سولہواں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ ۔اٹھارہواں عالمی مشاعرہ ۲۰۱۲ء

رپورٹ : شوکت علی نازؔ ۔دوحہ، قطر
عالمی شہرت یافتہ ادبی تنظیم ’’مجلس فروغِ اُردو ادب دوحہ ۔قطر‘‘ کے زیرِاہتمام انعقاد پذیر سالانہ تقریب میں وزیرِثقافت و فنون و تراث قطرعزت مآب ڈاکٹر حمد عبد العزیز الکواری کی نیابت کرتے ہوئے ڈاکٹر مرزوک بشیر بن مرزوک نے عزت مآب محمد سرفرازاحمد خان زادہ صاحب ( سفیرِپاکستان برائے دولتِ قطر)، عزت مآب سنجیو اروڑا صاحب( سفیرِہندوستان برائے دولتِ قطر) ،جناب محمد عتیق ( چیئرمین مجلس)،جناب محمد صبیح بخاری (رکن سرپرست کمیٹی مجلس ) ،ادبأ و شعرأ،عمائدینِ شہراور سیکڑوں محبانِ اردوادب کی موجودگی میں (۱۶) سولہواں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ،تاحیات اُردو زبان وادب کی گراں قدر اور اعلیٰ ترین خدمات کے اعتراف کے طور پر پاکستان سے نامور مزاح نگار، کالم نگار،ڈراما نگار، سفر نامہ نگار ،شاعر ،پرائڈ آف پرفارمنس اور ستارۂ امتیاز جناب عطأالحق قاسمی اور ہندوستان سے فکشن رائٹر،افسانہ نگار، ناول نگار اور مترجم جنا ب شموئیل احمد،اور خصوصی فروغِ اُردوادب ایوارڈ منفرد اداکاروہدایت کاراور شہرۂ آفاق ٹی وی سیریل مرزا غالبؔ میں مرزا غالبؔ ایسی نابغۂ روز گاراور نرگسیت پسند شخصیت کا مرکزی کردار خوش اُسلوبی سے نبھانے والے وَرسٹائل فنکار،پدم شری اور پدم بھوشن جناب نصیر الدّین شاہ کو تالیوں کی گونج میں پیش کیا۔
۷؍نومبر ۲۰۱۲ء ؁ بروز بدھ ،عالمی شہرت یافتہ ادبی تنظیم ’’مجلس فروغِ اُردو ادب دوحہ ۔قطر‘‘ کے زیر انتظام و انصرام دوحہ شیراٹن ہوٹل کے السلویٰ ہال میں (۱۶) سولہویں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ کی تقریبِ تقسیمِ ایوارڈاور سالانہ عالمی مشاعرہ ۲۰۱۲ء ؁ منعقد ہوا جس میں پاکستان ،ہندوستان ، آسٹریلیا،برطانیہ اور قطر کے شعرائے کرام نے شرکت کی۔تقریب کی صدارت ستارۂ امتیاز پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی نے کی۔ہندوستان سے نامور نقاد و دانشور ، سابق چیئرمین ساہتیہ اکادمی،پروفیسر ایمریطس پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور جناب نصیر الدّین شاہ نے بطور مہمانانِ اعزازی تقریب تقسیم ایوارڈ اور عالمی مشاعرہ ۲۰۱۲ء ؁ کو رونق بخشی۔
امسال اجرأ ہونے والا خصوصی فروغِ اُردوادب ایوارڈبھی ۱۹۹۶ ؁ء سے تاحال تواتر اور تسلسل کے ساتھ ہر سال ایک ہندوستانی اور ایک پاکستانی ادیب کی خدمت میں پیش کیا جانے والے ’’عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ‘‘ کی طرح کیش اور طلائی تمغے پر مشتمل ہے۔
مجلس کے ارکانِ انتظامیہ کمیٹی جاوید ہمایوں اور اعجاز حیدرنے اسٹیج پر تمام مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ تقریب کے پہلے دور کی نظامت کے فرائض انچارج پروگرام شوکت علی نازؔ اور سیّد فہیم الدّین نے اداکیے ۔
تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت قاری شمس الرحمن صدیقی نے حاصل کی۔جناب محمد عتیق نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے ایوارڈ یافتگان جناب عطأالحق قاسمی اورجنا ب شموئیل احمدکو مبارکباد دی، جن کا انتخاب دو معزز و معتبر ،مکمل طور پر غیر وابستہ وغیر جانبدار سینئر اہلِ قلم پر مشتمل جیوریز نے کیا، جن کی صدارت لاہور (پاکستان) میں جناب مشتاق احمد خاں یوسفی اور دہلی (ہندوستان) میں جناب پروفیسر ڈاکٹرگوپی چند نارنگ نے کی ۔ جناب محمد عتیق نے عزت مآب ڈاکٹر حمد عبد العزیز الکواری وزیرِ ثقافت وفنون وتراث کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جن کے تعاونِ خاص کا سلسلہ اِس سال بھی جاری رہا۔انھوں نے جناب نصیر الدّین شاہ کی آمد پر اُن کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔انھوں نے بانئ مجلس ملک مصیب الرحمن (مرحوم) کی ہر دلعزیز شخصیت ، اُن کے عزم و استقلال اور ان کی لازوال خدمات کو بھی عقیدت ومحبت کے بیش بہا نذرانے پیش کیے۔ اُنھوں نے منفرد غزل گو اور ۱۹۹۹ ء کے صاحبِ جشن جناب شہزاداحمد، عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ یافتگان محترمہ ہاجرہ مسرور،جناب محمد منشا یادؔ ،مغنی تبسّمؔ اورنامور شاعر اور مجلس کی ہندوستانی جیوری کے اہم رکن جناب پروفیسرشہریارؔ کی وفات کو اُردو ادب کے لیے نا قابلِ تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے اُن کے لیے دعائے مغفرت کی ۔اعجاز حیدر، سیدفہیم الدین اور ایم ایس بخاری نے ایوارڈ یافتگان کی Citations(تعارف)پیش کیں۔
ڈاکٹر مرزوک بشیر بن مرزوک( ہیڈ آف ریسرچ اینڈکلچرل سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ ، وزارت ثقافت و فنون وتراث قطر) نے عزت مآب ڈاکٹر حمد عبد العزیز الکواری ،وزیرِثقافت و فنون و تراث (جو اپنی سرکاری مصروفیت کی بنا پرتشریف نہ لا سکے)و وزارتِ ثقافت و فنون و تراث قطرکی نمائندگی کرتے ہوئے، عزت مآب محمد سرفرازاحمد خان زادہ صاحب، عزت مآب سنجیو اروڑا صاحب ،جناب محمد عتیق ،جناب محمد صبیح بخاری ،ادبأ و شعرأ،عمائدینِ شہراور سیکڑوں محبانِ اردوادب کی موجودگی میں (۱۶) سولہواں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈتاحیات اُردو زبان وادب کی گراں قدر اور اعلیٰ ترین خدمات کے اعتراف کے طور پر پاکستان سے نامور مزاح نگار، کالم نگار،ڈراما نگار، سفر نامہ نگار ،شاعر ،پرائڈ آف پرفارمنس اور ستارۂ امتیاز جناب عطأالحق قاسمی اور ہندوستان سے فکشن رائٹر،افسانہ نگار، ناول نگار اور مترجم جنا ب شموئیل احمد،اور خصوصی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ منفرد اداکاروہدایت کاراور شہرۂ آفاق ٹی وی سیریل مرزا غالبؔ میں مرزا غالبؔ ایسی نابغۂ روز گاراور نرگسیت پسند شخصیت کا مرکزی کردار خوش اُسلوبی سے نبھانے والے وَرسٹائل فنکار،پدم شری اور پدم بھوشن جناب نصیر الدّین شاہ کو تالیوں کی گونج میں پیش کیا۔
عزت مآب سنجیو اروڑا صاحب نے اپنے خطاب میں کہاکہ میرے والدِ محترم اُردو اور فارسی کے دلدادہ تھے ،وہ چاہتے تھے کہ میں اُردو سیکھو ں۔مگر میں نے غیر رسمی انداز میں اُردو سیکھی ہے۔لیکن جب انھوں نے دو رباعیاں صحتِ وزن سے سامعین کے گوش گزار کیں تو شائقینِ شعروادب حیرت زدہ ہو گئے۔انھوں نے جب عزت مآب محمد سرفراز خان زادہ صاحب کی پنڈال اور قطر میں موجودگی کو خوش آئند قرار دیا تو ہال تالیوں سے گونج اُٹھا۔اُنھوں نے مزید کہا کہ اُردو زبان میں یہ تاثیر ہے کہ وہ ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے ۔ یہ اتنی پیاری اور شیریں زبان ہے کہ لوگوں کے دلوں کو چھو لیتی ہے ۔انھوں نے جب یہ کہا کہ مجلس فروغِ اُردو ادب کے اِس اسٹیج سے اسلام آباد اور دہلی کو دوستی ، خیرسگالی اور پیار و محبت کا پیغام جانا چاہیے تو پاک و ہند سے تعلق رکھنے والے شائقینِ شعرو ادب پُر جوش ہو کر تالیاں بجانے لگے۔
عزت مآب جناب محمد سرفراز خان زادہ صاحب نے اپنے خطاب میں کہاکہ مجلس فروغِ اُردو ادب دوحہ۔قطرکا عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ ،دنیائے اُردو میں درجۂ استناد حاصل کیے ہوئے ہے یہی وجہ ہے کہ ہر ادبی فورم مجلس کی جیوری کے فیصلے کی توثیق کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ دنیا کے( ۲۰۴) ممالک میں پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جس کی قومی زبان اُردو ہے، اُردو دنیابھر میں بولی اور سمجھی جاتی ہے یہاں تک کہ بہت سے عرب بھی اُردو آسانی سے سمجھ لیتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ فروغِ اُردو کے سلسلے میں شعرأ و ادبا اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔۔انہوں نے کبیر کے دوہے سنا کر لوگوں پر روحانی کیفیت طاری کر دی۔
جناب ڈاکٹر مرزوک بشیر بن مرزوک نے اپنے خطاب میں کہا کہ زبان اور ادب جغرافیائی حدود کے پابند نہیں ہوتے ، یہ دلوں کو قریب لاتے ہیں ۔مجلس فروغِ اُردو ادب ،اُردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے جو کردار ادا کر رہی ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں اُردو زبان و ادب کے فروغ کا ذکر ہوتا ہے مجلس فروغِ اُردو ادب دوحہ ۔قطر کی کوششوں اور کردار کو ہرگز ہرگز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ہمیں خوشی ہے کہ مجلس فروغِ اُردو ادب ایسی عالمی شہرت یافتہ ادبی تنطیم کا تعلق قطر سے ہے۔
سیّد فہیم الدّین نے پہلے دورکے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے لاہور سے تشریف لائے ہوئے مہمان شاعر جناب اسلم کولسری کو عالمی مشاعرے کی نظامت کی دعوت دی۔
اس عظیم الشّان یادگار عالمی مشاعرے میں پاکستان سے میرِ مشاعرہ پروفیسر ڈاکٹر خورشیدؔ رضوی، جناب عطأالحق قاسمی، جناب سرفراز شاہداورمحترمہ رخشندہ نوید،ہندوستان سے جناب منوّر رانا،رئیسؔ انصاری،ڈاکٹر نزہت انجمؔ اور اقبال اشہرؔ ،آسٹریلیا سے جناب محمد علی، برطانیہ سے جناب احسان شاہدؔ جبکہ دوحہ قطر کی نمائندگی جناب فرتاشؔ سیّد اور اشفاق احمد قلقؔ نے کی۔پاکستان سے جناب سلیم فوزؔ ،ہندوستان سے جناب مشتاق صدفؔ اوردوحہ قطر سے سیّد زوار حسین زائرؔ بوجوہ تشریف نہ لا سکے ۔پاکستانی کوآرڈینیٹر جناب داؤد احمد ملک شعرأکے ساتھ اسٹیج پر جبکہ معروف بالی وڈاداکارہ محترمہ رتناپاٹھک شاہ(بیگم نصیرالدّین شاہ)،مجلس کے دبئی سے معاونِ خصوصی جناب سیّد صلاح الدّین ،بیگم عط�أالحق قاسمی ،بیگم شموئیل احمد اور بیگم گوپی چند نارنگ مشاعرہ گاہ میں تشریف فرما تھیں۔
شعراے کرام نے اپنی خوبصورت شاعری سے سامعین کو مشاعرے کے آخر ی مرحلے تک ہم آہنگ اور مربو ط رکھا ۔اکثرشعر�أنے اپنے خوب صورت اشعار پر خوب داد سمیٹی ،خصوصاً میرِ مشاعرہ جناب پروفیسرڈاکٹر خورشیدؔ رضوی ، جناب منوّر رانا،جناب اقبال اشہرؔ ،جناب سرفراز شاہدؔ اورجناب فرتاش ؔ سیّد نے دلوں کو چھُو جانے والے اشعار پیش کر کے مشاعرہ لوٹ لیا۔صبح ڈیڑھ بجے تک جاری رہنے والے اِس عظیم الشان عالمی مشاعرے میں سیکڑوں شائقینِ ادب سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہال شروع سے آخر تک تالیوں اور واہ واہ ، داد و تحسین ،آفریں آفریں اور بہت خوب بہت خوب، جیسے دلپذیراوربے ساختہ حروفِ تحسین اورتبصروں سے گونجتا رہا۔
جناب نصیر الدّین شاہ نے خصوصی فروغِ اُردوادب ایوارڈ کے لیے مجلس فروغِ اُردو ادب دوحہ ۔قطر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُردو کے حوالے سے اپنے دلچسپ تجربات وواقعات پیش کر کے بھرپور داد و تحسین حاصل کی۔انھوں نے مزید کہا کہ شعرأ کے درمیان گزارا ہوا یہ وقت اُن کے لیے ناقابلِ فراموش ہے(شعرأ کا منتخب کلام رپورٹ کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں)۔
مجلس کی سالانہ تقریبات کے سلسلے کی پہلی تقریب (جو امسال بوجوہ ،بدھ کے بجائے جمعرات کو منعقد ہوئی)، تقریبِ پذیرائی (برائے سولہواں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ) بتاریخ ۸؍نومبر ۲۰۱۲ء ؁ بروزجمعرات دانا کلب میں پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کی صدارت میں منعقد ہوئی ،پروگرام مینیجر شوکت علی نازؔ نے ابتدائی کلمات ادا کیے اور پروگرام کی باقاعدہ نظامت کے لیے اپنے سنئرساتھی جناب فرتاش سیّد کو دعوت دی۔پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی نے پاکستانی ایوارڈونرجناب عطأالحق قاسمی کے فنی سفر اور مزاح نگاری پر تفصیلی مقالہ پیش کیاجس کا ہر جملہ طنز و مزاح کی روایت اور عطا صاحب کی مزاح نگاری سے جڑا ہوا تھاجسے حاضرینِ مجلس نے بہت پسند کیا۔
جناب عطأالحق قاسمی نے حرفِ سپاس اور خطبۂ قبولیت (Acceptance Speech) میں مجلس فروغِ اردو ادب دوحہ قطر اورپاکستانی جیوری کے چیئرمین جناب مشتاق احمد خان یوسفی اور اراکینِ جیوری جناب افتخارعارف،ڈاکٹر سلیم اختراورجناب مختار مسعود کا شکریہ ادا کیا۔انھوں نے کہا کہ میں ایوارڈ کو قبول کرتے ہوئے خوشی محسوس کررہاہوں ۔ انھوں نے ڈاکٹر پروفیسر خورشید رضوی کی فرمائش پر اپنے دو کالم سنا کر سامعین سے بھرپور داد حاصل کی۔
پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے جناب عطأالحق قاسمی اورجناب شموئیل احمدکی شخصیتوں کے پوشیدہ گوشوں اور فنی وسائل پر اپنے مخصوص انداز میں سیر حاصل گفتگو کی۔انھوں نے فنونِ لطیفہ اور فنِ اداکاری کے تناطر میں جناب نصیرالدّین شاہ کو عہدِ حاضر کا اہم ترین اور بڑا اداکار قرار دیا۔
جناب نصیرالدّین شاہ نے حرفِ سپاس اور خطبۂ قبولیت (Acceptance Speech) ادا کرتے ہوئے مجلس فروغِ اُردو ادب دوحہ قطر کا شکریہ ادا کیا۔انھوں نے کہا کہ آپ نے مجھے جواعزاز بخشا ہے میں اپنے آپ کوقطعی طور پر اِس کا مستحق نہیں سمجھتا۔انھوں نے ٹی وی سیریل مرزا غالبؔ کے دوران میں پیش آنے والے خوشگوار واقعات کی یادوں کو بھی تازہ کیا۔انھوں نے اپنے اِس ایوارڈ کو گلزار صاحب اور جگجیت سنگھ کے نام کر دیا ۔
جناب شموئیل احمدنے حرفِ سپاس اور خطبۂ قبولیت (Acceptance Speech) میں ایوارڈ کا مستحق قراردینے پرمجلس فروغِ اُردو ادب اور ہندوستان جیوری کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور اراکین جناب ڈاکٹرمحمد ذاکر،،جناب چندر بھان خیال ؔ اور ڈاکٹرپرویز شہریارؔ کا شکریہ ادا کیا۔انھوں نے خوش دلی سے ایوارڈ قبول کرتے ہوئے اپنے فنی سفر کو مختصر مگر جامع انداز میں نذرِ سامعین کیا۔
صدرِتقریب پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے ایورڈ یافتگان کو مبارک باددی اور مجلسِ فروغِ اُردوادب دوحہ قطر کی فروغِ اُردوادب کے لیے کوششوں اورحسنِ انتظام کو سراہا۔ تقریب کے میزبان اور چیئرمین مجلس جناب محمد عتیق نے کلماتِ تشکر ادا کرتے ہوئے مہمانانِ گرامی کا شکریہ ادا کیااور یوں ایک پُرتکلف عشائیہ کے بعد یہ مؤقر تقریب اختتام پذیر ہوئی۔
شعراے کرام کا نمونۂ کلام :
جناب اسلمؔ کولسری(ناظمِ مشاعرہ)
یار کو دیدۂ خونبار سے اُوجھل کر کے
مجھ کو حالات نے مارا ہے مکمل کر کے
یعنی ترتیبِ کرم کا بھی سلیقہ تھا اُسے
اُس نے پتھر بھی اُٹھایا مجھے پاگل کر کے
جناب اشفاق احمد قلقؔ
اُدھورے خواب کی تعبیر ہو جائے
محل پانی پہ اِک تعمیر ہو جائے
زمیں تا آسماں بکھرا ہوا ہوں
سمٹنے کی کوئی تدبیر ہو جائے
جناب فرتاشؔ سیّد
؂ ماں ! ترے پاؤں کی دُھووَن ہے مجھے آبِ حیات
ورنہ اِس دور میں کس شخص کو ہے تابِ حیات
وصالِ یار کی اب صرف ایک صورت ہے
ہماری خاک اُڑا کر ،وہاں ہوا لے جائے
جناب محمد علی(آسٹریلیا)
آپ کیوں اُلجھے ہیں اب میرے خیالوں کی طرح
اور کچھ انداز بھی تیکھے سوالوں کی طرح
دن گزرتا ہی نہیں تھا جن کو بن دیکھے علیؔ
یاد اب آتے ہیں وہ گزرے حوالوں کی طرح
محترمہ رخشندہ ؔ نوید
گزر تو جائے گھڑی جو بھی یادِ یار کی ہو
مگر وہ رات کہ جو رات انتظار کی ہو
میں اُس کے ساتھ بہت دور تک مہکتی گئی
تمھاری یاد بھی جیسے ہوا بہار کی ہو
جناب اقبال اشہرؔ
اُسے بچائے کوئی کیسے ٹوٹ جانے سے
وہ دل جو باز نہ آئے فریب کھانے سے
رُکی رُکی سی نظر آ رہی ہے نبضِ حیات
یہ کون اُٹھ کے گیا ہے مرے سرھانے سے
ڈاکٹر نزہت انجمؔ
رسمِ وفا نبھانا تو غیرت کی بات ہے
وہ مجھ کو بھول جائیں یہ حیرت کی بات ہے
رکھتا ہے یونہی یاد کسی کو کوئی کہاں
یہ تو بس اپنی اپنی ضرورت کی بات ہے
جناب سرفراز شاہدؔ
کیسے خالی سیلری میں گھر چلے
ہم تو مہنگائی کے ہاتھوں مر چلے
آرزو بیوی کے دل میں ہے یہی
اِک اشارے پر مرا شوہر چلے
جناب رئیسؔ انصاری
نیند آنکھوں میں جو آتی تو جگانے لگتے
خواب بچے کی طرح شور مچانے لگتے
وہ ہمیں ڈھونڈ کے اِک رات میں گھر لے آیا
ہم اُسے ڈھونڈنے جاتے تو زمانے لگتے
جناب منوّر رانا
تصوّر میں سہی لیکن میں گلدستہ بناتا ہوں
سزائیں دیجیے میں آپ کا چہرہ بناتا ہوں
دلت عورت کی صورت پھِر رہی ساری دنیا میں
تجھے اے مفلسی ! میں آج سے اپنا بناتا ہوں

جناب عأاالحق قاسمی
کہیں گلاب میں ہوں اور کہیں ببول میں ہوں
کسی کی یاد میں ہوں اور کسی کی بھول میں ہوں
مری تلاش میں نکلیں نہ قافلے والے
دکھائی دوں گا،ابھی راستے کی دھول میں ہوں
پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضویؔ
یہ بات کیا ہوئی کہ جسے زندگی کہوں
جب جان پر بنے تو اُسے بھول جاؤں میں
؂میں عمیق تھا کہ پلا ہوا تھا سکوت میں
یہ جو لوگ محوِ کلام تھے مجھے کھا گئے
*****

Viewers: 1149
Share