۔مِس بیوٹی خوش تھی کہ مسٹر کلین نے بھلے ہی اس سے شادی نہ کی ہو ،رکھیل کی طرح زندگی بھر رکھاہو۔ لیکن بیٹی کے ساتھ ایک باپ کا فرض بخوبی نبھا رہا ہے ۔ بیٹی بھی خوش تھی کہ مسٹر کلین اسے دل وجان سے چاہتا ہے۔ لیکن ایک دن مِس بیوٹی جب اچانک مسٹر کلین کے خواب گاہ میں پہنچی تو اپنی بیٹی کے سینے پر مسٹر کلین کے الجھے ہوئے ہاتھوں کو دیکھ کر آگ بگولہ ہو گئی ۔
’’ کمینے! کیا کر رہے ہو تم …..؟ ‘‘
’’اب دیکھ ہی لی تو سُن لومیں اس سے شادی کر نے جا رہا ہوں ۔ زبان کھولی تو بہت بُرا ہو گا ۔‘‘
’’زبان میں تیرا خون پی جاؤں گی حرامی ‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ اس کی طرف دوڑی ۔
تڑ….تڑ…تڑ….
تین گولیا ں اس کے سینے میں پیوست ہو گئیں ۔ اُس وقت گولی کی آواز سُن کر میں بھی وہاں پہنچ گیا ۔ مسٹر کلین ریوالور کی نوک میری طرف کرتے ہوئے چیخا ۔
’’ آج سے یہ میری بیوی ہے ۔ کوئی کچھ نہیں بولے گا ۔ سمجھے۔؟‘‘
اور میں سمجھ گیا۔ سمجھ تو میں پہلے بھی رہا تھا ۔ لیکن موت کو دعوت کون دیتا ۔؟ اپنی کاغذی بیوی کو جس کے سینے میں تین گولیاں لگی تھیں ، مسٹر کلین کے حکم پر ایک بورے میں بھر کر کار کی ڈِکّی میں رکھا اور دور نہر میں پھینک آیا ۔
بیٹی موت کی چشم دید گواہ تھی ۔
ایک شوہر اپنی بیوی کے قاتل کو جانتا تھا۔
لیکن وہ بیٹی جو ماں کو کھو چکی تھی ، مسٹر کلین کے ڈر سے اپنے باپ کو کھونا نہیں چاہتی تھی ۔ اور ایک شوہر جو کبھی اپنی بیوی کا شوہر تھا ہی نہیں ، قاتل سے بدلہ کیا لیتا ۔؟ لیکن ایک بیٹی کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ اس کی ماں کی موت کے بعد اس کا باپ مسٹر کلین کے ساتھ اب بھی پہلے کی طرح کیسے رہ رہا ہے ۔؟
ایک دن مسٹر کلین جب تھک ہار کر اپنے خواب گاہ میں آرام فرما رہا تھا تب چپکے سے وہ میرے پاس آگئی اور رونے لگی ۔
’’ڈیڈ مجھے اس نرک سے نکال لو ۔ میں صرف نام کی اس کی بیوی ہوں ۔ ہر رات نہ جانے کتنی لڑکیاں اس کے کمرے میں ہوتی ہیں ۔ میرا بس چلے تو اسے جان سے مار ڈالوں ۔ لیکن مجھے اپنی نہیں ۔ تمہاری فکر ہے ڈیڈ…. ڈیڈ اس سے ہوشیار رہنا ۔ وہ حرامی کسی کا نہیں ہے ۔‘‘
لیکن میں اسے کیا بتاتاکہ میں ہی روز دلالوں سے مل کر لڑکیاں اس تک پہنچاتا ہوں ۔ اور ایک باپ جب خود گراہک بن جائے تو صرف نام کا باپ اس نرک سے کیسے نکال سکتا ہے ۔؟
ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر غیر سرکاری دورے پر مسٹر کلین کو جاناہوا ۔ اس دورے میں اس کے ساتھ ایک ٹین ایجر لڑکی تھی جو اس کی بیٹی سے بھی بہت چھوٹی تھی ۔
ہیلی کاپٹر سمندر کے کنارے ایک عالی شان ہوٹل کے سامنے بنے ہیلی پیڈ پر اُترا ۔اس رات مجھے سامنے والے ہوٹل میں نہیں ٹھہرنا پڑا ۔ میں اس وقت اس کی اس ادا پر حیرت زدہ تھا کہ جب لڑکی اس کے ساتھ ہے تو پھر اسی کمرے میں مجھے ٹھہرانے کا جواز کیا ہے ۔؟ لیکن اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھ پاتا اس نے میرے ہاتھ میں ویڈیو کیمرہ تھما دیا ۔
دوسرے روز طے شدہ پروگرام کے تحت سمندری کناروں پر شوٹنگ ہونی تھی ۔ پائلٹ کے بعد فوٹو گرافر کے طورپرمیرا پروموشن ہو گایہ تو میں نے خواب میں بھی نہیں سوچاتھا ۔ وقت پرہم تینوں وہاں پہنچ گئے ۔ دونوں ایک سے ایک پوز بناتے رہے اور میں زاویہ تبدیل کرتا ہوا کیمرے کا لینس گھٹاتا بڑھاتا رہا کہ اچانک سمندر ی سائرن کی زور دار آواز فضا میں گونجنے لگی ۔
میں نے دیکھا کہ سائرن کی آواز پر ساحلی مچھوارے سب کچھ چھوڑ کر زمینی سطح کی طرف بھاگنے لگے ۔ سیروتفریح کے لئے آئے لوگ بھی مچھواروں کے پیچھے پیچھے سمندر کے مخالف سمت دوڑنے لگے ۔ اس دوران کچھ اونچے اونچے پیڑوں پر چڑھ رہے تھے ۔پھر یکایک لہروں کی ایک زور دار آواز ابھری اور تیز ہوتی چلی گئی ۔ تب کہیں جا کر یہ پتہ چلا کہ سمندری لہریں پاگل ہو اُٹھی ہیں اور ہزاروں کلو میٹر کی رفتار سے ساحل سے ٹکرانے آرہی ہیں ۔ تب ہم سب بھی بھاگنے لگے تھے۔ ہوٹل کے چاروں طرف عجیب افرا تفری مچی ہوئی تھی ۔ لہریں بڑھتی جا رہی تھیں ۔ لیکن یہ ہم لوگوں کی خوش قسمتی تھی کہ اس سے پہلے طوفانی لہریں ہیلی پیڈ تک پہنچتیں ہم تینوں ہیلی کاپٹر پر سوار ہو گئے تھے ۔
جب میں نے ہیلی کاپٹر اسٹارٹ کیا اس وقت لہریں چکّے کو چوم رہی تھیں اور اب بس ہیلی کاپٹر زمین چھوڑنے ہی والاتھا کہ مسٹر کلین ایک زوردار لہروں کو اپنی جانب آتے دیکھ کر پاگلوں کی طرح چِلّایا۔
’’حرام خور….. جلدی اُڑان بھرو …. جلدی کرو…..جلدی …..‘‘
جب وہ پاگلوں کی طرح چِلّارہا تھا ،اس وقت اونچی سر پٹکتی ضدّی لہریں بالکل نزدیک آگئی تھیں ۔ وہ خوف کے مارے تھر تھر کانپ رہا تھا ۔ اس حالت میں بھی وہ ٹین ایجر لڑکی کے ساتھ ننگا چپکا ہوا تھا ۔
اس پوز میں نہ جانے کیوں وہ آج مجھے بہت اچّھا لگ رہا تھا ۔ میں نے ہیلی کاپٹر کا اِسٹارٹنگ بٹن آف کیا اور ایک یاد گار آخری تصویر اُتارنے کی لئے فوراََ کیمرہ سنبھال لیا ۔
** *
Viewers: 8045
Share