Hafiz Muzaffar Moshin | Column | محمد حسین ۔۔۔ ہم تمہارے بچے کو اسکول چھوڑنے جایا کریں گے؟

حافظ مظفر محسنؔ 101 چراغ پارک ، شاد باغ ، لاہور +923009449527 muzafarmohsin@yahoo.com محمد حسین ۔۔۔ ہم تمہارے بچے کو اسکول چھوڑنے جایا کریں گے؟ ’’ امریکی بحری بیڑہ آ […]
حافظ مظفر محسنؔ
101 چراغ پارک ، شاد باغ ، لاہور
+923009449527
muzafarmohsin@yahoo.com
محمد حسین ۔۔۔ ہم تمہارے بچے کو اسکول چھوڑنے جایا کریں گے؟
’’ امریکی بحری بیڑہ آ رہا ہے‘‘
یہ وہ ’’ صدا ‘‘ ہے۔۔۔ جسکی بازگشت آج بھی سنی جا سکتی ہے۔ بہت سال پہلے جب پاکستان پرابتلا کا وقت تھا قوم اِس خوف میں مبتلا تھی کہ ’’ آگ اور خون‘‘ کے اِس معرکے میں ہم آزادی جیسی دولت سے کہیں ہمیشہ کے لیے محروم نہ ہو جائیں۔ شکر الحمد اللہ ۔۔۔ اللہ پاک نے ہمارے دشمنوں (اندرونی بیرونی) کے ارادے خاک میں ملا دیئے اور ہم آزادی جیسی دولت سے محروم تو نہ ہوئے مگر آنسوؤں سے تر آنکھوں کے ساتھ یہ خنجر ہمارے دلوں میں اتر گیا۔۔۔ چیرتا چلا گیا اور ہم یہ درد محض اس لیے سہہ گئے کہ بیرونی امداد آ رہی ہے۔ ’’امریکی بیڑہ آ رہا ہے!‘‘۔ سب کچھ اپنی اصلی حالت میں واپس چلا جائے گا۔
خیال تھا۔۔۔ شاید خوف و تباہی کے یہ گھمبیر بادل چھٹ جائیں اور اُن سے برستی آگ بھی تھم جائے۔۔۔ کٹ کر لٹکتا ہوا بازو شاید پیوند کاری کے بعد پھر سے جڑ جائے اور یہ سلطنت خدا داد۔۔۔ اپنے پورے وجود کے ساتھ پھر سے کھڑی دکھائی دے!۔۔۔ عزت و عظمت کے ساتھ؟۔
مگر وہ جو آس دلا دی گئی تھی۔۔۔ آسرا دیا جا رہا تھا۔۔۔حامی بھر لی گئی تھی کہ ’ ’گھبراؤ مت ہم آ رہے ہیں۔۔۔ آپ کی مدد کے لیے‘‘۔۔۔ آپ کو ہماری مدد در کار ہے بھی یا نہیں یہ سوچے بغیر ۔۔۔ امریکی انتظامیہ نے۔۔۔ مدد کی روانگی کا ا علان کر دیا۔ کیل کانٹے سے لیس یہ بحری بیڑہ بڑے سمندروں میں ’’ گشت‘‘ کرتا رہتا ہے۔
’’ محمد حسین ہم تمہارے بچے کو اسکول چھوڑنے جایا کریں گے‘‘
یعنی کوئی غنڈہ یا غنڈہ صفت آدمی خود ہی کسی معزز محلے دار کو آڈر سنا دے اور بچے کو اسکول چھوڑنے چل بھی پڑے۔۔۔’’ کان سے پکڑ کر‘‘۔۔۔ غرارتے ہوئے۔
بچے کے ساتھ کیا ہوگا۔۔۔ اُس پر کیا بیتے گی۔۔۔ وہ اسکول پہنچے گا بھی یا نہیں وہ خوف کے مارے گھبرایا اور سہما ہوا بیٹھا بھی رہے گا اور اُسے خیریت سے واپسی پر گھرپہنچنے یا نا پہنچنے کا خوف۔۔۔ پڑھائی اور تربیت کے عمل سے دور رکھے گا۔ بلکہ اُس کے ’’ نروز‘‘ ۔۔۔ پر سوار خوف اُسے بولنے ، سوچنے اور عمل کرنے کے ارادوں سے محروم بھی کر دے گا۔
ایسے ہی ’’ امریکی بیڑہ آ رہا ہے‘‘
اِک طرف جنگ کا بوجھ دوسرا۔۔۔ ’’ امریکی بیڑہ بھی آ رہا ہے‘‘۔۔۔قوم کے حواس پر خوف در خوف بوجھ پڑتا چلا گیا۔۔۔ اوپر سے سرکاری میڈیا کی’’جھوٹی ‘‘ ۔۔۔’’ بڑھا چڑھا‘‘ کر بیان کی گئیں خبریں۔ اپنی کا میابیوں کے خوفناک حد تک ’’ جھوٹے ‘‘ بیانات ۔۔۔ ’’ افواہ سازی‘‘ بھی عروج پر تھی پھرجب کویت اور عراق کی جنگ ہوئی تو ۔۔۔ ’’ بڑے خان‘‘ ۔۔۔ یعنی میرے بڑے بھائی جو اُس وقت ایک امریکن کمپنی میں الیکڑانکس کے اِک شعبہ کے ہیڈ تھے۔ اُنہوں نے مجھے فون پر آواز سنوائی۔
ایک نہایت ’’ خوفناک گھمبیر‘‘ سی آواز۔۔۔ ’’ صدائے درد ناک ‘‘ ۔۔۔بڑے خان‘‘ نے بتایا۔۔۔’’ محسن بچے ۔۔۔ سُن یہ خوفناک سائرن کی آواز‘‘ ۔۔۔ یہ اس بات کی اطلاع ہے کہ فضائی حملہ متوقع ہے۔۔۔ جبکہ ہم یہاں محسوس کر رہے ہیں کہ فضائی حملہ تو شاید ہو نہ ہو۔ اُس سے تو شاید اعصاب پر بوجھ پڑے یا نہ پڑے۔۔۔ یہ ’’ سائرن ‘‘ بلاشبہ خوف کی علامت بن کر ذہنوں پر ہتھوڑے برسا رہا ہے۔ بڑے خان نے وضاحت کی اور میں لاہور میں بیٹھا ۔۔۔’’ ڈر کر رھ گیا ‘‘۔۔۔ گھبراہٹ کا شکار ہو گیا۔ صوتی اثرات سے انسان کا دماغ شیل ہو جاتا ہے۔
میرے اعصاب تناؤ کا اور دل شدید قسم کی گھبراہٹ کا شکار ہو گیا۔
پہلا دور تھا 1971ء کی پاک بھارت جنگ کا ۔۔۔ جب ’’ امریکی بحری بیڑہ آ رہا تھا‘‘۔۔۔ ہم تباہ ہوگئے۔۔۔ ہمارے نام بربادی لکھ دی گئی۔۔۔ مگر بحری بیڑہ ۔۔۔ آیا بھی اور چلا بھی گیا۔
وہی ہوا جو لکھا جا چکا تھا۔۔۔ پنٹا گون کی بڑی سی عمارت میں بیٹھ کر پھر عراق کی ’’ تباہی‘‘ ۔۔۔ کویت کی ’’ برین واشنگ‘‘ اور سعودی عرب کے ’’ جھکاؤ‘‘ کی خاطر چھیڑی یہ جنگ بھی اُسی انداز میں پایہ تکمیل کو پہنچی ۔۔۔ جو اُس کا ’’ چارٹ ‘‘ جاری کیا گیا تھا!۔ وہاں بھی بحری بیڑہ۔۔۔’’ بیڑہ غرق کرتا ہوا واپس چلا گیا‘‘۔
’’اُسامہ مشن ‘‘ ۔۔۔پر میں کیا بیان کروں ۔۔۔ مجھ سے بڑے ۔۔۔ ہم خود اور ’’ ہمارے نوزائیدہ‘‘ بچے بھی اِس کامیاب مشن کا آنکھوں دیکھا حال بیان کر سکتے ہیں کہ اب تو اِس حوالے سے فیچر فلم بھی بن کر سینما ہاؤ سز میں پبلک کے پر زور اصرار پر ’’ دھڑلے‘‘ سے چل رہی ہے۔۔۔ ’’ ایڈونچر آف دی سنچری‘‘ کہلائے گا۔۔۔ یہ ’’ اُسامہ مشن‘‘ ۔
رہی بات USAID کی تو ۔۔۔ یہ ادارہ پہلے پاکستان کے مضافاتی علاقوں میں کام کرتا دکھائی دیتا تھا۔۔۔ پھر اِس کی ذمہ داریاں بدل گئیں۔۔۔اور اب یہ ادارہ USAID۔۔۔ پاکستان کے ’’ مین سڑیم ‘‘ ۔۔۔معاملات پر گرفت کر کے نہایت ’’ خوش اسلوبی‘‘ سے ۔۔۔ ’’ خدمات‘‘ سر انجام دے رہا ہے۔ ہمارے حکمران سیاستدان ’’بہت مصروف‘‘ ہیں۔ اُنہیں اردگرد کی خبر کہاں ۔۔۔ حالانکہ ’’ وہ ‘‘ بغیر اطلاع کے ہی ۔۔۔
’’ محمد حسین کے بچوں کو اسکول چھوڑنے جارہے ہیں‘‘
اور محمد حسین بے چارگی سے دیکھ رہا ہے۔
***
Viewers: 2955
Share