Nighat Akram | Interview | حمیرا راحت، افسانے کی دنیا کا معروف نام

حمیرا راحت، افسانے کی دنیا کا معروف نام
انٹرویو۔ نگہت اکرم

حمیرا راحت ادبی دنیا میں ایک جانا پہچانا نام جو شاعرہ بھی ہیں افسانہ نگار تدریس کے شعبہ سے وابستہ بھی ہیں۔حمیرا راحت ایک شاعرہ ہیں جو وقت کے جدید ترین تقاضوں سے اگاہ ہو کر زندگی کی تنہائیوں کو اپنی شاعری میں اظہار کرتی ہیں۔افسانے بھی حقیقت سے بے حد قریب ہیں ۔حمیرا راحت کی شاعروں میں اپنی پہچان ہے۔وہ خوبصورت انداز میں مشاعروں میں غزل پڑھنے میں مہارت رکھتی ہیں۔ وہ بے شمار مشاعروں میں شرکت کر چکی ہیں۔شاعرہ افسانہ نگار حمیرا راحت سے ایک تفصیلی ملاقات :
السلام علیکم! حمیرا راحت کیسی ہیں آپ؟
و علیکم السلام! میں بالکل خیریت سے ہوں۔
آپ کا ادبی نام:
حمیرا راحت
آپ کی تاریخ پیدائش:
13جولائی
آپ کا سٹار
کبیز سرطان
آپ کی تعلیمی قابلیت
میں نے اردو ادب میں ماسٹر کیا ہے۔اردو ادب اور دیگر زبانوں کے شعری اوصاف پر P.H.Pکی ہے۔
بہن بھائیوں کی تعداد
تین بھائی اور میں ہم کل 4بہن بھائی ہیں۔
گھر میں سب سے زیادہ انڈرسٹینڈنگ کس سے ہے۔
اپنے میاں اور اپنی بڑی نند عذرا اسلم سے۔
شاعری کا آغاز کب کیا؟
جماعت نہم سے اس وقت تو کسی کو دیکھائے بغیر ایک غزل ’’امن‘‘ اخبار میں بھیج دی تھی جو شائع ہو گئی۔بہت بعد میں جناب محسن بھوپالی کی شاگردی اختیار کی۔
پہلا شعر کون سا تھا؟
کیوں بھلا ہم وفا تلاش کریں
پتھروں میں خدا تلاش کریں۔
آپ کا پہلا افسانہ کس پرچے میں شائع ہوا؟
میرا پہلا افسانہ ’’ارمانوں کا خدا‘‘ ماہانہ آنچل میں شائع ہوا۔
آپ کے خیال میں افسانہ محض تفریح و طبع کا ذریعہ ہے یا اس کی مقصدیت اصلاح کا باعث بھی ہے۔
میرے خیال میں افسانہ تفریح بلع اک ذریعہ ہر گز نہیں ہے۔معاشرے کی بد صورت سچائیاں ،جب افسانے کے ذریعے سامنے آتی ہیں تب کوئی بھی سوچنے والا ذہین ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔اور خواتین کے لیے تو واقعی بہت ساری تحریریں مشعل راہ بنی ہیں۔
آپ نے کن عوامل سے متاثر ہو کر لکھنا شروع کیا؟
بس شوق تھا اور مطالعہ بہت کرتی تھی۔چھوٹی عمر میں لکھنا شروع کر دیا تھا ۔مشاہدہ تو اس وقت اتنا زیادہ نہ تھا صرف زندگی کو پڑھا تھا اور اندر ایک تحریک تھی سو قلم اٹھا لیا۔
شاعری آپ کے نزدیک کیا ہے؟
شاعری میری نگاہ میں عشق ہے وہ عشق جو ممکن کو نا ممکن بناتا ہے۔شاعری عالم حیرت ہے جسے شاعر خلاف ذہن اپنی تیسری آنکھ سے دیکھتا ہے۔
اس مادی دور میں شاعری کی اہمیت:
اس مادی دور میں تو شاعری کی وقت کم سے کم ہوتی جا رہی ہے تاہم شعر وادب کی اہمیت سے آج بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔
آپ کے اب تک کتنے مجموعہ کلام منظر عام آئے۔
میرے 2مجموعہ کلام منظر عام آئے ۔پہلا مجموعہ کلام ’’آنچل میں اداسی ‘‘2007میں منظر عام آیا۔دوسرا مجموعہ کلام ’’تحریر عشق ‘‘ 2009
آپ کا کوئی آنے والا مجموعہ کلام:
میرا تیسرا مجموعہ کلام نعتیہ مجموعہ کلام ’’رسائی روشنی تک‘‘ عنقریب آنے والا ہے۔
شاعری میں آپ کو کیا پسند ہے غزل یا نظم؟
شاعری تو ظاہر ہے مجھے پسند ہے اسی لیے میں شاعری کرتی ہوں شاعری اپنے جذبات و احساسات کو مختصر پیرائے میں بیان کرنے کا نام ہے اور مجھے خاص طور پر غزل پسند ہے کیونکہ غزل میں ذات بھی ہے رنگ کائنات بھی ہے ہماری بات بھی ہے اور تمہاری بات بھی ہے۔
آپ کے شعری مجموعہ آنے پر آپ کو کیسا لگا؟
میرا پہلا شاعری مجموعہ جب آیا آنچل میں اداسی کو بہت کامیابی اور بہت عزت ملی۔ ہندوستان کے ادبی میگزین نے اس پر تبصرے لکھے۔بے شمار لوگوں نے خطوط اور ٹیلی فونز کے ذریعے پسندیدگی کا اظہار کیا اور دوسرا شعری مجموعہ آیا ’’تحریر عشق‘‘ جب منظر عام تو اس مجموعہ نے بھی بے پناہ پذیرائی حاصل کی مجھ پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔
خواتین اور مرد شعرا کی شاعری میں بنیادی فرق:
خواتین اور مرد دونوں بہت اچھی شاعری کر رہے ہیں۔فرق صرف وہاں در آتا ہے جہاں عورت اپنے مسائل کو ادراک کر کے بیان کرتی ہے۔
پروین شاکر کے بعدجو خواتین لکھ رہی ہیں کیا آپ ان سے مطمئن ہیں۔
جی بالکل ۔پروین شاکر کے بعد ہمارے ہاں خلا نہیں ہے۔بہت اچھے نام ہیں نظم میں ثمینہ راجہ ،رخشندہ نوید،شاہدہ حسین،شہناز نور،ریحانہ روحی اور ان کے بعد آنے والے بے شمار نام ہیں جو آسمانِ ادب پر چمکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
شاعری میں آپ کے موضوعات:
عورت کے دکھ اور تنہائی کے دکھ میرے خاص موضوعات ہیں۔
شاعروں میں مرد شعراء کا رویہ کیسا ہوتا ہے؟
مرد شعراء کا رویہ عموماً بہت اچھا ہوتا ہے بہت عزت دیتے ہیں۔
خواتین پاکستان ادب میں کیا کردار ادا کر رہی ہیں؟
خواتین پاکستان ادب میں بہت اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔خواتین ادب میں اپنے قلم سے قدراں افسانہ کر رہی ہیں ۔خوبصورت ادب تخلیق کر رہی ہیں۔
پہلی نظر میں محبت پر کس حد تک یقین ہے؟
پہلی نظر میں محبت فلموں میں ہو جاتی ہے حقیقی زندگی میں ایسا نہیں ہوتا۔
کس چیز سے تسکین ملتی ہے؟
شاعری سے شعر کہہ کر افسانہ لکھ کر اور کوئی اچھی کتاب پڑھ کر۔
زندگی کا مشکل ترین کام:
میرے نزدیک شاپنگ کرنا مشکل تیرین کام ہے۔
کسی کی مدد کر کے کیسا محسوس کرتی ہیں؟
کسی کی مدد کر کے خوشی محسوس ہوتی ہے۔
تنہائی کے لمحات کیسے گزارتی ہیں؟
اچھی کتابیں پڑھ کر یا لکھتے ہوئے۔
افسانہ نگاری میں کس سے متاثر ہیں؟
احمد ندیم قاسمی سے بہت زیادہ متاثر رہی۔آج بھی چند لوگ بہت اچھا لکھ رہے ہیں۔حامد سراج ۔دادانہ نوشین عمیرہ احمد
جیون ساتھی چننے میں کن باتوں کی ضرورت ہے؟
جیون ساتھی کا مخلص ہونا وفادار ہونا ضروری رونہ پھر اس شعر جیسی ہو جاتی ہے۔
یہ دو لفظوں کا رشتہ نبھ جاتا ہے مگر بشریٰ
کہیں جیون نہیں ملتا کہیں ساتھی نہیں ملتا
دوستی کے بارے میں آپ کی رائے:
دوستی ایک خوبصورت رشتہ ہے ۔دوستی انسان کا انسان کے لیے سب سے قیمتی تحفہ
محبت آپ کے نزدیک:
محبت ہر طلب سے ماورا ہے۔
زندگی کیا ہے؟
زندگی اللہ کی امانت ہے۔
جب پریشانی ہوتی ہے تو کیا کرتی ہیں؟
جب پریشان ہوتی ہوں تو اللہ تعالیٰ سے رجوع کرتی ہوں۔
کس کی یاد آنکھیں نم کر دیتی ہے؟
امی کی یاد آنکھیں نم کر دیتی ہے۔
کیا آپ سالگرہ مناتی ہیں؟
13جولائی میری سالگرہ کا دن ہے اور بچے میری سالگرہ منانے لگے ہیں۔
زندگی کا خوبصورت ترین دن۔
جب میرے بیٹے نے جنم لیا۔
جب غصہ آتا ہے تو:
غصہ پی جاتی ہوں عموماً ۔جوائنٹ فیملی سسٹم مین رہنے کی ٹرینگ ہے۔
بارش برستی ہے تو:
دل جھوم اٹھتا ہے۔
کھانے میں کیا شوق سے کھاتی ہیں؟
دال چاول
پسندیدہ لباس:
ساڑھی
پسندیدہ پرفیوم
جس کی خوشبو اچھی لگے۔
ہمارے معاشرے میں عورتوں کے حقوق کے بارے میں آپ کا نظریہ کیا ہے کیا آج کی عورت کو وہ حقوق مل رہے ہیں جو اسے چاہیے۔عورت کو اس کے حقوق کبھی نہیں دیئے گئے۔آج اگرچہ صورت حال کچھ بہتر ہے تا ہم ابھی بھی دیہی علاقوں میں خواتین کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔
43)پسندیدہ پھول
گلاب
پسندیدہ کتاب
’’خوشبو‘‘
پسندیدہ شہر
کراچی
پسندیدہ ناول نگار
کرشن چند
وہ لمحہ جس نے زندگی میں قوس و فزع کے رنگ بکھیر دیئے۔
جب میری کتاب ’’آنچل میں اداسی ‘‘چھپ کر آئی
معاشرے میں عورت کی حیثیت سے مطمئن ہیں۔
معاشرے میں عورت کی حیثیت سے مطمئن نہیں ہوں۔معاشرے کو عورت کے معاملے میں فراخ دل ہونا چاہیے۔
آپ کے شعری مجموعے تو آ گئے ہیں آپ کا افسانوں کا مجموعہ کب آ رہا ہے؟
عنقریب میرے افسانوں کا مجموعہ بھی منظر عام آنے والا ہے اور قارئین میرے افسانے جلد ہی کتابی شکل میں پڑھیں گے۔
لوگ آپ کی شاعری اور افسانوں کو پسند کرتے ہیں تو کیسا لگتا ہے؟
لوگ جب میری شاعری اور افسانوں کو پسند کرتے ہیں تو بہت خوشی ہوتی ہے۔
بچپن کیسا گزرا ۔بچپن کی کوئی یاد:
بچپن نارمل بچوں کی طرح گزرا کوئی خاص بات یاد نہیں سوائے اس کے کبھی ہم بھی خوبصورت تھے۔
جب دل ٹوٹ جائے:
صبر کرنے کے علاوہ کیا کر سکتی ہوں۔
کس قسم کے لوگ پسند ہیں؟
پڑھے لکھے نفیس شاعرانہ ذوق رکھنے والے۔
پاکستانی خواتین کا سب سے اہم مسئلہ کیا ہے؟
پاکستانی خواتین کے مسائل میں سب سے اہم مسئلہ تعلیم کی کمی ہے جو ان کی ذہنی پسماندگی کا سبب بنتی ہے اور جس سے معاشرے کی ہزار خرابیاں جنم لیتی ہیں۔میرے خیال میں ایک باشعور قوم کے لیے ایک پڑھی لکھی ماں کا ہونا بہت ضروری ہے اور خود سے آگاہی عورت کو اسکے باقی تمام مسائل سے نجاب دلا سکتی ہے۔
آپ کام کے حوالے سے کتنی محنتی ہیں؟
بہت زیادہ محنتی ہوں۔
اگر ہم افسانے کا بین الاقومی معیار سامنے رکھیں تو کیا اس پر ہمارا افسانہ پورا اترتا ہے یا نہیں ۔افسانہ لکھنے والوں کو اپنے تخلیقی جوہر دکھانے کے لیے بہت مشقت کرنی پڑتی ہے اور ایک معیار رکھنا پڑتا ہے۔اور میرا خیال یہ ہے کہ ہمارے افسانہ نگار بہت اچھا لکھتے ہیں ۔ان کا معیار بین الاقوامی معیار پر پورا اترتا ہے ۔
دور حاضر کے افسانہ نگاروں کی طرز فکر کے بارے میں آپ کیا سوچتی ہیں؟
موجودہ دور میں بہت اچھا لکھا جا رہا ہے۔بلکہ میں سمجھتی ہوں کہ آج ان مسائل پر بھی بات کی جا رہی ہے جنہیں پہلے شجر ممنوعہ سمجھا جاتا تھا۔کھل کر کہنے کی آزادی جتنی اب ہے شاید پہلے نہ تھی۔خاص کر خواتین افسانہ نگاروں کو۔
افسانہ نگاری اور شاعری میں کوئی ایوارڈ:
میں نے افسانہ نگاری پر تقریباً 15ایوارڈ حاصل کیے اور شاعری پر بے شمار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی کون سی ایسی تحریر ہے جس نے لوگوں کو بے حد متاثر کیا۔
اللہ کا شکر ہے بہت سے افسانے ہیں تا ہم وطن کے حوالے سے لکھا ہوا افسانہ ’’ ‘‘اور میڈیا کے برے اثرات پر لکھا ہوا ’’زہر‘‘زیادہ پسند کیا گیا۔
کوئی ایسی عادت جس سے گھر والے بیزار رہتے ہیں۔
بیٹھے بیٹھے گم ہو جانے کی عادت
کتنے مشاعروں میں حصہ لیا۔
بے شمار بیرون ملک اور اندرون تعداد یاد نہیں۔
آپ کے افسانوں میں تخیل زیادہ ہوتا ہے یا مشاہدات
افسانہ مشاہدات سے ہی تعلق رکھتا ہے ۔حقیقت میں جب کوئی واقعہ کوئی بات ہوتی تو مشاہدے میں بھی آتی ہے اور پھر افسابت کا روپ دھار لیتی ہے ۔میرے افسانوں میں مشاہدات زیادہ ہیں تخیل بھی ہوتا ہے۔
کتاب کی تقریب کیا شہرت کے لیے کی جاتی ہے؟
شہرت کے لیے بھی کہہ سکتے ہیں مگر یہ کتاب اور شاعر کا تعارف بھی ہوتا ہے۔
نئے لکھنے والوں کے لیے پیغام
جو کچھ بھی لکھیں اس میں خلوص اور سچائی کو شامل کر لیں۔جہاں بھی رہیں سے اور کتابوں سے تعلق برقرار رکھیں۔
آپ کی شاعری جو آپ کو بے حد پسند ہے۔
مجھے اپنی شاعری میں کچھ نظمیں اور کچھ غزلیں بہت زیادہ پسند ہیں۔
نظمیں:
فرق
خواب اور وعدوں میں
فرق کچھ نہیں ہوتا
دونوں پیارے لگتے ہیں
دونوں ٹوٹ جاتے ہیں۔
چوتھی سمت کا المیہ
بچپن میں اماں مجھ کو
ایک کہانی روز سنایا کرتی تھیں
شہزادے کو
صرف یہ تاکید ہمیشہ کی جاتی
تین طرف بے شک ہو جائے
لیکن چوتھی سمت نہ جائے

Viewers: 1986
Share